دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی کورونا وائرس کی وبا کب تک برقرار رہ سکتی ہے، اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ کہنا مشکل ہے مگر مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کے حوالے سے مثبت رپورٹس کے بعد بل گیٹس نے وبا کے بعد کی زندگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز ڈیل بک کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد کی زندگی کے حوالے سے چند دلچسپ پیشگوئیاں کی ہیں۔ بل گیٹس نے کہا کہ رواں برس کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دفتری امور اور سفر میں آنے والی تبدیلیاں وبا کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہیں گی۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ میری پیشگوئی ہے کہ 50 فیصد کاروباری سفر اور دفاتر کے 30 فیصد سے زیادہ دن ختم ہو جائیں گے، بڑی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہو گی کہ کسی طرح کمپنیاں کام سے متعلق سفر کا انتظام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے کاروباری سفر کے لیے ایک سے دوسری جگہ جا کر لوگوں سے مل کر کاروباری امور طے کیے جاتے تھے اور بل گیٹس کے مطابق اب یہ سنہری اصول نہیں رہے گا اور بیشتر کمپنیاں اس طرح کے کاروباری دوروں سے گریز کریں گی۔ بل گیٹس نے کہا کہ جہاں تک گھر سے کام کرنے کی بات ہے کچھ کمپنیاں ایک یا دوسری انتہا کو ترجیح دیں گی یعنی کہیں سے بھی ملازمین کو ہمیشہ کام کرنے کی اجازت دی جائے گی یا کسی ایک کو بھی یہ سہولت نہیں دی جائے گی۔
مائیکرو سافٹ کے شریک بانی نے کہا کہ آن لائن ملاقاتوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم نئے لوگوں سے نہیں مل سکیں گے، اسی وجہ سے وہ اس سال نئے دوست نہیں بنا سکیں کیونکہ انہیں لوگوں سے ملنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ٹیکنالوجی کی متعدد کمپنیوں نے مستقبل میں اپنے عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹوئٹر، فیس بک، سلیک اور دیگر نے ملازمین کو یہ سہولت فراہم کی ہے، اس کے مقابلے میں مائیکرو سافٹ میں ہائبرڈ پالیسی کو اختیار کیا گیا جس میں آدھے عملے کو ایک ہفتے تک کام کرنا ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے خوراک کی سپلائی میں قلت کے سبب اس وبا کے ایک سال مکمل ہونے تک ایک لاکھ 20 ہزار بچوں کی بھوک سے موت ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے خوراک کی سپلائی میں قلت کے سبب ہر ماہ تقریباً دس ہزار بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مناسب خوراک نہیں ملنے کے سبب ہر ماہ ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے دیگر جسمانی عارضوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے کہا ہے کہ غذائیت میں اضافے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ورنہ یہ انفرادی سانحے مستقبل میں ایک پوری نسل کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعذیاتی شعبے کے سربراہ فرانسسکو برانکا کا کہنا تھا ”کووڈ بحران کی وجہ سے فوڈ سیکورٹی کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک دکھائی دیں گے۔ اس کے سماجی اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔
لاطینی امریکا سے لے کر جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ تک کے ملکوں میں پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ غریب کنبے مستقبل میں خوراک کی قلت سے دوچار ہوں گے۔ اپریل میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے نے متنبہ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے سبب عالمی سطح پرفاقہ کشی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس عالمی ادارے نے فروری میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ وینیزویلا میں ہر تین میں سے ایک کنبے کو بھوکا رہنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں پہلے ہی افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے تنخواہیں تقریباً بے معنی رہ گئیں اور لاکھوں لوگوں کو دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرنا پڑا۔ اس کے بعد کوورنا وائر س کی وبا پہنچ گئی۔ وینیزویلا کے سرحدی ریاست تاچیرا میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر فرانسسکو نیئتو نے بتایا ”قلت تغذیہ کا شکار کوئی نہ کوئی بچہ ہر روز ان کے پاس پہنچتا ہے۔ مئی میں دو ماہ کے قرنطینہ کے بعد 18 ماہ کے جڑواں بچے ان کے پاس لائے گئے۔ بھوک کی وجہ سے ان کا جسم ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ ان کی ماں بے روزگا ر تھی اور خود اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ اس خاتون نے بتایا کہ وہ صرف ابلے ہوئے کیلوں پر گزارا کر رہے تھے۔
ڈاکٹرفرانسسکو کا کہنا تھا کہ بچے جب ہسپتال میں لائے گئے اس وقت تک کافی تاخیر ہو چکی تھی۔ ان میں سے ایک بچہ آٹھ دن بعد چل بسا۔ اقوام متحدہ کی چار ایجنسیوں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے عالمی سطح پر بھوک کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری طورپر کم از کم 2.4 بلین ڈالر کے امداد کی اپیل کی ہے۔ یونسیف کے تغذیاتی پروگرام کے سربراہ وکٹر اگایو کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی تو اپنی جگہ ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے سبب لوگوں کی علاج معالجہ کی سہولت تک رسائی نہیں ہو پارہی ہے۔ وکٹر اگایو کہتے ہیں کہ اسکول بند ہیں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں کی خدمات متاثر ہیں، تغذیاتی پروگرام بند ہیں، ہم نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وٹامن اے سپلیمنٹ فراہمی کے عالمی پروگرام تقریباً معطل ہو جانے کی مثا ل دی۔ حالانکہ یہ جسم کے اندر مزاحمتی نظام کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
افغانستان میں نقل و حمل پر پابندیوں کی وجہ سے لوگ قلت تغذیہ کا شکار بچوں کو ہسپتال نہیں لے جا پارہے ہیں حالانکہ انہیں علاج کی سخت ضرورت ہے۔ کابل میں اندرا گاندھی ہسپتال میں ماہر امراض اطفال ڈاکٹر نعمت اللہ امیری کہتے ہیں کہ اب تین سے چار بچے ہی آرہے ہیں جبکہ پچھلے سال ان کی تعداد دس گنا زیادہ تھی۔ چونکہ بچے ہسپتال نہیں آرہے ہیں اس لیے مسئلے کی سنگینی کی نوعیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ تاہم جان ہاپکنس یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق پانچ برس سے کم عمر کے مزید 13000 سے زیادہ بچے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق افغانستان بھوک کے لحاظ سے ریڈ زون میں ہے۔ قلت تغذیہ کا شکار بچوں کی تعداد جنوری میں چھ لاکھ 90 ہزار سے بڑھ کر سات لاکھ 80 ہزار ہو گئی تھی یعنی 13 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔
کورونا وائرس کی وبا کو دنیا میں پھیلے چھ مہینے ہو گئے ہیں، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود سائنسدانوں کے پاس اب بھی اس بنیادی سوال کا حتمی جواب موجود نہیں کہ آخر ’یہ وائرس کتنا مہلک ہے؟‘ ایک ٹھوس اندازہ حکومتوں کو اس بات کی پیشنگوئی کرنے میں مدد کر سکتا ہے کہ اگر وائرس قابو سے باہر ہوتا ہے تو کتنی اموات واقع ہوں گی؟ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار محکمہ صحت کے حکام کو بتا سکتے ہیں کہ برازیل، نائجیریا اور انڈیا جیسے گنجان آبادی والے ممالک میں پھیل رہی اس وبا سے کیا توقع رکھنی چاہیے۔ حتیٰ کہ غریب ممالک جہاں خسرہ اور ملیریا مستقل موجود ہیں، جہاں بجٹ سے متعلق مشکل فیصلے معمول ہیں، وہاں اعداد و شمار حکام کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ آیا وینٹیلیٹرز پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا چاہیے یا خسرے اور مچھروں کے انسداد پر۔
گذشتہ ماہ یہ سوال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے ڈیٹا شائع کیا کہ امریکہ میں ہر رپورٹ ہونے والے کورونا انفیکشن کے ساتھ ساتھ 10 ایسے کیسز بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کچھ لوگوں میں کورونا کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں یا ان میں شدت نہ آئی ہو۔ اگر کورونا وائرس کے بغیر علامات والے مریض اندازوں سے زیادہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کم مہلک ہے لیکن اس کے باوجود اس کا حساب لگانا ایک مشکل کام ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا بھر کے 13 سو سائنسدانوں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کے بعد، ادارے کے چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی نیتھن نے کہا کہ اب تک کے لیے اتفاق رائے یہ ہے کہ آئی ایف آر (شرح اموات) صفر اعشاریہ چھ فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ مرنے کا خطرہ ایک فیصد سے کم ہے۔
اگرچہ انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ دنیا کی صفر اعشاریہ چھ فیصد آبادی چار کروڑ 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور جبکہ امریکہ کی صفر اعشاریہ چھ فیصد آبادی 20 لاکھ افراد بنتے ہیں۔ لہذا کورونا وائرس اب بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرامز کے کلینکل کیئر کے سربراہ ڈاکٹر جینٹ ڈیاز کے مطابق اب تک زیادہ تر ممالک میں کورونا وائرس کے 20 فیصد مریضوں کو اضافی آکسیجن کی ضرورت پڑی۔ صحت یاب ہرنے والے مریضوں کے بچ جانے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے جیسے کہ عمر اور میڈیکل کیئر وغیرہ۔ شرح اموات ان ممالک میں کم ہونے کی توقع ہے جن میں نوجوان آبادی کا تناسب زیادہ اور موٹاپا کم ہے۔ یہ اکثر غریب ترین ممالک ہیں۔ اس کے برعکس کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ان ممالک میں زیادہ ہونی چاہیے جہاں آکسیجن ٹینکس، وینٹیلیٹرز اور ڈائیلاسز مشینوں کی کمی ہے، اور جہاں لوگ ہسپتالوں سے بہت دور رہتے ہوں۔ ایسا بھی عموماً غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔
امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں مفت راشن کے حصول کے لیے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مہلک کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کی طاقت ور ترین معیشت اور سُپر پاور ملک امریکا کے شہریوں کو بھی راشن کے لیے قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں فوڈ بینک کی جانب سے ضرورت مندوں کے لیے اشیائے خوردونوش کے پیکٹ تقسیم کیے گئے جنہیں لینے کے لیے کئی کلو میٹر تک گاڑیوں کی طویل قطار لگ گئی۔ واضح رہے کہ کورونا کے باعث امریکا میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ تقریباََ 26.5 ملین افراد بے روزگار الاؤنس کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔