بھارت میں نفرت انگیز مواد پھیلانے میں کردار پر فیس بک سے سوالات

خبررساں اداروں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے سیاسی تعصب اور ملک میں نفرت انگیز مواد پھیلانے میں کردار ادا کرنے کے الزامات کے حوالے سے فیس بک انڈیا کے ایگزیکٹوز سے کڑے سوالات کیے ہیں۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی سماعت میڈیا میں سامنے آنے والے ان الزامات کے بعد کی گئی جن میں فیس بک پلیٹ فارم پر مسلم اقلیت کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی اجازت دینا اور بھارت میں اس کے اعلیٰ پالیسی ساز کی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کرنا شامل ہے۔ سوشل میڈیا کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ششی تھرور نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد کمیٹی نے فیس بک کے نمائندوں کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

تاہم کانگریس پارٹی کے رکن ششی تھرور نے سماعت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ بھارت فیس بک کے لیے دنیا میں سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں اس کے تقریباً 32 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ فیس بک کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ کے بھی بھارت میں 40 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ چونکہ ان پلیٹ فارمز کا استعمال پورے ملک میں پھیل چکا ہے اس لیے فیس بک اور واٹس ایپ بھارتی سیاسی جماعتوں کے لیے زبردست میدان جنگ بن چکے ہیں۔ اقلیتی مسلم آبادی پر جھوٹے الزامات اور ان کے خلاف نفرت انگیز آن لائن مہم چلانے پر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کے قائدین کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ بی جے پی اور اس کے رہنماؤں نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس کے برعکس فیس بک پر بھارت نواز مواد کو سنسر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

وزیر ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو خط لکھا اور کہا کہ یہ پلیٹ فارم دائیں بازو کے صارفین کی جانب سے شائع کردہ مواد کو سنسر کر رہا ہے۔ اگست میں کانگریس پارٹی نے زکربرگ کو دو خط لکھے تھے۔ بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے امریکی اخبار ‘وال سٹریٹ جرنل’ میں شائع ہونے والی ایک انکشافی رپورٹ کے بعد فیس بک انتظامیہ سے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست حکمران جماعت کے سیاست دانوں کو اس پلیٹ فارم پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے معتبر اشاعتی ادارے ‘وال سٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کے رکن ٹی راجا سنگھ نے اپنے ذاتی فیس بک پیج کا استعمال کرتے ہوئے روہنگیا تارکین وطن کو گولی مارنے اور مساجد گرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

رواں برس مارچ میں فیس بک کے داخلی نگرانی کے شعبے نے اس اکاؤنٹ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے راجا سنگھ پر فیس بک کے استعمال پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاہم بھارت میں کمپنی کی پبلک پالیسی کی اعلیٰ ترین عہدیدار انہکی داس نے بی جے پی کے رہنماوں پر ‘فیس بک کے نفرت انگیز مواد کے اصولوں کو نافذ کرنے کی مخالفت کی’ اگرچہ یہ اس مواد کے معاملے کو کمپنی میں اندوری طور پر اٹھایا گیا تھا۔ دوسرے خط میں کانگریس پارٹی نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ‘قانون سازی اور عدالتی کارروائی’ پر غور کر رہی ہے کہ کوئی ‘غیر ملکی کمپنی ملک میں معاشرتی عدم استحکام کا باعث نہ بن سکے۔’ فیس بک کے ترجمان نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ 21 اگست کو کمپنی نے مودی کی پارٹی کے بارے میں کسی بھی جانبداری کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کھلا، شفاف اور غیر جانبدار پلیٹ فارم ہے۔

کمپنی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو حالیہ ای میل میں کہا کہ وہ ‘عالمی سطح پر کسی کی بھی سیاسی حیثیت یا پارٹی وابستگی کی پرواہ کیے بغیر مواد میں اعتدال پسندی کی پالیسیاں نافذ کرتی ہے۔‘ بھارت میں فیس بک اور واٹس ایپ کو فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران اقلیتی گروپوں پر مہلک حملوں کو بھڑکانے اور نفرت انگیز مواد کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں کام کرنے والی تحقیقی تنظیم ’ایکولیٹی لیبز‘ کے 2019 کے تجزیے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ فیس بک پر مسلم مخالف مواد پھیلانے والے گروپوں میں مودی کی پارٹی کے حامی شامل ہیں یا ان کا تعلق ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے تھا۔ اس میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ فیس بک کو رپورٹ کیے گئے 93 فیصد نفرت انگیز مواد کو نہیں ہٹایا گیا۔ ایکولیٹی لیبز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھنموزی سونندراراجن نے کہا کہ فیس بک میں خود سے نفرت انگیز مواد پھیلانے سے روکنے کی کم صلاحیت موجود ہے اور وہ کام کرنے میں پیچیدہ اور سست ہے۔ انہوں نے کہا: ’انہیں پرتشدد رجحان رکھنے صارفین کو ہٹانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ یہ ان کے کاروباری مفاد میں نہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

فیس بک بھارتی حکمرانوں کی زر خرید لونڈی؟

بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے انکشافات کے بعد فیس بک انتظامیہ سے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاست دانوں کو اس پلیٹ فارم پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔ امریکہ کے معتبر اشاعتی ادارے کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کے رکن ٹی راجا سنگھ نے اپنے ذاتی فیس بک پیج کا استعمال کرتے ہوئے روہنگیا تارکین وطن کو گولی مارنے اور مساجد گرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ رواں برس مارچ میں فیس بک کے داخلی نگرانی کے شعبے نے اس اکاؤنٹ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے راجا سنگھ پر فیس بک کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاہم بھارت میں کمپنی کی پبلک پالیسی کی اعلیٰ ترین عہدیدار انکھی داس فیس بک کے نفرت انگیز مواد کے اصولوں کو یہاں نافذ کرنے کے خلاف تھی، جن کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے بھارت میں فیس بک کے کاروبار پر اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ٹی راجا سنگھ کے فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹس تاحال موجود ہیں۔ ’فارن پالیسی‘ جریدے کے مطابق کانگریس پارٹی نے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ وہ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات اور بھارت میں اپنی انتظامیہ کی ٹیم کو تبدیل کرنے پر غور کریں۔ دوسری جانب بی جے پی کے چیف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے فیس بک کے حوالے سے ایک بھارتی اخبار میں لکھا ہے کہ کمپنی کو بی جے پی کی زر خرید لونڈی سمجھنا مضحکہ خیز الزام ہے۔ ادھر فیس بک کے اپنے ملازمین کمپنی کے اس دوہرے معیار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور فیس بک انڈیا کے عملے کے 11 ملازمین نے کمپنی کی قیادت کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خط میں لکھا گیا ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر غصے پر قابو پانا مشکل امر ہے اور فیس بک پر موجود مسلم کمیونٹی کے صارفین کمپنی کی قیادت سے اس بارے میں سننا چاہیں گے۔ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اگلے ماہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں ششی تھرور جیسے سیاست دان اس معاملے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ دہلی میں ’عام آدمی پارٹی‘ کی ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فیس بک کی سینیئر انتظامیہ کو اپنی ’امن و ہم آہنگی کمیٹی‘ کے روبرو طلب کرے گی۔ یہ کمیٹی رواں سال متنازع شہریت بل کے بعد مظاہروں کے دوران دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد قائم کی گئی تھی۔ بی جے پی رہنماؤں پر سوشل میڈیا کے ذریعے دہلی فسادات کی آگ بھڑکانے کا بھی الزام ہے۔ ممکن ہے کہ یہ دونوں اقدامات فیس بک کے لیے زیادہ شرمناک صورت حال پیدا کریں گے اور کمپنی پر بی جے پی کو ترجیحی سلوک سے نوازنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

بھارت صارفین کے لحاظ سے فیس بک کی سب سے بڑی منڈی ہے جو اس کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اس کمپنی کے بھارت میں سیاسی روابط بھی مضبوط ہیں، جن کی مثال انکھی داس اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے لیے کی گئی لابنگ اور کمپنی کے سی ای او زکربرگ کی نئی دہلی اور کیلیفورنیا میں نریندر مودی سے کی گئی ذاتی ملاقاتیں شامل ہیں۔ اور اب اس سال ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس میں فیس بک کی 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے کمپنی کو دہلی کی سیاسی راہداریوں تک بالواسطہ رسائی دلا دی ہے۔ اس طرح اب فیس بک کے پاس تعلقات عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک موثر مشینری موجود ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ٹیم بھی۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

اکیاون فیصد امریکی ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتے ہیں، عوامی سروے

امریکی یونیورسٹی کے ایک تازہ عوامی سروے میں 51 فیصد ووٹرز نے صدر ٹرمپ کو نسل پرست شخصیت قرار دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی یونیورسٹی کی جانب سے ایک عوامی سروے کیا گیا جس میں سوال پوچھا گیا تھا کہ ’کیا آپ صدر ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتے ہیں ؟ جس پر 51 فیصد نے جواب میں ہاں اور 45 فیصد نے نہیں کا آپشن منتخب کیا جب کہ 4 فیصد نے جواب دینے سے گریز کیا۔ عوامی سروے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو نسل پرست قرار دینے والوں میں زیادہ تر خواتین اور سیاہ فام ووٹرز کی اکثریت شامل ہے۔ 59 فیصد خواتین ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتی ہیں جب کہ 55 فیصد مرد بھی ایسا سمجھتے ہیں۔

سفید فام ووٹرز کی 46 فیصد اکثریت ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتی ہے جب کہ 50 فیصد کی رائے اس کے برعکس ہے، اسی طرح سیاہ فام ووٹرز میں سے 80 فیصد ٹرمپ کو نسل پرست اور صرف 11 فیصد سیاہ فام صدر ٹرمپ کو نسل پرست نہیں سمجھتے۔ عوامی سروے کی اکثریت کانگریس کی جانب سے ٹرمپ کے مواخذے کی تجویز کی مخالفت کی تاہم عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو نفرت آمیز قرار دیتے ہوئے اسے ملک و قوم کے لیے مضر قرار دیا۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ ’سب سے پہلے امریکا‘ کے نعرے کے پیچھے سیاہ فاموں، اقلیتوں اور مسلمانوں کو بلاجواز اور اخلاق سے گری ہوئی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں اور نومنتخب تارکین وطن خواتین رکن کانگریس کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کر چکے ہیں اسی طرح میکسیکو کے تارکین وطن کے لیے صدر ٹرمپ کی نفرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز