اسلامو فوبیا روکنے کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کی جانب سے اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت جاری رکھنے کی اجازت دینے کے مذموم اعلان پر شدید تنقید کی ہے اور اُن کی تشہیر پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکمران نے توہین آمیز خاکوں سے مجروح ہونے والے دلوں پر مرہم رکھنے کی بجائے شدت پسندوں کو اسلام پر حملہ کرنے اور اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے، اسلام دشمنی میں مزید اضافہ کرنے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کی راہ چنی ہے، اِس سے عالمی معاشرہ مزید تقسیم ہو گا جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔

وزیراعظم نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو بھی خط لکھا جس میں سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد روکنے کیلئے کہا ہے۔ وہ اِس سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی مغربی ملکوں اور بھارت میں جاری اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اُٹھا چکے ہیں۔ اِس موقع پر اُنہوں نے کہا تھا کہ جب بھی ہمارے پیغمبرﷺ کی شان میں کہیں گستاخی کی جاتی ہے تو مسلمانوں کو انتہائی درد اور تکلیف ہوتی ہے۔ اِن ملکوں میں اسلام دشمنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی اقدار، شعائر، روایات اور رسومات پر رکیک حملے کئے جا رہے ہیں، کہیں نبیﷺ آخرالزماں، صحابہ کرام ؓاور دوسری محترم شخصیات کی توہین و تضحیک اور کہیں قرآن پاک کی بےحرمتی کی جاتی ہے۔ حجاب سمیت اسلامی لباس پہننے سے جبراً روکا جاتا ہے۔ مساجد میں نمازیوں پر حملے کئے جاتے ہیں۔

فرانس اور کئی دوسرے ملکوں میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے اور اِس حوالے سے مسلمانوں کو نفرت اور جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بھارت میں ہندو توا کے نفاذ کیلئے مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ مسلم اکثریتی ریاست مقبوضہ کشمیر کو زبردستی ضم کر کے وہاں مسلمانوں کا نام و نشان مٹایا جا رہا ہے، پاکستان ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے نقصانات دنیا پر اُجاگر کر رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے سفارتی ایجنڈے میں یہ معاملہ خاص طور پر شامل ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ اُن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن لیڈروں نے توہین آمیز خاکوں اور مواد کی اجازت دینے پر فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو اِس حوالے سے قوم کے برانگیختہ جذبات کی عکاسی ہے، علمائے کرام نے بھی آزادیٔ اظہار کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری کی ناپاک جسارت کو ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ مغربی ملکوں کے اخبارات و جرائد میں اسلام مخالف مواد کی تشہیر ایک عرصہ سے جاری ہے پہلے گستاخانہ خاکے صرف شائع کئے جاتے تھے، اب اُنہیں اشتہارات کی صورت میں سرکاری عمارات پر بھی چسپاں کیا جا رہا ہے۔ پیرس کے چارلی ہیبڈو میگزین کے دفتر پر چار پانچ سال پہلے حملہ بھی ہو چکا ہے جس میں میگزین کے عملے سمیت 12 افراد مارے گئے تھے۔ فرانس کی جانب سے تضحیک آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر پوری دنیا کے مسلمان شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ترکی کے سخت موقف پر فرانس نے وہاں سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ دنیا اس وقت کئی حوالوں سے بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ عالمی امن انتہائی خطرے میں ہے، اِس صورتحال میں اسلامو فوبیا روکنے کی ضرورت ہے دنیا کو مفاہمت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئے۔ عالمی امن کیلئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ترکی کا فرانس کیخلاف قانونی کارروائی کا اعلان

ترکی نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے ترک صدر کے خاکے کو سرورق پر چھاپنے کی مذمت کرتے ہوئے قانونی کارروائی کااعلان کیا ہے۔ ترک صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اردوان کا خاکہ چھاپنے پر ضروری قانونی اور سفارتی کارروائی کرینگے۔ صدارتی دفتر نے اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارلی ہیبڈو کا یہ اقدام ترکی اور اسلام سے عداوت کے سوا کچھ نہیں۔ انقرہ کے پراسیکیوٹر دفتر نے اردوان کے خاکے کی اشاعت کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں٘ کی اشاعت پر ترک صدر نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کو دماغی معائنے کی ضرورت ہے۔ اردوان کے اس بیان پر پر فرانس نے ترکی سےاپنا سفیر احتجاجاً واپس بلا لیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

فرانس کی پاکستان اور ترکی کو دھمکی

فرانس نے اسلام مخالف مہم پر ردعمل دینے والے ممالک ترکی اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ فرانس کے ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت سے گریز کریں۔ فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف مہم کے دفاع میں بیان کے بعد پاکستان اور ترکی کی جانب سے فرانسیسی صدر کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا۔ مصنوعات کے بائیکاٹ کے رد عمل میں فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے ڈھٹائی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی فرانس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔  غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے سرکاری ریڈیو پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے حیران کُن بات ہے کہ بیرونی ممالک ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔‘

انٹرویو میں فرانس کے وزیر داخلہ نے پاکستان اور ترکی کے ردِعمل کو خصوصی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک کے پارلیمان میں فرانس کے خلاف قراردادوں کی منظوری ’فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت‘ کے مترادف ہے۔ دوسری جانب فرانس میں اسلام مخالف مہم اور صدر میکرون کی جانب سے مہم کے دفاع میں بیان کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ مذمتی پیغامات بھی سامنے آئے، جس کے بعد انہوں نے عربی میں ایک پیغام جاری کیا تھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں میکرون نے لکھا کہ ’ہم کبھی نفرت آمیز تقریر کو قبول نہیں کریں گے، اور امن کے لیے ہم ہر قسم کے خیالات کا احترام کرتے ہیں، اس حوالے سے مناسب بحث و مباحثے کا ہمیشہ دفاع کیا جائے گا۔‘

 فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے اور امن کے حصول کیلئے تمام مکاتب کے درمیان پائے جانے والے مختلف خیالات کا احترام کیا جاتا رہے گا۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ کو ایک خط میں ویب سائٹ پر اسلام سے نفرت پر مبنی مواد پر پابندی عائد کرنے کا کہا ہے۔ وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر ایک خط شیئر کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا فیس بک بالخصوص سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے، دنیا بھر میں شدت پسندی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔‘

بشکریہ روزنامہ جنگ

ترک صدر طیب اردوان کی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

ترک صدر طیب اردوان نے ترکی کے عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کر دی ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق انقرہ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے مغربی ممالک میں اسلامی طرز حیات کے مطابق زندگی گزارنا مشکل ترین ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اسلاموفوبیا کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ یورپی یونین کی اولین ذمے داری ہے کہ اسلام کے خلاف منافرت کو روکے، اس معاملے کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ترک صدر نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو یورپ میں نفرت کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فرانسیسی صدر کی پالیسیوں کو روکنا چاہیے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میلاد النبی ﷺ کی تقریب سے خطاب میں طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات پر فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی۔

واضح رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد اسلام مخالف تقاریر اور کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے نہ صرف گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کی حمایت کی بلکہ اسلام کو بحرانوں کا مذہب اور مسلمانوں کو فرانس میں علیحدگی پسند جذبات کے رجحان کا ذمے دار قرار دیا۔ فرانسیسی صدر میکرون کے بیانات کے بعد فرانس سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہردوڑ گئی ہے اور مسلم رہنماؤں میں طیب اردوان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ فرانسیسی صدر کو اسلام مخالف بیانات پر دماغی علاج کروانے کا مشورہ بھے دے چکے ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز