کیا گوگل اور فیس بک انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں ؟

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گوگل اور فیس بک جیسی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ’نگرانی پر مبنی کاروباری ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین سے ان کی بے لگام طاقت کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گوگل اور فیس بک کے ”نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘‘ کو بنیاد بناتے ہوئے، ”انسانی حقوق کی پامالیوں‘‘ کی پشین گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوگل اور فیس بک کی طرف سے فراہم کردہ سروسز کی اہمیت کے باوجود لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ ایمنسٹی کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں بے لگام نگرانی اور ڈیٹا چوری کر کے شہریوں کی ذاتی معلومات جمع کرتی ہیں اور یہ صارفین کے حقوق کی پامالی ہے۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں صارفین کی نجی معلومات کو ‘اشتہاری کاروباری اداروں‘ کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہیں اور یہ رازداری کے حقوق پر ایک بے مثال حملہ ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ کمپنیاں صارفین کو ‘فاؤسٹین بارگین‘‘ پر مجبور کرتی ہیں یعنی گوگل اور فیس بک تک رسائی کے لیے لوگوں کو اپنی نجی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ ان دو بڑی کمپنیوں نے ان تمام پرائمری چینلز پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے، جن کے ذریعے لوگ آن لائن دنیا سے منسلک ہوتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں لوگوں کی زندگیوں پر بے مثال طاقت حاصل ہو چکی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ گوگل اور فیس بک سے انسانی حقوق کو براہ راست خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور ان میں اظہار رائے، مساوات اور عدم تفریق جیسے حقوق شامل ہیں۔ 

اس تنظیم نے یورپی یونین اور جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے قوانین وضع کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایمنسٹی کے مطابق تقریباﹰ تین ارب افراد ہر مہینے فیس بک جبکہ دنیا میں نوے فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین گوگل سرچ انجن استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ”حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کو بڑے اداروں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کریں۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ گزشتہ تقریبا دو عشروں سے ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے کاروبار سے متعلق خود ہی قوانین بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب فیس بک نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ صارفین خود ان کی سروسز استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور انہیں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ ان سے متعلق کونسا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ 

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

 

امریکا کا اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر گوگل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

امریکا کے محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف کاروباری معاملات میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف سرچنگ کے ذریعے بزنس کے فروغ پر عدم اعتبار کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ گوگل کے خلاف تحقیقات کا یہ فیصلہ سرچ انجن کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں ہیر پھیر کا الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، کئی اہم پروڈکٹس سرچ کے دوران صارفین کی رسائی سے محروم رہ جاتیں جب کہ کچھ غیر معیاری پروڈکٹس سرفہرست نظر آتیں۔

کیا آپ جانتے ہیں گوگل کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل (Google) کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا۔ گوگل کب اور کیسے بنا؟ اس بارے میں انٹرنیٹ پر بہت سی معلومات دستیاب ہیں تاہم مستند اور حقیقت پر مبنی معلومات ڈیوڈ کولر نامی صاحب نے اپنی ایک مختصر یادداشت میں بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر گوگل کے نام اور اس ویب سائٹ کے قیام سے متعلق بے بنیاد تحریروں کی بھرمار ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کے بقول ستمبر 1997 میں کیلیفورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے طالب علموں لیری پیج اور سرگی برن نے ایک نیا سرچ انجن ایجاد کیا تھا جو ایک منفرد طریقے پر کام کرتا تھا۔ وہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں دوسرے چند گریجویٹ طالب علموں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے ساتھیوں شون اینڈرسن، تمارا منزنر اور لوکاس پریرا کے ساتھ اس سوچ بچار میں مصروف تھے کہ وہ انٹرنیٹ اپنے اس نئے سرچ انجن کا نام کیا رکھیں۔ اس بارے میں سب ہی دوست سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ ان میں سے لیری ممکنہ ناموں کو شارٹ لسٹ کر رہے تھے جبکہ شون بھی اس عمل میں پیش پیش تھے۔

لیری اور شون، وائٹ بورڈ پر منتخب موزوں ترین ناموں کو درج کر کے ان کے معنی اور مناسبت کے حوالے سے تفصیلات لکھنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران شون نے زبانی طور پر ’’googolplex‘‘ لفظ تجویز کیا تو لیری نے فوراً ہی اسے مختصر کر کے ’’googol‘‘ کردیا جو کسی غیرمعمولی طور پر بڑے عدد کو ظاہر کرتا ہے۔ شون سے سننے میں غلطی ہوئی اور اس نے غلطی سے ڈومین نیم تلاش کرتے دوران googol کی جگہ google ٹائپ کر دیا جو لیری برن، دونوں کو بہت پسند آیا۔ خوش قسمتی سے یہ ڈومین نیم دستیاب بھی تھا اس لیے چند روز بعد لیری پیج نے google.com کے نام سے ڈومین نیم حاصل کر لیا اور یوں انٹرنیٹ کا مشہور ترین سرچ انجن ’’گوگل‘‘ وجود میں آیا۔ اس وقت بھی اگر آپ انٹرنیٹ سروس ’’ہو اِز‘‘ (Who Is) استعمال کرتے ہوئے تلاش کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ڈومین نیم google.com کی اوّلین رجسٹریشن 15 ستمبر 1997 کے روز کروائی گئی تھی۔

آج شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں گوگل پر چیزیں سرچ نہ کی جاتی ہوں، یوٹیوب پر ویڈیوز نہ دیکھی جاتی ہوں، جی میل سے ای میل نہ کی جاتی ہو اور اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فونز نہ چلائے جاتے ہوں۔ آج 160 ممالک میں گوگل کے 4 ارب 50 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ آج گوگل سیکڑوں نہیں تو درجنوں سروسز تو ضرور فراہم کر رہا ہے اور ویب سرچنگ ان میں سے صرف ایک ہے۔

ویب سرچنگ کے بے تاج بادشاہ گوگل نے چند روز پہلے ہی اپنی 19ویں سالگرہ منائی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے گوگل نے مختلف گیمز متعارف کرائے ہیں جو بہت دلچسپ اور رنگوں سے بھرپور ہیں۔

 

یورپی کمیشن کی جانب سے گوگل پر ریکارڈ 2.7 ارب ڈالر کا جرمانہ

دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر یورپین کمیشن نے سرچ رزلٹس میں رد و بدل کرنے کے الزام میں ریکارڈ 2.7 ارب ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی گوگل پر الزام ہے کہ اس نے سرچ رزلٹس میں ان شاپنگ پلیٹ فارمز کو اوپر دکھایا جو اس کی اپنی کمپنیاں ہیں۔ یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے ایسا کر کے صارفین کے اعتماد کو توڑا اور انہیں بہتر اشیاء تک رسائی کے حق سے محروم کیا۔ یورپین کمیشن کی جانب سے کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ تاریخ کا سب سے بھاری جرمانہ ہے جبکہ گوگل کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ 90 روز کے اندر مسابقت کے منافی اپنے اس طریقہ کار کو بند کرے ورنہ اس پر مزید جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب گوگل کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

کمیشن کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر گوگل نے 3 ماہ کے اندر شاپنگ سروسز کو آپریٹ کرنے کے اپنے طریقہ کار کو نہیں بدلا تو اسے اپنی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی مجموعی عالمی آمدنی کا 5 فیصد حصہ بطور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ یورپی یونین کی مسابقت کمشنر مارگریتھ ویسٹاگر نے کہا کہ گوگل نے جو کیا وہ غیر قانونی ہے، اس نے دیگر کمپنیوں کو میرٹ کی بنیاد پر مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے حق سے محروم کیا جب کہ صارفین کو مسابقت سے ہونے والے فائدے اور اپنی پسند کی اشیاء تک رسائی سے محروم کیا۔

خیال رہے کہ گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اگر صارف سرچ انجن پر نقشے، فلائٹ پرائس اور دیگر معلومات سرچ کرتے ہیں تو گول نتائج میں بعض ویب سائٹس اور کمپنیوں کو دیگر کمپنیوں کو میرٹ سے ہٹ کر فوقیت دیتا ہے۔ تاہم فیصلہ آنے کے بعد گوگل کے ترجمان نے کہا کہ جب صارفین آن لائن شاپنگ کرتے ہیں تو وہ جلدی اور آسانی سے مطلوبہ پروڈکٹس تک پہنچنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایڈورٹائزرز ان پروڈکٹس کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں اور گوگل ان ہی اشتہارات کو شاپنگ ایڈز میں دکھاتا ہے۔