معاشی ترقی کے دعوے

ملکی معیشت کے حوالے سے حکومت کے بلند بانگ دعوے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام مسلسل تنگ دستی اور معاشی تنزلی کا شکار ہیں۔ مدتوں سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ مہنگائی کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے یہ بات کانوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف حکومتی اعداد و شمار کے ہندسوں تک ہی محدود ہے ورنہ ہر آنے والے دن عوام کی قوت خریدان کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز معیشت کی بہتری کی خوشخبریاں ضروردی ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنے دامن کو بچاتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ میری باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کیلئے ترقی اور خوشحالی کے راستے کھل گئے ہیں، ایسا صرف اسی وقت ممکن ہو گا جب ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہو گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اپیکس کمیٹی اجلاس میں اس بات کا اعادہ بالخصوص کیا کہ ملک کی معیشت رفتہ رفتہ استحکام کی جانب گامزن ہے، اس کا کریڈٹ انہوں نے وفاق اور صوبوں سمیت سب ہی کی جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی سب سے اہم پہلو ہے، معاشی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ 

انہوں نے قوم کو ایک بار پھر نوید دی کہ حالیہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا لیکن یہ کہنے سے نہیں بلکہ محنت دیانت اور خون پسینہ بہانے سے ہی ممکن ہو گا۔ پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے پہلے سیاسی استحکام لازمی ہے آج بھی حکومت اور اس کے ماسٹر مائنڈ اس کام میں ناکام ہیں جس کے سبب دیگر امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ جہاں سیاسی استحکام نہ ہو وہاں کوئی ملکی یا بیرونی سرمایہ دار کیوں اپنے سرمائے کو دائو پر لگائے گا۔ اس میں بھی دورائے نہیں کہ مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوئوں کے باوجود اس وقت بھی مہنگائی عروج پر ہے، بیروزگاری کا گراف بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت اور کوٹہ سسٹم کے حمایتیوں نے ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں ایسی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں جنہیں گرانا قانون سازوں کے بھی بس کی بات نہیں۔ وزیر خزانہ کا فرمان ہے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی پر آئی ایم ایف بھی حیران ہے کہ 14 ماہ میں معیشت کیسے سنبھل گئی، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آ گئی، معیشت کی بہتری کیلئے مقررہ اہداف حاصل کریں گے اور تمام شعبوں میں اصلاحات جاری رکھی جائیں گی لیکن پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کس طرح نجکاری کی آڑ میں قومی اثاثوں کی نیلامی ہو رہی ہے۔ 

گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں، وزیر اعظم کی طرح وزیر خزانہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی کارکردگی کے معترف ہیں جن کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کا اعتماد حکومت پر کیوں نہ بڑھے کہ حکومت ان کے ہی مشوروں پر تو عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے معیشت کی کامیابی کے جھنڈے لہرا رہی ہے۔ علاوہ ازیں، بہت سے دوست ممالک پاکستان کی قرض کے ذریعے بھی مدد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کیلئے بھی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود عام آدمی کے مسائل کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اور حکومت کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات بھی دکھائی نہیں دے رہے جن کے زیر اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہو۔ ایک دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں تو اس سے اگلی مرتبہ میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ بتانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف لیوی بڑھانے اور جی ایس ٹی لگانے کیلئے دبائو ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا سارا دبائو عام آدمی کو نچوڑنے پر ہی کیوں ہے؟ کیا آئی ایم ایف نے اشرافیہ اور بیورو کریسی کو سرکاری خزانے سے ملنے والی مراعات و سہولیات کا ذکر کبھی نہیں کیا؟۔

دوسری جانب حماس سے جنگ میں دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور ہونے کی دعویدار اسرائیلی فوج نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے جنگ بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اور سیکورٹی چیفس نے وزیراعظم نیتن یاہو کو بریفنگ میں بتایا کہ حماس کے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی حالت نازک ہے اور ان کی رہائی کیلئے اب جنگ بندی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسرائیلی جنرلز نے بتایا کہ بیش تر یرغمالیوں کا وزن خوراک کی کمی کے سبب آدھا رہ گیا، ایسی صورت میں موسم سرما یرغمالیوں کی زندگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیلی جنرلز بزدلی کا اعتراف تو کر نہیں سکتے تھے اس لیے یرغمالیوں کا سہارا لیا، لیکن انہوں نے یرغمالیوں کا وزن بھی معلوم کر کے بتادیا کہ وہ آدھا رہ گیا ہے، یہ خوب بات کی ہے۔ اوّل تو جتنے یرغمالی رہا ہوئے ہیں سب نے بتایا ہے کہ حماس کے مجاہدین نے خود نہیں کھایا ہمیں اچھا کھلایا ہے اور یہ تجربہ امریکی اور روسی بھی افغانستان میں کرچکے ہیں، ان کو معلوم بھی ہے کہ مسلمانوں کے جنگی اصول ہوتے ہیں وہ اسرائیل کی طرح غیر انسانی طریقے سے جنگ نہیں لڑتے۔ اور یہ کہ اگر خوراک کی کمی ہے تو اس کا ذمے دار بھی نیتن یاہو ہی ہے۔ امداد کے راستے تو اسی نے روک رکھے ہیں، دوائیں اسی نے بند کررکھی ہیں، اسپتالوں پر وہی بمباری کررہا ہے سویلین کو بھی وہی نشانہ بنارہا ہے، یہ مطالبہ تو طاقتور فوج کا اعتراف شکست ہے۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

پابہ زنجیر مزاحمتیوں کو آج کا دن پھر مبارک

آج انتیس نومبر ہے۔ آج ہی کے دن پچھتر برس قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین کو دو حصوں میں بانٹنے کی قرار داد منظور کی۔ یہودیوں کو تو اس قرار داد کے مطابق اسرائیل مل گیا مگر فلسطینیوں کو آزاد ملک تو کجا رہا سہا علاقہ بھی ہاتھ سے جاتا رہا اور انھیں اقوامِ متحدہ نے عملاً تیس برس بعد انیس سو ستتر میں محض انتیس نومبر بطور یومِ یکجہتی تھما دیا۔ انیس سو ستتر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس نے بھاری اکثریت سے فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد و خودمختار وطن کی قرار داد منظور کی۔ اس اجلاس سے تنظیم آزادی ِ فلسطین ( پی ایل او ) کے سربراہ یاسر عرفات نے بھی پہلی مرتبہ بطور مبصر خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا ’’ میرے دائیں ہاتھ میں بندوق اور بائیں ہاتھ میں شاخِ زیتون ہے۔ میرے ہاتھ سے شاخِ زیتون مت گرنے دیجیے ۔‘‘ فلسطینیوں سے انیس سو سینتالیس اڑتالیس کے بعد دوسرا دھوکا انیس سو بانوے میں اوسلو امن سمجھوتے کے نام پر ہوا۔

جب جون انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے غربِ اردن اورغزہ پر فوجی قبضہ کر کے وہاں مستقل فوجی قوانین نافذ کر دیے تو ان کی مسلسل مزاحمت (انتفادہ) کے نتیجے میں یاسر عرفات کو وائٹ ہاؤس بلوا کر صدر بل کلنٹن نے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک رابین کا ہاتھ تھام کر تین ہاتھوں کا اوپر نیچے ترکٹ سا بنایا اور عرفات کو یقین دلایا کہ آپ نے مسلح جدوجہد ترک کر کے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر کے جو فراخ دلی دکھائی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی اور اگلے چار برس میں ( انیس سو چھیانوے ) ایک آزاد و خودمختار فلسطینی مملکت وجود میں آ جائے گی۔ اس ڈیڈ لائن سے پہلے ہی چار نومبر انیس سو پچانوے کو ایک یہودی انتہاپسند کے ہاتھوں اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک رابین قتل ہو گئے۔ بعد کی اسرائیلی حکومتوں نے آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے بجائے پی ایل او کو غزہ اور غربِ اردن پر مشتمل ایک کاٹا چھانٹا چھیدیلا ٹکڑا کسی بلدیہ کے برابر اختیارات دے کر کہا کہ یہ رہی آپ کی فلسطینی اتھارٹی عرف آزاد مملکت۔

ظاہر ہے فلسطینی دوبارہ بدک گئے اور سن دو ہزار سے دو ہزار پانچ تک دوسرا انتفادہ جاری رہا۔ اس میں بھی حسبِ معمول سیکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی و بے گھر ہوئے۔ سن دو ہزار چار میں یاسر عرفات کا بھی پراسرار حالات میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد خود فلسطینی دو حصوں میں بٹ گئے۔ غلاموں کا غصہ غلاموں پر نکلنے لگا۔ حماس نے مقبوضہ غزہ پر عمل داری قائم کر لی۔ اور پی ایل او کی حکمرانی غربِ اردن تک محدود رہ گئی۔ حماس چونکہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی لہٰذا اس خود سری کی سزا دنیا کی سب سے بڑی کھلی اور گنجان جیل کہے جانے والے غزہ کے ایک ملین شہریوں کو اسرائیلی بمباری، فوج کشی اور ناکہ بندی کی صورت میں سال میں کئی کئی بار ملتی ہے۔ جب کہ غربِ اردن میں اس عرصے کے دوران سات لاکھ یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان بیسیوں یہودی بستیوں کی شکل میں بسانے کا عمل برابر جاری ہے۔ یہ بستیاں غربِ اردن کے چہرے پر چیچک کے داغوں کی طرح مسلسل پھیلتی ہی جا رہی ہیں۔

غزہ اگر مستقل ناکہ بندی اور غربت و بے چارگی کی انتہائی سطح پر ہے تو غربِ اردن پر اسرائیل کا گزشتہ پچپن برس سے مسلسل فوجی راج ہے۔ ہر فلسطینی زن و مرد و طفل کو نیم انسانی درجے پر جانی دشمن سمجھ کے اس کے مطابق سلوک اسرائیلی ڈی این اے میں شامل ہے۔ اگر اسرائیل کی بین الاقوامی جغرافیائی حدود میں رہنے والے بیس فیصد عرب اسرائیلی باشندے ہر اعتبار سے درجہ دوم کے شہری ہیں تو مقبوضہ غربِ اردن اور غزہ میں رہنے والے انھی کے بھائی بند درجہ چہارم کے انسان ہیں۔ فلسطینیوں کو صرف یہی ابتلا درپیش نہیں کہ ان کی آبائی زمینوں اور قبرستانوں کو بتدریج چھین کر دنیا بھر سے آنے والے یہودی آبادکاروں کو بسایا جا رہا ہے بلکہ ہیبرون ( الخلیل ) اور یروشلم ( بیت المقدس) کے قدیم محلوں میں صدیوں سے آباد کسی بھی فلسطینی خاندان کو دن یا رات کے کسی بھی پہر فوج کے پہرے میں آنے والا کوئی بھی اجنبی یہودی کسی بھی اسرائیلی عدالت کا حکم نامہ دکھا کر گھر سے نکال کر ’’ قانوناً ‘‘ ناجائز قبضہ کر سکتا ہے۔

اس وقت مشرقی یروشلم میں فلسطینی باشندوں کی اکثریت ہے جب کہ مغربی یروشلم میں یہودی آبادی کو گزشتہ پچپن برس کے دوران اکثریت میں بدل دیا گیا ہے۔ اسرائیل اوسلو سمجھوتے کے تحت پابند ہے کہ یروشلم کو نئی آزاد فلسطینی مملکت کا مشترکہ دارالحکومت تسلیم کرے۔ اب اوسلو سمجھوتہ ہی نیم مردہ ہو گیا تو کون سا وعدہ کس کا وعدہ۔ اب تو سیدھا سیدھا حساب ہے کہ یہودی ریاست کھلم کھلا یروشلم کو ایک ناقابلِ تقسیم اسرائیلی دارالحکومت مانتی ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ اگلے بیس برس میں مشرقی یروشلم کی فلسطینی آبادی کی زندگی کو اتنا اجیرن کر دیا جائے کہ تنگ آ کر خود ہی گھر چھوڑ کے بیرونِ ملک چلے جائیں اور تب انھیں غیر ملکی قرار دے کر گھر واپسی کے حق کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ضبط کر لیا جائے اور پھر پورے یروشلم کو ایک یہودی اکثریتی شہر قرار دے کر فلسطینیوں سے امید کا آخری قومی و مذہبی سمبل بھی اڑس لیا جائے۔

اس منصوبے کو امریکا سمیت ان تمام ممالک کی تائید حاصل ہے جو گزشتہ چوتھائی صدی سے اپنے سفارتی و انتظامی دفاتر دھیرے دھیرے تل ابیب سے مغربی یروشلم منتقل کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی تعداد اب ستر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ سب کے سب اقوامِ متحدہ کے رکن بھی ہیں جو ان سب حرکتوں کو متعدد بار غاصبانہ قبضہ قرار دے چکا ہے۔ فلسطینی کاز کو ایک بڑا دھچکا ان عرب ریاستوں کی جانب سے لگا ہے جو دھڑا دھڑ اسرائیل کو غیر مشروط انداز میں تسلیم کرتی جا رہی ہیں۔ جب انیس سو ستتر میں مصر کے صدر انور سادات نے اسرائیل کا دورہ کیا تو مصر کو سیاسی و سفارتی اچھوت قرار دے کر اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور عرب لیگ سمیت ہر قابلِ ذکر ادارے سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ اس سے قبل ترکی ( انیس سو انچاس) اور شاہی ایران ( انیس سو پچاس ) اسرائیل سے سفارتی ہاتھ ملانے والے اولین مسلم ممالک تھے۔

آج ترکی و مصر کے علاوہ اردن ، مراکش ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان کے اسرائیل سے براہِ راست سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں۔ جن عرب ریاستوں کے تعلقات براہ راست نہیں وہ خصوصی دفاتر کے روپ میں کاروبار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سمیت فی الحال جو یہ بھی نہیں کر پا رہے انھوں نے اسرائیلی فضائی کمپنیوں کو اپنا آسمان استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ کویت اور قطر آخری خلیجی ریاستیں ہیں جنھوں نے اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔ البتہ قطر نے ورلڈ فٹ بال فیفا کپ کی خوشی میں اسرائیلی شہریوں کو براہ راست پروازوں سے دوہا میں اترنے کی اجازت دے دی ہے۔ پے در پے دھچکوں کے سبب فلسطینیوں کی آزاد و خود مختار ریاست کا خواب رفتہ رفتہ دبیز دھندلکوں میں کھو رہا ہے۔ فلسطین پہلے سے بڑھ کے تنہا ہے۔ لے دے کے عالمی برادری کے پاس یومِ یکجہتی فلسطین جیسے آئٹمز ہی دلجوئی کی خاطر بچے رہ گئے ہیں، یا بہت ہی مجبوری ہو تو مختلف عرب دارالحکومتوں سے کبھی کبھار ایک سائیکلوا سٹائیل حمایتی یا مذمتی بیان جاری ہو جاتا ہے۔

یورپی و عرب ممالک سمیت دنیا کا عمومی رویہ اب فلسطینوں کے ساتھ یہی ہے کہ ’’ ہمارے بھروسے مت رہو ، پرجہاں رہیو خوش رہیو۔‘‘ ایک واحد خوش آیند امید کوئی ہے تو بس یہ کہ پانچ چھ برس کے فلسطینی بچے نے آج بھی ہاتھ میں پتھر اٹھا رکھا ہے۔ ان پابہ زنجیر مزاحمتیوں کو ایک اور یومِ فلسطین مبارک۔

وسعت اللہ خان

 بشکریہ ایکسپریس نیوز

ڈیل آف سینچری یا نیا اعلان بالفور

دفترِ خارجہ
2 نومبر 1917ء
محترم روتھشیلڈ! مجھے شاہ برطانیہ کی طرف سے آپ کو بتاتے ہوئے ازحد خوشی ہو رہی ہے کہ درج ذیل اعلان صہیونی یہودیوں کی امیدوں کے ساتھ ہماری ہمدردی کا اظہار ہے اور اس کی توثیق ہماری کابینہ بھی کر چکی ہے۔ ”شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت بروئے کار لائے گی مگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی (مسلمان اور مسیحی) کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے‘‘۔ میں بہت ممنون ہوں گا اگر اس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں بھی لایا جائے۔
آپ کا مخلص: آرتھر جیمز بالفور

تاج برطانیہ کے وزیر خارجہ کی طرف سے ایک متمول یہودی کو لکھا گیا یہ خط اعلان بالفور بھی کہلاتا ہے۔ اس اعلان کو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن اس خط، جسے ایک معاہدہ بھی کہا جا سکتا ہے، کے نتیجے میں فلسطینی عوام پر سو سال سے ہر روز ایک نئی قیامت گزرتی ہے۔ اس خط کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ تقریباً سو سال پہلے فلسطین خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا۔ جنگ عظیم میں جرمنی کے علاوہ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس بندر بانٹ میں فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا تھا۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی آبادی صرف دو ہزار کے لگ بھگ تھی لیکن یہودیوں نے عالمی سطح پر فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ دنیا بھر سے فلسطین میں آ کر آباد ہوں گے اور اپنی ریاست قائم کر کے بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنائیں گے۔

صہیونی تحریک کے بڑوں کے ساتھ برطانیہ نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتا ہے اور جب بھی ممکن ہوا برطانیہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ وعدہ برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ساتھ ایک معاہدے کی صورت میں ہوا تھا جسے ”اعلان بالفور‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ برطانیہ نے فلسطین کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں بلا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا جو کم و بیش ربع صدی جاری رہا اور جب یہودیوں کی آبادی اتنی ہو گئی کہ ان کی ریاست بنوائی جا سکے تو برطانوی حکومت نے اقوام متحدہ کے سامنے یہ معاملہ پیش کر کے 1945ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا فیصلہ کروا لیا اور فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیل کے نام سے یہودی ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہو گئی۔

اس موقع پر اقوام متحدہ نے فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیل کا حق تسلیم کرتے ہوئے دوسرے حصہ میں فلسطین کی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا جو آج تک ایک باقاعدہ اور خود مختار ریاست کے طور پر تشکیل نہیں پا سکی، جبکہ بیت المقدس کو متنازعہ قرار دے کر عارضی طور پر اردن کی تحویل میں دے دیا اور کہا گیا کہ اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس طرح فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مگر اسرائیل نے 1967ء میں مصر، شام اور اردن کے ساتھ جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کیا اور اس کے ساتھ مصر اور شام کے بعض علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے اس ناجائز صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں کھڑے ہو کر ایک پریس کانفرنس کی اور مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ اور بدامنی کے بنیادی تنازع کا ایک حل پیش کیا۔

اس منصوبے کوصدر ٹرمپ ”ڈیل آف سینچری‘‘ بھی کہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فلسطین کی اصل سرزمین کے صرف پندرہ فیصد پر فلسطینیوں کا حق مانتے ہوئے عالمی قوانین کے تحت اسرائیل کی ناجائز اور غیرقانونی قرار دی گئی یہودی بستیوں کو بھی جائز تسلیم کر لیا۔ مقبوضہ بیت المقدس پر بھی اسرائیل کا حق بلا شرکت غیرے تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے امکانات کو بالکل مٹا دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں؛ تاہم اس حوالے سے انہوں نے زیادہ تفصیلات نہیں دیں۔ اعلان بالفور پر عمل درآمد کے وقت سلطنت عثمانیہ بکھر چکی تھی، عرب دنیا پر حکمرانی کے لیے مفاد پرست گروہوں میں چھینا جھپٹی جاری تھی، اسی لیے ناجائز ریاست اسرائیل کی تشکیل میں مسلمان مزاحم نہ ہو سکے۔ اب امریکی یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کے منصوبے کے وقت بھی مسلم امہ کی کیفیت مختلف نہیں۔ اس کا اندازہ ٹرمپ کے منصوبے پر مسلم دنیا کے رہنماؤں کے ردعمل سے لگایا جا سکتا ہے۔

مصرکی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے منصوبے پر ردعمل میں کہا کہ اسرائیلی اور فلسطینی اس منصوبے کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں، یہ منصوبہ ایسا حل پیش کرتا ہے جو فلسطینیوں کے قانونی حقوق کو بحال کرتا اور فلسطینی علاقوں پر خودمختار ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے امریکی کوششوں، جو بین الاقوامی قوانین کی حدود میں ہوں، کو سراہتے ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی امریکی صدر کی طرف سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جامع امن منصوبے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ سعودی عرب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی نگرانی میں براہ راست مذاکرات کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ واشنگٹن میں عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکی قیادت میں مذاکرات کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔

ایران، ترکی اور اردن نے نسبتاً سخت ردعمل اپنایا۔ موجودہ سیاسی اور جغرافیائی صورتحال میں ان ملکوں کی طرف سے سخت ردعمل متوقع تھا لیکن ایران اور ترکی عرب دنیا کا حصہ نہیں اور اردن کا سخت موقف غرب اردن پر اسرائیلی حق تسلیم کئے جانے پر ہے۔ بنیادی طور پر ٹرمپ کے اس اعلان، جسے ایک اور اعلان بالفور کہا جا سکتا ہے، پر مسلم اور عرب دنیا سے شدید ردعمل نہیں آیا اور بظاہر فلسطینیوں کو ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ امریکا نے یہ منصوبہ پیش کر کے مشرق وسطیٰ میں بدامنی کا نیا بیج بو دیا ہے جس کی فصل کاٹتے مزید سو سال گزر جائیں گے‘ لیکن اس منصوبے کے تحت حل نکلنے کی امید نہیں۔ ٹرمپ کا منصوبہ کس قدر خطرناک ہے اس کا اندازہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے امریکی منصوبے پر فوری عمل کا اعلان کرتے ہوئے وادیٔ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے اور اس کے مغربی کنارے پر بنائی گئی یہودی بستیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کا منصوبہ اگلے ہفتے کابینہ میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے منصوبے سے ایسے تاریخی مقاصد حاصل ہوئے ہیں جن کا حصول ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ امریکا نے وادیٔ اردن اور بحیرہ مردار کے شمالی حصے پر اسرائیل کا حق تسلیم کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم اس وقت نگران حکومت کے سربراہ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور نگران کابینہ میں ملک کی سرحدوں کی لکیریں آگے پیچھے کرنا ان کا اختیار نہیں لیکن بینجمن نیتن یاہو کامیابی کے نشے میں سرشار اسرائیلی آئینی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی حکومت بنانے کے لیے امریکی منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر بھی آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر تیز کرنے کا مطلب ہے کہ مزید فلسطینیوں کو بے گھر کیا جائے گا۔ اسرائیلی بلڈوزر سب کچھ تہس نہس کرنے کی کوشش کریں گے اور نہتے فلسطینی مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوتے رہیں گے۔ فلسطینیوں پر ظلم کا نیا دور شروع ہونے کو ہے اور مسلم دنیا کی قیادت کے ردعمل سے لگتا ہے کہ صدمے سے ان کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں۔ اس ظلم پر فلسطینی نوجوانوں کا ردعمل یقینی طور پر امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے نزدیک دہشتگردی ہو گا اور شاید کچھ مسلم حکمران ان کا بھرپور ساتھ دیں گے اور شاید کسی کو صدمہ بھی نہیں ہو گا۔

عمران یعقوب خان

بشکریہ دنیا نیوز

لوگ سچ مچ کا ہی مہتاب اٹھا کر لے آئے

یہودی پچھلے تین ہزار برس میں کب کے فنا ہو کر دیگر نسلوں اور قوموں اور جغرافیوں میں گھل مل کے خلط ملط ہو کر کتابِ تاریخ کا حاشیہ ہو چکے ہوتے مگر صرف ایک جملے نے نسل در نسل انھیں بچائے رکھا۔ یہ وہ جملہ تھا جو بخت نصر کے قیدی یہودیوں کی زبان پر تھا اور پھر نسل در نسل زبان در زبان یہود در یہود منتقل ہوتا چلا گیا۔ جملہ تھا ’’ یروشلم اگلے برس گر خدا نے چاہا‘‘۔ اس جملے نے تین ساڑھے تین ہزار برس تک یہودیوں کی آخری امید نہیں ٹوٹنے دی اور پھر پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس کو اسی سرزمین میں اسرائیلیوں نے صیہونی مملکت کا پرچم بلند کر دیا اور راندہِ درگاہ یہودیوں کی جگہ راندہِ درگاہ فلسطینیوں نے لے لی۔ مگر چونکہ دونوں ایک ہی مٹی سے بنے ہوئے ہیں لہٰذا ضد میں بھی کوئی کسی سے کم نہیں۔ فلسطینی بھی مٹ جائیں گے مگر یہ کہنا کبھی نہیں چھوڑیں گے کہ ’’ اگلے سال فلسطین انشااللہ‘‘۔

پچھلے بہتر برس میں پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہونے والی ہر وہ نسل جس نے فلسطین دیکھا نہیں صرف سنا ہے ، اپنے ہاتھ میں ایک پتھر البتہ رکھتی ہے جانے کب کام پڑ جائے۔ یہ پتھر ہی وہ اثاثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے ۔ اس بہتر برس کے عرصے میں سب سے اچھا کام یہ ہوا ہے کہ ہم مذہب ممالک اور حکومتوں سے ہر طرح کے فلسطینیوں کی امید یا جذباتی بندھن ختم ہو چکا ہے۔ یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ باعزت طریقے سے جینے میں کوئی برادرِ یوسف و غیر یوسف ان کی مدد نہیں کرے گا اور اگر کسی نے کچھ مدد کی بھی تو اس روز ، جس روز فلسطینی اپنا قومی غرور فروخت کرنا چاہیں۔ تب وہ ایک سے ایک دلال آگے پیچھے پائیں گے۔ فلسطینیوں پر دوسری عظیم مہربانی یہ ہوئی ہے کہ ان سے سب کچھ چھن گیا ہے۔ حتیٰ کہ اچھے وقتوں کی حرص اور حالات جلد بدلنے کی لالچ بھی چھن گئی ہے۔ مگر نہیں چھن سکی تو یہ خواہش کہ ’’اگلے سال فلسطین انشااللہ‘‘۔

اس خواہش کو خرید کر چھیننے اور چھین کر دفن کرنے کے لیے کیا کیا خوشنما جال نہیں بچھائے گئے۔ اسرائیل کا وجود تسلیم کر لو تو ایک الگ ریاست دے دیں گے ، دہشت گردی ( یعنی جدو جہد آزادی ) سے تائب ہو جاؤ تو ہم کچھ لے کچھ دے کی بنیاد پر اسرائیلیوں سے سمجھوتہ کرا دیں گے۔ اچھا جتنی یہودی بستیاں بن چکی ہیں انھیں اگر تم اسرائیل کا حصہ مان لو تو باقی بچے کھچے پندرہ فیصد رقبے پر ہم تمہاری ملکیت تسلیم کر لیں گے۔ ہم تمہیں اگلے دس برس میں پچاس ارب ڈالر بھی دیں گے بس تم ایک بااختیار مملکت کی ضد پر اڑے رہنے کے بجائے خوشحال محکومیت پر قانع ہو جاؤ ، ہم تمہاری حفاظت بھی کریں گے ، تمہاری اقتصادی خوشحالی کی ضمانت بھی دیں گے ، تم اپنے اپنے حد بند علاقوں میں عزت کی زندگی بھی گذار پاؤ گے ، تمہارے جو رشتے دار پچھلے بہتر برس سے اردگرد کے ممالک کے کیمپوں میں چار چار نسلوں سے رہ رہے ہیں انھیں بھی ہم معاوضہِ ازالہ دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ وہ گھر واپسی کے حق سے مستقل دستبرداری کے کاغذ پر دستخط کر دیں۔

پاگل مت بنو ، ہٹ دھرمی چھوڑ دو ، جذباتیت میں کچھ نہیں رکھا۔ تمہارا کوئی دوست نہیں۔ خود تو جیسے کیسے گذار لی، اپنی آیندہ نسلوں کا ہی سوچ لو۔ کیا رکھا ہے ایسی آزادی میں جو بھک مری کے سوا کچھ نہ دے، افریقی ممالک نے یورپی سامراج سے آزادی حاصل کر کے کون سا بھاڑ جھونک لیا۔ افغانستان تو کبھی بھی غلام نہیں رہا مگر ان کی زندگی میں کون سا سکھ چین کا پل آ گیا۔پاکستانی آزاد ہو کر بھی کتنے خوش ہیں ؟ حقیقت پسند بنو ، جو مل رہا ہے لے لو ، کل یہ بھی نہیں ملے گا۔ کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر۔ مگر فلسطینی شائد احساسِ سود و زیاں سے آگے نکل گئے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے دماغ سن ہو گئے ہیں۔ لیکن انھوں نے اپنی باقی ماندہ ذہنی صحت بچانے کے لیے ہر فالتو تصور یا نظریے یا تجویز یا منصوبے پر دھیان دینا چھوڑ دیا ہے۔

ٹرمپ نے جب پچھلے ہفتے فلسطینیوں پر ترس کھاتے ہوئے ان کے لیے ڈیل آف دی سنچری کا اعلان کیا تو ٹرمپ کا خیال تھا کہ سارے فلسطینی ایک ٹانگ پر رقص کریں گے اور ٹرمپ کی مورتی بنا کر پرنام کریں گے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ بلکہ ٹرمپ پلان کے ساتھ فلسطینوں نے وہی کیا جو ارشمیدس نے کیا تھا۔ارشمیدس سمندر کے کنارے بیٹھا سوچ رہا تھا۔ ایک نوجوان سامنے آ گیا ، ارشمیدس نے پوچھا فرمائیے ، نوجوان نے کہا میں سکندر ہوں۔ ارشمیدس نے کہا ہوں گے آپ سکندر مگر فی الحال میرے سامنے کی دھوپ چھوڑ دیجیے۔ یا پھر ٹرمپ کے ساتھ فلسطینیوں نے وہ کیا ہے جو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے کیا تھا۔ بخاری صاحب دفتری کاموں میں مصروف تھے کہ قاصد نے اطلاع دی کوئی اعلیٰ وفاقی افسرِ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ بخاری صاحب نے کہا بھیج دیجیے۔ ایک سوٹڈ بوٹڈ صاحب اندر آ گئے۔

بخاری صاحب نے فائل پر سے نگاہ اٹھائے بغیر ہاتھ کے اشارے سے کہا تشریف رکھیے۔ اعلیٰ سرکاری بابو کو بخاری صاحب کا رویہ اچھا نہیں لگا اور انھوں نے کہا سر میں انفارمیشن محکمے میں مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ہوں۔ بخاری صاحب نے اس بار بھی فائل پر سے سر اٹھائے بغیر کہا کہ پھر تو آپ ایک کے بجائے دو کرسیوں پر ایک ساتھ تشریف رکھیے۔ میں تب تک ذرا یہ فائلیں دیکھ لوں۔ فلسطینی اگلے بے شمار سال خاک بسر رہنے پر آمادہ ہیں مگر اپنی ضد کو پچاس ارب ڈالر کی امداد اور شاندار اقتصادی مستقبل کے خواب کا گروی بنانے پر ہر گز ہرگز آمادہ نہیں کر پا رہے۔ بس یہی ضد ایک دن فنا کر دے گی یا بقا کی ضمانت بن جائے گی۔

اتنا ضدی تھا میرا عشق نہ بہلا پھر بھی
لوگ سچ مچ کا ہی مہتاب اٹھا کر لے آئے

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز