امریکہ نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی معلومات بھارت کو دینے سے انکار کر دیا

امریکہ نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کی معلومات بھارت کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ دو طرفہ معاہدے کے تحت ایسا نہیں کر سکتا، اگر کوئی ملک بھارتی فورسز کے زیر استعمال ہتھیاروں کی معلومات مانگے گا تو وہ بھی نہیں دی جائیں گی۔ 27 فروری کو پاکستان نے بھارت کی 26 فروری کی کارروائی کا جواب دیتے ہوئے 2 بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پائلٹ ابھی نندن نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا ہے تاہم وہ اس حوالے سے کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ 

دوسری جانب امریکہ نے جب پاکستانی طیاروں کی گنتی کی تو وہ پورے نکلے۔ 27 فروری کی کارروائی کے بعد بھارت نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ایف 16 طیاروں کی معلومات فراہم کرے تاہم امریکہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک امریکی افسر کے مطابق امریکہ نے بھارت پر اسی وقت واضح کر دیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے معاہدے کے تحت ایف 16 طیاروں کی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ امریکی افسر نے کہا کہ امریکہ کا ایسا ہی معاہدہ بھارت کے ساتھ بھی ہے۔ اگر کوئی تیسرا ملک ہندوستانی فضائیہ کے بیڑے میں شامل سی 130، سی 17 یا اپاچی کے بارے میں معلومات مانگے گا تو امریکہ اسے بھی یہ جانکاری فراہم نہیں کرے گا۔

کیا پاکستان نے بھارتی طیارہ گرانے کیلئے ایف۔ 16 استعمال کیا ؟

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا پاکستانی فضائیہ نے بھارت کا مگ ۔ 21 طیارہ مار گرانے کیلئے امریکی ساخت کے ایف۔16 کو استعمال کیا یا نہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایف۔16 استعمال کرنے کی صورت میں پاکستان ممکنہ طور پر ان کی خریداری کے معاہدے کی کسی قدر خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہو گا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے اس ہفتے ایک دوسرے کے ملک پر جہازوں کے ذریعے بمباری کی ہے اور اس دوران کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی لڑاکا جہازوں نے بھارتی فضائیہ کا ایک مگ ۔ 21 طیارہ مار گرایا اور اُس کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔ اس واقعے سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اس بات کا خدشہ محسوس کیا جانے لگا کہ جوہری ہتھیاروں کے حامل دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل غفور نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا کہ پاکستان نے ایف۔16 جیٹ استعمال کئے تھے۔ پاکستان نے گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو خیر سگالی کے طور پر رہا کرتے ہوئے اسے واہگہ سرحد پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا۔ تاہم دونوں ممالک میں اونچی ترین سطح پر الرٹ جاری ہے۔ کشمیر میں حد بندی لائن پر دونوں جانب سے شدید گولہ باری جاری رہنے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران فائرنگ کا سلسلہ کسی قدر تھم گیا ہے۔

نیوز اجنسی رائیٹرز کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی لڑاکا طیارہ گرانے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے امریکی ساخت کے ایف۔16 طیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایف۔16 طیاروں کی فروخت کے معاہدے میں ان کے استعمال کی کچھ حدود کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ استعمال سے متعلق حدود کیا مقرر کی گئی تھیں تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف۔16 طیارے دفاعی مقاصد کیلئے استعمال کئے جا سکتے ہیں اور حملے کیلئے نہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں میڈیا میں پیش کی جانے والی رپورٹوں سے آگاہ ہے اور اس بارے میں پاکستانی حکام سے مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے بھارتی طیارہ گراتے ہوئے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کیلئے کس قسم کے جہاز استعمال کئے گئے تھے۔ تاہم پاکستان نے کہا ہے کہ اُس نے یہ کارروائی بھارتی لڑاکا طیاروں کی طرف سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کی ہے۔ پاکستان میں چینی ساخت کے JF-17 لڑاکا طیارے بھی بنائے جاتے ہیں اور یہ پاکستانی فضائیہ کا حصہ ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو