جمہوریت کی پسپائی؟

امریکی ادیب ، مورخ اور فلسفی ول ڈیورانٹ اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’ نشاط فلسفہ ‘‘ کے باب ’’ کیا جمہوریت ناکام ہو گئی ہے؟‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ اس ملک میں جہاں حکمران اقلیت عوامی حمایت ( یعنی جمہوریت ) کا لبادہ اوڑھتی ہے ، وہاں ایک خاص طبقہ ایسا پیدا ہوتا ہے، جس کا کام حکومت کرنا نہیں بلکہ اس منصوبے کیلئے لوگوں کی منظوری حاصل کرنا ہوتا ہے، جو حکمران اقلیت کو پسند ہو۔ ہم اس خاص طبقہ کو سیاست دان کہتے ہیں۔ سیاستدان جماعتوں میں بٹ جاتے ہیں اور لوگوں کو ایسے گروہوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، جو ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں ۔‘‘ ہمارے ملک میں سیاست دان جو کچھ کرتے ہیں یا اس وقت جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ول ڈیورانٹ کی سیاست دان کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پتلی تماشا ہو رہا ہے۔ سیاست دان اس منصوبے کیلئے لوگوں کی منظوری حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جو حکمران اقلیت کو پسند ہو گا۔ ہمارے سیاست دان خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس ملک کی حقیقی حکمران اقلیت اسٹیبلشمنٹ ہے، جو زیادہ تر فوج پر مشتمل ہے ۔

عمران خان سمیت سارے سیاسی قائدین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں کبھی مکمل اقتدار نہیں ملا اور ان کی حکومتیں بے اختیار رہیں۔ عمران خان سے پہلے تمام سیاست دان کہتے تھے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب ) نامی ادارہ آزاد نہیں ہے اور احتساب کے نام پر اسے سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو عمران خان بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سارے سیاست دان یہ بھی مانتے ہیں کہ عام انتخابات کبھی شفاف نہیں ہوتے اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتی اور نہ ہی اقتدار میں آسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سارا تماشا کیوں ہو رہا ہے اور سیاسی پولرائزیشن کو مزید گہرا کر کے لوگوں کو کیوں ایک دوسرے کا دشمن بنایا جا رہا ہے اور پاکستانی معاشرے کو خوف ناک تقسیم در تقسیم کا شکار کیوں کیا جا رہا ہے۔ ویسے تو ہماری ملکی تاریخ میں یہ کم ہی ہوا ہو گا کہ سیاست دان اپنے حقیقی ایجنڈے پر چلے ہوں یا اس پر قائم رہ سکے ہوں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔

عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ’’ آئینی طریقے ‘‘ سے ہٹانے کے اقدام سے لے کر پنجاب حکومت کو تحلیل کرنے یا نہ کرنے کی کشمکش تک کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیا تھی ؟ بس چھوٹی سیاسی جماعتوں کی طرف سے محض سیاسی کیمپ کی تبدیلی تھی۔ یہی چھوٹی جماعتیں پہلے تحریک انصاف کی اتحادی تھیں، جو بعد میں پی ڈی ایم کی اتحادی بن گئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت بھی حکمران اقلیت کے منصوبے کا حصہ تھی اور اس حکومت کا خاتمہ بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ پی ڈی ایم کو جب محسوس ہوا کہ یہ منصوبہ اس کے مفادات سے میل کھاتا ہے تو اس نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سرگرمی دکھائی اور اب تحریک انصاف اس کوشش میں ہے کہ حقیقی حکمران اسٹیبلشمنٹ اسے اپنے اگلے منصوبے کا حصہ بنائے۔ دونوں فریقوں کی عوامی سرگرمیاں اور سیاسی تضادات ان منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔

جب عمران خان نے دو ماہ قبل 26 نومبر کو اپنے لانگ مارچ کے اختتام پر جلسہ عام میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کے لوگ موجودہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں گے اور اس سسٹم کا حصہ نہیں رہیں گے تو اس وقت اس اعلان کیلئے ان کا ہوم ورک نہیں تھا۔ نہ صرف ان کے اتحادی بلکہ ان کے اپنے ارکان اسمبلی بھی اس صورتحال کیلئے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی چال اب انکی اپنی نہیں رہی۔ اب حکمران اقلیت کیلئے موقع ہے کہ وہ سیاسی تیاری کے بغیر چلی جانیوالی اس چال کو اپنے کسی منصوبے کا حصہ بنا لے۔ عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ انکے زیادہ تر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ انکے اپنے نہیں ہیں بلکہ انکے پاس بھیجے گئے تھے۔ وہ اپنے استعفوں کے حوالے سے اتنے بڑے فیصلے پر عمران خان کی ڈکٹیشن کیوں لینگے ۔ وہ تو مستقبل میں اپنی سیاسی ایڈجسٹمنٹ دیکھیں گے ۔ یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اب سارا کھیل بظاہر چوہدری پرویز الہٰی کے ہاتھ میں کیوں چلا گیا ہے، جن کی پنجاب اسمبلی میں صرف دس نشستیں ہیں۔

انہوں نے ایک طرف عمران خان کو لکھ کر دیدیا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں گے جبکہ عدالت کو لکھ کر دیدیا کہ وہ پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کرینگے۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو بچانے کیلئے جو کوششیں ہو رہی ہیں، وہ بظاہر ان کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہیں لیکن اس ایجنڈے کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار صرف ان کی اپنی کوششوں پر نہیں ہے۔ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اور عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کو عبوری ریلیف دیدیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے معاملات یا تنازعات عدالتوں میں گئے، جو پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں طے ہو سکتے تھے لیکن سیاست دانوں نے ان فورمز پر ان معاملات اور تنازعات کو حل نہیں کیا اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالا۔

اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ تمام سیاست دان اس ناقابل فخر حقیقت سے آگاہ ہیں کہ عدالتوں میں کس طرح فیصلے ہوتے ہیں۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اسکے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا ۔ منصوبے کا بلیو پرنٹ حقیقی حکمرانوں کے پاس ہو گا ۔ سیاستدان کرپشن کے کیسز، آڈیوز اور وڈیوز لیکس میں اپنی ساکھ خراب کرتے رہیں گے اور اپنے ایجنڈے پر نہیں آسکیں گے ۔ سیاسی قوتیں اور سیاست بدنام ( Discredit ) ہو رہی ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب مفاہمت میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہماری قوم کے جمہوری ریکارڈ کا مطالعہ آگے بڑھتے ہوئے قدموں اور پیچھے کو دھکیل دینے والے واقعات کی ایک اداس کن داستان ہے ‘‘ ۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ واقعات جمہوریت کو پیش قدمی کی بجائے پسپائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ سیاست دان مذاکرات کریں اور انتخابات کب کرانا ہیں، اس کا فیصلہ خود کریں۔

نفیس صدیقی

بشکریہ روزنامہ جنگ

بی جے پی کو جو چاہیے تھا اسے مل گیا ؟

امریکی صحافی مائیکل کنرلی کا کہنا ہے کہ جب کسی سیاست دان کے منہ سے سچ نکل جائے تو اسے زبان کی لغزش کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہمنا سے یہ ہی حرکت سر زد ہو گئی۔ بی ایس یدیورپا نے کہا کہ پاکستان پر انڈیا کے فضائی حملے سے ان کی جماعت آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔ کرناٹک کی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا کی یہ بات حیران کن طور پر صاف گوئی پر مبنی تھی۔ لیکن ان کا یہ بیان فوراً ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اُچک لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نریندر مودی کی جماعت کی طرف سے کھلا اعتراف ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل وہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اپنے ہمسایہ ملک سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ نریندر مودی مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے۔

یدیورپا کی صاف گوئی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر وی کے سنگھ کو اس بارے میں ایک بیان دینا پڑا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا نہ کہ انتخابات میں چند نشستیں جیتنے کے لیے۔ کوئی سیاسی جماعت یہ اعتراف کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اس وقت بھی نریندر مودی بہت اطمینان سے اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ انڈین فضائیہ کے بالاکوٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اب بے بسی کا شکار نہیں ہو گا۔

اگلے روز پاکستان نے جوابی حملہ کیا اور انڈین فضائیہ کے ایک مگ 21 طیارے کو اپنے علاقے میں گرا لیا جس کا پائلٹ بھی پاکستان فوج کے ہاتھ چڑھ گیا۔ دو دن بعد پاکستان نے اس پائلٹ کو رہا کر دیا۔ نریندر مودی نے سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا فضائی حملہ ایک ‘پائلٹ پراجیکٹ’ تھا ابھی اس طرح کے حملے اور ہوں گے۔ ایک اور موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ان کی جماعت کے سربراہ امت شاہ نے پاکستان پر فضائی حملے میں 250 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ انڈیا کے اعلیٰ دفاعیٰ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کے اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں مودی کے فاتحانہ پوسٹر لگائے گئے جن میں انھیں فوجیوں کے درمیان ایک جدید ترین گن اٹھائے ہوئے دکھایا گیا اور پس منظر میں لڑاکا طیاروں اور زمین سے اٹھتے ہوئے شعلے دکھائے گئے۔

انڈیا کی مشہور ٹی وی اینکر برکھا دت نے اس پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ فوجیوں کی تصویریں انتخابی پوسٹر اور سٹیج پر لگی دیکھ کر وہ یقینی طور پر پریشان ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وردی کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے سے وردی کی حرمت پر حرف آتا ہے۔ مودی نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدوں پر کشیدگی کو سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اس بات پر جھنجھلاٹ کا شکار ہیں کہ مودی نے اپنے ہی الفاظ کی پاسداری نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔

ادنیٰ سیاسی مفاد
کیا حالیہ بحران سے مودی کو زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟ دوسرے لفظوں میں کیا قومی سلامتی انتخابی مہم میں ایک مرکزی نکتہ بن سکتی ہے؟ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اپنی انتخابی مہم قومی سلامتی کے مسئلہ پر ہی چلائیں گے۔ گزشتہ ماہ پلوامہ پر دہشت گردی کے حملے میں چالیس فوجیوں کی ہلاکتوں کے واقع سے قبل مودی سیاسی طور پر کمزور نظر آ رہے تھے۔ ان کی جماعت نے پانچ ریاستی انتخابات میں سے تین میں شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں کسانوں کی حالت اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری جیسے اہم مسائل سے حکومت نمٹنے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔

اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کے جیتنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ کیونکہ اب وہ ملک کی سرحدوں کے طاقتور محافظ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔ انتخابی اعداد و شمار کے ماہر اور سیاست دان یوگندر یادیو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اور قومی سلامتی کو انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا مودی اس میں کامیاب ہوں گے کہ نہیں۔ قومی سلامتی کے مسئلہ پرانتخاب لڑنے والی حکمران جماعت کیا کامیابی حاصل کر پائے گی اس کے بارے میں ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔

امریکی کی براؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر آشوتوش واراناسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں عام انتخابات سے اتنے قریب قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ چین سے سنہ 1962 میں اور 1971 میں جنگ عام انتخابات کے بعد ہوئی تھیں۔ سنہ 1965 میں جب پاکستان سے جنگ ہوئی تو عام انتخابات دو سال بعد ہونا تھے۔ انڈین پارلیمنٹ پر سنہ 2001 میں حملے کا واقعہ جس کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے عام انتخابات سے دو سال بعد ہوا تھا۔ ممبئ پر سنہ 2008 میں دہشت گردی کے جو حملے ہوئے تھے اس وقت عام انتخابات پانچ ماہ بعد ہونا تھے اور کانگریس نے قومی سلامتی کو اپنے انتخابی مہم کا حصہ بنائے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

پروفیسر واراناسی نے کہا کہ ایک انتہائی منقسم ملک میں قومی سلامتی سے متعلق یہ واقعہ عام انتخابات سے صرف چند ہفتوں قبل پیش آیا ہے۔ شہروں میں متوسط طبقے میں اضافے کا مطلب ہے کہ قومی سلامتی کا مسئلہ بہت بڑی آبادی کے لیے بہت اہم ہے۔ پروفیسر وارانسی کے مطابق سب سے بڑھ کر یہ بات اہم کہ دلی میں کسی کی حکومت قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت ہمیشہ سے ہی کانگریس کے مقابلے میں قومی سلامتی کے معاملات میں سخت گیر موقف کی حامل رہی ہے۔ علاقائی جماعتوں کے لیے ماسوائے چند ایک کے قومی سلامتی کا معاملہ اتنا بڑا انتخابی مسئلہ نہیں بنتا کیونکہ یہ علاقی شناخت اور ذات پات کی بنیادوں پر سیاست کرتی ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر بھانو جوشی کے خیال میں مودی کی سخت گیر اور جارحانہ خارجہ پالیسی اور ان کے بیرون ملکوں دوروں میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ان کے ووٹروں کے لیے دل جیتنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کے شمالی حصوں میں کام کے دوران انھیں لگا کہ لوگ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے اثر و رسوخ میں اضافے کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بالاکوٹ پر فضائی حملے اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائی جانے والی دشمنی کے پس منظر میں یہ تاثر مزید تقویت پڑے گا۔

سوتک بسواس
بشکریہ بی بی سی ہندی

کیا بھارتی جمہوریت خطرے میں ہے؟

انڈیا میں بین الاقوامی امور کے ماہرین کے سالانہ اجلاس انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں مشہور دانشور پرتاپ بھانو مہتا نے آنے والے عام انتخابات کو بے حد اہم بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متعدد ماہرین کا خیال ہے انڈین جمہوریت کا وجود ان انتخابات کا مرکز ہو گا۔ انڈیا میں گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے بارے میں پرتاپ بھانو مہتا نے کہا کہ اصلیت یہ نہیں ہے کہ انڈیا کی جمہوریت خطرے میں ہے بلکہ یہ کہ موجودہ حالات میں بہتری کی امید بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر 2019 کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت میں توازن نہیں ہو گا تو انڈین جمہوریت خطرے میں آ جائے گی۔

پرتاپ بھانو مہتا نے کہا میں حکومت کے پانچ برس کے کام کاج کے بارے میں رپورٹ کارڈ کی طرح بات نہیں کروں گا۔ میں ان موضوعات کے بارے میں بات کروں گا جن کے بارے میں ہم گزشتہ پانچ برسوں میں بات نہیں کر پائے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ انڈین جمہوریت نہ صرف خطرے میں ہے بلکہ 2019 کے انتخابات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے اور امید بہت کم ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جمہوریت بچے گی یا نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں جو ماحول بنا ہے اس سے گزشتہ 10-15 برسوں میں جو امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔‘ایسا اس لیے ہے کیونکہ مجھے لگ رہا ہے کہ ہماری جمہوریت کے ساتھ کچھ ایسا ہو رہا ہے جو جمہوریت کی روح کو ختم کر رہا ہے۔ ہم غصے سے جلتے دلوں، چھوٹی ذہنیت اور چھوٹی روح والے ملک کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

پرتاپ بھانو مہتا نے کہا کہ جمہوریت آزادی اور جشن کا نام ہے جہاں یہ معلوم کرنا اہم ہوتا ہے کہ لوگ کہاں جا رہے ہیں اور نہ ہی یہ کہ وہ ماضی میں کہاں سے آئے ہیں۔ قوم پرستی یا اپنی قوم کے مفادات کا والہانہ جذبہ اب ثابت کرنے کی چیز ہو گئی ہے۔ قوم پرستی کا استعمال لوگوں کو بانٹنے میں کیا جا رہا ہے ۔ آپ جتنی چاہیں قوم پرستی کی باتیں کر لیں لیکن یہ معاملہ اب آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ہر سماج میں پراپیگنڈا ہوتا ہے۔ ہر حکومت اپنے حساب سے سچائی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہے۔ ہر حکومت اپنے فائدے کے لیے ماحول بنانا چاہتی ہے۔

لیکن کیا آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں معلومات پیدا کرنے کا مقصد صداقت نہیں ہے ؟ آپ سوچئے نہیں، سوال نہ پوچھئے ورنہ آپ ملک مخالف ہو جائیں گے۔ پبلک ڈسکورس کا ڈھانچہ ہی ایسا بنایا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا سب سے اہم عنصر آزادی ہے۔ ہمیں یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ غریب افراد کی مدد کرنے والے لوگ جیل میں ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ انڈیا کی کوئی بھی حکومت، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی رہی ہو، شہری آزادیوں کی بات نہیں کرتی۔ شہریوں کی آزادی کے تحفظ کے موضوع پر حکومت حزب اختلاف کی پارٹیوں کو بھی ساتھ لے کر نہیں چلنا چاہتی۔ جمہوریت کے بارے میں بات کرنا اب خطرناک ہو گیا ہے۔ ملک گیا، صداقت گئی، آزادی گئی۔

دانشور پرتاپ بھانو مہتا نے مزید کہا جدید بھارت میں مذہب کے آئیڈیا میں تیزی سے بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ اس کے تین زاویے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اقتدار کی طاقت کے لیے مذہب کا استعمال ہو رہا ہے ۔ مذہبی رہنما اقتدار کے سامنے جھک رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بڑی بڑی باتیں کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ جیسے یہ کہ ہم اپنے خدا کی حفاظت کریں گے، بجائے اس کے کہ خدا ہماری حفاظت کرے گا۔ اور تیسری اور اہم بات یہ کہ سبھی مذاہب کو ایک ہی حکومتی ڈھانچے میں آنا ہو گا۔ مذہبوں کو ایسی ایک جیسی شکل دے دی جائے کہ وہ ایک مشترکہ طاقت میں تبدیل ہو جائے۔ اصل میں مذہب ہمیں عدم مشابہت کی جانب لے جاتا ہے لیکن اب مذہب کو آپ کی شناخت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

جس کی وجہ سے کسی بھی شخص پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ کچھ معاملوں میں سماج ہمیشہ ہی بدتہذیب رہا ہے۔ لیکن تہذیب کے بارے میں اقدار طاقتور لوگ طے کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ ان کا ایک واحد کام ہے۔ ان کا کام یہ طے کرنا ہے کہ کب کیا کہا جانا صحیح ہو گا اور کیا غلط۔ لیکن جب وہی لوگ آپ کو دھمکانے کا کام کریں اور لوگوں کو ملک مخالف قرار دیں تو کیا بچے گا ؟ تہذیب بھی گئی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ان تمام باتوں نے جمہوریت کو زخمی کر دیا ہے۔ ہر اس یقین کو توڑا گیا ہے جو انڈیا کی جمہوریت اپنے شہریوں کو ایک دوسرے کے لیے دیتی ہے ۔ اگر پانچ برسوں میں بننے والی یہ ثقافت جاری رہی تو آپ اپنی آزادی، صداقت، اپنے مذہب اور یہاں تک کہ اپنے ملک کو واپس نہیں لوٹا پائیں گے ۔ یہی 2019 کے عام انتخابات کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔

بشکریہ دنیا نیوز

Indian Democracy

Indian Democracy

Enhanced by Zemanta