کورونا وائرس کیا ہے؟ اس سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کیا ہیں ؟

کورونا وائرس کیا ہے؟
کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔ سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔ یہ نیا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔  اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔ ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔ چینی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس مچھلی منڈی میں ہونی والی سمندری جانداروں کی غیرقانونی خرید و فروخت کے دوران انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

احتیاطی تدابیر
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے صدر گیبرئیل لیونگ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔

اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں اور اپنے ناک یا چہرے کو مت رگڑیں
احتیاط کریں اور باہر جاتے ہوئے ماسک پہن کر رکھیں
پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں
اگر آپ نے چین کے شہر ووہان کا سفر کیا ہے تو اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں
اپنے ڈاکٹر سے ہرگز یہ بات مت چھپائیں کہ آپ نے ووہان کا سفر کیا ہے

بشکریہ بی بی سی اردو

تمباکو نوشی دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا سبب

سالہا سال سے ذرائع ابلاغ سمیت تمام دستیاب وسائل تمباکو نوشی کے جان لیوا اثرات کی آگہی کے لئے استعمال کرنے کے باوجود اِس خطرناک نشے کی عادتِ بد جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں حالانکہ قوم اِس کے بھیانک نتائج قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ سمیت مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ایڈز، ملیریا، ٹی بی اور دہشت گردی سے زیادہ اموات تمباکو نوشی سے ہو رہی ہیں۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے ایک بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ہر سال ایڈز کی وجہ سے 55، ملیریا سے 5 اور ٹی بی کے باعث 30 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے سالانہ ایک لاکھ 63 ہزار لوگ مر رہے ہیں۔

دہشت گردی کے عفریت نے بھی اب تک 70 ہزار جانیں لی ہیں جو تمباکو نوشی سے مرنے والوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی چھ اہم وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام خصوصاً نئی نسل میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو کم کرنے کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تمباکو نوشی کی روک تھام کے متعلق عالمی معاہدے پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ اس معاہدے کے تحت دکانوں پر تمباکو کی مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی، سگریٹوں پر ہیلتھ لیویز کا نفاذ اور سگریٹ پیک پر ہیلتھ وارننگ اور تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت، اطبا، والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس مہلک عادت سے لوگوں کی جان چھڑائی جا سکے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

چین میں پھیلنے والا خطرناک اور جان لیوا وائرس کیا ہے؟

چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق کورونا وائرس کے خاندان سے ہے۔ یہ وائرس کھانسنے، چھینکنے یا کسی کو چُھونے سے بھی لگ جاتا ہے۔ چین سمیت تمام دنیا کے سائنسدان اس خطرناک وائرس کے تدارک کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس وائرس سے سینکڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ خطرناک وائرس چین وسطی شہر وُوہان سے پھیلا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس وائرس سے تھائی لینڈ اور جاپان کے شہریوں کے متاثر ہونے کی خبریں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ بیماری گزشتہ سال دسمبر کے آخری دنوں میں پھیلی تھی۔ یاد رہے کہ 2002ء میں بھی چین میں ایک بیماری پھیلی تھی جسے سارس وائرس کا نام دیا گیا تھا۔ اس وائرس کی وجہ سے تقریباً آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں سے تقریبا آٹھ سو مریضوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اسی طرح 2012ء میں چین کو سانس لینے والی بیماری کے سینڈروم میرس‘ کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔