اس وقت جبکہ ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اس وبا کی تیسری لہر بھی شروع ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا سے مقابلے میں امریکا اور بھارت کو ناکام ترین ممالک قرار دیا جارہا ہے جہاں اب تک اس وبا کی شدت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک تجزیئے کے مطابق، امریکا میں اب تک کورونا وائرس کی دو لہریں آچکی ہیں جبکہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تیسری لہر کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جبکہ دسمبر 2020 تک امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سرِدست یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اکتوبر کا مہینہ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔
امریکا میں ادویہ اور غذاؤں سے متعلق مرکزی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کے سابق سربراہ اسکاٹ گوٹلیب نے گزشتہ روز سی این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خیال ظاہر کیا کہ بیشتر امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت کم وقت میں اور بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ طبی ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید نالاں ہیں جس نے پہلے اس وبا کی موجودگی سے انکار کیا، پھر اس کا پھیلاؤ روکنے میں تاخیر کرنے کے ساتھ ساتھ ناکافی اقدامات کا سہارا لیا۔ اب امریکی حکومت کا سارا زور اس وائرس کی دوا (بشمول ویکسین) تیار کرنے پر ہے لیکن اب بھی کورونا وبا کو قابو کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وبا کی پہلی لہر کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی اس لیے یہاں دوسری اور تیسری لہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے قطع نظر کہ امریکا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر کہا جائے یا نہیں، اتنا بہرحال طے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑی وبا کے مقابلے میں خود کو بدترین طور پر ناکام ثابت کر دیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاج پر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ اخبار کی جانب سے کی گئی جمع تفریق کے مطابق صدر کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال آمد اور روانگی، متعدد ٹیسٹ، آکسیجن، سٹیرائڈز اور تجرباتی اینٹی باڈی علاج جیسے اخراجات پر کسی عام امریکی شہری کو دسیوں ہزاروں ڈالر خرچ کرنا پڑتے صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے علاج معالجے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ اگرچہ صدر کے علاج پر بڑا خرچہ ان کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کا سفر رہا لیکن ان کے علاج کے دیگر اخراجات کے لیے بھی بھاری رقم ادا کی جا رہی ہے۔ ٹائمز کے مطابق صدر کے بار بار کیے جانے والے کرونا ٹیسٹ اس حوالے سے شاید دوسرا سب سے بڑا خرچہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ایک ٹیسٹ پر عام طور پر 100 ڈالر کی لاگت آتی ہے لیکن اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے، دوسری جانب انشورنس کمپنیوں کے ذریعے ادا کیے جانے والے تقریباً 2.4 فیصد ٹیسٹس میں بھی مریضوں کو کچھ نہ کچھ ادائیگی کرنا پڑی ہے۔ صدر کو گیلائڈ کی جانب سے دیے گئے کرونا کے علاج میں مددگار دوا ریمڈیسی ویر پر بھی عام شہری کو نجی انشورنس کے ذریعے تین ہزار 120 ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں جبکہ میڈی کیئر اور میڈی کیڈ جیسے عوامی پروگرامز میں اس کی قیمت 2،340 ڈالر ہے۔ صدر کو دیے گئے ریجنرون نامی اینٹی باڈی کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا کیونکہ یہ فی الحال کلینیکل ٹرائل میں شریک افراد کو دی جا رہی ہے یا پھر ہمدردی کی بنیاد پر مخصوص لوگوں کو۔ کرونا وائرس کے مالی اثرات نے ملک بھر میں بہت سارے امریکیوں کو متاثر کیا ہے، جہاں ہسپتال میں داخل ہونے اور جان بچانے والے علاج معالجے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ہسپتال سے روانہ ہونے والے 74 سالہ صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہترین طبی ساز و سامان موجود ہے لہذا لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اسے خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اس سے مت ڈریں اور خود پر اس کا غلبہ حاصل نہ ہونے دیں۔‘ ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ’فیئر ہیلتھ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق کرونا سے متاثرہ 60 سال سے زائد مریضوں کا ہسپتال میں داخلے کا عمومی خرچہ 61،912 ڈالر ہے۔ اسی تنظیم نے اندازہ لگایا ہے کہ ادا کی گئی اوسط رقم 31،575 بنتی ہے۔ علاج اور ہیلتھ کیئر پروگرام کے تحت مریضوں کے لیے یہ رقم مختلف ہوتی ہے۔ ’قیصر فیملی فاؤنڈیشن‘ کے مارچ کے تجزیے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ انشورنس اور بغیر کسی پیچیدگی کے کووڈ 19 کے علاج کی اوسط لاگت تقریباً 9،763 ڈالر ہے۔ مرض میں پیچیدگی کی صورت میں یہی بل 20،292 ڈالر تک بڑھ جاتے ہیں۔
ایسا خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکی امدادی پیکیجز کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کو بڑی حد تک اپنے علاج کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا تاکہ امریکیوں کو بڑی رقم خرچ کرنے سے بچایا جاسکے، تاہم ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق معیار پر پورا نہ اترنے، ہسپتالوں اور دیگر میڈیکل سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے امدادی پروگراموں کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے اور امداد کی منظوری سے قبل علاج کرانے والے افراد کو بھاری بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ مارچ میں اس وبا کا آغاز ہونے کے بعد سے ہی امریکہ میں 75 لاکھ سے زائد افراد کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں 211،000 سے زیادہ امریکیوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد کووِڈ 19 نے وائٹ ہاؤس کے عملے اور امریکی فوجی قیادت کو بھی اپنا شکار بنانا شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ کے وائس کمانڈنٹ ایڈمرل چارلس رے بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد یو ایس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی اور دیگر اہم فوجی سربراہان نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر، جو امریکی صدر کی تقریریں بھی لکھتے ہیں، گزشتہ روز اپنے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور خود کو قرنطینہ کرنے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ انہیں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے پانچ روز ہو چکے ہیں۔
قبل ازیں ان کی اہلیہ اور نائب صدر مائیک پینس کی ترجمان کیٹی ملر بھی مئی کے مہینے میں کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکی تھیں تاہم بعد میں وہ صحت یاب بھی ہو گئیں۔ جولائی کے مہینے میں اسٹیفن ملر کی 97 سالہ دادی مسز گلوسر کا انتقال بھی کورونا وائرس سے ہوا تھا۔ یہ خبر چھپانے کے باوجود پھیل گئی تھی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ماہ کے آغاز میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔ گزشتہ روز اسپتال سے واپسی پر انہوں نے احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ماسک اتار پھینکا اور عوام سے کہا کہ انہیں کورونا وائرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کورونا ہونے کے کیا معنی ہیں؟ بہت سے معنی ہیں۔ پہلا، اس سے قطع نظر کہ کوئی شخص کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، وہ بیماری اور موت سے مبرا نہیں ہے۔ ٹرمپ دنیا کے سب سے طاقتور آدمی ہیں، کیونکہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر ہیں۔ کسی بھی قوم کے وزیر اعظم کے پاس اتنے آئینی اختیارات نہیں ہوتے جتنے امریکی صدرکے پاس ہیں۔ کورونا نے ثابت کیا ہے کہ وہ صدر اور جھاڑو دینے والے کے مابین فرق نہیں کرتا ہے۔ دوسرا، کورونا نے ٹرمپ کی بیباکی کو پنکچر کر دیا ہے۔ کورونا کچھ بھی نہیں ہے، اس سے کیوں ڈرتے ہو، پوری دنیا میں امریکی صحت کی دیکھ بھال بہترین ہے۔ ٹرمپ کا تکبر کورونا کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے حریف جو بائیڈن کا مذاق اڑایا تھا‘ جس کے بارے میں بائیڈن نے ایک عوامی ٹی وی مباحثے میں بات کی تھی۔ کورونا نے یہ ثابت کیا ہے کہ قائدین‘ چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کو اپنا طرز عمل برقرار رکھنا چاہئے تاکہ عام عوام ان کی پیروی کر سکیں۔ یہ لاپروائی بھارت سے چار پانچ گنا چھوٹے امریکہ میں 2 لاکھ 10 ہزار افراد کی موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تیسرا، امریکہ جیسے امیر اور ترقی یافتہ ملک میں، لوگوں کے اعتماد کی سطح بہت زیادہ ہے۔
اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ساحلوں، ہوائی جہازوں، میٹرو ریلوں اور سڑکوں پر بھی، لوگ بغیر کسی ماسک کے چکر لگاتے ہیں، ایک دوسرے سے جسمانی فاصلہ نہیں رکھتے ہیں اور ہوٹلوں میں قربت میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ وہ اپنے قائدین کی پیروی کرتے ہیں۔ چوتھی چیز جو خود ٹرمپ کے متعلق ہے۔ انہیں ہلکا بخار ہوا تھا اور سانس لینے میں دشواری تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے مہم جاری رکھی۔ دو دن بعد انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں ڈاکٹروں اور ان کے نوکروں کی اطلاعات مماثل نہیں ہیں۔ پھر بھی، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہو گی اگر وہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف انتخابی میدان میں جاتے ہیں۔ پانچویں چیز کی قطعی تصدیق ہو جاتی ہے یعنی‘ صدارتی انتخابات میں ان کی شکست۔ اس کی تصدیق ان کو کورونا سے ہوتی ہے۔ بائیڈن اس وقت ان سے 13 پوائنٹس آگے ہیں۔ اگر ٹرمپ کچھ دن ہسپتال میں رہے تو وہ پیچھے رہ سکتے ہیں۔ امریکہ میں ابھی سے اس کا اندازہ لگانا شروع ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کہیں کورونا کی وجہ سے اس صدارتی انتخاب سے ہی باہر نہ ہو جائیں۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے
چین مخالف چوکڑی؟
امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت‘ ٹوکیو میں ہونے والے اس چار رکنی گروپ کا اجلاس حیران کن تھا۔ ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک دوسرے سے ملاقات کی اور چاروں نے بحرالکاہل کے خطے میں امن و سلامتی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ یہ چوکڑی امریکہ کے اقدام پر بنائی گئی ہے۔ جس طرح امریکہ نے نیٹو اور سینٹو ملیشیا کو سوویت یونین کے خلاف کھڑا کیا تھا، اب وہ یہ چاہتا ہے کہ وہی چکر ویو چین کے خلاف شروع کیا جائے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی مشق ہے۔ صدر بارک اوباما ہنری کسنجر کے خواب کو آگے بڑھانا چاہتے تھے اور ایشیاء میں چین کو خصوصی اہمیت دینا چاہتے تھے۔ ابتدائی طور پر ٹرمپ کا رویہ یکساں تھا، لیکن تجارت کے معاملے میں چین کا سخت موقف ٹرمپ کا مسئلہ بن گیا۔ ٹرمپ نے پہلے چین کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا، لیکن پھر چین پر کورونا کی وبا کا الزام لگا کر انہوں نے اس کے خلاف کھلی جنگ کا آغاز کر دیا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ چین کو سبق سکھایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ٹوکیو اجلاس میں چین پر شدید الزامات عائد کیے۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کا نام لے کر کہا کہ اس کے استحصال، بد عنوانی اور ظلم کی بھرپور مخالفت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ہانگ کانگ اور تائیوان کے خلاف ہونے والے مبینہ چینی مظالم کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ‘ہندوستان بحرالکاہل کے خطے‘ کو چینی دبائو سے آزاد کرنے کا نعرہ بھی لگایا۔ انہوں نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے لداخ میں ہونے والے انکائونٹر کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے چین میں کورونا کی وبا کا تمام تر الزام بھی عائد کیا‘ لیکن باقی تین ممالک کے وزرائے خارجہ کی تقاریر میں ان میں سے کسی نے چین کا نام تک نہیں لیا۔ ان میں سے کوئی چین سے بھڑنے کو تیار نہیں تھا۔ ان کی تقاریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈوپیسیفک ریجن میں قانون کی حکمرانی چلنی چاہئے اور سمندری راستے سب کے لئے کھلے ہونے چاہئیں۔ جب یہ چاروں وزرائے خارجہ جاپان کے نئے وزیر اعظم یوشیحید سوگا سے ملنے گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا۔ دوسرے الفاظ میں، اس چوکڑی کے باقی تین ارکان امریکی فٹ پاتھ پر پھسلنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی وجہ سے کورونا دور میں ہوئی اس حالیہ میٹنگ میں کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ہاں، چینی حکومت نے امریکی موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیموں کو کسی اور قوم کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے باہمی تعاون بڑھانے پر اصرار کرنا چاہئے۔