خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی صحافیوں کے چین سے اخراج کے فیصلے کے بعد امریکہ کے ہوم لینڈ سیکیورٹی نے چینی صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ نوے دن کا ویزہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد توسیع کی درخواست دینا ہو گی۔ اس سے قبل چینی صحافیوں کو اپنی ملازمت کے دورانیے تک قیام کی اجازت تھی۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاو لی جیان نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ ہم سختی سے عدم اطمینان اور اس غلط اقدام کی مخالفت کرتے ہیں، جس کا مقصد چین کے میڈیا کا سیاسی کریک ڈاون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کی فوری درستگی کرے، بصورت دیگر چین کے پاس جوابی اقدام کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ ترجمان نے جوابی رد عمل کی تفصیل نہیں بتائی۔ “جیسے کو تیسا ” کے اصول پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ چین نے وال سٹریٹ جرنل کے تین صحافیوں کو ملک بدر کیا تھا۔ اخبار نے کرونا بحران کے موضوع پرایک ادارتی کالم شائع کیا تھا۔
چین نے اس کی سرخی کو نسل پرستانہ قرار دینے کے کئی ہفتوں بعد امریکہ نے چین کے سرکاری خبر رساں اداروں کے لیے امریکہ میں کام کرنے والے کارکنوں تعداد محدود کر دی تھی۔ مارچ میں چین نے جوابی کارروائی کی اور اخبار نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جرنل کے 12 سے زیادہ صحافیوں کو ملک سے نکال دیا۔ چین میں غیر ملکی صحافیوں کو ایک سال کا ویزہ دیا جاتا ہے، جس کی ہر سال تجدید ہو سکتی ہے۔ مگر چین میں غیرملکی نامہ نگاروں کے کلب کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین نے کم از کم ایک درجن نامہ نگاروں کو چھ ماہ یا اس سے کم مدت کے شناختی کارڈ جاری کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے حکام غیر ملکی صحافیوں کے ویزوں کے اجرا کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس اقدام کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
افغان جنگ رواں صدی کی مہنگی ترین جنگ بن چکی ہے ، جس میں اربوں ڈالر لگانے کے باوجود رسوائی سپر طاقت کا مقدر بنی ہوئی ہے، افغانستان کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والا امریکا بہادر گھٹنوں پر کھڑا افغان سرزمین سے باہر نکلنے کی ٹوہ میں ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے القاعدہ کے تعاقب میں افغانستان پر حملہ کیا اورامارت اسلامیہ کی حکومت کو ختم کر کے ایک آزاد ملک پر قبضہ کر لیا، امارت اسلامیہ تب سے آج تک امریکی جارحیت کے خلاف برسرپیکار ہے اور غیر ملکی قابض فوجوں کے انخلاء کے لیے مسلح جدو جہد کر رہی ہے۔ آج بھی افغانستان کے بیشتر حصے امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول ہیں۔ افغانستان پر امریکی حملے اور افغان قوم پر مسلط کردہ جنگ کے اٹھارہ سال مکمل ہو گئے، اس عرصے میں تین امریکی صدور آئے، پہلے جارج ڈبلیو بش لگاتار دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے، ان کے بعد باراک اوباما ، پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی عنان اقتدار سنبھالی، بش، اوباما اور ٹرمپ تینوں امریکی صدور نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اس دوران کبھی جنگی ہتھکنڈے آزمائے جاتے تو کبھی اتحادی افواج کے جرنیلوں کو تبدیل کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی، کبھی غیر ملکی افواج کی تعداد میں کمی کی جاتی تو کبھی اس میں اضافہ ہوتا، انٹیلی جنس اور پروپیگنڈے کی حکمت عملی، سیاسی اور مذہبی دباؤ اور دیگر مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا۔ امریکی انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک پینترا آزمایا لیکن افغانستان میں انھیں ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ افغانستان میں مسلح مزاحمت آج بھی نظر آرہی ہے، قابض فوج کی ہلاکتوں اور مالی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے جو بلاشبہ امریکی انتظامیہ کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ طاقت کی پالیسی سے امریکا کو افغانستان سے رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا ، جب ایک فارمولا ناکام ہو جائے تو لا محالہ دوسرا آزمایا جاتا ہے۔
امریکی فوج نے 2001 سے لے کر اب تک افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے خلاف لڑتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کر دیے ہیں، امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق شروع دن سے لے کر 2019 کی پہلی سہ ماہی تک امریکا افغان جنگ میں 760 ارب ڈالرجھونک چکا تھا حالانکہ آزاد تحقیق کرنے والے ادارے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ میں بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سرمایہ خرچ کیا، امریکی انتظامیہ نے جو اعداد و شمارجاری کیے ہیں اس میں سابقہ فوجیوں کو دیے جانے والے اخراجات اور جنگ سے متعلق دیگر ڈیپارٹمنٹس کو دی جانے والی امداد شامل نہیں اور نہ ہی اس میں سود کی وہ رقم شامل ہے جو اس جنگ کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں پر ادا کی جارہی ہے، اسی لیے اس جنگ کو صدی کی مہنگی ترین جنگ قرار دیا جارہا ہے، اس کے باوجود امریکا طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جس روز سے اقتدار سنبھالا تب سے وہ امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کی باتیں کر رہے ہیں ، انھوں نے اپنی فوجی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد مذاکرات اور معقولیت کا انتخاب کیا۔ امارت اسلامیہ ، جس نے ہمیشہ اس معاملے کے پرامن حل پر زور دیا ہے اور یہاں تک کہ امریکی حملے سے پہلے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا ، سچے جذبے کے ساتھ مذاکرات کے لیے آگے بڑھی اور مذاکرات کے لیے ایک مناسب اور بااعتماد وفد مقرر کیا اور پچھلے ایک سال میں اس عمل کو بہت اچھے انداز سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس دوران امن مذاکرات کے نو دور مکمل کرنے کے بعد معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دی گئی ، معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری 18 سالہ طویل امریکی جنگ کا خاتمہ تھا۔
ستمبر کے اوائل میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ امریکا اور طالبان معاہدے کی دہلیز پر ہیں جو تشدد کو کم کرے گا اور یہ پائیدار امن کے لیے ایک راستہ ہو گا۔ بعد ازاں امریکی نمایندہ خصوصی نے کابل میں افغان حکام کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا جس پر امریکا، فوج کے انخلا کی صورت میں امارت اسلامیہ کے ساتھ رضامند ہوا تھا۔ افغان حکومت نے امریکا اور امارت اسلامیہ کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکام کو اس حوالے سے لاحق خطرات کے بارے میں مزید معلومات جاننے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ اشرف غنی اور ان کی حکومت کو امریکا اور امارت اسلامیہ کے درمیان جاری مذاکرات سے بالکل علیحدہ رکھا گیا تھا کیونکہ امارت اسلامیہ، افغان حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صرف امریکا کے ساتھ معاہدے پر زور دیتی رہی۔
معاہدے کے مندرجات کے مطابق پینٹاگون کو آئندہ برس تک افغانستان میں موجود اپنے 5 فوجی اڈوں سے 13 ہزار فوجی اہلکار واپس بلانا تھے جب کہ امارت اسلامیہ کو سیکیورٹی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنا تھی۔امارت اسلامیہ کے وفد کی خفیہ ملاقات جب امریکی صدر سے ہونے جارہی تھی اس موقع پر 5 ستمبر کو کابل میں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکا اور رومانیہ کے 2 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ جس پر امریکی صدر نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا اور ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔ امارت اسلامیہ نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں کو صرف کیا اور آخر تک اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے جاری رکھا ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ امن کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے برعکس مدمقابل فریق جس طرح جنگ شروع کرنے اور جارحیت کا ذمے دار ہے اسی طرح اس جنگ اور خونریزی کا بازار گرم رکھنے کی ذمے داری بھی فریق ثانی یعنی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امارت اسلامیہ کے ساتھ امن مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد امارت کے وفد کے دورہ ماسکو کا انکشاف ہوا تھا، جہاں طالبان نمائندوں نے روسی حکام کے ساتھ تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔روس کے ذرائع ابلاغ نے طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماسکو میں طالبان وفد نے روس کے ایلچی برائے افغانستان ضمیر کوبلو سے ملاقات کی اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی۔ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے روسی ٹی وی کو بتایا کہ طالبان اور امریکا کے مذاکرات مکمل ہو چکے تھے۔ ان کے بقول وہ معاہدے کے لیے دستخطوں کی تقریب کی تیاری کر رہے تھے جب اچانک صدر ٹرمپ نے حیران کن طور پر مذاکرات کو مردہ قرار دے دیا۔ طالبان مذاکرات کار محمد عباس نے پہلی مرتبہ معاہدے سے متعلق بعض تفصیلات بھی بتا دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت افغانستان میں مکمل فائر بندی پر اتفاق ہو گیا تھا جب کہ امریکی فوج کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے اور 23 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات شروع کرنے پر بھی معاملات طے پا گئے تھے۔
محمد عباس ستنکزئی کا کہنا تھا کہ وہ امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات کے علاوہ ممکن نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ اگر امریکا مذاکرات کے ذریعے امن نہیں چاہتا تو طالبان بھی مزید سو سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے تعطل کے بعد افغان طالبان نے ماسکو کا رخ کیا ہے، انھیں افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر راستہ اختیار کرنے کا حق ہے اور وہ کریں گے۔ بہتر ہے کہ افغانستان میں دیرپا قیام امن کے لیے امریکا طاقت کی پالیسی ترک کر کے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرے تاکہ افغان عوام سکھ کا سانس لیں اور یہ خطہ دوبارہ امن کا گہوارہ بن سکے۔
افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، آج بھی پاکستان فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کوشاں ہے۔ اکتوبر میں طالبان وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، اس دورے کے دوران یہ اطلاع بھی موصول ہوئی کہ طالبان وفد نے زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات کی ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا اور طالبان دونوں مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ بھی مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ امریکا 18 سالہ جنگی جنون کے بعد زمینی حقائق کی بنیاد پر جان چکا ہے کہ اس جنگی دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چشم کشا انکشافات کرتے ہوئے امریکی رہنماؤں کے افغان جنگ سے متعلق جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ افغان جنگ پر 950 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود جیت مقدر نہ بن سکی۔ دو دہائیوں پر محیط قانونی جنگ کے بعد امریکی اخبار کو افغان جنگ کی خفیہ دستاویزات موصول ہو گئیں، 18 سال سے امریکی رہنما افغان جنگ سے متعلق جھوٹ بولتے رہے، امریکی حکام جانتے ہوئے کہ افغانستان جنگ جیتی نہیں جا سکتی پھر بھی دل بہلانے والے اعلانات کرتے رہے۔ مشیر امریکی کمانڈر کے مطابق کابل اور پینٹا گون میں امریکی حکام حقائق اور اعداد و شمار کو تبدیل کرتے تاکہ عوام کو جیت کا تاثر جائے، تمام سروے ناقابل اعتماد تھے، سروے کا مقصد امریکا کی جیت کو دکھانا تھا۔
امریکی جنرل نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس افغانستان سے متعلق پوری جانکاری تھی ہی نہیں، افغان جنگ سے متعلق دھندلا خاکہ بھی ہمارے تصور میں نہیں تھا، امریکا غریب ملکوں کو امیر، یا ملکوں میں جمہوریت لانے کے لئے حملہ نہیں کرتا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک اہم امریکی سفارتکار نے بتایا کہ امریکا کے حملے کا مقصد پر تشدد ممالک کو امن پسند بنانا ہوتا ہے، افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس زیادہ موثر نہیں تھی، وہاں مضبوط وفاقی حکومت کے قیام کی امریکی پالیسی بیوقوفانہ تھی۔ افسر سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق افغانستان میں مضبوط وفاقی حکومت بنانے میں سو سال لگیں گے
افسوس کے ساتھ ایسا لگتا ہے جیسے افغانستان میں ہمارا مقصد کرپشن کا بڑے پیمانے پر فروغ تھا، وہاں پر مضبوط فوج کے قیام کے لئے امریکی فنڈ افغان کمانڈرز نے جیبوں میں ڈالا جو دسیوں ہزار گھوسٹ سولجرز کی نذر ہو گیا۔ امریکی فوجی تخمینے کے مطابق ایک تہائی بھرتی ہونے والے افغانی پولیس اہلکار نشے میں مبتلا یا طالبان سے تعلق رکھتے تھے، 2001 سے اب تک 7 لاکھ 75 ہزار امریکی فوجی افغانستان تعینات ہوئے، اکثر فوجی ایک سے زائد بار تعینات ہوئے، افغانستان میں 2300 امریکی فوجی ہلاک 20 ہزار 589 زخمی ہوئے، دوہزار ایک سے اب تک امریکا افغان جنگ پر ساڑھے نو سو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔