حق مانگو گے تو یہ حشر کریں گے

اسرائیلی جیلوں میں اس وقت ہر عمر و جنس کے بارہ تا پندرہ ہزار فلسطینی قیدی ہیں۔ کچھ باقاعدہ سزائیں بھگت رہے ہیں اور اکثریت بنا فردِ جرم برسوں سے قید ہے۔ ان میں سے اگر دو ہزار قیدی کسی ’’ امن سمجھوتے ‘‘ کے تحت رہا بھی ہو گئے ہیں تو ان کی کمی اسرائیل اگلے ایک ماہ میں اتنے ہی اور بوڑھے ، جوان ، عورتیں اور بچے پکڑ کے پوری کر لے گا۔ جیسا کہ ہوتا آیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کراچی کے اکثر بڑے چوراہوں پر پرندوں سے بھرے پنجرے لیے چڑی مار کھڑے ہوتے ہیں۔ خداترس لوگ ثواب کی خاطر چڑی ماروں کو یہ پرندے آزاد کرنے کے لیے ہزار دو ہزار روپے دیتے ہیں۔ چڑی مار انھیں آزاد کر دیتا ہے اور گزشتہ روز اسی جگہ پرندوں سے بھرا پنجرہ لیے کسی اور ثواب کے متلاشی متمول کا منتظر ہوتا ہے۔ اسرائیل کے سزا یافتہ قیدیوں میں سب سے نمایاں نام مروان برغوتی کا ہے۔ انھیں سول نافرمانی کی تحریک انتفادہ کے دوسرے باب ( دو ہزار تا دو ہزار پانچ ) میں پانچ اسرائیلی باشندوں کی ہلاکت کی سازش کے الزام میں بیک وقت پانچ بار عمرقید سنائی گئی۔ یعنی وہ تا عمر جیل میں رہیں گے۔ 

حماس نے جنوری میں اور اب جن فلسطینی قیدیوں کی فہرست پیش کی اس میں مروان برغوتی کا نام شامل تھا اور دونوں بار اسرائیل نے ان کی رہائی کا امکان مسترد کر دیا۔ وجہ بہت سامنے کی ہے۔ مروان برغوتی کو نئی نسل فلسطینی نیلسن منڈیلا سمجھتی ہے۔ واحد رہنما ہیں جو فلسطینیوں کی اکثریت کو متحد کر سکتے ہیں ۔ ان کی رہائی سے جتنا خطرہ محمود عباس کی تابعدار فلسطینی اتھارٹی کو ہے اس سے کہیں زیادہ خطرہ متشدد اسرائیلی قیادت کو ہے۔ آخر نیتن یاہو کیوں مروان کو رہا کر کے اس دو ریاستی حل کے فارمولے کو آکسیجن دے گا جنھیں وہ مردہ خانے میں دیکھنا چاہتا ہے۔ گذرے دو برس میں مروان کو تین بار جیل میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ ماہ ان پر اتنا تشدد ہوا کہ ان کے بیٹے اور بھائی کے بقول تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ یہ تشدد اسرائیلی وزیرِ سلامتی بن گویر کے دورے کے بعد ہوا۔ وہ مروان برغوتی کی کوٹھڑی میں بھی گئے، ان پر طنزیہ فقرے کسے اور ایک الیکٹرک چئیر کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ تمہارا انجام یہ ہے۔ کوٹھڑی کی دیوار پر غزہ کی تباہی کی ایک تصویر بھی لگا دی گئی۔

حماس کی فہرست کے مطابق رہائی پانے والے دو ہزار فلسطینی قیدیوں میں سے عمر قید بھگتنے والے ایک سو ستائیس قیدیوں سمیت ایک سو ستاون وہ ہیں جنھیں اسرائیل نے جیل سے گھر بھیجنے کے بجائے سیدھا جلاوطن کر دیا۔ فلسطینی کنبوں کو خبردار کیا گیا کہ رہائی کی خوشی منانے والوں کو بھی زنداں میں ڈال دیا جائے گا۔ حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے ہیں۔ جو یرغمالی بمباری، ناکافی خوراک یا بیماری سے مر گئے ان میں سے اکثر کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کر دی گئیں۔ اسرائیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کر کے ان لاشوں کی شناخت کی۔ اس کے برعکس فلسطینیوں کو جو ایک سو سے زائد لاشیں وصول پائی ہیں۔ ان کی شناخت کے لیے غزہ میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت ہی نہیں۔ چنانچہ ورثا کی تلاش میں سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ لاشوں پر صرف نمبروں کے ٹیگ لگے ہوئے ہیں۔ سرائیل نے ناموں کی مصدقہ فہرست بھی فراہم نہیں کی۔ فورنزک سہولتیں نہ ہونے کے سبب لاشوں کی تصاویر گردش کر رہی ہیں اگر کوئی پہچان کے وصول کر لے۔

 ان لاشوں پر تشدد کے نشانات ہیں۔ کئی کے اعضا مسخ ہو چکے ہیں۔ کسی کی کھال جگہ جگہ سے جلی یا ادھڑی ہوئی ہے۔ کچھ کی آنکھوں سے پٹی تک نہیں اتاری گئی۔ بہت سوں کے ہاتھ پشت کی جانب ہتھکڑی سے بندھے ہوئے ہیں۔ ایک لاش کے نہ صرف ہاتھ بندھے ہیں بلکہ گلے میں رسی بھی ہے۔ سرد خانے میں طویل عرصہ رکھنے کے سبب کھال کی ماہیت بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دو برس کے دوران اسرائیلی جیلوں میں لگ بھگ اسی قیدیوں کی ٹارچر کے سبب موت ہوئی ہے۔ اب تک جو قیدی زندہ رہا کیے گئے ان میں سے ہر کوئی ایک الگ کہانی ہے۔ کسی کا ہاتھ تو کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے۔ کسی کی آنکھیں ضایع ہو گئیں۔ سب کے سب نہانے کی سہولت نہ ہونے کے سبب جلدی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ طبی سہولتوں تک جان بوجھ کے رسائی نہیں دی گئی۔ واپس آنے والے کچھ قیدیوں نے دماغی توازن کھو دیا۔ کئی قیدیوں سے جھوٹ بولا گیا کہ تمہارے سب گھر والے بمباری میں مر چکے ہیں۔

ان میں سے بہت سوں کو رہائی کے بعد یہ خوشخبری ملی کہ اہلِ خانہ زندہ ہیں یا صرف چند بمباری یا بھوک سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک قیدی کمال ابوشناب نے بتایا کہ حراست میں لیے جاتے وقت اس کا وزن ایک ستائیس کیلوگرام تھا۔ اب اڑسٹھ کیلوگرام رھ گیا ہے۔ ایک قیدی سالم عید زندگی بھر کروٹ نہیں لے سکے گا کیونکہ جسمانی تشدد سے ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ سب گواہیاں جنگی جرائم کے پلندے میں مزید مستند شہادتوں کا اضافہ ہیں مگر اسرائیل اس پلندے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ جو کہانیاں لاشیں بتا رہی ہے یا جو داستانیں زندہ رہا جانے والے قیدی سنا رہے ہیں ان کا مختصر ترین خلاصہ یہ ہے کہ آزادی اور حق مانگو گے تو ہم یہ حشر کریں گے۔ ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔

وسعت اللہ خان  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

’خوشامد نہیں آرٹ‘

خدارا اسے خوشامد مت کہیں۔ بہتر ہو گا کہ اسے سفارت کاری بھی نہ کہا جائے۔شہباز شریف نے شرم الشیخ میں ساڑھے پانچ منٹ میں جو کر دکھایا وہ ایک فن پارہ تھا۔ اُسے بچے سکولوں میں دیکھا کریں گے، وہ سرکاری افسران کے ٹریننگ سکولوں میں سلیبس میں شامل ہو گا، آرٹ گیلریز میں نمائش ہو گی، شادیوں پر ڈی جے مائی فیورٹ فیلڈ مارشل والے جملے کو میوزک پر سیٹ کریں گے اور مست ماحول بنا دیں گے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں مبالغہ آرائی کر رہا ہوں تو دوبارہ سوچیں کہ مبالغہ آرائی وہ کر رہے تھے یا میں۔ اگر یقین نہیں آتا تو شہباز شریف اور ٹرمپ والی ویڈیو دوبارہ دیکھیں۔ میں نے ریوائنڈ کر کے دیکھی، آواز بند کر کے دیکھی، پھر ایک گیارہ سالہ بچے کو دکھائی۔ وہ بھی مبہوت ہو کر سُنتا رہا، کبھی میری طرف دیکھے کبھی شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی جوڑی کی طرف دیکھے اور حیرت کے ساتھ سر ہلاتا جائے۔ بند کمروں میں ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خوشامد کر لیتا ہے، پبلک فورم پر نپے تلے انداز میں سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں لیکن فنکار کا اصلی امتحان اُسی وقت ہوتا ہے جب سٹیج بڑا ہو اور سُر سنگیت کو سمجھنے والے سامنے بیھٹے ہوں۔

غزہ میں دو سال کی خون آشام تباہی کے بعد صدر ٹرمپ امن معاہدے کا میلہ سجاتے ہیں اور دُنیا میں مسئلہ کوئی بھی ہو صدر ٹرمپ اُس کا حل ایسے ہی ڈھونڈتے ہیں کہ ہر چیز اُن کی ذات کے گرد گھومے جیسے آج میرے منّے کی سالگرہ ہے۔ شرم الشیخ میں بادشاہ بیٹھے ہیں، شہزادے، ترکی کے مردِ آہن، مصر کے ڈکٹیٹر، برطانیہ، فرانس، اٹلی کے منتخب حکمران لیکن اس دربار میں اُن کو کوئی نہیں بھاتا۔ وہ پہلے اپنے فیورٹ فیلڈ مارشل کو یاد کرتے ہیں اور پھر ہمارے وزیراعظم سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جو خوبصورت باتیں تم نے مُجھ سے پہلے کی تھیں اب ذرا دوبارہ سُناؤ۔ اگر یہ سین کسی فلم میں ہوتا تو یہاں پر وائلن بجنے لگتے، گلاب کے پھولوں کی ڈالیاں ایک دوسرے کی طرف جھکنے لگتیں۔ راز و نیاز کی باتیں پھر بھری محفل میں کہنے پر شاید محبوب شرما جاتا لیکن شہباز شریف بڑے اعتماد کے ساتھ مائیک پر آئے، سلام علیکم اور گُڈ ایونگ کے بعد ادھر اُدھر دیکھ کر ایک آدھ برادر لیڈر کا نام لیا لیکن 30 سیکنڈ میں ہی جان گئے کہ صاحب کا موڈ کیا ہے اور آغاز ہی اپنے نوبیل پیس پرائز والے آئٹم نمبر سے کیا۔

تالیاں بجیں، پھر سامعین میں بیٹھے اپنے برادر لیڈروں کو دیکھا اُن کا نام لیا، آپ نے نوٹ کیا ہو گا جیسے ہی انھوں نے دو تین نام لیے صدر ٹرمپ کا چہرہ تھوڑا اُترنا شروع ہوا۔ صدر ٹرمپ اُن کے پیچھے کھڑے تھے لیکن بڑے فنکار کے سر کے پیچھے بھی ایک آنکھ ہوتی ہے، شہباز شریف برادر لیڈروں کے نام بھول کر پلٹے صدر ٹرمپ کو مسیحا ثابت کرنے والے مردوں کی طرف، اس دفعہ تان لمبی لگائی، سات نہیں آٹھ جنگیں، لاکھوں لوگوں کی زندگیاں انڈیا پاکستان میں بچائیں، لاکھوں زندگیاں مشرقِ وسطیٰ میں۔ پتہ نہیں آپ نے کیسے داد دی میرے اندر سے کراچی والا بول پڑا کہ ابے بس کر رُلائے گا کیا۔ لیکن سچا فنکار اپنی فنکاری سے خود کبھی متاثر نہیں ہوتا۔ اس لیے شہباز شریف رُکے نہیں اور ایک اونچا لیکن باریک سُر لگایا۔ انڈیا پاکستان کی جنگ، دو نیوکلیئر پاور اگر صدر ٹرمپ نہ رکواتے تو شاید کوئی بھی نہ بچتا۔ ہر امریکی اپنے آپ کو تھوڑا بہت سُپر ہیرو سمجھتا ہے اور صدر ٹرمپ نے تو پوری دُنیا کو تباہی سے بچا لیا۔

بڑے دربار میں قصیدہ پڑھنا ایک پرانی روایت ہے، اختتام اس کا دعائیہ ہوتا ہے۔ غالب اپنے بادشاہ سے وظیفہ بڑھوانے کی کوشش میں فرما گئے تھے۔
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
شہباز شریف غالب کو بھی مات دے گئے اور صدر ٹرمپ کی فار ایور تا ابد رہنمائی کی دعا کر گئے۔ اُس کے بعد جب ٹرمپ نے کہا کہ مُجھے اتنی اُمید نہیں تھی اور اب کہنے کو کیا رہ گیا ہے، گھر چلتے ہیں تو مُجھے خدشہ ہوا کہ وہ شہباز شریف کو بھی ساتھ اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں تاکہ اُن کی باتیں خاتونِ اوّل کو بھی سُنوا سکیں۔ لیکن شہباز شریف کو لوٹ کر گھر آنا تھا، سو آ گئے کیونکہ صدر ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل تو گھر ہی بیٹھے تھے۔

محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو

پس ثابت ہوا امریکا یاروں کا یار ہے

سامانِ مرگ و حرب ساختہِ امریکا ہے۔ اسرائیل تو بس غزہ اور غربِ اردن اذیت ساز لیبارٹری میں چابک دست نسل کشی اور صنعتی پیمانے پر املاکی بربادی کے لیے تیار اس سامان کا آزمائشی آپریٹر ہے۔ اسرائیل کے ایک مقبول ٹی وی چینل بارہ کے مطابق سات اکتوبر تا تئیس دسمبر امریکا سے آنے والی دو سو سترہ کارگو پروازوں اور بیس مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے دس ہزار ٹن جنگی ساز و سامان اسرائیل میں اتارا جا چکا ہے۔ اس وزن میں وہ اسلحہ اور ایمونیشن شامل نہیں ہے جو امریکا نے اسرائیل میں اپنے استعمال کے لیے زخیرہ کر رکھا ہے اور اس گودام کی ایک چابی اسرائیل کے پاس ہے تاکہ نسل کشی کی مشین سست نہ پڑنے پائے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہنگامی سپلائی کے لیے لگ بھگ تین ارب ڈالر کے آرڈرز بھی جاری کیے ہیں۔ اسرائیل نے امریکا سے ہلاکت خیز اپاچی ہیلی کاپٹرز کی تازہ کھیپ کی بھی فرمائش کی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹرز اسرائیل غزہ کو مٹانے کے لیے فضائی بلڈوزرز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ خود اسرائیل کا شمار دنیا کے دس بڑے اسلحہ ساز ممالک میں ہوتا ہے۔ تاہم اس نے فی الحال تمام بین الاقوامی آرڈرز موخر کر دیے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خانہ ساز اسلحہ صنعت کی پروڈکشن لائن چوبیس گھنٹے متحرک ہے۔

جب چھ ہفتے میں لاہور شہر کے رقبے کے برابر تین ہیروشیما بموں کے مساوی طاقت کا بارود برسا دیا جائے تو سپلائی اور پروڈکشن لائن کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ امریکا اس بات کو ہمیشہ کی طرح یقینی بنا رہا ہے کہ اسرائیل کا دستِ مرگ کہیں تنگ نہ پڑ جائے۔ اب تک جو ہنگامی رسد پہنچائی گئی ہے اس میں اسمارٹ بموں کے علاوہ طبی سازو سامان ، توپ کے گولے ، فوجیوں کے لیے حفاظتی آلات ، بکتر بند گاڑیاں اور فوجی ٹرک قابلِ ذکر ہیں۔ اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ دانتوں تک مسلح اسرائیلی بری، بحری اور فضائی افواج کے لیے تیسرے مہینے میں بھی غزہ لوہے کا چنا ثابت ہو رہا ہے۔ ابتدا میں اسرائیل کا اندازہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ تین ہفتے میں غزہ کی مزاحمت ٹھنڈی پڑ جائے گی مگر اب اسرائیلی فوجی ہائی کمان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے مطلوبہ نتائج فروری سے پہلے ظاہر نہیں ہوں گے۔ البتہ بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ڈان ہالوٹز نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا جتنا بھی فوجی تجربہ ہے اس کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل یہ جنگ ہار گیا ہے۔

بقول جنرل ہالوٹز جنگ جتنا طول پکڑے گی اتنے ہی ہم دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔ اب تک ہمیں بارہ سو اسرائیلیوں کی ہلاکت، جنوبی اور شمالی اسرائیل میں دو لاکھ پناہ گزین اور حماس کی قید میں ڈھائی سو کے لگ بھگ یرغمالی سویلینز اور فوجی تو نظر آ رہے ہیں مگر کامیابی کہیں نظر نہیں آرہی۔ واحد فتح یہی ہو گی کہ کسی طرح بنجمن نیتن یاہو سے جان چھوٹ جائے۔ جہاں تک امریکا کا معاملہ ہے تو جو بائیڈن اسرائیل نواز امریکی کانگریس سے بھی زیادہ اسرائیل کے دیوانے ہیں۔ اس وقت بائیڈن کی اسرائیل پالیسی یہ ہے کہ ’’ تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے۔‘‘ چنانچہ دو ہفتے پہلے ہی بائیڈن نے کانگریس کے ذریعے اسرائیل کے لیے ہنگامی امداد منظور کروانے کی تاخیری کھکیڑ اور فالتو کے سوال جواب سے بچنے کے لیے ہنگامی قوانین کی آڑ میں کانگریس سے بالا بالا چودہ ارب ڈالر کے فنڈز کی منظوری دے دی جو اسرائیل کی فوجی و اقتصادی ضروریات کو مختصر عرصے کے لیے پورا کرنے کے قابل ہو گا۔ اسرائیل کو جب بھی ضرورت پڑی امریکی انتظامیہ اس کے لیے سرخ قالین کی طرح بچھتی چلی گئی۔ 

مثلاً چھ اکتوبر انیس سو تہتر کو جب مصر اور شام نے اپنے مقبوضہ علاقے چھڑانے کے لیے اسرائیل کو بے خبری میں جا لیا تو وزیرِ اعظم گولڈا مائر نے پہلا فون رچرڈ نکسن کو کیا کہ اگر ہمیں بروقت سپلائی نہیں ملی تو اپنی بقا کے لیے مجبوراً جوہری ہتھیار استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔ نکسن اشارہ سمجھ گیا اور اس نے جنگ شروع ہونے کے چھ دن بعد بارہ اکتوبر کو پینٹاگون کو حکم دیا کہ اسرائیل کے لیے اسلحہ گودام کھول دیے جائیں۔ محکمہ دفاع کو اس ضمن میں جو فائدہ خسارہ ہو گا اس سے بعد میں نپٹ لیں گے۔ اسرائیل نے اپنی قومی ایئرلائن ال آل کے تمام کارگو طیارے امریکا سے فوجی امداد ڈھونے کے لیے وقف کر دیے۔ مگر یہ اقدام ناکافی تھا۔ سوویت یونین نے مصر اور شام کی ہنگامی فوجی امداد کے لیے دس اکتوبر کو ہی دیوہیکل مال بردار انتونوف طیاروں کا بیڑہ وقف کر دیا تھا۔ چنانچہ امریکی فضائیہ کا مال بردار بیڑہ جس میں سی ون فورٹی ون اور سی فائیو گلیکسی طیارے شامل تھے۔ ضرورت کا ہر سامان ڈھونے پر لگا دیے۔ یہ آپریشن تاریخ میں ’’ نکل گراس ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کے درمیان ساڑھے چھ ہزار ناٹیکل میل کا ایئرکوریڈور بنا دیا گیا۔

پہلا سی فائیو گلیکسی مال بردار طیارہ چودہ اکتوبر کو ایک لاکھ کلو گرام کارگو لے کر تل ابیب کے لوڈ ایئرپورٹ پر اترا اور آخری طیارے نے چودہ نومبر کو لینڈ کیا۔ پانچ سو سڑسٹھ پروازوں کے ذریعے تئیس ہزار ٹن جنگی سازو سامان پہنچایا گیا۔جب کہ تیس اکتوبر سے امریکی کارگو بحری جہاز بھی بھاری سامان لے کر حیفہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے لگے۔ اس کے برعکس سوویت یونین ایک ماہ کے دوران نو سو پینتیس مال بردار پروازوں کے ذریعے پندرہ ہزار ٹن ساز و سامان مصر اور شام پہنچا سکا۔ حالانکہ روس سے ان ممالک کا فضائی فاصلہ محض سترہ سو ناٹیکل میل تھا۔ امریکا نے تہتر ٹن سامان اٹھانے والے سی فائیو گلیکسی کے ذریعے اسرائیل کو ایک سو پچھتر ملی میٹر تک کی توپیں ، ایم سکسٹی اور ایم فورٹی ایٹ ساختہ بھاری ٹینک ، اسکوراسکی ہیلی کاپٹرز ، اسکائی ہاک لڑاکا طیاروں کے تیار ڈھانچے اور بارودی کمک پہنچائی۔ یہ طیارے صرف پرتگال میں ری فیولنگ کے لیے رکتے تھے۔ اور اسپین ، یونان ، جرمنی اور ترکی نے انھیں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اگر یہ کاریڈور نہ ہوتا تو اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کے لالے پڑجاتے۔ پس ثابت ہوا کہ امریکا یاروں کا یار ہے۔ وہ الگ بات کہ امریکا کو اسرائیل اپنی بین الاقوامی عزت سے بھی زیادہ پیارا ہے۔

وسعت اللہ خان 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے آپ کے پورے خاندان کا خاتمہ کر دیا

میری نسل کے لوگوں نے ٹیلی ویژن پر پہلی جنگ تب دیکھی تھی جب سنہ 1990 میں امریکہ اور اس کی اتحادی فوجوں نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ بغداد پر بموں کی بارش شروع ہوئی تو دنیا کے پہلے عالمی نیوز چینل نے لائیو دکھایا اور غالباً ہیڈلائن اسی طرح کی تھی کہ ’بغداد کا آسمان بمباری سے جگمگا اٹھا ہے‘۔ خبریں پڑھنے والے نے ہیڈلائن کچھ اس طرح پڑھی تھی جیسے فٹ بال میچوں پر کمنٹری کرنے والے جوش میں آ کر کسی گول کا منظر بیان کرتے ہیں۔ اسی دن سے عالمی جنگیں ہمارے گھروں میں گھس آئی ہیں۔ آپ کسی بھی دن، رات کے کھانے کے وقت ٹی وی لگائیں تو دنیا میں کہیں نہ کہیں کسی شہر کا آسمان بمباری سے جگمگا رہا ہو گا اور گورے صحافیوں کو اس شہر کا درست نام لینا کبھی نہیں آئے گا۔ آہستہ آہستہ لائیو کوریج اور میڈیا جنگ کا لازمی حصہ بن گئے جس طرح کسی زمانے فوج کے ساتھ طبل اور نقارے بجانے والے چلتے تھے، جو اپنی سپاہ کا خون گرماتے تھے۔ اسی طرح نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل جیسے اخبارات کے مدبر صحافی پہلے جنگ کا جواز سمجھاتے تھے پھر الیکٹرانک میڈیا میں ان کے بھائی بہن حملہ آور فوجوں کے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں میں بیٹھ کر جنگ کی کوریج کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ 

ان جنگوں میں بندوق کی نالی اور ان کی آنکھ دشمن کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے۔  جب ہنستی بستی آبادیاں تباہ کر دی جاتیں اور لوگ اپنے گھروں کے ملبوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اور کھانے کے برتن ڈھونڈ رہے ہوتے تو مغرب سے مغربی ضمیر کے رحم دل دستے سوکھا راشن اور بچوں کے کھلونے لے کر پہنچ جاتے۔ ان کے امدادی ٹرکوں پر بھی کیمرے والے صحافی موجود ہوتے جو راشن کے لیے اٹھے ہاتھوں اور بے کس چہروں کی تصویریں دنیا تک پہنچاتے اور داد پاتے۔ جدید جنگ تقریباً ایک مکمل سا پیکج بن گئی تھی جس میں اسلحے کا کاروبار بھی خوب پھلتا پھولتا اور جنگ زدہ لوگوں کے لیے خیموں اور کمبلوں کی مانگ بھی ہمیشہ ضرور رہتی۔ جن کو ازلی خون کی پیاس تھی انھیں بھی خوراک مل جاتی اور جن کے دل انسانیت سے بھرپور تھے ان کا دھندہ بھی چلتا رہتا۔ پہلے آسمانوں سے بمباری، پھر بستیاں روندتے ہوئے ٹینک، اس کے بعد جنگ بندی کے مطالبے اور پھر امدادی ٹرکوں کے قافلے۔ اسلحے کی فیکٹریاں بھی تین شفٹوں میں چلتیں اور انسانی ہمدری سے لبریز مغربی ضمیر کی دیہاڑیاں بھی لگتی رہتیں۔ 

جب اسرائیل نے غزہ پر وحشت ناک بمباری شروع کی (اور چونکہ ایڈیٹوریل گائیڈ لائن کی ضرورت ہے اس لیے بتاتے چلیں کہ یہ لڑائی سات اکتوبر کے حماس حملوس سے شروع نہیں ہوئی 70 سال پہلے شروع ہوئی تھی) تو موسمی دفاعی تجزیہ نگاروں کا بھی خیال تھا کہ امریکہ اور اس کی باقی نام نہاد برادری چند دن اسرائیل کو کھلا ہاتھ دے گی، ایک کے بدلے دس مارو، اگر کسی نے غزہ میں گھر، سکول، ہسپتال، میوزیم بنا لیا ہے تو اسے نیست و نابود کر دو۔ بچے مریں گے مارو لیکن پھر مغربی ضمیر انگڑائی لے کر بیدار ہو گا اور کہے گا ہم نے بہت ہزار بچوں کی لاشوں کی تصویریں دیکھی ہیں اب یہ کام بند کرو۔ لیکن مغربی ضمیر کی گنتی ابھی پوری نہیں ہوئی۔ ہم تک ننھے بچوں کی تصویریں اور کہانیاں دنیا تک پہنچانے والے 70 صحافی بھی مار دیے ہیں۔ ان میں سے کئی پورے خاندان کے ساتھ۔ لیکن مغربی ضمیر اسرائیل سے صرف یہ کہلوا سکا ہے کہ ہم نے غلط بم مار دیا۔ چند دن پہلے کرسمس منایا گیا، دنیا میں سب سے زیادہ آبادی حضرت عیسٰی کے پیروکاروں کی ہے۔ 

حضرت عیسیٰ بھی فلسطینی ہیں لیکن مغرب نے انھیں گورا، نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں والا بنا لیا۔ ان کی جائے پیدائش بیت اللحم ہے، وہاں بھی اسرائیل کئی دفعہ گولے چلا چکا ہے۔ اس مرتبہ کرسمس پر وہاں حضرت عیسیٰ کے بچپن کے مجسمے کو ایک ملبے کے ڈھیر میں پڑا ہوا دکھایا گیا اور محترم پادری منتھر آئزیک نے اپنے کرسمس کے خطبے میں فرمایا: ’اور آج کے بعد ہمارا کوئی یورپی دوست ہمیں انسانی حقوق یا عالمی قانون پر لیکچر نہ دے کیونکہ ہم گورے نہیں ہیں اور تمہاری اپنی ہی منطق کے مطابق انسانی حقوق اور عالمی قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔‘

محمد حنیف

بشکریہ بی بی سی اردو