سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات

آج کے جدید دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر رہنا شاید ناممکن ہے اور اس میں سوشل میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ کسی سے بعید نہیں۔ تاہم سوشل میڈیا کے جہاں نقصانات ہیں، وہیں اس کے فوائد بھی ہیں۔ درج ذیل تحریر میں ہم سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات، دونوں کے بارے میں گفتگو کریں گے:

مثبت اثرات
سماجی روابط: یہ لوگوں کو ہمہ وقت کہیں بھی ہو، اپنے عزیزوں، خاندان اور برادریوں کے ساتھ جڑے رہنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سماجی تعلقات کے ذریعے تنہائی کے احساسات کو دور کرتا ہے۔ 

معلومات کا اشتراک: یہ کسی بھی موضوع پر بروقت معلومات جیسے صحت، اسپورٹس اور دیگر موضوعات تک اپ-ڈیٹس فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا تعلیم میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

ہیلتھ کمیونٹیز: سوشل میڈیا پلیٹ فارم مختلف کمیونٹیز کی خدمات کو عام کرتا ہے جہاں ایک جیسے تجربات اور معلومات رکھنے والے افراد ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔

منفی اثرات
دماغی صحت: ضرورت سے زیادہ استعمال اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے دوسروں کی بظاہر کامل زندگی سے موازنہ کرنے کی وجہ سے صارف میں بے چینی، ڈپریشن یا کم خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے جو خطرناک صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔

نیند میں خلل
سونے سے پہلے سوشل میڈیا پر وقت گزارنا معمول کی نیند میں خلل پیدا کر دیتا ہے جس سے مجموعی صحت متاثر ہوتی ہے۔

سائبر بدمعاشی
(cyber bullying): سوشل میڈیا غنڈہ گردی یا ہراساں کرنے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جس کا شکار کوئی بھی ہوسکتا ہے اور جذباتی پریشانی اور دماغی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن برقرار رکھنا، اس کے اثرات کو ذہن نشین رکھنا اور مثبت تعاملات اپنانا اس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

موبائل فون جنریشن : ہر پانچ میں سے ایک کالج طالب علم ڈپریشن کا شکار

عموماً کالج کی زندگی کو پابندیوں سے آزاد شاندار دور سمجھا جاتا ہے اورطالب علم نت نئے تجربات کے ساتھ نئی دنیا تلاش کرتے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں ڈپریشن نے کالج طلباء کو خطرناک حد تک پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق سینٹر فار کالجیٹ مینٹل ہیلتھ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈپریشن اور تشویش کالج ًطلباء کے لئے مشاورت کی اہم ترین وجوہات ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک یونیورسٹی طالب علم ڈپریشن سے متاثر ہے، جس کے کئی عوامل ہیں۔ حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی اِن عوامل میں خطرناک ترین ہے، اِن کا حد سے زیادہ استعمال سماجی رابطوں میں کمی اور تنہائی کے احساس میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال حقیقی اور مجازی زندگی کے درمیان مخصوص نوعیت کے مقابلے کو بھی فروغ دیتا ہے، جو قیمتی لمحات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر تجربات پوسٹ کرنے میں مصروف رہنے، پیغامات بھیجنے اور سیلفیز لینے کے درمیان رسّہ کشی ہے۔ بہت سے کالج طلباء دہری مجازی اور حقیقی زندگی جی رہے ہیں اور بعض اوقات مجازی زندگی حقیقی زندگی سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ صرف ایسی چیز نہیں ہے جوہم کلینک میں دیکھتے ہیں بلکہ یہ تحقیقاتی مطالعے میں اچھی طرح سے مستند ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فون کے بے تحاشہ استعمال کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی لت بھی نیند کی خرابی، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے بھی منسلک ہے۔

مثال کے طور پر ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 50 فیصد کالج طلباء کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکسٹ پیغامات کا جواب دینے کے لئے رات بھر جاگتے ہیں، جبکہ اسی تحقیق کے مطابق جو لوگ نیند کے اوقات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اُن کی نیند خراب ہوتی ہے جو ڈپریشن کی شرح میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ بعض طلباء میں گھر سے دوری، کالج کے بڑھتے اخراجات اور تعلیم مکمل ہونے بعد ملازمت نہ ملنے کا خوف بھی ڈپریشن کا باعث ہوتا ہے۔

معین الدین

فیس بک پر صرف ’’لائیک ‘‘ کرنے کا نقصان

    .بہت سے لوگ دن بھر میں آنکھیں بند کر کے سینکڑوں لائیک کر کے ہی دم لیتے

ہیں۔ لیکن وہ اس کے نقصانات سے بے خبر ہوتے ہیں ایک لائیک کرتے ہی آپ کی سرچ ہسٹری سوشل میڈیا کے کرتا دھرتائوں کے علم میں آ جائے گی۔ وہ جو چاہیں معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر لائیک یا ڈس لائیک کیجیے۔ وہ یہ سب کچھ بند کمپیوٹرز پر بھی کر سکتے ہیں۔ سرچ انجن کوئی بھی ہو ، یا سوشل میڈیا ہو، آپ کمپیوٹر بند کر کے کسی اورکام پر لگ جائیں لیکن سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا اگر چاہیں تو بند کمپیوٹرز پر بھی آپ کی سرچ ہسٹری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی ویب سائٹ پر لائیک کا بٹن دباتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کے ریکارڈ میں چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔

بند کمپیوٹرز پر بھی یہ ادارے اس کی مدد سے ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ امریکہ میں دائر ہوا، ایک شخص نے فیس بک انتظامیہ پر اپنا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم امریکی جج نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریلیف دینے سے گریز کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک بند کمپیوٹر پر اس کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے ۔ اس کے کیخلاف فیصلہ سنایا جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ایسا کوئی واقعہ نہیں درج کیا جس سے ڈیٹا کی چوری کا پتہ چل سکے۔ درخواست دہندہ بہت سے طریقوں سے اپنا سسٹم محفوظ بنا سکتا ہے۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے میں خود ناکام رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کی پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی پرائیویسی قائم رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے،ایک لائیک مہنگی پڑ سکتی ہے۔

سید آصف عثمان گیلانی