اردوان کی دوبارہ میکرون کو ’دماغی معائنے‘ کی تجویز

فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل میں شدت آگئی ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر ان پر ’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے جبکہ مختلف مسلم ممالک میں فرانس کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ڈان اخبار میں خبررساں ادارے اے ایف پی کی شائع رپورٹ کے مطابق آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران گستاخانہ خاکے دکھانے پر استاد سیمیول پیٹی کا سرقلم کیے جانے کے بعد بات کرتے ہوئے ایمانیئول میکرون نے زور دیا کہ فرانس ’’خاکوں سے پیچھے’’ نہیں ہٹے گا جبکہ سیمیول پیٹی کو ’’اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چاہتے ہیں’’۔ تاہم ان کے اس بیان پر ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا کہ میکرون کو ’مختلف عقائد کے گروپس کے لاکھوں اراکین‘ کے ساتھ برتاؤ کے لیے انہیں ’دماغی معائنہ‘ کرانا چاہیے۔

ان کے اس ریمارکس کے بعد پیرس نے انقرہ سے اپنے سفیر کو واپس بھی بلا لیا تھا۔ تاہم ترک لیڈر نے اگلے ہی روز ان ریمارکس کو ایک مرتبہ پھر دوہرایا اور الزام لگایا کہ میکرون کو ’دن اور رات اردوان کا وہم ہے‘۔ مشرقی اناطولیہ کے شہر مالاتیا میں ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ (میکرون) ایک کیس ہے، لہٰذا انہیں اصل میں (دماغی) معائنے کی ضرورت ہے‘۔ واضح رہے کہ یونان-ترک سمندری تنازع سے لیکر ارمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تناؤ تک کے جیو پولیٹیکل معاملات پر اردوان اور میکرون کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔  دوسری جانب فرانسیسی صدر کے بیان نے کئی مسلمان اکثریتی ممالک میں غصے کی لہر پھیلا دی ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ مزید احتجاج بھی متوقع ہے۔ خیال رہے کہ فرانس، یورپ میں مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ تاہم وہاں اسلام مخالف بیانات و اقدامات میں شدت دیکھی گئی ہے اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیانات نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔

فرانسیسی صدر کا متنازع بیان
واضح رہے کہ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کر دیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔ مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو ‘ہیرو’ اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو ‘مجسم’ بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔ برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کے سیکیولر “بنیاد پرست اسلام” کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔ ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے ‘بنیاد پرست اسلام’ کے خلاف ‘دفاع’ کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کا نام لیتے ہوئے، اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس میں ‘اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد’ کروانا ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے، حکومت مساجد کی غیر ملکی مالی اعانت کے بارے میں جانچ پڑتال کرے گی اور اماموں کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا فرانسیسی سرزمین پر غیر ملکی مبلغین کی میزبانی پر پابندی لگائے گی۔ جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازھر کے اسکالرز نے ”اسلام پسند علیحدگی” کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کے بیان کو ‘نسل پرستانہ’ اور ‘نفرت انگیز’ تقریر قرار دیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

بشکریہ ڈان نیوز

طیب اردوان کا اسلام مخالف بیانات پر فرانسیسی صدر کو دماغی علاج کروانے کا مشورہ

طیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب کو اسلام اور مسلم مخالف بیانات دینے پر دماغی علاج کروانے کا کہا ہے۔ اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ انہیں دماغی علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سربراہ مملکت اپنے ملک میں بسنے والے ایک مذہبی اقلیت کے لاکھوں شہریوں کے ساتھ یہ رویہ رکھتا ہے؟ ایسے لوگوں کو سب سے پہلے اپنے دماغ کا معائنہ کروانا چاہیے۔ واضح رہے کہ فرانس میں مسلسل اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے نفرت انگیز بیانات اور اقدامات سامنے آرہے ہیں۔

گزشتہ ماہ شارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسی دوران فرانسیسی صدر نے ایک تقریب میں اسلام کے بارے میں کہا کہ یہ ایک بحران میں گھرا مذہب ہے اور یہ تاثر بھی دیا کہ مسلمان فرانس میں علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔  خاکوں کی اشاعت کے بعد ایک مقامی اسکول کے بچوں میں توہین آمیز خاکوں کا پرچار کرنے والے استاد کے قتل کے بعد سے صدر میکرون کے بیان نے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے جس کے باعث کئی مساجد بند پڑی ہیں اور مسلمانوں پر نفرت انگیز حملے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ ترک صدر کے بیان کے بعد فرانس سے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر طیب اردوان کا بیان کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ حد سے تجاوز اور اکھڑپن کوئی طریقہ نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں اردوان اپنی پالیسی تبدیل کریں کیوں کہ یہ ہر اعتبار سے خطرناک ہے۔ فرانس اور جرمنی میں اسلام مخالف واقعات پر ترک صدر نے کڑا مؤقف اختیار کر رکھا ہے اور گزشتہ ہفتے جرمن پولیس کی جانب سے ایک مسجد پر چڑھائی کے واقعے کے بعد طیب اردوان نے جرمن پولیس کو ’فاشسٹ‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی نے بھی صدر میکرون کے بیانات اور فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

الجزائر : پندرہ لاکھ شہدا کی روحیں خوش

فرانسیسی سامراج بالآخر ہار گیا۔ افریقی امریکی جارج فلائیڈ کا خون رنگ لے آیا۔ سامراجی نشانیوں کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والی جدوجہد نے انتہائی طاقتور فرانسیسی استعمار کو بھی مجبور کر دیا۔ جمعہ 3 جولائی الجزائر کے باشعور اور جدوجہد کے عادی عوام کے لیے ایک تاریخی دن تھا۔ جب 171 سال پہلے آزادی کے لیے اپنی جان قربان کرنے والوں کی باقیات پیرس سے الجزائر واپس آرہی تھیں۔ ایک فوجی طیارہ شہیدوں کی یہ قیمتی باقیات لے کر الجزائر کی فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا جہاں کڑی دھوپ کے باوجود الجزائر کے صدر وزراء اور عوام اپنے جان نثاروں کے خیر مقدم کے لیے سر بلند مگر آنکھیں نم لیے کھڑے ہیں۔ صدر عبدالمجید نیون ایک ایک تابوت کے پاس جا کر جھک کر سلام کر رہے ہیں، فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔

یہ 24 مجاہدین آزادی کے وہ سر ہیں جو جھکے نہیں۔ کٹ گئے تھے۔ فرانس جو ویسے اپنی فنون لطیفہ سے محبت، مصوری سے لگن، شاعری سے الفت، فلسفے سے یگانگت کے لیے مشہور ہے۔ انقلاب فرانس کے ہم سب گُن گاتے ہیں لیکن یہ دو تین صدیوں سے افریقہ میں جس درندگی۔ استبداد اور شقاوت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ یہ اہلِ افریقہ سے پوچھیں ان کی شاعری میں ناولوں میں ملاحظہ کریں۔ باقیات کی واپسی کیلئے پہلے الجزائر کے دانشور، مورخ اور محققین مطالبہ کرتے آرہے تھے۔ حکومت نے اس کے لیے باقاعدہ آواز 2018 میں بلند کی۔ ان 24 پیاروں میں شیخ یوزیان، محمد لمجہ بن عبدالمالک اور مختار بھی شامل ہیں۔ جن کی بہادری کی کہانیاں مائوں کی زبانی الجزائر کی نسلیں انیسویں صدی سے سنتی آرہی ہیں۔ یہ 24 حریت پسند بہت ہی ظالمانہ طریقوں سے شہید کیے گئے تھے۔ ان کی مزاحمت کو روکنے کے لیے ہزاروں فرانسیسی فوجی الجزائر پر مسلط کیے گئے۔ انہیں گرفتار کیا گیا۔ پھر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔

اس کے بعد سر دھڑوں سے الگ کیے گئے۔ اور یہ کھوپڑیاں پیرس کے میوزیم آف مین میں فرانسیسی فوج نے ٹرافیز کے طور پر برسوں سے سجائی ہوئی تھیں۔ الجزائر کی جنگِ آزادی کے بعد پیدا ہونے والے ایمانویل میکرون فرانس کے صدر منتخب ہوئے تو پہلی بار فرانسیسی ضمیر نے اپنے سامراجی نظام کا اعتراف کیا۔ صدر نے کہا ’’ نو آبادیاتی نظام سنگین غلطی تھی۔
انسانیت کے خلاف جرم‘‘ لیکن انہوں نے الجزائر کے عوام سے معافی نہیں مانگی جمعہ 3 جولائی کو جنگ آزادی کے یہ 24 ہیرو اسی سر زمین پر لوٹ آئے جس کے لیے انہوں نے اپنی جانیں نثار کی تھیں۔ ہفتہ 4 جولائی کو تاریخ کے یہ اوراق قصرِ ثقافت Palace of Culture میں زیارت کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ جہاں پورے الجزائر سے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے خلقت امڈ آتی ہے۔ پھر اتوار 5 جولائی الجزائر کے یوم آزادی پر گرانمایہ امانتیں شہدا چوک لے جا کر الجزائر کے شہیدوں کے عظیم قبرستان میں سپرد خاک کی جاتی ہیں۔

جنگ آزادی تو 1830 میں قبضے سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن 1952 سے 1962 تک جاری رہنے والی جدو جہد میں 15 لاکھ الجزائریوں نے جان کے نذرانے دیے تھے۔ آپ کو بھی یاد ہو گا بچپن سے ہی ہم آزادی کی تین تحریکوں کی کہانیاں سن کر جوان ہوئے۔ اور جوانی میں بھی کشمیر فلسطین اور الجزائر کے عوام کو بھارتی۔ اسرائیلی اور فرانسیسی استعمار سے پنجہ آزما دیکھا۔ فلسطین اگر چہ ایک مملکت بن گیا ہے مگر مکمل مختار نہیں ہے۔ الجزائر کے عوام نے لازوال قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی۔ مگر اپنے مقامی استعمار کے خلاف وہ آج بھی بر سرپیکار ہیں۔ کشمیری تو اس وقت تاریخ کے سفاک ترین دَور سے گزر رہے ہیں۔ بلند قامت۔ خوبصورت بن باللہ یاد آتے ہیں۔ جن کی سربراہی میں جنگ آزادی کے آخری مراحل طے کیے گئے۔ فرانس کا ایک فلسفی۔ ایک ادیب ژاں پالی مارتر بلاخوف الجزائر کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔

جنرل ڈیگال سے اس کی گرفتاری کی اجازت مانگی گئی مگر اس نے تاریخی جملہ ادا کیا۔’’ سارتر تو فرانس ہے۔ میں اسے کیسے گرفتار کر سکتا ہوں۔‘‘ افسوس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں کشمیر کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے والا سارتر کسی ماں نے نہیں جنا ہے۔ ایک ستم ظریقی یہ ہے کہ یورپی سامراجوں سے نجات حاصل کرنے والی قوموں میں سے کسی کو بھی ’آزادیٔ کامل‘ نصیب نہیں ہوئی ہے۔ الجزائر میں بھی مقامی استعمار سے لڑائی جاری ہے۔ یہاں ’پیپلز نیشنل آرمی‘ نے چونکہ برسوں الجزائر کو آزاد کروانے کیلئے جنگ لڑی۔ اس لیے وہ حکمرانی پر بھی اپنا حق سمجھتی ہے۔ وہ زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملکی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی اپنی ذمہ داری خیال کرتی ہے۔ جب یہ تاریخی لمحات رُونما ہو رہے تھے ان دنوں میں بھی الجزائر کی سڑکوں پر مکمل سویلین حکمرانی کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جہاں بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ’’ ہم ایک سویلین حکومت چاہتے ہیں۔ نہ کہ فوجی حکمرانی۔

آرمی چیف اس کے جواب میں کہتے ہیں ۔’’ فوج نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ مادر وطن کے عظیم تر مفادات میں کیا ہے۔‘‘ قریباً دو دہائیاں حکمرانی کرنے والے صدر بوتفلیقہ نے اپنے دَور میں فوج کو غیر جانبدار کرنے کی کسی حد تک کامیاب کوششیں کی تھیں۔ لیکن پھر ان کو ہٹانے میں اپوزیشن نے فوج کا ساتھ دیا۔ اب سیاسی طور پر صورتِ حال یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں بہت کمزور ہیں۔ بکھری ہوئی۔ اور مختلف الزامات کی زد میں۔ لیکن الجزائر کے عوام نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ صدر بوتفلیقہ جب 1971 میں وزیر خارجہ تھے۔ کراچی ایئرپورٹ پر مجھے ان سے ملاقات یاد ہے۔ الجزائر دوسرے مسلمان ملکوں کی طرح انتہا پسندوں کی زد میں بھی رہا۔ الجزائری اپنے ہی بہن بھائیوں کو مارتے رہے۔ جیسے پاکستان میں بھی دو تین دہائیاں ایسی گزری ہیں۔ جمعہ ہفتہ اتوار۔ الجزائر کی جدو جہد آزادی کے 15 لاکھ شہدا کی روحیں کتنی خوش ہوئی ہوں گی۔ لیکن ابھی بہت سی باقیات اور اس طویل جنگ حریت کی ہزاروں نشانیاں اب بھی فرانس کے پاس ہیں۔ محققین اور مورخین کا مطالبہ ہے کہ وہ سب واپس کی جائیں۔ آزادیٔ کامل کا ایک مرحلہ ان 24 باقیات کی واپسی سے طے ہوا۔ 1962 میں جیسے فرانس سے معاہدہ کر کے الجزائر آزاد ہوا تھا اللہ کرے اب مقامی سامراجوں سے بھی معاہدہ اور مفاہمت ہو۔ پھر ہمارے الجزائری بھائی مکمل آزادی سے ہمکنار ہو سکیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

فرانسیسی صدر کا اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو چرچ سے باہر نکل جانے کا حکم

فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم ہو گئے، ڈانٹ کر باہر نکلنے کا حکم دے دیا، فرانسیسی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کا بھی دورہ کیا۔ فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں جہاں چرچ کے دورے کے دوران وہ فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم ہو گئے۔ ایمانیول میکرون نے ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے باہر نکلنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ صرف فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے۔ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے جو سلطنت عثمانیہ نے 1856 میں فرانسیسی شہنشاہ نپولین سوئم کو بطور تحفہ دیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کا بھی دورہ کیا۔