امریکہ میں پچاس ہزار کاروبار دوبارہ نہیں کھلیں گے

امریکہ میں کرونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد سے ایک لاکھ 43 ہزار سے زیادہ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 35 فیصد یا لگ بھگ 50 ہزار کاروباروں کے دوبارہ کھلنے کا امکان نہیں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بحران نے ملک بھر میں چھوٹے کاروباروں کو کس بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ ڈیٹا امریکی کمپنی یلپ نے جاری کیا ہے جو کاروباروں کے بارے میں عوامی آرا کو اپنی ویب سائٹ اور فون ایپ پر شائع کرتی ہے۔ اس نے ان کاروباروں کو شمار کیا ہے جن کے مالکان سے یکم مارچ سے 9 جون کے دوران بتایا کہ وہ کام بند کر چکے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے منفی اثر کے باعث بند کاروباروں کی تعداد محض ایک تخمینہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ حقیقی تعداد زیادہ ہو۔ یہ ممکن ہے کہ بہت سے کاروبار یلپ پر نہ ہوں یا ان کے مالکان نے اپنی صورت حال کو اپ ڈیٹ نہ کیا ہو۔ 

کرونا وائرس بحران کی وجہ سے ریٹیلرز اور ریسٹورنٹس نے سماجی فاصلے کو ممکن بنانے کے اقدامات کیے ہیں اور کوشش کی ہے کہ رابطے کو کم از کم رکھ کر کام کیا جائے لیکن پھر بھی یہ دونوں شعبے سب سے زیادہ متاثر کاروباروں میں شامل ہیں۔ یکم مارچ کے بعد بند کیے گئے ریسٹورنٹس میں سے نصف کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار مستقلاً بند کر دیا ہے جب کہ ایک چوتھائی سے زیادہ ریٹیلرز کا کاروبار دوبارہ کھولنے کا ارادہ نہیں ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یلپ کے ڈیٹا سائنس کے نائب صدر جسٹن نارمن نے کہا کہ اگرچہ مقامی معیشتیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں لیکن جو کاروبار بند ہونے پر مجبور ہوئے، ان کی مکمل واپسی میں طویل عرصہ لگے گا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معیشت کا زوال جاری ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہے۔ محکمہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق 3 ماہ میں 4 کروڑ 40 لاکھ امریکی اپنے ذریعہ آمدن سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور بیروزگاری کی شرح 29 فیصد کو پہنچ چکی ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

ٹرمپ حکومت کا دردِ سر، ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی

امریکی حکومت میں کورونا سے متعلق سینئر اہلکار ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں کاروبار کھولنے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر فاؤچی امریکی سینٹ کی ایک اہم کمیٹی کے سامنے وڈیو لنِک کے ذریعے پیش ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی سینیٹرز کو خبردار کیا کہ اگر وبا کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو بیماری دوبارہ پھوٹ سکتی ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں سرکاری طور پر بتائی جانے والی اسی ہزار تعداد سے زائد ہو سکتی ہیں۔ دنیا میں ڈاکٹر فاؤچی کو ایک سمجھدار اور قابل اعتبار ماہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن امریکا میں صدر ٹرمپ کے حامی ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاؤچی کے بیانات سے صدر ٹرمپ کے موقف کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے کے مطابق، امریکا میں گذشتہ ماہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رائٹرز اور اِپسُس کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق صدر ٹرمپ اب ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن سے آٹھ فیصد پوائنٹ پیچھے چلے گئے ہیں۔ امریکا میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہروں میں ڈاکٹر فاؤچی کی برخاستگی کے مطالبات کیے گئے ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ کورونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا ڈاکٹر فاؤچی جیسے ماہرین نے بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی کی پیشی کے موقع پر ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ، “میں آپ کی عزت کرتا ہوں لیکن میرے خیال میں آپ (اس معاملے میں) عقلِ کُل نہیں، نہ ہی میرے خیال میں آپ اکیلے کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

سینیٹر رینڈ پال نے ڈاکٹر فاؤچی کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے سے باہر کورونا کے کوئی خاص جانی نقصانات سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں دو ماہ سے بند اسکول جلد از جلد کھولنے کی ضرورت ہے۔ اپنے دفاع میں ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ، “میں نے کبھی بھی یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی کہ اس معاملے پر میری بات حتمی رائے ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میں جو رائے دیتا ہوں وہ بطور ایک سائنسدان، ڈاکٹر اور سرکاری افسر کے دیتا ہوں۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ کورونا وائرس کی مہلک نئی قسم کے بارے میں ماہرین کے پاس اب بھی خاطر خواہ معلومات نہیں، اس لیے انہوں نے متنبہ کیا کہ بچوں کو اس کے اثرات سے بچانے کی ضرورت ہے۔

شاہ زیب جیلانی

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو