پشتون تحفظ موومنٹ اور اس کے رہنما منظور پشتین کے مطالبات بلکل جائز لیکن نعرے انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ اس تحریک کے ساتھ اگر بہت سے لوگ اس لیے جڑ گئے کہ اس کے مطالبات جائز ہیں جن کے دادرسی کے لیے ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تو ایک طبقہ یہاں وہ بھی ہے جو اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے اُن نعروں کی گونج کو ہوا دینا چاہتا ہے جو بلاشبہ غیر ملکی قوتوں کی خواہش اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے، غلط پالیسیوں کی درستگی کرنی چاہیے اور پشتون تحفظ تحریک کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں جیسے سنگین مسائل کا یہاں خاتمہ ہو سکے، وہیں اس تحریک اور اس کو چلانے والوں کو ایسے اقدامات اور نعروں کو فوری ترک کر دینا چاہیے جو امن اور بھائی چارے کی بجائے پاکستان کو مزید بدامنی اور افراتفری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ویسے منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ زرا غور کریں کہ کہیں ایک ایسا طبقہ بھی تو موجود نہیں جو بظاہر اُن کا بڑا ہمدرد نظر آتا ہے اور جو میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاست کے ذریعے اُن کی تحریک کو خوب اجاگر بھی کر رہا ہے مگر دراصل اُس طبقہ کے اس عمل کے پیچھے کسی مخصوص ادارہ کے
خلاف اُن کا اپنا بغض اور عناد چھپا ہوا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اسی طبقہ میں موجود افراد اور اُن کے ماضی پر نظر دوڑائیں تو یہ بھی پتا چلے گا جن حالات کے سبب پشتون تحفظ موومنٹ بنی اُن حالات کو پیدا کرنے میں اسی طبقہ کا اہم ترین کردار رہا۔ زرا غور کریں اور جواب تلاش کریں کہ وہ کون سا طبقہ تھا جو 9/11 کے بعد امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا یہاں سب سے بڑا وکیل بن گیا اور جس نے اس جنگ کی مخالفت کرنیوالوں کو طالبان اور دہشتگردوں کے ساتھ جوڑا؟؟
وہ کون سا طبقہ تھا جس نے امریکا کی افغانستان میں جاری جنگ کو پاکستان کے اندر دھکیلنے کے لیے ’’دہشتگردی کی جنگ ہماری اپنی جنگ ہے‘‘ کے بیانیے کو یہاں کامیاب کروایا؟؟ وہ کون سا طبقہ ہے جس نے پرامن طریقہ یعنی بات چیت کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کے فتنہ کو حل کرنے کی ہر کوشش کو ثبوتاژ کیا؟؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سوات امن معائدے کی مخالفت کی اور ملٹری آپریشن پر زور دیا اور اس کے لیے راستہ ہموار بھی کیا؟؟ وہ کون سا طبقہ ہے جس نے قبائلی علاقوں میں ہر امن معاہدے کا مذاق اڑایا اُسے sell-out اور surrender سے تشبیہ دی اور امن کے قیام کے لیے صرف اور صرف ملٹری آپریشن کے حل ہی کی تجویز دی؟؟
وہ کون سی سوچ تھی جس نے 9/11 کے بعد گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر اس لیے کبھی آواز نہ اٹھائی کیوں کہ گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کیے جانے والوں کا تعلق امریکاکی دہشتگردی کے خلاف جنگ سے جوڑا گیا؟؟ جو لوگ ملٹری آپریشن کا مطالبہ کرتے رہے، جو لوگ امن کے حصول کے لیے بات چیت کے حکومتی فیصلوں کو حکومت اور ریاست کے لیے طعنہ کے طور پر استعمال کرتے رہے کیا وہ اُن حالات کے ذمہ دار نہیں جو ان آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہوے اور جس کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ اب آواز اٹھا رہی ہے۔ منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ اس طبقہ کو پہچانے کیوں کہ انہی کی وجہ سے پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے ہر پرامن کوشش کو ثبوتاژ کیا گیا، یہی وہ لوگ ہیں جو رات دن میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملٹری آپریشن ملٹری آپریشن کا راگ الاپتے رہتے تھے۔
کچھ عرصہ پہلے تک سب دہشتگردی کے فتنہ کی کمی پر خصوصاً فوج کو مبارکباد دیتے تھے اور ان کی قربانیوں کو سراہتے تھے لیکن آج اُسی فوج کے خلاف پشتون موومنٹ کی انتہائی قابل اعتراض نعروں کو واٹس ایپ کے ذریعے خوب شئیر بھی کرتے ہیں۔ مجھے 9/11 کے بعد اپنائی گئی ریاستی پالیسیوں سے شدید اختلاف رہا اور میری دانست میں انہی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی اور شدت پسندی نے زور پکڑا اور ہمارے ہی لوگوں کو ہمارا دشمن بنا دیا۔ مجھ سمیت جس شخص نے امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مخالفت کی اور پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے مسئلہ کو پرامن طریقہ اور بات چیت سے حل کرنے کی حمایت کی، اُنہیں اُسی طبقہ نے طالبان اور دہشتگردوں کا حامی قرار دیا جو صرف اور صرف ملٹری آپریشن کو مسئلہ کا واحد حل دیکھتا رہا۔
منظور پشتین اور اُس کے ساتھی قبائلیوں کے مسائل، گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے المیہ پر ضرور بات کریں اور تحریک بھی چلائیں لیکن ہمارے درمیان موجود اُس مخصوص طبقہ سے ضرور ہوشیار رہیں جو اس تحریک سے کوئی اور کام لینا چاہتے ہیں۔ یہاں ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ غور کریں، سوچیں کہ وہ کون کون سے عوامل ہیں جو اُنہیں عوام میں غیر مقبول کر رہے ہیں اور جن سے احتیاط کرنا اور باز رہنا پاکستان کے ساتھ ساتھ ان اداروں کے اپنے بھی وسیع تر مفاد میں ہے۔ ایک سوچ وہ ہے جو اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے اداروں کو تباہ و برباد دیکھنا چاہتی ہے، ایک دوسری سوچ ہے جو اداروں میں خامیوں اور اُن کی غلط پالیسیوں کو دور کرنے کی حامی ہے تاکہ ادارے ملک و قوم کے مفاد میں قائم بھی رہیں، اپنا کام کریں اور مضبوط بھی ہوں۔ہمیں پہلے سوچ کی مخالفت اور دوسری سوچ کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔
خیبر ایجنسی لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے، اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ اس لیے اسے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ یا ’’فاٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر، وفاق کے نمائندے اور صدر پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ان علاقوں کے انتظامی سربراہ ہیں۔ اسکی اکثریت آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم شنواری، ملاگوری اور شلمانی بھی اس علاقے کے باشندے ہیں۔ ان حریت پسندوں نے پورے سو برس تک فرنگی حکمرانوں کے خلاف جہاد جاری رکھا یہاں تک کہ غیر ملکی سامراجیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ خیبر ایجنسی کی اصل اہمیت درہ خیبر ہی کے باعث ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے آنے والے حملہ آور اسی درہ سے گزرکر ہندوستان پہنچتے رہے۔
یہ درہ کیا ہے؟ اونچی نیچی پہاڑیوں کے مابین پیچ وخم کھاتی ہوئی ایک گھاٹی ہے۔ اصل درہ جمرود کچھ آگے شادی گھیاڑ کے مقام سے شروع ہو کر پاک افغان سرحد پر واقع مقام طورخم تک پہنچتا ہے جو کوئی 33 میل لمبا ہے جمرود کے مقام پر اس درہ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے شاہراہ پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ بنایا گیا ہے جسے ’’باب خیبر‘‘ کہتے ہیں یہ دروازہ جون 1963ء میں بنا۔ باب خیبر پر مختلف تختیاں نصب ہیں جن پر اس درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام درج ہیں۔ ’’باب خیبر‘‘ کے پاس ہی جرگہ ہال ہے جہاں قبائلی نمائندوں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ جمرود میں ایک اونچے مقام پر مٹیالے رنگ کا قلعہ ہے جس کی شکل و صورت ایک بحری جہاز کی طرح ہے۔ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے 1836ء میں درہ خیبر کی حفاظت کے لیے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔
لیکن اس کے دوسرے ہی سال مسلمانوں نے ایک معرکہ میں ہری سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان دنوں یہاں عسکری اداروں کے جوان مقیم ہیں جو پاکستانی سرحدوں کے جیالے پاسبان ہیں قدم کے قصبہ سے لنڈی کوتل کی طرف بڑھیں تو چڑھائی شروع ہوجاتی ہے سڑک کے دونوں جانب ہزار ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں ہیں۔ علی مسجد تک پہنچتے پہنچتے سڑک سکڑ کر صرف پندرہ فٹ رہ جاتی ہے۔اس مسجد کے پاس ایک اونچی جگہ شاہ گئی کا قلعہ ہے۔ یہاں پانی کے چشمے بھی ہیں۔ لنڈی کوتل اس سڑک پر بلند ترین مقام ہے۔ یہاں سے پھر اترائی شروع ہو جاتی ہے۔