شہریت کے قانون میں ترمیم : انڈین موبائل فون کمپنیوں کو بڑا نقصان

انڈیا میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے خلاف جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں سے جہاں عالمی سطح پر انڈیا میں مسلمانوں کو ’دیوار سے لگانے‘ کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں اس کے منفی اثرات ملکی معیشت پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان مظاہروں کی وجہ سے انڈیا میں موبائل فون کمپنیوں کو روزانہ قریب 82 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ انہیں حکومت کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروسز بند کرنا پڑ رہی ہیں۔ انڈیا میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے خلاف شروع ہونے والے پر تشدد احتجاج کا دائرہ ہر نئے روز کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ آسام، بنگال اور دہلی سے ہوتا ہوا یہ احتجاج انڈیا کے کاروباری مرکز سمجھے جانے والے شہر ممبئی تک پہنچ چکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی رکتا نظر نہیں آتا۔

انڈیا کے متعدد شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کر دی گئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہاں تک کہ اقوام متحدہ اور امریکہ بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ’ہندوتوا‘ کو پروان چڑھا رہی ہے اور یہ ترمیم ’مسلم مخالف‘ ہے۔ انڈین حکومت مظاہروں پر قابو پانے اور اس ’تحریک‘ کو دبانے کے لیے گاہے بگاہے انٹرنیٹ سروسز کو بند کرتی ہے تاکہ لوگ سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہو سکیں۔ آزادی اظہار کے لیے سرگرم تنظیمیں انڈین حکومت کے اس اقدام پر تنقید کر رہی ہیں۔

انڈیا میں ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ’انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے 18 اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز کو بند کر دیا گیا تھا۔‘ انڈیا میں سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے انٹرنیٹ کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ ایسوسی ایشن کے کے ڈائریکٹر جنرل راجن میتھیوز نے کہا کہ ’ہم نے اس بندش سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا ہے اور ہمارے حساب کے مطابق ایک گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ سروسز بند کرنے سے ہمیں تین لاکھ 50 ہزار ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔‘ خیال رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد وہاں انٹرنیٹ سروسز کو بھی گذشتہ چار ماہ میں گاہے بگاہے بند کر دیا جاتا ہے جس سے موبائل فون کمپنیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ایکسیس ناؤ‘ نے کہا ہے کہ کسی جمہوری ملک میں انٹرنیٹ پر لگائی جانے والی یہ سب سے لمبی پابندی ہے۔

بشکریہ اردو نیوز

کیا انڈیا فسطائیت کا شکار ریاست بن رہی ہے؟

انڈیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پہلی مرتبہ منتخب ہو کر پارلیمان میں آنے والی رکن ماہوا موئترا کی اس حالیہ تقریر کی دھوم مچی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ انڈین ریاست میں فسطائیت کی ابتدائی علامات موجود ہیں۔ ان کی تقریر، جس میں انھوں نے فسطائیت کی سات علامات کی نشاندہی کی ہے، کو اس برس کی ’سب سے عمدہ تقریر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ فسطائیت (فاشزم) ایسی قوم پرستی ہے جو آمریت کے طور طریقوں کی جانب جھکاؤ رکھتی ہو۔ ماہوا موئترہ کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس پارٹی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فسطائیت کی ابتدائی علامات کی فہرست امریکہ کے ہالوکاسٹ میموریل میوزیم میں موجود ایک پوسٹر پر پڑھی تھی۔

موئترا کے مطابق اپنی تقریر میں ان علامات کو دہرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ انڈیا کا آئین خطرے میں ہے اور حکمراں جماعت کی ’تقسیم کی سیاست کی ہوس‘ ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو حالیہ عام انتخابات میں ملنے والی شاندار کامیابی کی مبارک باد دینے سے کیا۔ حالیہ عام انتخابات میں عوام نے ملک کے طول و عرض سے اپنے ووٹ کے ذریعے یہ واضح کیا کہ وہ بی جے پی اور نریندر مودی کو دوبارہ برسراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مودی اور بی جے پی کو ملنے والی ناقابل یقین کامیابی نے حزب اختلاف، جو کہ سخت مقابلے کی توقع لگائے بیٹھی تھی، کو ششدر کر دیا۔

اپنی تقریر کے آغاز میں ماہوا موئترہ کا کہنا تھا ’حاصل ہونے والا مینڈیٹ اس بات کا متقاضی ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو بھی سنا جائے۔‘ اور اس کے بعد حکمراں جماعت کی سرزنش کرتے ہوئے انھوں نے فسطائیت کی سات ’ابتدائی مگر خطرناک علامات‘ بتانا شروع کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’طاقت ور اور متواتر جاری رہنے والی قوم پسندی ہماری قومی ساخت کو دغدار کر رہی ہے۔ یہ سطحی، نفرت پر مبنی اور محدود ہے۔ یہ تقسیم کرنے کی ہوس ہے نا کہ اکٹھا کرنے کی خواہش۔‘ انھوں نے ‘انسانی حقوق کو کمتر درجے’ پر رکھنے کی حکومتی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں سنہ 2014 سے سنہ 2019 کے درمیان نفرت پر مبنی جرائم میں دس گنا اضافہ دیکھا گیا۔

موہوا موئترہ نے حکومت کو ’ذرائع ابلاغ پر ناقابل تصور تسلط` قائم کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ٹی وی چینلز ’نشریات کا زیادہ تر وقت حکمراں جماعت کی جانب سے دیے گئے پراپیگنڈے کو نشر کرنے میں صرف کرتے ہیں۔‘ انھوں نے ’قومی سلامتی کو لے کر ذہنی ہیجان‘ میں مبتلا انڈین حکومت پر تنفید کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈر کی ایک فضا‘ ملک پر مسلط ہے جس کے تحت آئے روز ایک نیا دشمن تخلیق کیا جاتا ہے۔ ’حکومت اور مذہب کو باہم یکجا کر دیا گیا ہے۔ کیا مجھے اس بارے میں بات کرنے کی بھی ضرورت ہے؟ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم نے شہری ہونے کی تعریف بدل کر رکھ دی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ہدف بنانے کے لیے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ذی شعور افراد اور آرٹس کو مکمل طور پر حقیر جاننا اور اختلاف رائے کو دبانا‘ سب علامتوں میں سے خطرناک ترین علامت ہے۔ اور یہ چیز ’انڈیا کو تاریک دور (ڈارک ایجیز) کی طرف واپس دھکیل رہی ہے۔‘ فسطائیت کی آخری علامت بتاتے ہوئے موہوا موئترہ نے کہا کہ یہ ’ہمارے انتخابی عمل میں حاصل آزادی کی فرسودگی‘ ہے۔ ماہوا موئترہ کی یہ تقریر لگ بھگ دس منٹ دورانیے پر مبنی تھی جس کے دوران انھیں حکمران جماعت کے ممبران کی جانب سے کیے گئے شور و غوغا کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر اس کے باوجود وہ کھڑی رہیں اور پارلیمان میں سپیکر سے یہ استدعا کی کہ وہ ‘پیشہ ور مداخلت کرنے والوں’ کو لگام دیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد مودی کی سربراہی میں بی جے پی پر اقلیتوں پر مظالم ڈھانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے جیسے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم بی جے پی ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔ انگریزی میں کی گئی ان کی تقریر میں نہ صرف حقائق اور اعداد و شمار بلکہ ہندی کی کئی نظمیں بھی شامل تھیں۔ ان کی مادری زبان بنگالی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندی نظمیں پڑھنے پر ان کی سوشل میڈیا پر تعریف کی گئی۔ موئترہ لندن میں جے پی مورگن بینک میں انویسٹر بینکر کے طور پر کام کر رہی تھیں تاہم سنہ 2009 میں انڈیا میں سیاست میں قدم رکھنے سے قبل انھوں نے اس نوکری کو خیر آباد کہہ دیا۔ وہ اپنی پارٹی ٹی ایم سی کی ترجمان بھی رہ چکی ہے اور پرائم ٹائم ٹی وی شوز میں شمولیت کرتی رہتی ہیں۔

حالیہ انتخابات میں بی بی سی نے دو دن ان کے ساتھ مغربی بنگال کی ریاست کرشنا نگر میں ان کی الیکشن مہم کو کور کرتے گزارے۔ اپنی تقاریر میں انھوں نے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو براہ راست ہدف تنفید بنایا تھا۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی ہندوؤں اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی کو سادہ اکثریت حاصل ہے اور حزب اختلاف پارلیمان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے موئترہ کی تقریر کو اہم گردانا جا رہا ہے۔ اس خاتون ممبر پارلیمان کی تقریر کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ انڈیا میں ابھی تک سیاست پدر شاہی کے گرد گھومتی ہے۔ پارلیمان میں خواتین کی تعداد صرف 14 فیصد ہے۔

اگرچہ کئی خواتین رکن پارلیمان کاروائی میں حصہ لیتی اور تقریریں کرتی ہیں مگر کافی وہ بھی ہیں جو خاموشی سے سائیڈ پر بیٹھنا پسند کرتی ہیں۔ ماہوا موئترا نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اپوزیشن میں ہیں اور یہ ہمارا کام ہے کہ مسائل کو سامنے لائیں۔ ہمیں آواز بلند کرنی چاہیے اور نشاندہی کرنی چاہیے۔ ہم ہر نوعیت کے مسائل پر آواز بلند کریں گے۔’ ‘اپوزیشن کا کام حکومت کی ناکامیوں اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جن پر حکومت کی توجہ نہیں ہوتی۔ یہ میرا کام ہے اور میں اس کو بااحسن و خوبی سرانجام دوں گی۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

مودی کابینہ کے بائیس وزراء کے خلاف مجرمانہ مقدمات

وزیر اعظم مودی کی نئی کابینہ میں شامل چھپن میں سے بائیس وزراء کے خلاف مختلف مجرمانہ مقدمات درج ہیں جبکہ سولہ وزراء نے اپنے خلاف اقدام قتل اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے جیسے سنگین جرائم کے مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت میں انتخابی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی غیر حکومتی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی نئی کابینہ میں شامل 56 وزیروں کے حلفیہ بیانات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے 22 یعنی 39 فیصد وزراء کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مختلف مقدمات درج ہیں جب کہ 16 یعنی 29 فیصد وزیروں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 30 مئی کو وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی 58 رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا تھا۔ اے ڈی آر کے مطابق چونکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور صارفین کے امور کے وزیر رام ولاس پاسوان فی الحال بھارتی پارلیمان کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں، اس لیے ان کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔ اے ڈی آر کے مطابق 2014ء کی مودی کابینہ کے مقابلے میں نئی کابینہ میں شامل مجرمانہ نوعیت کے مقدمات میں ملوث وزیروں کی تعداد میں آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں ملوث وزراء کی تعداد میں یہ اضافہ 12 فیصد بنتا ہے۔ جن وزیروں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات زیر التواء ہیں، ان میں وزیر اعظم مودی کے بعد سب سے طاقت ور سمجھے جانے والے رہنما اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر اور موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں۔

ان کے خلاف چار مقدمات درج ہیں۔ امیت شاہ کو گینگسٹر سہراب الدین شیخ اور اس کی اہلیہ کوثر بی اور تلسی رام پرجاپتی کے ماورائے عدالت قتل کے معاملے میں 2010ء میں جیل بھی جانا پڑا تھا۔ البتہ بعد میں انہیں اس مقدمے میں عدالت نے بری کر دیا تھا۔ امیت شاہ کے خلاف قتل، جبراً پیسہ اینٹھنے اور اغوا کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان پر گجرات کے فسادات اور متعدد فرضی تصادم کے معاملات میں ملوث ہونے کے بھی الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے امیت شاہ کو 2010ء سے 2012ء تک گجرات میں داخل ہونے سے بھی روک دیا تھا۔ ستمبر 2012ء میں سپریم کورٹ نے انہیں گجرات واپس لوٹنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے بعد انہوں نے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم مودی کے دست راست اور سب سے بھروسہ مند ساتھی بن گئے تھے۔

مودی کابینہ میں شامل ایک اورنام پرتاپ چندر سارنگی کا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر ان کا کافی چرچا ہے۔ حکمران بی جے پی انہیں نہایت ایماندار اور سادگی پسند رہنما کے طور پر پیش کر رہی ہے اور انہیں مشرقی صوبے اوڈیشا کا مودی قرار دیا جاتا ہے۔ سارنگی نے اپنے حلف نامے میں اپنے خلاف سات مجرمانہ مقدمات کا ذکر کیا ہے، جس میں لوگوں کو دھمکانے، مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے اور جبراً پیسہ وصول کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ دراصل پرتاپ چندر سارنگی کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا، جب 1999ء میں اوڈیشا کے کیونجھر ضلع کے منوہر پور گاؤں میں ایک آسٹریلوی مسیحی مشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو کم عمر بیٹوں کو ایک جیپ میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واردات کے وقت سارنگی شدت پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے صوبائی صدر تھے۔

مسیحی برادری نے قتل کے اس بھیانک واقعے کے لیے بجرنگ دل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں سارنگی کا رول مشتبہ پایا گیا تھا حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آنے کی وجہ سے انہیں بری کر دیا گیا تھا۔ مائیکرو، اسمال اور میڈیم سائز صنعتوں اور ماہی پروری کے وزیر پرتاپ چندر سارنگی نے اپنی وزارت کا حلف لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”میرے خلاف درج تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔ پولیس نے یہ مقدمات اس لیے دائر کیے کہ میں بدعنوانی کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ میں نے کرپشن کے خلاف سنجیدگی سے مہم چلائی ہے۔ میں نے سماج میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسی وجہ سے میں بدعنوان افسروں کی نگاہ میں دشمن بن گیا۔ میں کئی کیسز میں بری ہو چکا ہوں اور آنے والے دنوں میں بقیہ تمام کیسوں میں بھی بری کردیا جاؤں گا۔

سارنگی بجرنگ دل کے علاوہ ایک اور شدت پسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ 2004ء اور 2009ء میں اوڈیشا اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ 2014ء میں بھی انہوں نے پارلیمانی الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ اے ڈی آر کے ایک سروے کے مطابق بھارت میں اٹھانوے فیصد ووٹروں کا کہنا ہے کہ مجرمانہ پس منظر والے افراد کو ملکی پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں میں نہیں آنا چاہیے۔ تاہم سبھی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی فائدے کے لیے ایسے افراد کو اپنے امیدوار بناتی ہیں۔ اس طرح قانون توڑنے والے مبینہ ملزمان ہی قانون ساز بن جاتے ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو