Standard Posted by KHAWAJA UMER FAROOQ Posted on November 10, 2013 Posted under Allah, Ellipsis, Facebook, Ghazal, Google+, John Elia, Twitter, Urdu Comments Leave a comment یہ ملیں یہ جاگیریں کس کا خون پیتی ہیں؟ دس کروڑ انسانو! زندگی سے بیگانو! صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں سوچتا ہوں یہ ناداں کِس ہوا میں رہتے ہیں اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو ہاتھ میں عَلَم لے کر تم نہ اُٹھ سکو لوگو کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے زندانو دس کروڑ انسانو! ……… یہ ملیں یہ جاگیریں، کس کا خون پیتی ہیں؟ بیرکوں میں یہ فوجیں کس کے بل پہ جیتی ہیں؟ کس کی محنتوں کا پھل داشتائیں کھاتی ہیں؟ جھونپڑوں سے رونے کی کیوں صدائیں آتی ہیں؟ جب شباب پر آ کر کھیت لہلہاتا ہے کس کے نَین روتے ہیں؟ کون مُسکراتا ہے ؟ کاش تم کبھی سمجھو کاش تم کبھی جانو Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Print (Opens in new window) Print Email a link to a friend (Opens in new window) Email Like Loading...