سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سرچ انجن گوگل، سوشل میڈیا سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے سی ای اوز کے خلاف فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ریاست نیوجرسی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خود پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خاتمےکا مطالبہ کرتے ہیں، عدالتی مقدمہ ہماری آزادی اظہار رائے کے لیے ایک خوبصورت پیش رفت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اپنے اس جملے سے بہت پیار ہے جس کی وجہ سے ٹوئٹر نے میرا اکاؤنٹ بند کیا، جب یہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک صدر پر پابندی عائد کر سکتی ہیں تو پھر کسی پر بھی پابندی لگا سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ رواں سال کے شروع میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے حامیوں کو حملے پر اکسایا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گوگل اور فیس بک جیسی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ’نگرانی پر مبنی کاروباری ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین سے ان کی بے لگام طاقت کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گوگل اور فیس بک کے ”نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘‘ کو بنیاد بناتے ہوئے، ”انسانی حقوق کی پامالیوں‘‘ کی پشین گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوگل اور فیس بک کی طرف سے فراہم کردہ سروسز کی اہمیت کے باوجود لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ ایمنسٹی کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں بے لگام نگرانی اور ڈیٹا چوری کر کے شہریوں کی ذاتی معلومات جمع کرتی ہیں اور یہ صارفین کے حقوق کی پامالی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں صارفین کی نجی معلومات کو ‘اشتہاری کاروباری اداروں‘ کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہیں اور یہ رازداری کے حقوق پر ایک بے مثال حملہ ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ کمپنیاں صارفین کو ‘فاؤسٹین بارگین‘‘ پر مجبور کرتی ہیں یعنی گوگل اور فیس بک تک رسائی کے لیے لوگوں کو اپنی نجی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ ان دو بڑی کمپنیوں نے ان تمام پرائمری چینلز پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے، جن کے ذریعے لوگ آن لائن دنیا سے منسلک ہوتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں لوگوں کی زندگیوں پر بے مثال طاقت حاصل ہو چکی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ گوگل اور فیس بک سے انسانی حقوق کو براہ راست خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور ان میں اظہار رائے، مساوات اور عدم تفریق جیسے حقوق شامل ہیں۔
اس تنظیم نے یورپی یونین اور جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے قوانین وضع کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایمنسٹی کے مطابق تقریباﹰ تین ارب افراد ہر مہینے فیس بک جبکہ دنیا میں نوے فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین گوگل سرچ انجن استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ”حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کو بڑے اداروں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کریں۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ گزشتہ تقریبا دو عشروں سے ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے کاروبار سے متعلق خود ہی قوانین بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب فیس بک نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ صارفین خود ان کی سروسز استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور انہیں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ ان سے متعلق کونسا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔
امریکا کے محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف کاروباری معاملات میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف سرچنگ کے ذریعے بزنس کے فروغ پر عدم اعتبار کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ گوگل کے خلاف تحقیقات کا یہ فیصلہ سرچ انجن کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں ہیر پھیر کا الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، کئی اہم پروڈکٹس سرچ کے دوران صارفین کی رسائی سے محروم رہ جاتیں جب کہ کچھ غیر معیاری پروڈکٹس سرفہرست نظر آتیں۔
یورپی یونین کے صحت مند کاروباری مقابلے کے نگران ادارے نے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے خلاف ایک نئے فیصلے میں اس امریکی کمپنی کو ڈیڑھ ارب یورو جرمانہ کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ گوگل کو اتنا بڑا جرمانہ کیا گیا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے ریگولیٹرز نے گوگل کو یہ سزا آن لائن اشتہارات کے شعبے میں اس ادارے کے غلبے کی وجہ سے سنائی۔ گوگل کو 1.49 ارب یورو جرمانہ کیا گیا ہے، جو 1.68 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔یورپی یونین کا یہ ریگولیٹری ادارہ یونین کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی بھی کہلاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ تیسرا موقع ہے کہ اس ادارے کی طرف سے گوگل کو اربوں مالیت کا جرمانہ کیا گیا ہے۔
امریکا میں سیلیکون ویلی کی اس بہت بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو ماضی میں بھی دو مرتبہ بہت بڑے بڑے جرمانے کیے جا چکے ہیں، جن کا سبب اس کمپنی کے کاروباری طریقہ کار سے متعلق یورپی یونین کی طرف سے کی جانے والی چھان بین کے نتائج بنے تھے۔ گوگل کے خلاف اس فیصلے کا اعلان یورپی یونین کی صحت مند کاروباری مقابلے سے متعلقہ معاملات کی نگران خاتون کمشنر مارگریٹے ویسٹاگر نے برسلز میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونین نے اس کمپنی کے اشتہارات سے متعلق بزنس اور ’ایڈسینس‘ (AdSense) نامی ادارے کے بارے میں جو تحقیقات کیں، ان کی روشنی میں ثابت ہو گیا کہ گوگل نے اس شعبے میں اپنی بہت غالب حیثیت کو ناجائز اجارہ داری کے لیے استعمال کیا۔ انہی نتائج کی روشی میں اب گوگل کو ایک بار پھر تقریباﹰ ڈیڑھ ارب یورو جرمانہ کر دیا گیا ہے۔
گوگل کو یورپی یونین کی طرف سے گزشتہ برس بھی 3.34 ارب یورو یا تقریباﹰ پانچ ارب امریکی ڈالر کے برابر جرمانہ کیا گیا تھا۔ تب اس کا سبب اس کمپنی کے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق کی جانے والی تفتیش بنی تھی۔ اس سے قبل سن 2017ء میں بھی یونین نے گوگل کو 2.42 ارب یورو کا جرمانہ کیا تھا۔ تب اس کی وجہ وہ تحقیقات بنی تھیں، جو اس سرچ انجن کی طرف سے آن لائن شاپنگ سے متعلق صارفین کو دکھائے جانے والے نتائج کے بارے میں کی گئی تھیں۔ ان میں بھی گوگل نے ایسے کاروباری رویوں کا مظاہرہ کیا تھا، جو غیر قانونی اجارہ داری کے عکاس تھے۔