Category Archives: Dawn Leaks
یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی ہے
میری طارق فاطمی صاحب سے صرف ایک ملاقات ہے‘ وزیراعظم میاں نواز شریف 18 جنوری 2016ء کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ریاض اور تہران کے دورے پر گئے‘ میں بھی اس وفد میں شامل تھا‘ روانگی سے قبل چک لالہ ائیر پورٹ کے لاؤنج میں طارق فاطمی صاحب سے ملاقات ہوئی‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘ طارق فاطمی مسکرائے اور نرم آواز میں بولے ’’ہاں ہو سکتا ہے لیکن 632ء سے آج تک کوئی شخص یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا‘‘ میں نے پوچھا ’’632ء سے کیوں؟‘‘ بولے ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 جون 632ء کو انتقال فرمایا تھا‘ شیعہ اور سنی کی بنیاد اس دن پڑی‘ یہ دونوں آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے‘ شاید ہم اس تاریخی کارنامے میں کامیاب ہو جائیں‘‘ لاؤنج میں موجود تمام لوگ قہقہہ لگانے پر مجبور ہو گئے۔
طارق فاطمی بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں‘ ڈھاکا سے تعلق تھا‘ والد پروفیسر اور دانشور تھے‘ فاطمی صاحب نے ابتدائی سال علم‘ ادب اور کتابوں میں بسر کیے‘ جوانی میں فارن سروس جوائن کی اور کمال کر دیا‘ یہ دو بار ماسکو میں تعینات رہے‘ نیویارک‘ واشنگٹن اور بیجنگ میں ذمے داریاں نبھائیں‘ یہ زمبابوے میں سفیر رہے‘ یہ امریکا‘ اردن‘ بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر رہے‘ یہ آخر میں یورپین یونین میں پاکستان کی نمایندگی کرتے رہے‘ یہ 2004ء میں ریٹائر ہو گئے‘ یہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے دوران امریکا اور یورپ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری تھے‘ یہ بنگالی‘ اردو‘ انگریزی اور روسی چار زبانوں کے ماہر ہیں‘ یہ روسی زبان اردو کی طرح بولتے ہیں‘ فرنچ اور جرمن بھی سمجھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں کمال یادداشت سے نواز رکھا ہے‘ آپ کسی شخص یا واقعے کا نام لیں یہ تاریخ‘ لوگوں کے نام اور واقعے کا پورا پس منظر بیان کر دیں گے۔
ٹائم مینجمنٹ کے ماہر ہیں‘ یہ صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں‘ جاگنگ اور واک کرتے ہیں اور ناشتہ کر کے سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں‘ یہ اسٹاف کے آنے سے پہلے دنیا کے تمام بڑے نیوز پیپرز‘ پاکستان کے تمام اخبارات‘ نیوز سمریاں‘ پاکستانی سفارت خانوں کے پیغامات اور گزشتہ دن کی ساری فائلیں پڑھ لیتے ہیں‘ یہ دفتر کھلنے سے پہلے دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات بھی کر چکے ہوتے ہیں اور یہ دن بھر کی اہم ترین معلومات بھی یاد کر چکے ہوتے ہیں‘ یہ اس کے بعد سارا دن دفتر اور پرائم منسٹر ہاؤس میں رہتے ہیں اور شام کو جب وزارت خارجہ کے تمام لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں یہ اس وقت بھی دفتر میں کام کر رہے ہوتے ہیں‘ طارق فاطمی پر پوری زندگی کرپشن کا کوئی چارج نہیں لگا‘ پوری سروس ایمانداری کے ساتھ گزاری‘ فارن سروس میں غیر ملکی تحفے کرپشن کا آسان ذریعہ ہیں‘ پاکستان کا جو بھی وفد دور ے پر باہر جاتا ہے یا کوئی مہمان پاکستان آتا ہے تو تحفے دیے اور لیے جاتے ہیں‘ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ تحائف ریاست کی امانت ہوتے ہیں۔
صدر اور وزیراعظم سے لے کر وزیر‘ مشیر اور سفیر تک تمام عہدیدار یہ تحائف ’’توشہ خانہ‘‘ میں جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں‘ یہ لوگ اگر یہ تحائف اپنے پاس رکھنا چاہیں تو یہ قیمت ادا کر کے یہ گفٹ توشہ خانہ سے خرید سکتے ہیں‘ طارق فاطمی ملک کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت ایمانداری سے اپنا ہر تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرایا‘ یہ ہر گفٹ کی رنگین تصویر اتارتے ہیں‘ یہ تصویر اپنے ریکارڈ میں رکھتے ہیں اور تحفہ وزارت میں جمع کرا دیتے ہیں‘ فاطمی صاحب کے ریکارڈ میں ایسی سیکڑوں تصویریں موجود ہیں ‘ یہ تصویریں ان کی قانون پسندی اور ایمانداری کی دلیل ہیں۔
یہ شخص 1971ء کے بعد بنگلہ دیش جا سکتا تھا لیکن یہ پاکستان میں رہا‘ اس نے پوری زندگی پاکستان کی عزت اور حرمت پر حرف نہیں آنے دیا‘ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تشکیل اور دھماکوں کے دوران بہت اہم اور حساس پوزیشنوں پر کام کرتا رہا لیکن اس نے کوئی انفارمیشن ’’لیک‘‘ نہ ہونے دی‘ یہ ’’سرد جنگ‘‘ کے دوران بھی اہم عہدوں پر فائز رہا‘ پاکستان اس وقت امریکا کا بہت بڑا اتحادی تھا‘ یہ اس وقت عام معمولی سی معلومات ’’لیک‘‘ کر کے سوویت یونین کا ہیرو بن سکتا تھا‘ یہ افغان جنگ کے دوران بھی اہم ترین پوزیشنوں پر رہا‘ یہ اس جنگ کے دوران بھی ایک خبر ’’لیک‘‘ کر کے پوری دنیا میں مشہور ہو سکتا تھا اور یہ پچھلے چار برسوں میں بھی بہت حساس اور اہم ملاقاتوں کا حصہ رہا‘ یہ اس وقت بھی چند فقرے لیک کر کے دنیا کی توجہ حاصل کر سکتا تھا لیکن طارق فاطمی کے 47 سال کے کیریئر میں کوئی ایک واقعہ‘ کوئی ایک ایسا لمحہ نہیں آیا جب کوئی بیان‘ کوئی لیک ان سے منسوب ہوئی ہو‘ یہ پوری زندگی سچے پاکستانی‘ پروفیشنل ڈپلومیٹ اور ایماندار انسان رہے۔
کام کیا‘ کتابیں پڑھیں‘ واک کی اور اپنی ذات میں مطمئن رہے لہٰذا میں دل سے یہ سمجھتا ہوں ایسے شخص کو ڈان لیکس میں پھنسانا‘ اسے قربانی کا بکرا بنانا اور اسے بغیر کسی چارج‘ بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی الزام کے فارغ کر دینا سراسر زیادتی ہے اور حکومت اس زیادتی کی ذمے دار ہے‘ میاں نواز شریف طارق فاطمی کو 20 سال سے جانتے ہیں‘ یہ چار سال وزیراعظم کے ہر سفر میں ان کے ساتھ بھی رہے‘ یہ وزیراعظم سے روزانہ ملاقات بھی کرتے تھے اور یہ انھیں بین الاقوامی امور پر گائیڈ بھی کرتے تھے چنانچہ وزیراعظم فاطمی صاحب کی ایمانداری ‘ پروفیشنل ازم اور دانش مندی تینوں کے بخوبی واقف ہیں‘ میاں صاحب جانتے ہیں یہ طارق فاطمی تھے جنہوں نے حکومت کو سمجھایا ہم نے امریکا کے سامنے لیٹ لیٹ کر اپنے ستر سال برباد کر دیے ہیں‘ ہمیں اب چین اور روس کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ طارق فاطمی تھے جن کی کوششوں سے روس اور پاکستان کے درمیان موجود پچاس سال پرانی برف پگھل گئی‘ دونوں ملکوں کے درمیان رابطے استوار ہو گئے اور فوجی مشقیں شروع ہو گئیں اور یہ طارق فاطمی تھے جو چین کو پاکستان کے اتنے قریب لے کر آئے کہ چین پاکستان میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مجبور ہو گیا لہٰذا وزیراعظم بخوبی جانتے ہیں طارق فاطمی بے ایمان ہیں اور نہ ہی یہ ڈان لیکس کے ذمے دار ہیں‘ وزیراعظم یہ بھی جانتے ہیں یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے وزیراعظم نے پھر جانتے بوجھتے یہ زیادتی کیوں کی؟ شاید اقتدار واقعی بہت ظالم ہوتا ہے‘ بادشاہ تخت بچانے کے لیے اپنے بھائیوں‘ اپنے بچوں تک کی قربانی دے دیتے ہیں اور یہ تو صرف ایک مشیر تھے چنانچہ یہ قربان ہو گئے‘ یہ وزیراعظم کو پانچ سال پورے کرانے کے لیے بکرا بن گئے۔
ڈان لیکس کی رپورٹ ابھی جاری نہیں ہوئی‘ یہ عوام کے سامنے نہیں آئی لیکن جہاں تک غیر مصدقہ معلومات کا تعلق ہے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کسی شخص کو ڈان لیکس کا ذمے دار قرار نہیں دیا‘ کمیشن کو طارق فاطمی کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں ملا اور یہ بھی حقیقت ہے طارق فاطمی کے ڈان اور ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے‘ یہ ڈان میں کالم لکھتے تھے لیکن یہ جب پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تو ظفر عباس نے ان کا کالم بند کر دیا اور یوں دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے یہ اس کشیدگی کی صورت میں ڈان کو خبر کیوں لیک کریں گے؟ کمیشن کو ڈان‘ ظفر عباس‘ سرل المیڈا اور طارق فاطمی کے درمیان کسی قسم کے رابطے کے ثبوت بھی نہیں ملے۔ ’’ملزمان‘‘ میں سے بھی کسی نے طارق فاطمی کا نام نہیں لیا اور یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کیا یہ خبر واقعی ’’سیکیورٹی بریچ‘‘ تھی‘ یہ سچی تھی اورکیا یہ واقعی ’’لیک‘‘ تھی لہٰذا اس عالم میں طارق فاطمی صاحب کو سزا دینا پاکستان سے محبت کرنے والوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
طارق فاطمی ریاست اور حکومت سے اپنا قصور پوچھ رہے ہیں‘ یہ اپنی صفائی بھی دینا چاہتے ہیں‘ یہ ریاست سے ’’فیئر ٹرائل‘‘ بھی مانگ رہے ہیں اور یہ اس داغ‘ اس دھبے کے ساتھ گھر بھی نہیں جانا چاہتے لہٰذا میری درخواست ہے ریاست کو انھیں صفائی کا موقع دینا چاہیے‘ حکومت کو انھیں باقاعدہ چارج شیٹ کرنا چاہیے تا کہ یہ اپنی صفائی دے سکیں‘ یہ اپنے خلاف ثبوتوں کا سامنا کر سکیں‘ یہ ان کا مقابلہ کریں اور یہ اگر ٹرائل میں واقعی مجرم پائے جائیں تو آپ انھیں بے شک غدار قرار دے دیں‘ آپ انھیں بے شک الٹا لٹکا دیں لیکن یہ اگر بے گناہ اور معصوم ثابت ہوں تو آپ ان سے معذرت کریں‘ انھیں پوزیشن پر بحال کریں‘ ان کی عزت انھیں واپس کریں اور یہ اس کے بعد بے شک مستعفی ہو کر ایوان اقتدار کو سلام کر جائیں لیکن موجودہ فیصلہ بہرحال ظلم ہے‘ یہ زیادتی ہے۔
ہمیں اب یہ سکھا شاہی بھی ختم کرنا ہوگی اور ہمیں ’’سزا پہلے دے دیں اور ایف آئی آر بعد میں درج کریں‘‘ جیسی روایات بھی ترک کرنا ہوں گی‘ ہم آخر کتنے لوگوں کو غدار‘ بے ایمان اور کافر قرار دیں گے‘ ہمیں کہیں نہ کہیں تو ٹھہرنا ہو گا‘ ہمیں کہیں نہ کہیں تو فل اسٹاپ لگانا ہو گا‘ ہم طارق فاطمی جیسے کتنے بے گناہوں کو عبرت کی نشانی بنائیں گے اور ہم کتنے محب وطن لوگوں کو ذلیل کریں گے‘ ہم نے کبھی سوچا‘ ہم نے کبھی غور کیا؟ شاید نہیں اور شاید ہم کبھی یہ سوچیں گے بھی نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ قومیں جب اچھے اور برے کی تمیز کھو بیٹھتی ہیں تو پھر ان کے پاس غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہوتا‘ یہ سوچا نہیں کرتیں اور ہم بڑی مدت سے اچھے اور برے کی تمیز کھو چکے ہیں۔
جاوید چوہدری
ڈان لیکس اور سول ملٹری ٹینشن
ڈان لیکس سکینڈل گزشتہ سال اکتوبر میں ظہور پذیر ہوا جب وزیراعظم ہائوس میں
ہونیوالے قومی سلامتی کے اجلاس کے حوالے سے پاک فوج کے بارے میں اشتعال انگیز، بے بنیاد اور پلانٹڈ سٹوری ڈان اخبار کے فرنٹ پیج پر شائع کی گئی۔ اس وقت سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی ’’اخلاقی اتھارٹی‘‘ کا سورج پوری آب و تاب کیساتھ چمک رہا تھا۔ آئینی اتھارٹی کے مالک وزیراعظم دبائو میں آ گئے انہوں نے نہ صرف وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فارغ کر دیا بلکہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دینے پر بھی آمادہ ہو گئے۔ غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق سابق عسکری قیادت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر حکومت نے ڈان لیکس پر ٹھوس اور سنجیدہ کاروائی نہ کی تو ذمے دار افراد کو بلا تفریق پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے تفتیش کی جائیگی۔
انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں غیر معمولی تاخیر کی گئی تا کہ قومی سلامتی پر ڈٹ جانیوالا سپہ سالار رخصت ہو جائے اور نیا سپہ سالار ڈان لیکس کے سلسلے میں حکومت کو توقع کیمطابق ’’ریلیف‘‘ دینے پر آمادہ ہو جائے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف گورنینس اور سکیورٹی امور کے سلسلے میں اہلیت ثابت نہیں کر سکے ان کو یہ ادراک نہیں ہو سکا کہ کوئی آرمی چیف قومی سلامتی کے امور پر کمپرومائز کرنے کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ انتہائی نازک اور حساس مسئلہ ہے جس پر کمپرومائز کرنے سے فوج کے اندر بغاوت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کو خفیہ رپورٹیں ملتی رہیں کہ نئے سپہ سالار جنرل جاوید قمر باجوہ کو فوج کے افسروں کی جانب سے ڈان لیکس کے بارے میں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور فوج کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے حساس اداروں کی ان رپورٹوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وزیراعظم کے ساتھ کام کرنیوالے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی رائے ہے کہ میاں نواز شریف اہم قومی امور کے فہم اور ادراک کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ ان کا ایک ہی جنون ہے کہ شاہرائیں اور موٹرویز تعمیر کی جائیں کیونکہ یہ نظر آنیوالے، ووٹ اور نوٹ بنک بڑھانے والے منصوبے ہیں۔ جس طرح بقول شاعر یزداں تخلیق کائنات کے ’’دلچسپ جرم‘‘ پر کبھی کبھی ہنستا ہو گا اسی طرح پاک فوج کے جرنیلوں کو بھی ’’عاقبت نا اندیشانہ جرم‘‘ پر پچھتاوا ہو گا کہ انہوں نے اہلیت اور میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے الطاف حسین اور میاں نواز شریف کا بطور لیڈر انتخاب کیا اور انہیں پروموٹ کیا۔ بقول حبیب جالب ’’تیرے ذہن کی قسم خوب انتخاب ہے‘‘ فوج کے جرنیلوں کو یہ کہا جا سکتا ہے ’’تم ہی نے درد دیا تم ہی دوا دینا‘‘۔ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ مسلم لیگ قائداعظم سے میاں نواز شریف اور پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو سے آصف زرداری کے ’’معیار‘‘ تک پہنچ گئی ہے۔ چہ بلندی چہ پستی مگر اس کیلئے ووٹرز خود بھی ذمے دار ہیں جو بار بار ’’لٹیروں‘‘ کو ووٹ دیتے ہیں۔
پانامہ لیکس بنچ کے پانچ ججوں نے میاں نواز شریف کے بارے میں کیا کچھ کہہ دیا۔ وہ اگر اہل لیڈر ہوتے تو عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعد پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے عظیم تر مفاد میں مستعفی ہو جاتے، اپنا جانشین نامزد کر کے سکون کے ساتھ آئینی ٹرم پوری کر لیتے مگر وہ چوں کہ مزاج اور فطرت کے اعتبار سے اول و آخر تاجر ہیں اس لیے وہ آبرومندانہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں انکی اخلاقی اتھارٹی برباد ہونے سے آئینی اتھارٹی بھی مفلوج ہو چکی ہے۔ مناسب وقت پر موزوں فیصلے کی صلاحیت ان میں نہیں ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں کہ انہوں نے کس طرح فوج کے جرنیلوں کو کرپٹ کرنے اور انہیں خاندان کا وفادار بنانے کی کوشش کی۔
اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ان کیخلاف ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگا رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی پرامن تحریک کو مسلح طاقت سے کچلنے کیلئے جبروتشدد اور ظلم و ستم کی اس حد تک انتہا کر دی ہے کہ نیو یارک ٹائمز بھی چیخ اُٹھا ہے۔ بھارت ایل او سی پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔ ان حالات میں وزیراعظم پاکستان نے سی آئی اے اور را کے ایجنٹ اور پاکستان کے کٹڑ دشمن سجن جندل سے مری میں خفیہ ملاقات کر کے پاکستان کے عوام کو ششدر اور پاک فوج کو مزید مضطرب کر دیا۔ محترمہ مریم نواز شریف نہ تو وزیراعظم کی سرکاری ترجمان ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی عہدیدار ہیں اسکے باوجود وہ حکومتی اور ریاستی امور کے بارے میں ٹویٹ کرتی رہتی ہیں انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جندل وزیراعظم کے پرانے دوست ہیں لہذا اس ملاقات کو اچھالا نہ جائے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کٹڑ دشمن وزیراعظم پاکستان کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم اگر اس خفیہ ملاقات کے سلسلے میں پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیتے تو انکے بارے میں قیاس آرائیاں اور بدگمانیاں پیدا نہ ہوتیں اور اپوزیشن جماعتوں کو انہیں ’’سکیورٹی رسک‘‘ کہنے کا موقع نہ ملتا۔ یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ ’’دوستوں‘‘نے میاں نواز شریف کو ’’ڈٹ جانے‘‘ کا پیغام بھیجا ہے تاکہ وہ پانامہ کیس میں نا اہل ہونے کی بجائے ’’سیاسی شہید‘‘ ہو کر اگلا انتخاب جیت سکیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ آمر اور منتخب حکمران ریاست کو آئین کے مطابق چلانے کا حلف تو اُٹھاتے رہے ہیں مگر عملی طور پر ہر حکمران نے آئین سے کھلا انحراف کیا۔ پاکستان کے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ریاست پر آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔
ریاست کے تمام ادارے قانون کی طاقت کے بجائے طاقت کے قانون کے بل پر حکومتی نظم و نسق چلاتے ہیں۔ میاں نواز شریف پاکستان کو بیس کروڑ عوام کی ریاست نہیں بلکہ ذاتی جاگیر کی طرح چلا رہے ہیں۔ اب میاں نواز شریف ڈان لیکس کی رپورٹ روک کر افواج پاکستان کو مشتعل کر رہے ہیں۔ کیا اسلام اجازت دیتا ہے کہ کمزوروں کو قربانی کے بکرے بنا کر طاقتوروں کو بچا لیا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ریکارڈ پر ہیں کہ ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کے بارے میں رولز آف بزنس کیمطابق وزیراعظم سیکریٹریٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق وزارت داخلہ خود رپورٹ جاری کریگی۔ ثابت ہو چکا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کا نوٹیفکیشن ’’بدنیتی اور نااہلی‘‘ پر مبنی تھا جس نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو غیر معمولی اور سخت ٹویٹ جاری کرنے پر مجبور کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اگر یہ ٹویٹ جاری نہ کیا جاتا تو پاک فوج کا اندرونی ڈسپلن متاثر ہوتا اور عوام کا قومی سلامتی کے ادارے پر اعتماد مضمحل ہوتا۔ البتہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ میں “Rejected” ’’مسترد کیا جاتاہے‘‘ کا لفظ غیر ضروری تھا۔ بہتر ہوتا اگر آرمی چیف ٹویٹ سے پہلے اہتمام حجت کیلئے وزیراعظم سے فون پر بات کر کے متفقہ اور مکمل نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کرتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بعد سول ملٹری ٹینشن شدت اختیار کر گئی ہے جو ہرگز ریاست کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کے یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں۔ سول سوسائٹی کو یہ تشویش لاحق ہے کہ وزیراعظم کی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور عوامی سطح پر خانہ جنگی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے دشمن اس تشویشناک صورتحال سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرینگے۔ اس نازک مرحلے پر وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے فوری طور پر وعدے کیمطابق ڈان لیکس کی رپورٹ جاری کر دیں تا کہ سول ملٹری ٹینشن ختم ہو جائے.
انہوں نے کئی بار کہا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں انہیں دولت اور حکومت کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور پاکستان کے قومی مفاد کیلئے وہ حکومتی منصب چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کرینگے۔ حالات کے جبر کی وجہ سے چوہدری نثار علی خان کے امتحان اور آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے۔ انکے ماضی کے شاندار کردار کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر اور خمیر کے مطابق اس امتحان میں سرخرو ہوں گے اور اپنی نیک نامی پر حرف نہیں آنے دیں گے تاکہ آنیوالی نسلیں ان کو اچھے نام سے یاد کریں۔ پاکستانی قوم کو ٹینشن سے باہر نکالنا وزیراعظم کی ذمے داری ہے۔
قیوم نظامی
Tariq Fatemi
Syed Tariq Fatemi is a Pakistani diplomat who serves as the Special Assistant on Foreign Affairs to the Prime Minister. He previously served as Pakistan Ambassador to the United States and to the European Union. Born in Dhaka, British India, Fatemi went to serve as a career foreign service officer and has held diplomatic missions throughout his career In addition, he also provided his foreign policy expertise to represent Pakistan’s case at the International Atomic Energy Agency (IAEA). Aside from foreign service, he has briefly taught courses on International relations at the Foreign Service Academy and as well courses on Security studies at the National Defence University and the Quaid-i-Azam University. A key member of the PML(N), he is the author of book, “The Future of Pakistan”, and has repeatedly appeared in news media to comment on foreign affairs of the country. He is an expert on Russian studies and is fluent in Russian language.






