یروشلم / بیت المقدس

پہلی جنگ عظیم کے دوران جس بالفور ڈیکلیریشن کے ذریعے یہودیوں کو فلسطین میں آبادیاں بنانے کی اجازت اور ایک اسرائیلی حکومت قائم کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا، آج تقریباً ایک صدی کے بعد اُس علاقے کی صورت کچھ یوں ہے کہ وہاں کے اصل باشندے یا تو مہاجرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں یا اُن کی بستیوں میں سوائے خوف اور ذلّت کے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس میں شک نہیں کہ آغاز میں خود فلسطین کے لوگوں نے ہی ان آبادیوں کے لیے اپنی زمینیں فروخت کر کے اُس تسلّط کی راہ ہموار کی جس سے نکلنے کے لیے بعض ہمسایہ عرب ممالک کی مدد کے باوجود 1955-1945 اور پھر 1967 کی جنگ حزیران میں شکستوں کے بعد فلسطین کے بیشتر علاقے پر اسرائیل نے بزورِ شمشیر قبضہ کر لیا اور نہ صرف وہاں نئی بستیاں بسا لیں بلکہ باقی ماندہ فلسطین کو بھی ایسی پابندیوں میں جکڑ دیا کہ وہ لوگ اپنے ہی ملک میں غلام بن گئے ہیں ۔

ساری نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ دنیا نے یہ تماشا کھلی آنکھوں سے دیکھا مگر کسی کو مظلوموں کے حق میں آواز اُٹھانے کی توفیق نہ ہوئی۔ ارد گرد کے عرب اور اسلامی ممالک بھی ایک ایک کر کے خاموش اور الگ ہوتے چلے گئے کہ استعماری قوتوں نے ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت یا تو انھیں ایسا کرنے پر محصور کر دیا یا سِرے سے اُن کا وجود ہی ختم کر دیا، کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے بعد اسرائیل کی اس ناجائز اور زبردستی قائم کی جانے والی ریاست کو نہ صرف (واستشنائے چند) تسلیم کر لیا گیا بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھی کھلے عام مدد اور تحریک فراہم کی گئی اور اب یہ حال ہے کہ عملی طور پر فلسطینیوں کی آبادیوں اور ان کی نقل و حرکت کا سارا کنٹرول اسرائیلی افواج اور ایجنسیوں کے پاس ہے یہاں تک کہ یروشلم یعنی بیت المقدس کا علاقہ بھی اُن کے لیے نیم ممنوعہ علاقہ بن گیا کہ اس کا زیادہ تر حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں تھا، اس ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینے کے لیے بہت سی کارروائیاں کی گئیں جن میں سے آخری یروشلم کو اسرائیل کا باقاعدہ اور مستقل حصہ قرار دینا ہے۔

اس اونٹ کی کمر پر آخری اینٹ چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اُس اعلان کے ذریعے رکھ دی ہے جس کے مطابق اس شہر کے ایک چھوٹے سے حصے کے علاوہ سارا کنٹرول اسرائیل کا ہو گا۔ حسبِ سابق اس بار بھی ساری دنیا بشمول اسلامی ممالک خاموش ہیں یا ایسے انداز میں ردّعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ذہن بے اختیار غالبؔ کے اس مصرعے کی طرف جاتا ہے کہ
ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے
ایسے میں ترکی کے صدر طیب اردوان کا بیان پوری اسلامی دنیا سے اُٹھنے والی یہ واحد آواز ہے جس نے ہماری غیرت اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے انھوں نے کہا : ’’اگر ہم بیت المقدس سے محروم ہوئے تو مدینہ کی حفاظت بھی نہیں کر سکیں گے اگر مدینہ ہاتھ سے نکل گیا تو مکہ کو بھی نہیں بچا پائیں گے، اگر ہم نے مکہ کھو دیا تو کعبہ سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ مت بھولو بیت المقدس کا مطلب استنبول، ا سلام آباد، جکارتہ ہے، مدینہ منورہ کا مطلب قاہرہ، دمشق اور بغدا د ہے۔ کعبہ، تمام مسلمانوں کا وقار، ناموس، فخر، وحدت کی علامت اور مقصد حیات ہے۔ ہم ان مقدسات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اللہ اور اسلاف نے جو امانت ہمیں دی ہے اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔‘‘

اس ولولہ انگیز اور فکر آفرین تقریر کو سن کر میرا دل بے اختیا ر اُن بے شمار نظموں کی فضا میں سانس لینے لگا جو فلسطین کے مزاحمتی شاعروں نے ا س عرصے اور بالخصوص 1967 کی جنگ حزیران کے ردّعمل میں لکھی ہیں جن میں سے چھ شاعروں کی نظموں کے منظوم متراجم مجھے بھی کرنے کا موقع ملا ہے (محمود درویش ، نزار قبانی، عبدالوہاب البیاسی، سمیع القاسم، فدویٰ طوقان، نازک الملائکہ) کوئی تیس برس قبل ’’ بیت المقدس کی ایک شام‘‘ کے عنوان سے خود میں نے بھی ایک نظم لکھی تھی جس کا بہت خوبصورت انگریزی ترجمہ برادرم خواجہ وقاص نے کیا تھا، اس نظم کے آخری بند اور سمیع القاسم کی ایک مختصر نظم کے ساتھ میں یہ سوال اپنے سمیت اُن تمام اہلِ فکر و نظر اور داعیانِ حق و انصاف کے لیے چھوڑتا ہوں کہ اگر دنیا اسی طرح ظلم کے آگے گردن جھکاتی اور صرف زیرلب بڑ بڑاتی رہی تو آنے والا کل ہمارے بارے میں کیا سوچے گا؟ تو آیئے پہلے میری نظم کا آخری بند دیکھیے۔

درِ شہرِ اقدس کے باہر کھڑا میں یہی سوچتا ہوں
کہاں تک یہ ذلت کی اور غم کی آتش
مرے دل ہی دل میں سلگتی رہے گی؟

گھنی شام کی یہ گھنیری اُداسی
کہاں تک مرے ساتھ چلتی رہے گی؟

اور اب سمیع القاسم کی آواز میں اُس دکھ اور للکار کو مجسم دیکھیے جو طیب اردگان کے لہجے سے جھلک رہی تھی اور پھر سوچیئے کہ کب تک ہم خاموش تماشائی بنے اس ٹوٹتے ہوئے منظر کو دیکھتے رہیں گے اور اس نظم میں موجود اُمید اور ارادہ کب اور کیسے ہمارے دلوں اور ضمیر عالم کو بیدار کر پائیں گے ۔

ایک دن ا ن لہو میں نہائے ہوئے
بازوئوں میں نئے بال و پَر آئیں گے

وقت کے ساتھ سب گھائو بھر جائیں گے
ان فضائوں میں پھر اُس پرندے کے نغمے بکھر جائیں گے

جو گرفتِ خزاں سے پرے رہ گیا
اور جاتے ہوئے، سُرخ پُھولوں کے کانوں میں یہ کہہ گیا

’’ایک لمحہ ہو یا اک صدی دوستو
مجھ کو ٹوٹے ہوئے ان پَروں کی قسم

اس چمن کی بہاریں میں لوٹائوں گا
فاصلوں کی فصیلیں گراتا ہوا

میں ضرور آئوں گا
میں ضرور آئوں گا

امجد اسلام امجد   

بشکریہ ایکسپریس نیوز

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت قرار دینا صدی کا طمانچہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا، تاہم فلسطینی قیادت نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو ’صدی کا طمانچہ‘ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے امن منصوبے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل کام تھا جو ماضی میں کوئی نہیں کر سکا لیکن ’میں چھوٹے کام کرنے یا بڑے مسائل سے بھاگنے کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔‘ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’حقیقت میں بیت المقدس آزاد ہو گیا ہے،‘ اور یہ کہ ان کا منصوبہ فلسطینیوں کے لیے ’آخری موقع ہو گا۔

’امن منصوبے‘ کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ 80 صفحات پر مشتمل منصوبہ ہے جو اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور خطے میں امن کے لیے ہے۔‘ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ امن کا راستہ چنتے ہیں تو امریکہ اور ہم سب آپ کی کئی راستوں سے مدد کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔‘ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس منصوبے سے فلسطینی سرزمین دگنی ہو جائے گی اور فلسطین کو مشرقی بیت المقدس میں دارالحکومت ملے گا جہاں امریکہ اپنا سفارت خانہ بھی کھولے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی فلسطینی یا اسرائیلی کو نکالا نہیں جائے گا۔‘ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مسلمانوں کو مسجد الاقصیٰ تک رسائی دی جائے۔

انہوں نے تجویز دی کہ جو منصوبہ فلسطینی ریاست کے لیے بنایا گیا اس علاقے میں چار سال تک اسرائیلی ترقیاتی کام روک دیے جائیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا: ’مسلمانوں کو اپنی غلطی سدھارنے کی ضرورت ہے جو انہوں نے 1948 میں حملہ کر کے کی تھی۔‘ امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ایک نقشہ بھی شیئر کیا۔ تاہم فلسطینی صدر نے امریکی صدر کے امن منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا۔ دی انڈپینڈنٹ کے مطابق صدر محمود عباس، جن سے اس امن منصوبے کے عمل میں مشاورت نہیں کی گئی تھی اور جنہوں نے برسوں قبل امریکی پالیسیوں سے ناامید ہو کر واشنگٹن سے تعلقات منقطع کیے تھے، نے کہا: ’نہ تو فلسطینی عوام اس معاہدے کو قبول کریں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔‘

اپنے بیان میں صدر محمود عباس کا کہنا تھا: ’میں ٹرمپ اور نتن یاہو سے کہتا ہوں کہ یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے تمام حقوق فروخت کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی سودے بازی کے لیے ہیں۔‘ صدر محمود عباس نے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں عوام سے ٹیلیویژن خطاب میں مزید کہا: ’اور آپ کا معاہدہ، جو ایک سازش ہے، کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ہر فلسطینی، عرب، مسلمان یا عیسائی بچے کے لیے یروشلم کے بغیر ریاست کو قبول کرنا ناممکن ہے۔‘ صدر محمود عباس نے اس معاہدے کو ’بکواس‘ قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں سے پرامن طریقوں سے اس عمل کی مزاحمت کرنے کی اپیل کی۔

اس سے قبل فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے بھی صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔ خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے حماس کے سینیئر عہدیدار خلیل ال حیا نے کہا تھا کہ ’ہم اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یروشلم کے علاوہ کسی بھی مقام کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور الیکشن میں ان کے حریف بینی گنٹز کے وائٹ ہاؤس دورے سے قبل مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے امن منصوبے کی تفصیلات جاری کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ امن منصوبہ کافی عرصے سے زیر التوا تھا اور اس کے سیاسی پہلوؤں کو اب تک خفیہ رکھا گیا تھا، تاہم معاشی پہلو ماضی میں جاری کیے جا چکے ہیں۔ امریکی صدر اپنے امن منصوبے کے حوالے سے کہا تھا کہ ’یہ شاندار منصوبہ ہے، جو امید ہے کہ کام کرے گا۔

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

ٹرمپ کا فلسطین امن معاہدہ عربوں کو قبول نہیں ہے

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبے کی تفصیلات جزوی طور پر بحرین میں پیش کی گئیں جنہیں عرب اور اسلامی ممالک نے خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔ اسرئیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا یہ معاہدہ جس پر دو سال سے کام چل رہا تھا اور جسے ’ڈیل آف دا سینچری‘ کہا جا رہا تھا، اسے بحرین میں جاری ایک امن اجلاس میں پیش کر دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں اس معاہدے کے بارے میں کوئی خاص گرم جوشی نہیں پائی گئی۔ کئی دہائیوں سے دنیا میں موجود اس اہم تنازعے کو حل کرنے کے لیے امن منصوبہ بنانے کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی معاون جیریڈ کشنر کے کندھوں پر تھی۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقہ جات پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، غزہ کی پٹی کا محاصرہ، فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے سے روکنا اور ان کو آزادی کے حق سے محروم رکھنا، پچھلے 70 برس سے یہ تمام مسائل عرب اور اسلامی ممالک کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور امریکہ بھی اس تنازعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطین کی خوشحالی کے لیے ہونے والا یہ امن اجلاس امریکہ کی جانب سے’ڈیل آف دا سینچری‘ پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور بحرین کے دارالحکومت مانامہ میں منعقد کیا گیا تھا مگر اجلاس کے پہلے دن ہی عرب ممالک نے اس سے بے توجہی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔

فلسطین نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان شروع ہی میں کر دیا تھا جب کہ اسرائیل کا وفد آنے کی توقع کی جاری تھی۔ حیران کن طور پر اسرائیلی میڈیا کے وہاں سے بھی اس اجلاس میں کوئی خاص نمائندگی نظر نہیں آئی۔ اسرائیل کے اقتصادی یا تجارتی ماہرین نے بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ صدر ٹرمپ کی یہ ’ڈیل آف دا سینچری‘ جس کا شور امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے بہت زیادہ مچایا جا رہا تھا، اس میں مذکورہ شق کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں تھی کہ خوشحال عرب ممالک پانچ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں تاکہ فلسطینی علاقوں میں اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس منصوبے میں سیاسی مسائل کا حل اور اسرائیل- فلسطین امن کے قیام کے لیے روڈمیپ اب بھی غیر واضح ہیں۔ جیریڈ کشنر کے مطابق، اس منصوبے کے باقی حصے کچھ مہنیوں میں عوام کے سامنے پیش کر دیے جائیں گے۔

جس چیز پر مزید توجہ سے بات ہونی چاہیے وہ اس منصوبے کا سیاسی لائحہ عمل ہے۔ دونوں قوموں کے درمیان امن کا قیام اور اسرائیل کے برابر میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام! جہاں اس منصوبےمیں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کی بات کی گئی ہے، وہیں سیاسی حل کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں۔ اسرائیل کے مقبوضہ علاقے، فلسطینیوں کی واپسی، فلسطین کے دارالحکومت اور آزاد ریاست کا قیام، یہ سب مسائل جب تک حل نہیں ہوں گے تب تک عرب اور اسلامی ممالک امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے سے کتراتے رہیں گے۔ اگرچہ اس اجلاس کا میزبان بحرین ہے، پھر بھی نہ تو اس نے اور نہ ہی عرب ممالک نے اس منصوبے کو خوش دلی سے قبول کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان فلسطین اور دیگر سکیورٹی معاملات پر بڑھتی قربتوں اور مذاکرات کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو بھلا دیا گیا ہے یا پھر دیگر اہم مطالبات جیسے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ یا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا یا فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ اگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تھوڑے بہت تیار ہو گئے ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی داخلی سیاست ہے کیونکہ ان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات نے انہیں اتنا پریشان کر دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے اسرائیل کے ساتھ قربت میں ہی بہتری سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حکام اور عوام بھی امریکی صدر کو اس اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ان کے اور اسرائیل کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے کروا سکیں گے یا کوئی منصوبہ تجویز ہی کر پائیں گے۔ اس صورتحال میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ جیریڈ کشنر کا پیش کردہ یہ منصوبہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائے گا، کم از کم جب تک اسے کوئی اور ثالث بہتر طریقے سے پیش نہ کر دے۔

کاملیا انتخابی فرد ایڈیٹر ان چیف

بشکریہ انڈپینڈنٹ فارسی

فلسطینیوں کو آزادی چاہیے، اربوں ڈالروں کی باتیں نہیں

فلسطین کے وزیرِ خزانہ نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے منصوبے کے اقتصادی حصے کو غیر حقیقی اور ایک خواب و خیال قرار دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ شُکری بشارا نے کہا ہے کہ فلسطینی خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر بات چیت کی ضرورت نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے لیے 50 ارب ڈالرز کی مالیت کے ایک اقتصادی ترقی کے منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے ہے۔ اس تجویز کا عرب ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا ہے البتہ خلیجی بادشاہتوں اور امارتوں میں اس کا خاموش قسم کا خیر مقدم ہوتا نظر آرہا ہے۔ سعودی عرب جیسے ممالک اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس کانفرانس کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بحرین کے دارالحکومت مناما میں ایک کانفرنس میں اس امریکی تجویز پر غور کیا جائے گا جسے صدر ٹرمپ کے داماد جاریڈ کُشنر اسرائیل اور فلسطینے تنازعے کے حل کے لیے پیش کریں گے۔ 50 ارب ڈالرز کے ایک عالمی فنڈ کے ذریعے عرب ممالک اور فلسطینیوں کے علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسے ‘امن سے خوشحالی’ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں کئی عرب ممالک شرکت کریں گے لیکن فلسطینی حلقے اسے اصل تنازع کو نظر انداز کرنے کو کوشش قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی سنہ 1967 سے پہلے کے آزاد فلسطینی علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ہم امن چاتے ہیں تاکہ ہم ترقی کر سکیں۔ ‘پہلے ترقی اور پھر امن ایک غیر حقیق خواب و خیال ہے۔

‘سب سے پہلے ہمیں ہماری زمین اور آزادی واپس کی جائے۔’ جیراڈ کشنر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کہا ہے کہ جس منصوبے کو ‘ڈیل آف دی سینچری’ (اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ) اُسے دراصل ‘آپورچیونیٹی اف دی سینچری’ (صدی کا سب سے بڑا موقع) کہا جا سکتا ہے۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ بشارا نے کہا کہ فلسطینیوں کو ‘اوسلو اکارڈ’ کے بعد سے امریکہ کے ساتھ کام کا تلخ تجربہ ہوا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطینیوں کو ملنے والی مالی امداد بھی بند کر دی ہے۔ انھوں نے کہ کہ ہم اس ڈیل آف دی سینچری کے بارے میں محتاط ہیں اور شک و شبہات رکھتے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو