کورونا وائرس نے عالمی تجارت کو بھی شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹیں گراوٹ کا شکار ہیں، خام تیل کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور فضائی سفر نہ ہونے کی وجہ سے ایئرلائنز، سیاحت، ہوٹل انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ تجارتی نمائشیں بھی کورونا وائرس کی لپیٹ میں آگئی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم تجارتی نمائشوں کے ساتھ پاکستان میں مقامی سطح پر ہونے والی نمائشیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق 7 سے 8 ملکی و غیر ملکی ایونٹ آرگنائزرز نے مارچ میں ہونے والی 3 نمائشیں منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ نمائشیں کورونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کی جارہی ہیں۔ تجارتی نمائشیں انڈسٹری کا درجہ رکھتی ہیں جس کا حجم ڈھائی ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ کورونا وائرس سے نمائشوں کی بین الاقوامی صنعت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین سے کورونا وائرس کا نکلنا تو ابھی ایک شروعات ہے، یہ وائرس دنیا کے ہر ملک میں پہنچ جائے گا۔ چینی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اپریل تک اس وائرس سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیسز کے رپورٹ ہونے میں بھی کمی آئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ وبا چین میں تو اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے لیکن یہ پوری دنیا کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ادارے گلوبل آؤٹ بریک الرٹ ریسپانس نیٹ ورک کے سربراہ ڈیل فشر کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دوسری جگہوں تک پہنچ رہا ہے، یہ تو بس ابھی شروعات ہے۔
کورونا وائرس آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کر سکتا ہے، سائنسدانوں کی وارننگ
انہوں نے مزید کہا کہ سنگاپور میں بھی یہ وبا پھیلنے کے دہانے پر ہے، یہ وائرس پھیلتا ہوا دنیا کے ہر ملک جائے گا، اور ہر ملک میں ایک نہ ایک کیس ضرور سامنے آئے گا۔ واضح رہے کہ نزلہ زکام جیسے اس وائرس کی وجہ سے چین میں ہی ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 46 ہزار افراد متاثر ہیں۔ چین سے اپنے ممالک جانے والے افراد اپنے ساتھ اس وائرس کو لے گئے ہیں، جن میں امریکا، جاپان، آسٹریلیا، بھارت سمیت 27 سے زائد ممالک میں پہنچ چکا ہے۔
چین کے بعد جس ملک میں سب سے زیادہ اس وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں ان میں سنگاپور بھی شامل ہے جہاں اب تک 50 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ وائرس سنگاپور میں اتنی تیزی سے کیسے سامنے آرہا ہے جس پر ڈیل فیشر نے جواب دیا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ تعداد میں ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں۔ دنیا کو سب سے پہلے کورونا سے خبردار کرنے والا ڈاکٹر خود وائرس سے ہلاک ہو گیا واضح رہے کہ ڈیل فیشر کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز نے خبر دار کیا تھا کہ یہ وائرس دنیا کی 60 فیصد آبادی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس کو دنیا میں دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم نے خبر دار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے دوا بنانے میں 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔
ایک روز قبل ہی اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ اس مہلک وائرس کو باقاعدہ طور پر ایک نام دے دیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم نے جینیوا میں میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ پراسرار کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ہزار سے تجاوز کرنے کے بعد اس سے ہونے والے مرض کو کووِڈ-19 کا نام دیا گیا ہے۔
ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے دنیا کو خبر دار کیا ہے کہ چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کو اگر کنٹرول نہیں کیا گیا تو اس کی وجہ سے آدھی دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 60 فیصد آبادی کورونا جیسے مہلک مرض کا شکار ہو سکتی ہے۔ ہانگ کانگ کے پروفیسر گیبریئل لیونگ نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وائرس کی وجہ سے چاہے شرح اموات ایک فیصد ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں انسان زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے اس وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں 43 ہزار افراد متاثر ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہانگ کانگ کے پروفیسر کہتے ہیں کہ اگر اس وائرس کی تشخیص دیر میں بھی ہو تب بھی اس کی وجہ سے شرح اموات صرف ایک فیصد ہی ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ دنیا کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے دنیا کی 60 فیصد آبادی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے ایک لہر میں آگے بڑھنے کے امکانات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ وائرس اپنا اثر بھی ختم کر رہا ہے کیونکہ یہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتا، یہ وائرس اپنے راستے میں آنے والوں کو قتل کر رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ہی قتل ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس نے سارس وائرس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سال 2003 میں سامنے آنے والے اس سارس وائرس کی وجہ سے چین میں 774 افراد ہلاک اور 8 ہزار 100 بیمار ہوئے تھے، یہ صورت حال 8 ماہ کے دوران 26 ملکوں میں پیش آئی تھی جبکہ 45 فیصد اموات چین میں ہوئی تھیں۔
چینی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی ممکنہ وبا کے بارے میں خبردار کرنے والے چینی ڈاکٹر، ڈاکٹر لی وینلیانگ، اسی وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سب سے پہلے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں تنبیہ بھی دی تھی۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ اس بیماری کے بارے میں خبردار کرنے والے ان آٹھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے دسمبر کے اخر میں دوسرے ڈاکٹروں کو سارس کی طرح کی بیماری کے بارے میں پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی سے منسلک انگریزی زبان کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ووہان سنٹرل ہسپتال میں داخل ڈاکٹر لی کے دل نے ’دھڑکنا بند کر دیا‘ جس کے بعد ان کی حالت نازک ہو گئی تھی۔
ہسپتال نے ویبو (چین میں استعمال کی جانے والی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ) کے اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر لی ایمرجنسی علاج کے بعد (چینی وقت کے مطابق) دو بج کر اٹھاون منٹ پر انتقال کر گئے۔ اس سے پہلے اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ وہ ڈاکٹر لی کو ایمکو (سانس کے مصنوعی نظام) پر رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کی حالت میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دسمبر میں پولیس نے ڈاکٹر لی پر افواہیں پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور حکومت کے پبلک سیفٹی بیورو نے انہیں طلب کیا تھا جہاں انہیں خبردار کیا گیا تھا انہیں ایسے بیانات نہٰیں دینے چاہییں جن سے ’معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہو۔
ڈاکٹر لی کو دیے گئے خط میں کہا گیا: ’ہم آپ کو باضابطہ طور پر خبردار کرتے ہیں: اگر آپ ایسی بےتکی ضد پر قائم رہے اور اس غیرقانونی سرگرمی کو جاری رکھا تو آپ کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا آپ بات سمجھ گئے؟‘ چین کی سپریم کورٹ نے بعد میں ووہان میں کریک ڈاؤن پر پولیس پر تنقید کی اور تسلیم کیا کہ کرونا وائرس کے بارے میں اطلاع مکمل طور پر غلط نہیں تھی۔ کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لی میں بھی وائرس کی موجودگی کی تشخیص 30 جنوری کو ہوئی۔ وائرس کے نتیجے میں اب تک سات سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی حالات کے پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک رائین نے ڈاکٹر لی موت کی خبر کے بعد جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ہمیں اگلی صفوں میں کام کرنے والے ایک ایسے کارکن کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے جنہوں نے مریضوں کی دیکھ بھال کی کوشش کی۔ ہم خود اگلی صفوں میں کام کرنے والے اپنے دوستوں کو کھو چکے ہیں اس لیے ہمیں ڈاکٹر لی کے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر ان کی زندگی پر خوش اور موت پر غم زدہ ہونا چاہیے۔‘ برطانیہ میں کرونا وائرس کا تیسرا کیس رپورٹ کیا گیا اگرچہ حکومتی چیف میڈیکل افسر کرس ویٹی نے کہا کہ مریض کو بیماری برطانیہ میں نہیں لگی۔
ایسا چین کے لندن میں سفیر کے برطانیہ پر الزام کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ کرونا وائرس کی وبا پر ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے چین میں موجود اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ برطانیہ میں چینی سفیر لیو شیاؤمنگ نے کہا: ’ہم نے انہیں زور دے کر کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مددگار نہیں ہو گا۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ ایک معقول ردعمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مشورہ کریں۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’برطانیہ سمیت تمام ملکوں کو سمجھنا چاہیے اور چین کی مدد کرنی چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل اور خوف پھیلانے سے گریز کیا جائے اور ملکوں کے درمیان معمول کا تعاون اور تبادلے یقینی بنائے جائیں۔