ہواوے کا چینی آپریٹنگ سسٹم ’ہارمنی‘ کے ساتھ نیا سمارٹ فون متعارف

چینی ٹیکناجی کمپنی ہواوے نے مکمل طور پر چین میں بنے آپریٹنگ سسٹم سے لیس اپنا پہلا سمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ہوواوے کا اپنے مغربی مسابقتی اداروں کے غلبے کو چیلنج کرنے کی لڑائی میں ایک اہم امتحان ہے۔ ایپل کا آئی او ایس اور گوگل کا اینڈرائیڈ اس وقت زیادہ تر موبائل فونز میں استعمال ہوتا ہے، لیکن ہواوے اپنے جدید ترین میٹ 70 ڈیوائسز کے ساتھ اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کمپنی کے اپنے ہارمونی او ایس نیکسٹ پر چلتے ہیں۔ یہ لانچ ہواوے کے لیے بڑی کامیابی کا نقطہ عروج ہے، جو حالیہ برسوں میں سخت امریکی پابندیوں کا شکار رہی لیکن اب اپنی فروخت میں زبردست اضافے کے ساتھ دوبارہ ابھر رہی ہے۔ کنسلٹنگ فرم البرائٹ سٹون برج گروپ کے چین اور ٹیکنالوجی پالیسی کے سربراہ پال ٹریولو نے بتایا کہ ’قابل عمل اور وسیع پیمانے پر قابل استعمال موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تلاش، جو مغربی کمپنیوں کے کنٹرول سے آزاد ہو، چین میں ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لیکن یہ نیا سمارٹ فون جو اندرون ملک تیارکردہ جدید چپ سے بھی لیس ہے، ظاہر کرتا ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں ’ڈٹی رہ سکتی ہیں۔‘

میٹ 70 شینزین میں ہواوے کے ہیڈکوارٹر میں ایک کمپنی لانچ ایونٹ میں پیش کیا گیا۔ ہواوے کے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم کے مطابق 30 لاکھ سے زیادہ یونٹس کی پہلے ہی بکنگ ہو چکی ہے، البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام خریدے بھی جائیں گے۔ پچھلے ورژن کے برعکس جو اینڈروئڈ کے اوپن سورس کوڈ پر مبنی تھا، آپریٹنگ سسٹم ہارمونی نیکسٹ ان تمام ایپس کی مکمل طور پر نئے سرے سے پروگرامنگ کا تقاضا کرتا ہے جو یہ سمارٹ فونز چلاتا ہے۔ گیری نگ، نیٹکسز کے سینیئر ماہر معیشت، نے بتایا کہ ’ہارمنی نیکسٹ پہلا مکمل مقامی طور پر تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم ہے جو چین کے لیے مغربی ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنے اور سافٹ ویئر کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔‘ تاہم نگ کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ چینی کمپنیاں ہواوے کے ایکوسسٹم میں حصہ ڈالنے کے لیے وسائل مختص کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ہارمونی نیکسٹ عالمی صارفین کو اتنی ہی ایپس اور فیچرز فراہم کر سکتا ہے۔‘

بلند توقعات
ہواوے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان شدید تکنیکی مسابقت کا محور ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا کہ اس کے آلات چینی حکام کی جانب سے جاسوسی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہواوے ان الزامات کو وہ مسترد کرتے ہی۔ 2019 سے امریکی پابندیوں نے ہواوے کو عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چینز اور امریکی ساختہ اجزا سے کاٹ دیا، جس کے نتیجے میں اس کی سمارٹ فونز کی پیداوار پر ابتدائی طور پر سخت منفی اثر پڑا۔ یہ تنازع مزید شدت اختیار کرنے والا ہے، کیونکہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر بڑے ٹیرف لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا جواب ہے۔ ٹیکنالوجی ریسرچ فرم کینالیس کے سینیئر تجزیہ کار ٹوبی ژو کے مطابق: ’ہواوے کی ٹیک انڈسٹری کو متاثر کرنے کی بجائے، چینی ٹیک انڈسٹری کے خود انحصاری کے رجحان نے ہواوے کی ترقی کو ممکن بنایا۔‘

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

ہواوے نے متعدد امریکی ملازمین کو برطرف کر دیا

چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ نے اپنے ملازمین کو امریکی اداروں سے ‘تکنیکی روابط’ کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے چینی ہیڈ کوارٹر سے متعدد امریکی ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ہواوے کی جانب سے یہ اقدام ایسے موقع پر سامنے آیا جب امریکا اور چین کے درمیان تجارتی و ٹیکنالوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا اصل ہدف ہواوے ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ میں ‘فنانشل ٹائمز’ اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہواوے کے چیف اسٹریٹجی آرکٹیکٹ ڈانگ وینشوان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ تجارت کی فہرست، جس کے تحت امریکی اداروں کو سرکاری اجازت نامے کے بغیر ہواوے کو ٹیکنالوجی کے فروخت کی اجازت نہیں ہوتی، کے بعد ہواوے کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ شعبے سے امریکی شہریوں کو 2 ہفتے قبل برطرف کر دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہواوے اپنے ملازمین اور امریکی شہریوں کے درمیان بات چیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ہواوے میں امریکی ملازمین سے اپنے لیپ ٹاپ واپس کرنے اور کمپنی کی حدود چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم ہواوے نے اخبار کی رپورٹ پر رائے دینے سے معذرت کر لی ہے۔ چینی وزارت تجارت نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں، اداروں اور اشخاص کے حوالے سے ہم بھی اپنی فہرست تیار کریں گے اور اس میں انہیں ڈالیں گے جو ان کے لیے ‘ناقابل بھروسہ’ ہیں۔ ان کا یہ اعلان ممکنہ طور پر امریکی بلیک لسٹ کا رد عمل ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران وزارت کے ترجمان گاؤ گینف کا کہنا تھا کہ ‘ادارے اس وقت ناقابل بھروسہ ہوتے ہیں جب وہ مارکیٹ کے قواعد کی پاسداری نہ کریں، معاہدوں سے پیچھے ہٹیں اور چینی اداروں کی سپلائی کو روکیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسے اداروں کے خلاف اقدامات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس فہرست کا مقصد طرفداری، تجارتی تحفظ اور چینی مفاد کا تحفظ ہے’۔

ہواوے پر پابندی، کب کیا ہوا؟
واضح رہے کہ کینیڈا نے گزشتہ سال امریکا کی درخواست پر ‘ہواوے’ کی ایگزیکٹو کو گرفتار کیا تھا۔ خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون مینیچ نے تجارتی تنازعات کے حل کے لیے جلد از جلد چین کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’قومی سلامتی کو درپیش ناقابل قبول خطرات‘ اور ’امریکی عوام کے تحفظ‘ کو بنیاد بنا کر صدارتی حکم کے ذریعے ملک بھر میں ہواوے کی مصنوعات کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے الزام لگایا تھا کہ چین، ہواوے کی مدد سے ملک کی خفیہ معلومات چوری کر سکتا ہے۔

اس ضمن میں امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کمپنی فون، ٹیلی کام، ڈیٹابیس اور دیگر الیکڑونک اشیا میں استعمال ہونے والے اہم امریکی آلات سے محروم ہو جائے گی۔ ادھر چین کی حکومت نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی امور پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم چین کے مفادات سے متصادم نکات پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہواوے نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے کمپنی کو بلیک لسٹ کیے جانے کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے قانونی جنگ کو تیز کر دیا ہے۔ چینی کمپنی نے ایک درخواست دائر کرتے ہوئے اس کی مصنوعات پر نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ کے تحت پابندیوں کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز