اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبے کی تفصیلات جزوی طور پر بحرین میں پیش کی گئیں جنہیں عرب اور اسلامی ممالک نے خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔ اسرئیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا یہ معاہدہ جس پر دو سال سے کام چل رہا تھا اور جسے ’ڈیل آف دا سینچری‘ کہا جا رہا تھا، اسے بحرین میں جاری ایک امن اجلاس میں پیش کر دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں اس معاہدے کے بارے میں کوئی خاص گرم جوشی نہیں پائی گئی۔ کئی دہائیوں سے دنیا میں موجود اس اہم تنازعے کو حل کرنے کے لیے امن منصوبہ بنانے کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی معاون جیریڈ کشنر کے کندھوں پر تھی۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقہ جات پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، غزہ کی پٹی کا محاصرہ، فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے سے روکنا اور ان کو آزادی کے حق سے محروم رکھنا، پچھلے 70 برس سے یہ تمام مسائل عرب اور اسلامی ممالک کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور امریکہ بھی اس تنازعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطین کی خوشحالی کے لیے ہونے والا یہ امن اجلاس امریکہ کی جانب سے’ڈیل آف دا سینچری‘ پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور بحرین کے دارالحکومت مانامہ میں منعقد کیا گیا تھا مگر اجلاس کے پہلے دن ہی عرب ممالک نے اس سے بے توجہی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔
فلسطین نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان شروع ہی میں کر دیا تھا جب کہ اسرائیل کا وفد آنے کی توقع کی جاری تھی۔ حیران کن طور پر اسرائیلی میڈیا کے وہاں سے بھی اس اجلاس میں کوئی خاص نمائندگی نظر نہیں آئی۔ اسرائیل کے اقتصادی یا تجارتی ماہرین نے بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ صدر ٹرمپ کی یہ ’ڈیل آف دا سینچری‘ جس کا شور امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے بہت زیادہ مچایا جا رہا تھا، اس میں مذکورہ شق کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں تھی کہ خوشحال عرب ممالک پانچ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں تاکہ فلسطینی علاقوں میں اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس منصوبے میں سیاسی مسائل کا حل اور اسرائیل- فلسطین امن کے قیام کے لیے روڈمیپ اب بھی غیر واضح ہیں۔ جیریڈ کشنر کے مطابق، اس منصوبے کے باقی حصے کچھ مہنیوں میں عوام کے سامنے پیش کر دیے جائیں گے۔
جس چیز پر مزید توجہ سے بات ہونی چاہیے وہ اس منصوبے کا سیاسی لائحہ عمل ہے۔ دونوں قوموں کے درمیان امن کا قیام اور اسرائیل کے برابر میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام! جہاں اس منصوبےمیں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کی بات کی گئی ہے، وہیں سیاسی حل کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں۔ اسرائیل کے مقبوضہ علاقے، فلسطینیوں کی واپسی، فلسطین کے دارالحکومت اور آزاد ریاست کا قیام، یہ سب مسائل جب تک حل نہیں ہوں گے تب تک عرب اور اسلامی ممالک امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے سے کتراتے رہیں گے۔ اگرچہ اس اجلاس کا میزبان بحرین ہے، پھر بھی نہ تو اس نے اور نہ ہی عرب ممالک نے اس منصوبے کو خوش دلی سے قبول کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان فلسطین اور دیگر سکیورٹی معاملات پر بڑھتی قربتوں اور مذاکرات کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو بھلا دیا گیا ہے یا پھر دیگر اہم مطالبات جیسے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ یا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا یا فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ اگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تھوڑے بہت تیار ہو گئے ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی داخلی سیاست ہے کیونکہ ان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات نے انہیں اتنا پریشان کر دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے اسرائیل کے ساتھ قربت میں ہی بہتری سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حکام اور عوام بھی امریکی صدر کو اس اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ان کے اور اسرائیل کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے کروا سکیں گے یا کوئی منصوبہ تجویز ہی کر پائیں گے۔ اس صورتحال میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ جیریڈ کشنر کا پیش کردہ یہ منصوبہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائے گا، کم از کم جب تک اسے کوئی اور ثالث بہتر طریقے سے پیش نہ کر دے۔
فلسطین کے وزیرِ خزانہ نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے منصوبے کے اقتصادی حصے کو غیر حقیقی اور ایک خواب و خیال قرار دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ شُکری بشارا نے کہا ہے کہ فلسطینی خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر بات چیت کی ضرورت نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے لیے 50 ارب ڈالرز کی مالیت کے ایک اقتصادی ترقی کے منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے ہے۔ اس تجویز کا عرب ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا ہے البتہ خلیجی بادشاہتوں اور امارتوں میں اس کا خاموش قسم کا خیر مقدم ہوتا نظر آرہا ہے۔ سعودی عرب جیسے ممالک اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس کانفرانس کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بحرین کے دارالحکومت مناما میں ایک کانفرنس میں اس امریکی تجویز پر غور کیا جائے گا جسے صدر ٹرمپ کے داماد جاریڈ کُشنر اسرائیل اور فلسطینے تنازعے کے حل کے لیے پیش کریں گے۔ 50 ارب ڈالرز کے ایک عالمی فنڈ کے ذریعے عرب ممالک اور فلسطینیوں کے علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسے ‘امن سے خوشحالی’ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں کئی عرب ممالک شرکت کریں گے لیکن فلسطینی حلقے اسے اصل تنازع کو نظر انداز کرنے کو کوشش قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی سنہ 1967 سے پہلے کے آزاد فلسطینی علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ہم امن چاتے ہیں تاکہ ہم ترقی کر سکیں۔ ‘پہلے ترقی اور پھر امن ایک غیر حقیق خواب و خیال ہے۔
‘سب سے پہلے ہمیں ہماری زمین اور آزادی واپس کی جائے۔’ جیراڈ کشنر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کہا ہے کہ جس منصوبے کو ‘ڈیل آف دی سینچری’ (اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ) اُسے دراصل ‘آپورچیونیٹی اف دی سینچری’ (صدی کا سب سے بڑا موقع) کہا جا سکتا ہے۔ فلسطینی وزیرِ خزانہ بشارا نے کہا کہ فلسطینیوں کو ‘اوسلو اکارڈ’ کے بعد سے امریکہ کے ساتھ کام کا تلخ تجربہ ہوا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطینیوں کو ملنے والی مالی امداد بھی بند کر دی ہے۔ انھوں نے کہ کہ ہم اس ڈیل آف دی سینچری کے بارے میں محتاط ہیں اور شک و شبہات رکھتے ہیں۔