ہیٹ اسٹروک کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

گرم دنوں اور ہواؤں کے بند ہونے کی وجہ سے متعدد علاقوں میں ہیٹ ویو کا محسوس کیا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کو ’ہیٹ اسٹروک‘ ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

’ہیٹ اسٹروک‘ کیا ہے؟
’ہیٹ اسٹروک‘ عام طور پر انسان کو سخت گرمیوں کے موسم میں گرم ہواؤں چلنے اور سورج کی تپش کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ’ہیٹ اسٹروک‘ دراصل اس وقت ہوتا ہے جب کسی بھی انسان کا جسم زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور گرمائش سے اسے پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے۔ عام طور پر مسلسل سورج کی تپش میں کام کرنے یا گھومنے سے گرمیوں کے موسم میں انسانی جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور ایسے میں ’ہیٹ اسٹروک‘ سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ ہیٹ اسٹروک کے گرم دنوں کی وجہ سے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم بعض ایسے افراد جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں (جن کا بلڈ پریشر مسلسل 100/140 ) رہتا ہو، جو دل، دماغ، گردوں اور معدے سمیت اسی طرح کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوں، ایسے افراد کے ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک ایسی ہنگامی جسمانی بیماری ہے، جسے فوری طور پر باضابطہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اس سے متاثر ہونے والے افراد کو ہسپتال ہی لے جانا سب سے اہم ہوتا ہے۔

’ہیٹ اسٹروک‘ کی ابتدائی علامات
اس کی متعدد ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں لیکن عام طور پر پہلی عام علامت سر کا شدید درد، سر کا چکرانا، بے ہوش جانا ہے۔
اس کے علاوہ درج ذیل علامات بھی ہوسکتی ہیں۔
جسم میں پانی کی کمی
گرم و خشک موسم
سر کا شدید درد، سر کا چکرانا، بے ہوش جانا ہے۔
گرم موسم میں سخت مشقت یا ورزش
دھوپ میں براہ راست بہت زیادہ گھومنا
گھر سے باہر کام یا آﺅٹ ڈور ورکنگ

جب کوئی ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے تو ایمبولینس کوطلب کریں یا متاثرہ شخص کو خود ہسپتال لے جائیں (طبی امداد میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے)۔ ایمبولینس کے انتظار کے دوران مریض کو کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کر دیں۔
مریض کو فرش پر لٹا دیں اوراسکے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں (تاکہ دل کی جانب خون کا بہاﺅ بڑھ جائے اور شاک کی روک تھام ہوسکے)۔
مریض کے کپڑے ٹائٹ ہوں تو ان کو ڈھیلا کردیں۔
مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کا اسپرے کریں۔
پیڈسٹل پنکھے کا رخ مریض کی جانب کردیں تاہم بجلی نہ ہو تو اخبار یا دستی پنکھے سے خود مریض کو ہوا دیں۔

ہیٹ اسٹروک سے بچنے کی چند احتیاطی تدابیر
گھر سے باہر نکلتے ہوئے پانی کی بوتل اپنے پاس رکھیں اور طبیعت بگڑنے پر فوری پانی کا استعمال کریں، ویسے بھی پانی کا استعمال کرنا فائدہ مند رہتا ہے۔ سر کے اوپر ہلکا ٹھنڈا کپڑا رکھ کر چلیں یا سفر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ انتہائی سخت گرمی اور دھوپ میں زیادہ دیر تک مشقت والا کام کرنے سے گریز کریں، غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے کی زحمت نہ کریں۔ گھر کو ہوادار اور ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات کریں، زیادہ گرمی ہونے کی صورت میں نہائیں۔ زیادہ پانی اور ہلکی پھلکی غذاؤں کا استعمال کریں جو نظام ہاضمہ کو بہتر کرنے سمیت جسم میں پانی کی نمکیات کو برقرار رکھنے میں مددگار ہوں۔ یہ مضمون عام اور ابتدائی معلومات کے لیے ہے، اسے طبی لحاظ سے نہ دیکھا جائے۔ ہیٹ اسٹروک ہونے کی دوسری وجوہات اور اس کی علامات بھی مختلف ہو سکتی ہیں اور اس سے بچاؤ کی تدابیر بھی بہتر اور مختلف ہو سکتی ہیں- کسی بھی ہنگامی صورت حال کے وقت ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کریں-

بشکریہ ڈان نیوز

پاکستان میں کووڈ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں، کسی غلطی کو کیسے درست کروائیں؟

اس وقت جب پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسینیشن کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے، وہاں لوگوں کے ذہنوں میں موجود سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح ویکسینیشن کا ثبوت یا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈان نے اس حوالے سے لوگوں کی مدد کے لیے ایک سادہ گائیڈ کے ذریعے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے حصول اور اس دوران کچھ غلط ہونے پر کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ کے بارے میں بتایا ہے۔

میں کس طرح سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کروں؟
کووڈ 19 ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے کے لیے نیشنل امیونزائزیشن منیجمنٹ سسٹم (ایم آئی ایم ایس) پورٹل پر جائیں اور وہاں شناختی کارڈ پر موجود تفصیلات کا اندراج کریں۔ اس سرٹیفکیٹ کی فیس 100 روپے ہے جو ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا کی جاسکتی ہے۔ ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ جزوی ویکسینیشن (یعنی ایک خوراک کا استعمال) کی صورت میں بھی سرٹیفکیٹ کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے کسی مرکز پر جاکر بھی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد شناختی کارڈ پر موجود اپنا نام اور قومیت کا اندراج کریں۔

اس کے بعد ادائیگی کے طریقہ کار کا انتخاب کریں۔

ادائیگی کے بعد آپ ایک رسید کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اس سے اپنی تفصیلات کی تصدیق کریں اور بس، آپ کا سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کے لیے تیار ہے۔

اگر آپ سرٹیفکیٹ کا پرنٹ دوبارہ نکالنا چاہتے ہیں تو این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر جاکر دوبارہ اپنی تفصیلات کا اندراج کریں۔ تاہم دوبارہ پرنٹ نکانے پر نام اور قومیت کے اندراج کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ویب سائٹ براہ راست ری پرنٹ آپشن کی جانب لے جائے گی۔

میں اپنی تفصیلات کیسے تبدیل کروں؟
این آئی ایم ایس کے مطابق آپ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ میں مخصوص تفصیلات کو تبدیل کر سکتے ہیں جیسے نام کے ہجے، پاسپورٹ نمبر یا قومیت میں غلطیوں کو ویب سائٹ پر جا کر دوبارہ تفصیلات کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے پر ویب سائٹ آپ کو ایک پیج پر لے جائے گی جہاں سرٹیفکیٹ ڈیٹا کی تفصیلات کی تدوین کا آپشن ہو گا اور آپ ان کو درست کر سکیں گے۔ باقی پراسیس وہی پرانا ہو گا یعنی شناختی کارڈ کی تفصیلات کا اندراج کریں، 100 روپے فیس ادا کریں اور سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

دیگر غلطیاں کیسے ٹھیک کریں؟
تاہم کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی ہے کہ سرٹیفکیٹ میں دیگر تفصیلات جیسے کونسی ویکسین استعمال ہوئی اس کا نام یا ویکسنیشن کی تاریخ درست نہیں۔ کچھ افراد کی جانب سے یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ انہیں اب تک ایک خوراک فراہم کی گئی ہے مگر این آئی ایم ایس سرٹیفکیٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔ کچھ نے یہ شکایت کی ہے کہ انہیں دوسری خوراک تو مل گئی ہے مگر ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے پر سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکے۔ اس حوالے سے ڈان کی جانب سے وزارت صحت (این ایچ ایس) سے رابطہ کرنے پر این ایچ ایس کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ اب تک کی پنچ آپریٹرز کی جانب سے کی گئی غلطیوں کی سیکڑوں شکایات مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان غلطیوں کی تصیح کے لیے لوگ اس ویکسنیشن مرکز پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں جہاں ان کو ویکسین لگائی گئی یا این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر شکایت درج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ ہیلپ لائن 1166 سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ڈیٹا انٹری پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ آپریٹرز ان کے سامنے ہی سسٹم میں ڈیٹا کا اندراج کرتے ہیں۔ وزارت صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید نے بتایا کہ صوبے کے ہر ویکسینیشن مرکز میں کمپلینٹ ڈیسکس موجود ہیں، ڈیٹا انٹری میں غلطی پر شہریوں کو ان ڈیسکس سے روجع کر کے ان کو درست کرانا چاہیے۔

بشکریہ ڈان نیوز

ویکسی نیشن کا عالمی پلان ضروری ہے

ایسے عالم میں کہ کورونا وبا کو سامنے آئے ڈیڑھ برس سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اس سے بچائو کی تدابیر اور ویکسین لگانے کی ضرورت سے دنیا کے متعدد حصوں میں غفلت وہ افسوسناک حقیقت ہے جس پر ایک جانب پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کو متوجہ کیا ہے، دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گرتریس یورپی یونین پارلیمنٹ سے خطاب میں عالمی ویکسی نیشن پلان کی ضرورت اجاگر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں کورونا وائرس انسانی زندگیاں نگل رہا ہے مگر تمام ضرورت مندوں تک ویکسین کی فراہمی کا نہ تو کوئی مربوط نظام نظر آ رہا ہے نہ ایسے معیارات پر عملی اتفاق محسوس ہوتا ہے جن میں ویکسین کے فوائد کا ڈیٹا ملحوظ رکھ کر لوگوں کو سفر سمیت ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عالمی سطح پر حفاظتی ویکسین کی حکمت عملی بنانے اور ویکسین بنانے والے ممالک کو ایسی ہنگامی ٹاسک فورس میں یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو عالمی ادارہ صحت، گیوی ویکسین الائنس اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد سے فارما سیوٹیکل کمپنیوں اور اہم صنعتی اداروں کو متحرک کرے۔

یہ ایک مناسب تجویز ہے مگر کیا ایسے ماحول میں یہ بیل جلد منڈھے چڑھنے کی امید کی جا سکتی ہے جب کمرشل ازم کا آسیب بہت سی قدروں اور انسانی ضرورتوں پر حاوی محسوس ہو رہا ہے۔ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھنے والے پاکستانیوں پر ایک خاص کمپنی کی ویکسین لگوانے کی شرط کے تناظر میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا یہ ٹویٹ عالمی ادارہ صحت کی توجہ کا بطور خاص متقاضی ہے کہ شہریوں کی صحت کا معاملہ عالمی تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ کسی ویکسین کو تسلیم کرنا عالمی ادارے کا کام ہے جبکہ انفرادی ممالک کے فیصلوں اور اعلانات سے انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اس باب میں عالمی ادارہ صحت کا موقف سامنے آنا اور پالیسی میں ابہام سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ازلہ کیا جانا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

روس کی ’سپتنک فائیو‘ ویکسین کا مقصد عالمی اثر و رسوخ بڑھانا ہے؟

روس عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے توانائی اور اسلحے کی برآمد کا سہارا لیتا رہا ہے لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا نے روس کو اس حوالے سے ایک نیا ذریعہ ویکسین کی صورت میں فراہم کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کے خیال میں روس کے کورونا وائرس کی ویکسین متعارف کرنے کا مقصد عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اگست میں دنیا کی پہلی کورونا ویکسین رجسٹر کروانے کا اعلان کیا تھا جس پر دیگر ممالک نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ روس کی ’سپتنک فائیو‘ نامی ویکسین کی افادیت کے حوالے سے سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین کے ٹرائلز مکمل ہونے سے پہلے ہی روس کیسے اس کی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

سپتنک ویکسین تیار کرنے والے روسی سائنسدانوں نے اس کے ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے ہی ویکسین کے مؤثر ہونے کا دعویٰ کر لیا تھا۔ روس نے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکسین 95 فیصد مؤثر ہے۔ تاہم ٹرائلز فی الحال جاری ہونے کی وجہ سے ان کا مکمل ڈیٹا ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کورونا کی ویکسین کے اعلان کا مقصد صحت عامہ کے علاوہ عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس فارماسیوٹیکل تحقیق میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل سویت یونین سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ممالک کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس مغربی ممالک کی لیبارٹریوں کا سہارا لیتا رہا ہے۔

روس میں سابق فرانسیسی سفیر کا کہنا ہے کہ سویت یونین کے بعد سے سپتنک ویکسین روس میں بننے والی پہلی فارماسیوٹکل ایجاد ہے جو اس نے بلا اشتراک تیار کی ہے۔ فرانسیسی سفیر ژون گلنیاسٹی کے مطابق سپتنک فائیو کی کامیابی روس کی بڑی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مقابلے میں کھڑے ہو جانے کی علامت ہے جو روس کے لیے بطور ایک قوم فخر کا مقام ہے۔ روس نے ویکسین کا نام بھی دنیا کی پہلی سیٹلائٹ سپتنک فائیو کے نام پر رکھا ہے جو سویت یونین نے 1957 میں لانچ کر کہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو چیلنج کیا تھا۔ روسی تجزیہ کار ٹٹیانہ سٹینووایا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے ویکسین متعارف کروا کر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ روس پیچیدہ ٹیکنالوجی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ماہرین کا شمار دنیا کے بہترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔

ٹٹیانہ کا کہنا تھا صدر پوتن عالمی سطح پر دکھانا چاہتے تھے کہ روس کورونا کی وبا سے نمٹنے میں پیش پیش ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس بحران سے نمٹنے میں زیادہ کامیاب ہے۔ یاد رہے کہ روس نے دارالحکومت ماسکو میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین سپتنک فائیو لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ویکسین ڈاکٹروں، طبی عملے، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو لگائی جائے گی۔ روس نے رواں ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ دنیا بھر سے سپٹنک ویکسین کی ایک ارب 20 کروڑ خوراکوں کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق رواں سال کے آخر تک ویکسین کی صرف 20 لاکھ خوراکیں تیار کی جائیں گی۔ جبکہ روس کی عوام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ 45 ہزار ویکسین کی خوراکوں کی ضرورت ہے۔

بشکریہ اردو نیوز