اگر آپ کو مکمل یقین ہے کہ دوسرا شخص غلط کہہ رہا ہے اور آپ بے دھڑک اسے کہہ دیتے ہیں کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔ تو کیا ہوتا ہے میں اسے واضح کرتا ہوں۔ مسٹر سانتے نیو یارک کا ایک نوجوان وکیل ہے۔ ایک بار اس نے امریکی سپریم کورٹ کے سامنے ایک بڑے اہم مقدمے میں دلائل دیئے۔ اس مقدمے کا تعلق بہت زیادہ رقم سے تھا اور اس میں ایک بہت ہی اہم قانونی نکتہ تھا۔ دلائل کے دوران ایک جج نے وکیل سے پوچھا۔ ’’ اس قسم کے قانونی معاملے میں زیادہ سے زیادہ میعاد چھ برس ہوتی ہے نا۔‘‘ مسٹر سانتے ایک دم رک گئے اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے جج کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر جواب دیا ’’ عزت مآب اس قسم کے قانون میں کوئی میعاد نہیں ہوتی۔‘‘ ’’ عدالت میں ایک سناٹا طاری ہو گیا۔‘‘ سانتے نے بتایا ’’ میں بالکل صحیح کہہ رہا تھا مگر جج غلطی پر تھا اور ایسا میں نے اسے بتا دیا تھا۔
لیکن کیا اس سے جج مطمئن ہو گیا ؟ نہیں۔ میں یہی سمجھتا تھا کہ میری قانونی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور میرا خیال تھا کہ میں نے پہلے سے زیادہ اچھے دلائل دیئے ہیں لیکن میں نے ایک مشہور اور قابل جج کو اس کی غلطی کا بتا کر بہت بڑی غلطی کی اور اس طرح میں نے اس کے جذبات اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘ ہم میں سے محض چند لوگ منطقی ہوتے ہیں۔ باقی سب میں صرف تعصب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے اپنے ذہن میں حسد، شک خوف اور جلن کے جذبات لیے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے مذہب اپنے بالوں کے سٹائل یا اپنے پسندیدہ ایکٹر کے بارے میں اپنا ذہن نہیں بدلنا چاہتے۔
اس لیے اگر آپ اس بات پر مائل ہوں کہ آپ لوگوں کو یوں بتائیں کہ وہ غلط ہیں تو ہر صبح ناشتے سے پہلے یہ پیراگراف ضرور پڑھیں۔ یہ جیمز ہاروے رابنسن کی مشہور کتاب The Mind in the Making سے لیا گیا ہے۔ ’’ ہم بعض اوقات کسی قسم کے دباؤ یا بھاری جذبات کے بغیر اپنا ذہن بدل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ آپ غلط ہیں تو یہ بات ہمیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا لفظ ’’ میرا یا میری‘‘ انسانی معاملات میں سب سے اہم ہے اور یہیں سے عقل کا ارتقا ہوتا ہے۔ اس میں بھی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے جتنی ان الفاظ میں ہوتی ہے۔ جیسے ’’ میرا گھر‘‘ میرا والد، میرا ملک، میری کار اور میرا خدا، ہم ہر وقت اس یقین میں رہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں گے اسے سچ مانا جائے گا اور ہم اس وقت سخت ناراض ہو جاتے ہیں جب ہمارے خیالات پر ذرا برابر بھی شک کیا جائے۔ اور ایسی صورتحال میں ہم اپنے خیالات سے ہی چمٹے رہتے ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں کو ناراض کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی ناخوشگوار حالات کا سامان پیدا کرتے ہیں۔‘‘
مشہور نفسیات دان کارل راجرز نے اپنی مشہور کتاب On Becoming a Person میں لکھا ہے۔ میں اس وقت کو اپنے لیے بہت قیمتی سمجھتا ہوں جب میں کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر سمجھنے کیلئے خود کو تیار کر لوں۔ جن الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے وہ آپ کو عجیب سے لگیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ بہت سی باتوں کے بارے میں ہمارا پہلا رد عمل ان کے خیالات کو جانچنا ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی خیالی رویے یا جذبات کا اظہار کرتا ہے تو ہم فوراً یہ سوچتے ہیں ’’ یہ غلط ہے‘‘ ’’ یہ صحیح ہے‘‘ یہ بالکل فضول ہے۔
بہت کم ہم اس کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کے لیے خود کو آمادہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار ایک اندرونی سجاوٹ کے ماہر کو اپنے گھر کے لیے پردے تیار کرنے کا آرڈر دیا۔ جب اس نے مجھے بل بنا کر دیا تو مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ چند روز بعد میرا ایک دوست گھر آیا اور اس نے پردوں کو دیکھا۔ میں نے پردوں کی قیمت بتائی تو فوراً وہ چونک اٹھا ’’ کیا؟‘‘ اس نے کہا میں نے پردوں کی بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ ہاں یہ صحیح تھا اور اس نے مجھے صحیح بتایا تھا مگر بہت سے لوگ اپنے فیصلوں کے بارے میں سچائی سننا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے ایک انسان کی طرح میں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ بہترین چیز خریدنے کے لیے زیادہ قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے۔
اگلے دن ایک اور دوست میرے گھر آیا اس نے پردوں کی تعریف کی اور اس نے کہا کاش مجھے بھی اپنے گھر کے لیے ایسے پردے مل جائیں میرا رد عمل بہت مختلف تھا۔ میں نے کہا کہ میں اتنے مہنگے پردے خرید نہیں سکتا تھا لیکن میں نے ان کے لیے پیسے دیئے ہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔ ’’ جب ہماری غلطی ہو تو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی غلطی کو اندر ہی اندر تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور اگر ہمیں بڑی ملائمت کے ساتھ ہماری غلطی کا احساس دلایا جائے تو ہم اپنی غلطی کو اعلانیہ طور پر تسلیم بھی کر سکتے ہیں مگر اگر کوئی بحث کے ذریعے دلائل کے زور سے ہمیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ہم تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔‘‘
امریکی سول وار کے دوران گریلے امریکہ کا سب سے مشہور ایڈیٹر تھا وہ ابراہام لنکن کی پالیسیوں کی بڑی شد و مد کے ساتھ مخالفت کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس قسم کے طور طریقوں سے لنکن کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے۔ وہ ہر مہینے اورہر سال بعد لنکن پر سخت ترین الفاظ کے ساتھ تنقید کرتا دراصل اس نے لنکن کی موت سے ایک دن پہلے اس پر سخت ترین الفاظ میں طنز اور ذاتی حملے کئے تھے۔ لیکن کیا ان تمام حرکتوں سے اس نے ابراہام لنکن کو اپنا ہمنوا بنا لیا؟ ہرگز نہیں۔