امریکا میں انجینئرز نے ایسے ڈرون تیار کر لیے ہیں جو خودکار مشین گن سے لیس ہیں اور انہیں فوری طور پر دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بھیج کر دشمنوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی شہر فلوریڈا کی ایک کمپنی ڈیوک روبوٹکس نے حال میں ایک ملٹی روٹر ڈرون بنانے کا اعلان کیا ہے جسے ٹی آئی کے اے ڈی کا نام دیا گیا ہے۔ ڈرون پر کئی طرح کی عسکری گنز، ہتھیار ، خودکار رائفل اور گولہ پھینکنے والے لانچر نصب کئے جا سکتے ہیں۔ یہ کمپنی ریزائل آتور نے قائم کی ہے جو اسرائیل ڈیفینس فورس (آئی ڈی ایف) میں اسپیشل مشن یونٹ کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق شہروں میں دہشتگردوں کے حملے کے بعد شہریوں کی جان بچانا اور دشمن کا مارنا ہی اس ڈرون کا اہم مقصد ہے۔ ان کا اشارہ فلسطینی مجاہدین کی جانب ہے جو اپنے کم ترین وسائل کی بنا پر اسرائیلی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
2015 میں یہ ڈرون اسرائیلی افواج کا حصہ بنے تھے اور اب تک اس میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سے ایک اہم تبدیلی مشین گن چلنے سے ہونے والا دھچکا سہنا ہے جو بار بار ڈرون کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اب تک جدید ترین ہتھیار بردار ڈرون 10 کلوگرام وزنی گن اور اسلحہ لے جا سکتا ہے اور فی الحال اسے کنٹرول کرنے کے لیے دور بیٹھے ایک شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنی نے تعارفی ویڈیو میں مشین گن ڈرون کی ایک جھلک دکھائی ہے اور دوسری جانب اسرائیلی حکومت اب تک ایسے متعدد ڈرون خرید چکی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے پاس اپنے دفاع کے لیے بھاری بھر کم ہتھیار موجود ہیں۔ امریکا فوجی قوت پر ناز کرتا ہے، روس کا دعویٰ ہے کہ اس کو مسخر کرنے والا پیدا نہیں ہوا۔ ہندوستان جیسے ممالک بھی دیکھا دیکھی جنگی ساز و سامان کا ڈھیر لگا رہے ہیں۔ جاپان معاشی طاقت کو آزمودہ دفاعی نظام سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں بہترین معیشت قومی مفادات کے تحفظ کا بہترین راستہ ہے۔ ناروے، ڈنمارک، انڈونیشیا، ملائشیا مختلف حوالوں سے جمہوریت کو اپنا آزمودہ آلہ سمجھتے ہیں۔ یورپ کے کنارے پر واقع ممالک جمہوری رستوں کو بہت عرصے سے اپنائے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمارے مسلمان ممالک اس کام میں نئے ہیں۔ مگر پھر بھی اس نظام کے ذریعے خود کو محفوظ بنانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ممالک خاموشی سے گزارہ کرتے ہیں اور خود کو مسائل سے بچانے کے عمل کو ہی پالیسی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔
ہمارے پاس جوہری ہتھیار ہیں، میزائل اور جہاز بھی ہیں۔ جمہوریت بھی موجود ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں اپنی عزت بچانے اور مسائل کے دانت کھٹے کرنے کے لیے اس سے بہتر ہتھیار اور بنایا جا نہیں سکتا۔ طویل مشاہدے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے پاس ان تمام ہتھیاروں اور داؤ پیچوں کا باپ موجود ہے۔ جو ہمارے مرکزی قومی مفادات کا اصل محافظ ہے اور جس کی موجودگی میں ہمیں کسی قسم کا غم یا پریشانی نہیں آ سکتی۔ آپ یقینا اس ہتھیار کا نام جاننے کے لیے بیتاب ہوں گے۔ تو سنیے اس بڑھیا اور موثر ترین ہتھیار کا نام ’’ تعاون کی اپیل‘‘ جی ہاں! آپ نے صحیح پڑھا۔ تعاون کی اپیل۔ ہر اہم اور نازک موڑ پر ہم اس ہتھیار کے ذریعے حملہ آوروں کو شکست دیتے ہیں۔ اپنا بال بیکا ہونے سے بچاتے ہیں، ہمارے بارے میں منحوس پیشین گوئیاں کرنے والوں کو شرمندہ کرتے ہیں۔ یعنی ہر وہ کام کر دکھاتے ہیں جو دنیا کے بیشتر ممالک سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ہتھیار کو بنانے میں زیادہ پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ چند ایک لوازمات ہیں جن کو ملا کر آپ اس کو گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔ نہ بین الاقوامی قوانین توڑنے پڑتے ہیں اور نہ اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ کسی سائنسدان اور تحقیقی اداروں کی لمبی فہرست کی ضرورت نہیں۔ دہائیوں اور سالوں کو صرف کرنے کی مشقت بھی نہیں کرنی پڑتی۔ آسانی سے بن جاتا ہے یہ جادوئی آلہ۔ آپ کو خود پر تھوڑی سے بیچارگی طاری کرنی پڑتی ہے، کف افسوس ملنا پڑتا ہے۔ اپنی تباہی اور بربادی کے امکانات کو اجاگر کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کو یہ بتلانا پڑتا ہے کہ ہمارے ساتھ اگر ہاتھ ہوا تو دو ہاتھ ان کے ساتھ بھی ہو جائیں گے۔ اس کے بعد تعاون کی اپیل تیار ہو جاتی ہے۔ جو ہم دنیا بھر میں اپنی بیوروکریسی، نمایندگان،تجزیہ نگاروں اور دوسرے اداروں کے سربراہان کے ذریعے جلدی جلدی پھیلا دیتے ہیں۔ ہمارا کام جھٹ سے ہو جاتا ہے۔ دشمن حیران ہو جاتے ہیں۔
میں آپ کو کئی مثالیں گنوا سکتا ہوں جس میں تعاون کی اپیل نے ڈھال اور تلوار دونوں کے کام کو مات دے دی۔ پرسوں کے اخبارات میں امریکا کے حوالے سے خبر چھپی تھی کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر ڈرون حملے کم کر دیے ہیں۔ یعنی جو کام دھرنے، احتجاج، دھمکیاں، نیٹو سپلائی کی بندش، پاکستان کی خود مختاری کا ڈھنڈورا، قومی غم و غصہ وغیرہ وغیرہ نہ کر سکے، وہ تعاون کی اپیل نے کر دیا۔ معاشی معاملات کو سدھارنے کا شعبہ لے لیجیے ۔ بڑے بڑے معیشت دان ہمارے مستقبل کے بارے میں خواہ مخواہ پریشان رہتے ہیں مگر کوئی ایسی راہ تجویز نہیں کر سکتے جس پر چل کر ہم دگرگوں حالات سے جان چھڑا پائیں۔ جب سب کچھ ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے تب ہم تعاون کی اپیل کی طرف پلٹتے ہیں۔ دنیا کے مالیاتی ادارے ہم پر ڈالر نچھاور کرتے ہیں اور آنے والی خزاں وارد ہونے سے پہلے ہی ٹل جاتی ہے۔ اس ہتھیار کو بروئے کار لاتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہمیں تیل اور آسان شرطوں پر قرضے فراہم کر دیتے ہیں۔ فاٹا میں سڑکیں بن جاتی ہیں اور مالاکنڈ میں پُل۔ کہاں بیس کمروں کا اسپتال بنانے میں مشکل ہوتی ہے اور کہاں ہزار بستروں پر مبنی جدید سہولیات سے آراستہ صحت کی سہولت جادوئی قلعے کی طرح پلک جھپکتے نمودار ہو جاتی ہے۔ ہم نے عدالتی نظام کو کمپیوٹر کے ذریعے لاگو کرنا ہو یا اپنے افسروں کو جدید انداز انتظامیہ سے روشناس کرانا ہو، عوامی نمایندگان کی سیاسی تربیت ہو یا صحافیوں کی تعلیم، قومی آفات سے بچنے کے طور طریقے ہوں یا آفات کے بعد تباہی کو ترقی میں تبدیل کرنے کا عمل، تعاون کی اپیل مٹی کو سونے میں بدل دیتی ہے۔
اس ہتھیار کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ بیرونی خطرات قومی ضروریات کے ساتھ ساتھ اندرونی حالا ت پر قابو پانے کے لیے بھی بہترین انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف نے آئینی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد جارج ڈبلیو بش سے تعاون کی اپیل کے ذریعے خود کو طویل عرصے تک طاقت میں متعین کیا۔ موجودہ وزیر اعظم اور اس وقت پریشانی کے شکار نواز شریف نے اسی ہتھیار پر تکیہ کرتے ہوئے خود کو ملک سے باہر جانے کا انتظام کروایا۔ سعودی عرب سے تعاون کی اپیل خوش قسمتی کا وہ دروازہ ثابت ہوئی جس سے گزر کے میاں صاحب تیسری مرتبہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ جنرل مشرف کو بچانے والے بھی سعودی عرب اور امریکا سے تعاون کی اپیل پر ہی انحصار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ہتھیار چلایا جا چکا ہے۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے آنے والے دنوں میں آ جائے گا۔
اسی طرح سیاستدان عوام سے تعاون کی اپیل کے ذریعے جھولی بھر کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ عمران خان تعاون کی اپیل کے توسط اسپتال بھی بنا لیتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں حکومت بھی۔ آصف علی زرداری بھی سب پر بھاری نہ ہوتے اگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کو بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی کے ووٹروں سے تعاون کی کامیاب اپیل نہ کرتے۔ یہ موثر آلہ ہم اس وقت بھی استعمال کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ہم نے کیا کچھ نہیں کیا‘ عین اس وقت جب دنیا اس مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں ہماری استطاعت سے متعلق شک کو یقین میں تبدیل کر چکی تھی، ہم نے تعاون کی اپیل کو بے نیام کیا۔ ہماری دعا ہے کہ ہماری ریاست اور حکومت کی طرف سے تعاون کی اپیل پر تحریک طالبان پاکستان کے مشران ہمیشہ مثبت رد عمل دیتے رہیں تا کہ پاکستان کا نام اور ہماری قوم کی شان باقی و بر قرار رہے۔
برطانوی اخبار گارڈین میں امریکی فضائیہ کی اہلکار ہیدر لی لائن بو کا مضمون پڑھ کر ان سیاست دانوں اور ان کے ابلاغی مشیروں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے جو گزشتہ کئی سال سے ڈرون طیاروں کی سو فیصد درست اور بے خطا نشانہ بازی کے حق میں رطب اللسان ہیں۔
ڈرون آپریٹر نے لکھا کہ ’’میں جب بھی سیاست دانوں کو پریڈیٹر جیسے ڈرون پروگرام کا دفاع کرتے سنتی ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان سے چند سوالات پوچھوں، پہلا سوال یہ کہ آپ نے ایک ہیلی فائر میزائل سے کبھی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے؟پھر پوچھوں گی آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان، کھیت میں گھسٹے دیکھا ہے ؟ان سیاست دانوں میں سے کسی کو اندازہ بھی ہے کہ یہ ڈرون آخر ہے کیا ؟‘‘ ہیدر مزید لکھتی ہے ’’بہترین روشنی والے دن بھی ڈرون سے ملنے والی ویڈیو اتنی صاف نہیں ہوتی کہ آپ یہ معلوم کر سکیں کہ نظر آنے والے شخص نے ہتھیار اٹھا رکھا ہے یا بیلچہ‘‘
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے بے گناہ سویلین مردوں، عورتوں اور بچوں کی مستند تعداد وہی ہے جو پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پولیٹکل حکام نے بیان کی چودہ سو سے اوپر، زخمی، اپاہج اور نفسیاتی مریض بننے والے اس سے کہیں زیادہ ہیں جبکہ عسکریت پسند حکیم اللہ محسود اور قاری ولی الرحمان کوملا کر ٹوٹل تیس (30) ان ساڑھے چودہ سو میں سے کوئی القاعدہ کا رکن تھا نہ طالبان کا ساتھی، البتہ اس کی شکل وصورت دیگر قبائلیوں کی طرح طالبان سے ملتی جلتی تھی وہی لباس، باریش چہرہ، ہاتھ میں تسبیح اور سر پر پگڑی، ہاں کسی مدرسے یا مسجد میں بوقت نماز موجودگی بھی، روز قیامت جب بارک اوبامہ اور بش کے ساتھ ہمارے فوجی اور سول حکمران و حکام ان مقتولوں بالخصوص بچوں کے سوالات کا جواب دینے کیلئے خدا کے حضور پیش ہوں گے تو ہمنوا دانشوروں کی گواہی قبول ہو گی یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔
لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے آرام دہ دفاتر اور سہولتوں سے آراستہ ڈرائنگ روموں ،چائے خانوں میں ان بے گناہ قبائلیوں کو عسکریت پسندوں کا ساتھی، پناہ دینے کا مرتکب قرار دینے اور گہیوں کے ساتھ گھن پسنے کے محاورے سنانے والے بزعم خویش انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ معلوم کرنے کی فرصت کہاں کہ غریب اور بے آسرا قبائلی کس حال میں ہیں اور ڈرون نے علاقے پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں، خوف کا یہ عالم کہ لوگ گھروں سے نکلتے ڈرتے، کھلے آسمان کو دیکھنے کے لئے ترستے اور معذور، نفسیاتی مریض عزیز رشتہ دار کو ہسپتال لے جاتے گھبراتے ہیں مبادہ اس جہنمی کھلونے کا نشانہ بن جائیں جسے ہمارے سیاست دان اور دانشور دہشت گردوں کے خلاف موثر ہتھیار سمجھ کر صبح و شام مدح وثنا میں مصروف رہتے ہیں قبائلی علاقوں میں خواب آور گولیاں سب سے زیادہ بکنے والا آئٹم ہیں۔
ہیدر سے قبل ایک ڈرون آپریٹر برنیڈن برنیٹ نے اس بے رحمی، شقاوت قلبی اور انسان دشمنی سے اکتا کر ایئرفورس چھوڑی اور اس وحشیانہ کھیل کا پردہ چاک کیا برنیڈن نے ایک معصوم تین چار سالہ بچے کو نشانہ بنانے کے بعد جب ساتھی سے پوچھا کہ کہیں ہم معصوم انسانی جان تو ختم نہیں کربیٹھے تو ساتھی کا جواب تھا نہیں ! یہ کتے کا پلا تھا ’’دو ٹانگوں والا جانور ‘‘ نیویارک ٹائم نے ڈرون پروگرام سے وابستہ اہلکاروں سے انٹرویوز کے بعد رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’’ان اہلکاروں کو انسانی جذبات و احساسات سے مکمل لا تعلقی پر مجبور کیا جاتا ہے اور یہ سوچنے کا عادی کہ دشمن رحم کے قابل نہیں ہوتا خواہ وہ غیر مسلح شہری، عورت اور بچہ ہی کیوں نہ ہو اور اسے کسی حملے کے وقت صرف یہ سوچنا چاہئے ۔I have a duty and I execute the duty
ایلزبتھ بلیر کی رپورٹ (نیو یارک ٹائمز 29جولائی 2012ء) کے مطابق ڈرون پروگرام سے وابستہ افراد ذہنی دبائو، اعصاب شکنی، بے خوابی اور افسردگی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ہیدر کے مطابق بہت زیادہ خواب آور اور دیگر ادویات استعمال کرنے والے اہلکار دوران ملازمت یا علیحدگی کے ایک سال بعد بالعموم خودکشی کر لیتے ہیں کیونکہ بے گناہوں پر نشانہ بازی کے اثرات سے وہ چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ دماغی و نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔
امریکی ڈرون اہلکاروں کے برعکس ہمارے سیاست دان اور دانشور بے شرمی اور ڈھٹائی سے ڈرون حملوں کے فوائد وبرکات بیان کرتے اور ان کی درست نشانہ بازی کے حق میں ایسے ایسے دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں کہ برنیڈن، ہیدر، کرنل برنٹین جیسے تجربہ کار، ڈرون ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر آگاہ اور اس کے منفی اثرات کے واقف امریکی سنیں تو حیران رہ جائیں حیران کیا ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی پر سرپیٹ لیں کہ دنیا میں ایسے احمق بھی بستے ہیں۔
سیاست دانوں کا معاملہ تو قابل فہم ہے انہوں نے اپنے اقتدار کے تحفظ، قرضوں اور امداد کے حصول اور مستقبل میں اقتدار تک رسائی کے نقطہ نظر سے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانی ہوتی ہے انہیں پڑھنے، سوچنے، سمجھنے کی فرصت نہیں اور ڈرون کا شکار ہونے والوں سے کسی قسم کی ہمدردی بھی نہیں جنہیں بندوبستی علاقوں میں بھوک، بیماریوں اور ٹارگٹ کلنگ سے مرنے والے معصوم عوام کی فکر نہیں انہیں دور دراز بسنے والے قبائلی عوام کی فکر کیوں ہو مگر جن کا اوڑھنا، بچھونا ہی امریکہ و برطانہ کا میڈیا اور اس میں شائع ہونے والی رپورٹیں ہیں وہ آخر یہ رپورٹیں پڑھتے اور پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ،قبائلی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ بچوں اور عورتوں کی جانوں کے اتلاف پر ضمیر کی خلش کا شکار کیوں نہیں ہوتے؟
کیا طالبان سے نفرت، امریکہ کی محبت اور ہر حال میں ڈرون حملوں کی حمایت نے انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری کر دیا ہے اس بنا پر یہ نیٹو سپلائی روکنے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو ہدف تنقید بناتے، عمران خاں کا مذاق اڑاتے اور یہ بے پرکی ہانکتے ہیں کہ بھلا امریکہ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اس کے پاس متبادل راستے بہت ، حالانکہ امریکہ تلملا رہا ہے اس کی کانگریس شور مچا رہی ہے کہ سپلائی کا خرچہ کئی گناہ بڑھ گیا ہے اور پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
ہیدر لائن بو کا مضمون چشم کشا ہے اور ڈرون حملوں کے مخالفین کی اخلاقی برتری کا ثبوت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس بنا پر قرارداد منظور کی اور دنیا میں آواز بلند ہو رہی ہے مگر جن کو معصوم بچوں اور بے گنا عورتوں کے جسم کے چیتھڑے اڑتے اور خون کے فوارے چھوٹتے دیکھ کر کبھی رحم نہیں آیا وہ ایک مضون سے متاثر ہونے والے کہاں ؟وہ تو بنگلہ دیش میں پاکستان کے وفاداروں کو تختہ دار پر لٹکانے کی کارروائی کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔
ضمیر زندہ، انسانی حس بیدار،جذبہ ہمدردی برقرار اور غیرت وحمیت کی رمق باقی ہو تو انسان خلش، اضطراب، افسردگی اور بے خوابی کا شکار ہوتا ہے خواہ وہ امریکی ہو، برطانوی یا کوئی عراقی و افغان مگر جہاں’’غیرت ‘‘ کے لفظ کا تمسخر اڑایا جاتا ہو اور انسانی جذبات و ایمانوں رشتوں کی تذلیل و تحقیر کا رواج وہاں ہیدر، برنیٹ جیسے ضمیر کی خلش کا شکار ہو کر پرکشش ملازمتیں چھوڑنے والے جذباتی لوگوںکی بات کون سنے اور کیوں؟