سعودی وزیر محنت اور سماجی ترقی احمد الراجحی نے سیاحت اور غیر منافع بخش شعبوں میں 41 اقسام کی ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں داخلی کمرشل مارکیٹوں میں بھی صرف سعودی مرد و خواتین ملازمتیں کر سکیں گے۔ وزیر محنت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پیشوں اور سرگرمیوں کا تعلق مختلف جگہوں ، مراکز اور داخلی تجارتی مارکیٹوں ، شاپنگ مالز ، سول اداروں ، ہوٹلوں اور سیاحتی شعبے کی ملازمتوں سے ہے۔
ان ملازمتوں میں کار ڈرائیور، سیکورٹی اہلکار ، صارفین کی خدمات پر مامور کیے جانے والے منیجر ، انتظامی منیجر ، مارکیٹنگ اور سیلز کے نمائندگان، انسانی وسائل کے منیجر اور عملہ اور اس شعبے میں مارکیٹنگ کے نمائندگان شامل ہیں۔
وزیر محنت کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جو کوئی ادارہ یا آجر بھی اس ضابطے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ،اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ سعودی عرب کی عمومی تنظیم برائے سماجی بیمہ کے مطابق 2017ء کے اختتام پر مملکت میں غیرملکی ملازمین کی تعداد کم ہو کر 79 لاکھ 10 ہزار رہ گئی تھی۔ اس سے ایک سال پہلے 2016ء کے اختتام پر یہ تعداد 84 لاکھ 90 ہزار تھی۔
آپ کیا بننا چاہتے ہیں، یہ متعین کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی ملازمت وہ ہے جو آپ کے اپنے تصورات سے بہتر طور پر ملتی ہے۔ یہ شے صلے اور تسکین دونوں صورتوں میں آپ کو وہاں لے جائے گی جو آپ کی منزل ہے۔ بہتر معاش کے انتخاب کے لیے آپ کو اپنے متعلق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنا ذہن تیار کریں اور پھر یکسو ہو کر فیصلہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی ملازمت کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔
مناسب رویہ: دوران انٹرویو امیدوار بہتر رویہ اپنائے کیونکہ نامناسب رویہ امیدوار کو بہت مہنگا پڑے گا اور وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ جذباتی رویہ ناپختگی کی علامت ہے جو دوران انٹرویو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ رویہ امیدوار کی شخصیت کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرنے والے طریقوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔
مزاج اور طبیعت: انٹرویو کے دوران میں جارح مزاج رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر سوال کا جواب ٹھنڈے دماغ سے دیں۔ اگر آپ کو سوالوں کے درست جوابات نہ آتے ہوں تو تحمل سے جواب دے کر آگے بڑھے چلے جائیں۔
سماعت: بہت سے لوگوں کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے اگر امیدوار آواز نہیں سن سکتا تو اسے فوراً اپنی سمعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ دوران انٹرویو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
غصہ: غصہ ایسی خطرناک شے ہے جو دشمنی، جارحیت اورتباہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دیتے وقت امیدوار کو اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا۔ اگر آپ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں تو پھر بھی غصے کا اظہار نہ کریں۔
آداب و عادات: اچھے آداب و عادات کا اظہار امیدوار کی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا اچھے اخلاق کے لیے امیدوار کی شخصیت میں دونوں پہلوئوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر امیدوار دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور بات کرنے کے سلیقے اور مجلس میں بیٹھنے جیسے آداب سے بخوبی آگاہ ہو تو وہ انٹرویو لینے والے کی نظر میں کامیاب امیدوار ہو گا۔
اعتماد: اعتماد انسانی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو ہر انسان کو ہر مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اعتماد ہی دماغ کی دلیری کا یقین دلاتا ہے لہٰذا انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب اعتماد اور یقین کے ساتھ ہی دیجیے۔
احساسِ مقابلہ: احساسِ مقابلہ زیادہ محنت کرنے اور زندگی میں بہتری کے آثار پیدا کرنے کے علاوہ فرد کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے جو بالآخر اور خوشی مہیا کرتا ہے لہٰذا یہ ہر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار مقابلوں کے مواقع میں حصہ لیتا رہے تا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے احساسات سے روشناس ہو کر اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
لاعلمی: لاعلمی کا مطلب اپنی مرضی سے کسی چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ ویسے بھی لاعلمی ہماری روز مرہ زندگی میں مشترکہ عمل بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہر روز لمحہ لمحہ چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کرکے لاعلمی کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ضرور ی ہے کہ امیدوار اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھے اور ایسا راستہ اختیار کرے کہ جو اسے لاعلمی سے باہر نکال دے تاکہ امیدوار لاعلمی کا شکار نہ ہو۔