بھارتی جمہوریت اور کورونا وائرس

 معروف ویب سائٹ اسکرول پر ارون دھتی رائے کا ایک مضمون شائع ہوا۔ جب رائے جیسے لکھاری لکھ رہے ہوں تو مجھ جیسوں کو ان کے سامنے با ادب بیٹھ کر صرف دھیان سے سننا چاہیے۔ پیشِ خدمت ہے اس مضمون کی تلخیص۔ ابھی چند ہی دن پہلے حکمران جماعت کی اشتعال انگیز تقریروں سے مسلح فاشسٹ ہجوم شمالی مشرقی دہلی کی مسلمان اکثریتی بستیوں پر اس اطمینان کے ساتھ چڑھ دوڑا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہے گی، عدالتوں کی بصارت مقفل رہے گی اور الیکٹرونک میڈیا اس بربریت کو مسلسل جواز کی غذا فراہم کرتا رہے گا۔ پچھلے کئی ہفتے سے سب کو توقع تھی کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ مگر اتنا منظم برا کہ املاک، کاروبار ، گاڑیاں جلا دی جائیں اور لوگ گولیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے مار ڈالے جائیں، گلیاں پتھروں سے اور اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھر جائیں۔

مسلمان تو خیر تھے ہی زد میں مگر ان بلوائیوں کی زد میں عام ہندو بھی تھے اور دو سرکاری اہلکار بھی مار ڈالے گئے۔ ایک جانب اگر وحشت و بربریت کا ننگا ناچ تھا تو دوسری طرف ایک دوسرے کو مذہبی تفریق سے بالا ہو کر بچانے اور پناہ دینے والے بھی تھے۔ یعنی انسان کے دونوں چہرے ایک بار پھر ہم سب کو دکھائی دیے۔ مگر یہ حقیقت تو اب لکھی جا چکی کہ بستیوں پر ٹوٹ پڑنے والے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہجوم ریاست کی مکمل حمایت کے بھروسے پر دندنا رہے تھے۔ یہ کوئی روایتی ہندو مسلم فساد نہیں بلکہ ایک ننگی فسطائی حکومت کا فسطائیت مخالف شہریوں پر کھلا حملہ تھا۔ اور نشانے پر آنے والے مسلمان آخری نہیں بلکہ پہلا گروہ ہے۔ یہ کوئی دائیں بمقابلہ بائیں یا غلط بمقابلہ درست کی لڑائی نہیں بلکہ ایک خاص نظریے کا باقی سب نظریات پر کھلا حملہ ہے۔

بھلا کس نے اب تک وہ سوشل میڈیا پر وہ وڈیوز نہیں دیکھی ہوں گی جن میں پولیس صرف تماشائی نہیں بلکہ فسادیوں کا کھل کر ہاتھ بٹا رہی ہے۔ پولیس آتش زنوں اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ پولیس سرکاری سی سی ٹی وی کیمرے توڑ رہی ہے اور ایک دوسرے پر گرے زخمی مسلمان نوجوانوں کو اسپتال پہنچانے کے بجائے ان سے ڈنڈے اور جوتے کی نوک پر وندے ماترم گنوا رہی ہے۔ ان میں سے ایک زخمی اگلے روز مر گیا۔ مگر حیرت کیوں؟ جب آج سے ٹھیک اٹھارہ برس پہلے ریاست گجرات میں جس وزیرِ اعلی کے ہوتے تباہی و بربادی کی بھیانک کہانیاں لکھی گئیں، وہی وزیرِ اعلی تو آج دلی میں وزیرِ اعظم ہے۔ اگرچہ شمال مشرقی دلی میں جو ہونا تھا ہو گیا کہ بعد بظاہر سکون ہے۔ مگر وہی بلوائی اب دہلی کے وسطی علاقے میں جے شری رام اور دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں۔

دلی بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کپل مشرا نے قتل و غارت سے کچھ دن پہلے انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگوائے تھے۔ اس کے بارے میں خود دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلی دھرن نے دلی پولیس کو مشرا سمیت اشتعال انگیزی پھیلانے والے تین چار رہنماؤں کا نام لے کر ایک دن کے اندر اندر گرفتاری کا حکم دیا۔ چند ہی گھنٹے میں آدھی رات سے ذرا پہلے جسٹس مرلی دھرن کا تبادلہ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ میں کر دیا گیا اور کپل مشرا پھر سے سڑک پر نعرے لگوانے کے لیے آ گیا ’’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘‘۔مگر اس میں حیرت کیوں۔ آخر کو کپل مشرا بھی اسی پارٹی کا ہے۔ جس پارٹی کے بابو بجرنگی نے دو ہزار دو میں گجرات میں پچانوے مسلمانوں کو ایک وڈیو میں خود مارنے کا اعتراف کیا۔

عدالت نے اسے لمبی سزا سنا دی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کے نتیجے میں چند ہی مہینوں میں بابو بجرنگی باہر آ گیا۔ اور باہر آتے ہی بابو بجرنگی کی ایک اور وڈیو بھی آ گئی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ججوں سے سیٹنگ کر کے نریندرا بھائی ( مودی ) نے مجھے رہائی دلوائی۔ بھارت میں انتخابات سے پہلے کئی بار قتلِ عام ہوا۔ مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ دلی کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کے صفائے کے ایک ہی ہفتے کے اندر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ یہ سیدھا سیدھا پیغام ہے کہ یا ہمیں ووٹ دو ورنہ بدلے میں موت لو۔ خبردار اگلا ریاستی الیکشن بہار میں ہونے والا ہے۔ میڈیا کی کرامات دیکھئے۔ سب کے پاس دلی الیکشن سے پہلے بی جے پی کے مقامی رہنماؤں سے لے کر وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور وزیرِ اعظم تک کی زہر آلود وڈیو تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے۔ مگر دیش کے لیے پھر بھی سب سے بڑا خطرہ دلی کے شاہین باغ میں پچاسی روز سے بیٹھی عورتیں اور بچے بتائے جا رہے ہیں جنھیں شہریت کا نیا قانون کسی صورت منظور نہیں۔

اب تو باقی دنیا بھی کہہ رہی ہے کہ شہریت کا ترمیمی قانون کروڑوں مسلمانوں کو رفتہ رفتہ بھارتی شہریت سے محروم کرنے کے منصوبے کی جانب پہلا بھر پور قدم ہے۔ کسی کی شہریت چھیننا سزائے موت سے کم نہیں۔ شہریت ہی وہ حق ہے جس سے دیگر تمام حقوق پھوٹتے ہیں۔ ورنہ انسان ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون سے صرف بھارتی مسلمان خطرے میں نہیں پڑیں گے بلکہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں بسنے والے لاکھوں غیرمسلموں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ اور ہمسائیوں کو یہ راہ کوئی اور نہیں بھارتی حکومت سجھا رہی ہے۔ یہ حقیقت جان بوجھ کر جھٹلائی اور بھلائی جا رہی ہے کہ سینتالیس میں آزادی کی لڑائی صرف ہندوؤں نے نہیں بلکہ سب ہندوستانیوں نے مل کر لڑی تھی۔

اگر کوئی اس لڑائی سے بالکل لاتعلق تھا تو وہ موجودہ حکمرانوں کی سیاسی والدہ آر ایس ایس تھی۔ اور آج یہی آر ایس ایس ہمیں بتا رہی ہے کہ حب الوطنی کیا ہوتی ہے۔ کون محبِ وطن ہے اور کون غدار۔ آئین کی کسی بھی شق سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر موجودہ حکومت تو آئین کے ساتھ وہ سلوک کر رہی ہے جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دراصل جمہوریت کو ہی مٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ہم شائد اب کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی جمہوریت کو فسطائیت کا کورونا وائرس چمٹ گیا ہے۔ کوئی جماعت یا گروہ اس وائرس سے جوج رہے بھارت کی مدد کرنے کو تیار نہیں، سب اپنے منہ پر حفاظتی ماسک لگا کر محفوظ فاصلے پر کھڑے شیشے کے پیچھے سے مریض کو دیکھ رہے ہیں۔ایسی بے چارگی اور تنہائی تو کبھی نہ تھی۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ٹرمپ کا دورہ بھارت اور جلتا دلّی

آئین نو کی یہ سطور تحریر ہو رہی ہیں تو پارلیمانی حجم کے زور پر بھارتی سیکولر آئین کو بلڈوز کر کے متصادم فلاسفی ’’ہندو توا‘‘ کی عملداری کے سخت متنازع حکومتی اقدامات کے ابتدائی نتائج نکلنے پر امریکی صدر ٹرمپ، بنیاد پرست وزیراعظم مودی کی میزبانی میں ہیں۔ حکمران جماعت کی بنیادی نیم مسلح تنظیم آر ایس ایس اور اس کی آلہ کار پولیس کے ایک بار پھر دہشت گردانہ اور پُرتشدد آپریشن سے کیپٹل دلّی جل رہا ہے۔ مقصد مہمانِ عظیم، جنہیں پہلے مودی کے ہم ٹائون میں لایا گیا، کی دہلی آمد سے قبل مذہبی منافرت پر مبنی شہریت کے نئے بل کے خلاف بلاامتیاز مذہب و سیاست، طویل دلّی دھرنا ختم کر کے دارالحکومت کے پُرامن اور معمول کے مطابق ہونے کی ضرورت پوری کی جائے جبکہ دلّی کے باشعور شہری، اسے مہمان صدر کی موجودگی میں جاری رکھنا چاہتے تھے تاکہ امریکی صدر کی موجودگی میں بھی ان کا متنازع بل کے خلاف احتجاجی دھرنا ریکارڈ ہو لیکن اسے اکھاڑنے کے لئے جس قدر تشدد کیا گیا اور جتنی اسے قائم رکھنے کے لئے احتجاجیوں نے مزاحمت کی اس نے پورے شمالی دلّی میں جیسے کوئی آگ لگا دی۔

آر ایس ایس اور اس کی آلہ کار پولیس نے مسلمانانِ دہلی کو سنگل آئوٹ کر کے ان پر شدید تشدد کیا، ان کی مارکیٹوں، انفرادی دکانوں کو نذر آتش کر دیا اور گھروں میں داخل ہو کر سخت تشدد اور گرفتاریاں کیں، جس سے مزاحمت اور آپریشن دونوں میں ہی شدت آئی۔ اس حد تک کہ آخری اطلاعات تک ایک پولیس افسر سمیت 7 شہری ہلاک ہو گئے۔ یہ تو صدر ٹرمپ کے کیپٹل پہنچنے سے پہلے کی صورتحال بنی، ادھر مقبوضہ کشمیر میں وادی کو محصور کرنے کے 205 روز مکمل ہو گئے اور وہاں بھی صدر ٹرمپ کی آمد سے کچھ روز قبل ہی کشمیری نوجوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کرفیو کی خلاف ورزی کر کے گھروں سے باہر نکل کر مظاہرے کئے جس میں شہادتوں، زخمی اور گرفتار ہونے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔ معاملہ یہاں تک بھی نہیں ہے، دہلی سے دور شمال مشرقی بھارت کی علیحدگی پسند ریاستوں کا احتجاج اور سیاسی سماجی رویہ، انٹرنیشنل میڈیا کے نظروں سے اوجھل ہونے کے باوجود یہ نہیں کہ مکمل غیر اطلاع شدہ ہے، بھاری نفری کی حامل مسلح افواج کے تسلط میں بھی ان ریاستوں میں جاری احتجاج اور اسے دبانے کے لئے ظلم و تشدد کی خبریں کچھ نہ کچھ سوشل میڈیا سے لیک ہو رہی ہیں۔

یہ تو بالکل واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت کی باہمی سفارتی رضا مندی سے جو تیاری کی گئی، اس میں گمان غالب ہے کہ بنیاد پرست وزیراعظم اور ان کے کور گروپ نے دورے کا آغاز کیپٹل دہلی سے کرانے کے بجائے اپنی شدید خواہش پر احمد آباد سے آغاز منوا لیا۔ غالباً واشنگٹن کی جانب سے اسی کو متوازن کرنے کے لئے، احمد آباد پہنچ کر، صدر ٹرمپ کے آنجہانی مہاتما گاندھی کے گھر کا وزٹ بھی شامل کیا۔ وگرنہ ہندوتوا کے رنگ میں بھارتی تشخص کی تشکیل نو میں تو گاندھی کو بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں بھارت کا بھی غدار قرار دیا جا چکا ہے اور درجنوں کی تعداد میں ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ آر ایس ایس کے مسلح کارکنوں نے شہروں کے چوک میں گاندھی کی تصویر اور پتلے کی علامتی توہین کی۔ گلے میں پھندے ڈالے اور گولیاں برسائی گئیں اور ان کے قاتل نتھو رام کو بھارتی تاریخ کا نیا ہیرو بنایا جا رہا ہے۔

بھارت میں مذہبی آزادی کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، بھارت کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے والے ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان اور اس کے خفیہ اداروں کو قرار دیا جا رہا ہے، وہ اتنا لغو ثابت ہو چکا ہے اور اتنا بھونڈا ہے کہ احمد آباد کے جلسہ عام میں صدر ٹرمپ کو پاکستان کے امن کے لئے اور دہشت گردی کے خلاف جاری حقیقی کردار کا اعتراف اور تعریف ببانگ دہل کرنی پڑی۔ وہ الگ ہے کہ انہیں اپنے آنے والے الیکشن میں بھارتی نژاد اور مودی نواز امریکی شہریوں کا لاکھوں کی تعداد میں ووٹ لینے کے لئے احمد آباد بھی جانا پڑا اور مودی کو مسلسل دوست بھی کہنا پڑ رہا ہے، لیکن ہر ایسے لمحے میں پاکستان کے لئے کلمہ خیز کہہ کر بھی انہیں اپنے متوازن ہونے کا تاثر جیسے کوئی لازمی دینا پڑ رہا ہے۔

اس سے کہیں بڑھ کر، وہ موقع بہ موقع مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اپنی ثالثی کی بھی پیشکش کر رہے ہیں، گویا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ جہاں تک بھارت کو بڑی منڈی سمجھ کر اس سے کھلی ڈیل کی بات ہے، وہ تو امریکہ اپنے سرمایہ دارانہ مزاج و تشخص کے مطابق بھارت کو اہمیت دے رہا ہے لیکن اتنی بھی نہیں جتنی مودی اور ان کی کور ٹیم، اندازے لگاتی اور قوم کو اسی پر بیوقوف بناتی رہی ہے اور بنا رہی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اب امریکہ اور بھارت کے ساتھ پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر ہڑپ کرنے اور پاکستان کو بنگلا دیش اور نیپال کی سطح پر دبائو میں رکھنے، بعض صورتحال میں اس کی سلامتی و بقا کے درپے ہو کر اسلحے کی دوڑ میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑنے کی جو خواہش دل تاریک میں بسائی ہوئی ہے۔ اس کے نتائج الٹ نکل رہے ہیں۔

امر واقعہ تو یہ ہی ہے کہ بھارت کی علاقائی بالادستی کی خواہش اور کشمیر کو ہمیشہ کے لئے بھارت میں شامل رکھنے کے لئے، اس نے اپنی 70 فیصد بدترین غربت کو نظرانداز کر کے اسلحے کے ڈھیر لگانے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی کا تو نتیجہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اس کے مقابل معیار میں بلند تر ہوتی گئی حتیٰ کہ وہ بھارت سے زیادہ بہتر دینے والی ایٹمی طاقت بن گیا۔ بھارت یہ ہرگز نہ بھولے اور امریکہ بھی اسے کاروباری یا فطری یا تذویراتی پارٹنر سمجھ کر بھی سمجھا سکتا ہے تو سمجھا لے کہ وہ اب مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر اور اپنی مسلم دشمن قانون سازی کو واپس لئے بغیر سکون سے رہے گا نہ پاکستان کو اپنے خبث باطن کے مطابق زیر کر سکے گا۔ یہ کوئی ہمارا عزم ہی نہیں، تاریخ میں یہ ہی کچھ ہوا ہے۔ ہم ایٹمی طاقت تو بنے ہی ہیں ہمارا ڈلیوری سسٹم اور اسلحہ سازی کی صلاحیت شدید اقتصادی بحرانوں میں مبتلا رہ کر بھی اس سے برتر ہی رہی اور ہے۔ تاہم بھارت کے لئے افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد اس کے لئے اپنے جائز تجارتی تعلقات بھی قائم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

جس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ لینڈ لاکٹ سنٹرل ایشین اسٹیٹس تک بھی رسائی حاصل نہ کر پائے گا اور اپنے اسلحے کے ڈھیروں کے ساتھ دنیا سے کٹ کر رہ جائے گا کہ اس کے لئے اسے آسان رسائی کبھی نہ ملے گی۔ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر رضامندی کے بغیر بھارت خود کو سنبھالنے میں ہی لگا رہے گا اور پاکستان بھارتی ہمسایوں سے بھی بالآخر معمول کے تعلق قائم رکھنے اور جنوبی ایشیا کو بھارت کے ناقابلِ قبول اثر سے محفوظ رکھنے کی پوزیشن میں ہو گا۔ نہ جانے بھارت کی آنے والی نسلوں میں کونسی پیڑی اتنی خوش قسمت ہو گی کہ وہ اس کھلے راز کو سمجھ کر خود کو اس کے مطابق، بھارتی تشخص کو بحال کر کے، دنیا کے ساتھ انسانیت کے مانے گئے اصولوں کے مطابق چلنے کا اہل بن سکے۔ باقی امریکہ جمہوریت سے زیادہ جس طرح سرمایہ داری اور کاری میں پھنس گیا ہے، اس کے عوام کو بھی غور کرنا ہے کہ ابراہم کا امریکہ کدھر جا رہا ہے؟

ڈاکٹر مجاہد منصوری

بشکریہ روزنامہ جنگ