ویکسی نیشن کا عالمی پلان ضروری ہے

ایسے عالم میں کہ کورونا وبا کو سامنے آئے ڈیڑھ برس سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اس سے بچائو کی تدابیر اور ویکسین لگانے کی ضرورت سے دنیا کے متعدد حصوں میں غفلت وہ افسوسناک حقیقت ہے جس پر ایک جانب پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کو متوجہ کیا ہے، دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گرتریس یورپی یونین پارلیمنٹ سے خطاب میں عالمی ویکسی نیشن پلان کی ضرورت اجاگر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں کورونا وائرس انسانی زندگیاں نگل رہا ہے مگر تمام ضرورت مندوں تک ویکسین کی فراہمی کا نہ تو کوئی مربوط نظام نظر آ رہا ہے نہ ایسے معیارات پر عملی اتفاق محسوس ہوتا ہے جن میں ویکسین کے فوائد کا ڈیٹا ملحوظ رکھ کر لوگوں کو سفر سمیت ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عالمی سطح پر حفاظتی ویکسین کی حکمت عملی بنانے اور ویکسین بنانے والے ممالک کو ایسی ہنگامی ٹاسک فورس میں یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو عالمی ادارہ صحت، گیوی ویکسین الائنس اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد سے فارما سیوٹیکل کمپنیوں اور اہم صنعتی اداروں کو متحرک کرے۔

یہ ایک مناسب تجویز ہے مگر کیا ایسے ماحول میں یہ بیل جلد منڈھے چڑھنے کی امید کی جا سکتی ہے جب کمرشل ازم کا آسیب بہت سی قدروں اور انسانی ضرورتوں پر حاوی محسوس ہو رہا ہے۔ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھنے والے پاکستانیوں پر ایک خاص کمپنی کی ویکسین لگوانے کی شرط کے تناظر میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا یہ ٹویٹ عالمی ادارہ صحت کی توجہ کا بطور خاص متقاضی ہے کہ شہریوں کی صحت کا معاملہ عالمی تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ کسی ویکسین کو تسلیم کرنا عالمی ادارے کا کام ہے جبکہ انفرادی ممالک کے فیصلوں اور اعلانات سے انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اس باب میں عالمی ادارہ صحت کا موقف سامنے آنا اور پالیسی میں ابہام سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ازلہ کیا جانا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریبوں کے روندے جانے کا خطرہ

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ امیر ممالک کے ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریبوں کے ’روندے‘ جانے کا خطرہ ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ جب امیر ممالک کورونا کی ویکسین متعارف کرنے جا رہے ہیں، ایسے میں غریبوں کے نظر انداز ہونے کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹیڈروس نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے ایک سال بعد دنیا کو امید کی کرن نظر آئی ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسی دنیا ناقابل قبول ہے جہاں امیر اور طاقتور طبقے کی ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریبوں اور پسماندہ افراد کو روند دیا جائے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کو عالمی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حل میں سب کو برابر کا شریک ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو پہلے ہی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ’نہ تو ٖغربت کے لیے کوئی ویکسین موجود ہے، نہ بھوک کے لیے۔ عدم مساوات کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے، اور نہ ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے۔‘ اقوام متحدہ کے تعاون سے کونسورشیم تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد ویکسین کی دنیا بھر میں مساوی تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق سائنسی دعوؤں کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ویکسین کے نتائج ممکنہ طور پر ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر برائے یورپ ڈاکٹر ہانس کلیوج نے کہا تھا کہ ابتدائی مراحل میں ویکسین کی سپلائی انتہائی محدود ہونے کے باعث ممالک کو اپنی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر رسیدہ افراد اور طبی عملے کے علاوہ پیچیدہ امراض کے شکار افراد کو سب سے پہلے ویکسین لگنی چاہیے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے امریکی دواساز کمپنی فائزر کی جانب سے تیار کی جانے والی کورونا ویکسین استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد برطانیہ ویکیسن استعمال کرنے کی اجازت دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

بشکریہ اردو نیوز

کرونا وائرس سے بچاؤ میں ماسک کا استعمال کتنا فائدہ مند ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک کا استعمال اسی وقت زیادہ موثر ہے جب ہر کسی نے پہن رکھا ہو، چاہے وہ مریض ہو یا صحت مند شخص۔ کچھ تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر ایسے افراد رابطے میں آتے ہیں جن میں سے ایک مریض اور دوسرا صحت مند ہو اور دونوں نے ہی ماسک پہنا ہوا ہو تو وائرس کی منتقلی کا امکان 90 فی صد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے۔ ماسک کا استعمال وائرس اور جراثیموں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا ہے۔ کرونا یا کووڈ-19 بھی ایک ایسا ہی وبائی مرض ہے جو اب تک دستیاب معلومات اور شواہد کے مطابق ایسے ماحول میں سانس لینے سے پھیلتا ہے جہاں اس وبا کا وائرس موجود ہو۔ کئی وبائیں اور امراض ہوا کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ جب اس طرح کے مرض میں مبتلا کوئی شخص، سانس لیتا ہے، یا کھانستا اور چھینکتا ہے تو اس کے جسم میں موجود جراثیم فضا میں پھیل جاتے ہیں اور پھر جب کوئی صحت مند شخص اس جگہ سانس لیتا ہے تو وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر اسے بیمار کر دیتے ہیں۔

کرونا ہوا سے پھیلنے والے دوسرے وبائی امراض سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ وائرس زیادہ عرصے تک زندہ رہتا ہے، زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، زیادہ ہلاکت خیز ہے اور اس سے صحت یاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ کرونا وائرس کا مریض جب بولتا ہے، کھانستا ہے، چھینکتا ہے، یا سانس لیتا ہے تو اس کے جسم سے انتہائی مختصر آبی خارج ہوتے ہیں جو ہوا میں تقریباً چھ فٹ تک پھیل سکتے ہیں۔ اور وہاں سانس لینے والے شخص کے جسم میں داخل ہو کر اسے بیمار کر سکتے ہیں۔ ہوا سے پھیلنے والے امراض سے تحفظ میں ماسک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسی جگہوں پر جانے والوں کو، جہاں لوگ موجود ہوں، اپنے چہرے پر ماسک پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو ماسک پہننے کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جا چکا ہے اور ماسک نہ پہننے والوں پر جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں کئی طرح کے ماسک موجود ہیں۔ جن میں نیلے رنگ کے عام ماسک، کپڑے کے بنے ہوئے ماسک، ڈیزائنر کردہ ماسک، این 95 ماسک اور اینٹی وائرل ماسک شامل ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کونسا ماسک زیادہ مؤثر ہے؟
ماسک کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ماسک پہننے کی اصل ضرورت مریض کو ہوتی ہے تاکہ اس کے سانس لینے سے وبا کے جراثیم فضا میں نہ پھیلیں۔ اگر مریض ماسک پہن لے تو وائرس کی منتقلی کا امکان نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ جب کہ ایک صحت مند شخص کے ماسک پہننے سے وائرس لگنے کے خطرے میں کمی تو آتی ہے لیکن یہ سطح کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک کا استعمال اسی وقت زیادہ موثر ہے جب ہر کسی نے پہن رکھا ہو، چاہے وہ مریض ہو یا صحت مند شخص۔ کچھ تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر ایسے افراد رابطے میں آتے ہیں جن میں سے ایک مریض اور دوسرا صحت مند ہو اور دونوں نے ہی ماسک پہنا ہوا ہو تو وائرس کی منتقلی کا امکان 90 فی صد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے۔

کونسا ماسک بہتر ہے؟
ماسک کا بنیادی کام اس ہوا کو فلٹر کرنا ہے جو سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل یا خارج ہوتی ہے۔ سانس لینے سے قریبی فضا میں جسم سے خارج ہونے والے آبی بخارات پھیل جاتے ہیں۔ یہ ننھے ننھے آبی قطرے مختلف حجم کے ہوتے ہیں۔ وائرس یا جراثیم انہی بخارات میں موجود ہوتا ہے۔ بڑے سائز کے بخارات زیادہ فاصلہ طے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے جب کہ بہت چھوٹے آبی قطرات نسبتاً دور تک جا سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ فاصلہ عموماً چھ فٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔ مارکیٹ میں دستیاب ماسک کی کارکردگی کو اس حوالے سے پرکھا جاتا ہے کہ وہ کس سائز کے آبی ذرات کو روک سکتے ہیں۔ عام ماسک بڑے آبی ذرات کو تو روک لیتے ہیں لیکن بہت چھوٹے ذرات کے سامنے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ این 95 ٹائپ ماسک میں خصوصی فلٹر لگایا جاتا ہے اور ماسک تیار کرنے والے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ انتہائی چھوٹے ذرات کو 95 فی صد تک روک سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر میں تیار کردہ ماسک بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم باریک کپڑا جراثیموں اور وائرس کے خلاف زیادہ مؤثر نہیں ہوتا، البتہ کپڑا جتنا موٹا ہو گا وہ اتنا ہی مؤثر ہو گا۔ ماسک کے ڈیزائن اور ساخت سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ماسک میں یہ چیز اہمیت رکھتی ہے کہ وائرس اور جراثیموں کو روکنے کی اس کی اہلیت کتنی زیادہ ہے۔ اگر ماسک باریک ہو گا تو وہ چھوٹے جراثیمی ذرات کو گزرنے دے گا۔ لیکن اگر کپڑے یا ماسک میں استعمال ہونے والے میٹریل کے ریشے ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں گے اور ان میں فلٹر کی تہہ بھی ہو گی تو وہ وائرس کو روک لے گا۔  مارکیٹ اینٹی وائرس ماسک بھی مل رہے ہیں، اس میں ماسک پر ایک خاص قسم کی کوٹنگ ہوتی ہے جو وائرس کے خلاف مدافعت کا کام کرتی ہے۔ یہ ماسک کہیں زیادہ مہنگے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں تک کرونا کا تعلق ہے تو اکیلا ماسک اس کے سامنے بے بس ہے۔ ماسک آپ چاہے جو بھی پہنیں، سماجی فاصلہ قائم رکھنا، دن میں متعدد بار صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا اور اپنے چہرے بالخصوص ناک، منہ اور آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے بار بار چھونے سے پرہیز کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بصورت دیگر ماسک پہننا زیادہ مؤثر نہیں ہو گا کیونکہ کرونا کا وائرس ہاتھوں سے چپک کر آپ کے چہرے تک پہنچ کر نظام تنفس میں داخل ہو سکتا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

کیا سائنسدانوں نے کورونا ویکسین کا سستا متبادل دریافت کر لیا ہے ؟

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے کام کیا جارہا ہے، مگر اب تک اس حوالے سے کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔ اس وقت زیادہ توجہ ویکسینز پر دی جارہی ہے مگر ابھی ان کی کامیابی کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے جبکہ آغاز میں ان کی سپلائی بھی محدود ہو گی۔ خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک تک ان کی رسائی بہت مشکلہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کی جانب سے اس کے ایک آسان اور کم قیمت متبادل کی تیاری میں پیشرفت کی گئی ہے۔ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے ایک نتھنوں کے اسپرے یا نیسل اسپرے کو تیار کیا جارہا ہے، جو جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی پھیپھڑوں کے تھری ڈی ماڈل میں کووڈ 19 کی روک تھام میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔ یہ لیپو پیپ ٹائڈ (لپڈ اور پیپ ٹائڈ کا امتزاج) کورونا وائرس کی روک تھام متاثرہ خلیے کی جھلی میں وائرل پروٹین کو بلاک کر کے کرتا ہے۔

یہ فوری طور پر کام کرتا ہے اور اس کا اثر کم از کم 24 گھنٹے تک رہتا ہے، محققین کے مطابق یہ کم قیمت، طویل عرصے تک چلنے والا اسپرے ہے، جس کے لیے فریج کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ مگر محققین کا کہنا تھا کہ اس اسپرے کو عوام تک پہنچنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے، کیونکہ پہلے انسانی کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہو گی جبکہ بڑے پیمانے پر پروڈکشن بھی درکار ہو گی۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ برق رفتاری سے مزید ٹیسٹنگ کے ذریعے پیشرفت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ محققین کو توقع ہے کہ اس کے ذریعے وہ دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگوں کو تحفظ فراہم کر سکیں گے جہاں بڑے پیمانے پر کووڈ 19 ویکسینیشن مشکل ہو گی۔ محققین کے خیال میں ایسے افراد جو ویکسینز سے گھبراتے ہیں یا جن پر ویکسین کارآمد نہیں ہو گی، ان کے لیے اس اسپرے کا روزانہ استعمال بیماری سے انہیں بچائے گا۔ اس طرح کے ایک اسپرے پر آسٹریلیا میں کام کیا جارہا ہے جس کے نتائج جانوروں پر اب تک حوصلہ افزا رہے ہیں۔

آسٹریلین محققین کے اس دوا جیسے مالیکیول کو ناک میں اسپرے کی شکل میں استعمال کیا جاسکے گا جس کے ابتدائی کام کے نتائج ستمبر میں جاری کیے گئے تھے۔ ان نتائج کے مطابق یہ اسپرے نتھوں کے خلیات سے رابطہ قائم کر کے جسم کے قدرتی مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے۔ ویکسینز کے نتیجے میں مدافعتی ردعمل سے اینٹی باڈیز اور ٹی سیلز کسی مخصوص جراثیم کے خلاف متحرک ہوتے ہیں، مگر قدرتی مدافعتی نظام متعدد اقسام کے جراثیموں کے خلاف کام کرتا ہے۔ اینا ریسیپٹری نامی بائیو ٹیک کمپنیی کے ماہرین کی جانب سے اس اسپرے پر کام کیا جارہا ہے جو ایک دفاعی ڈھال کی طرح کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپرے اینا 051 سے قدرتی مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے جو وائرس کو خلیات کے اندر نقول بنانے سے روکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور محققین کا کہنا تھا کہ اسپرے کو فیریٹ نامی جانوروں کے 3 گروپس کے ناکوں پر مختلف مقدار میں استعمال کیا گیا۔

ہر گروپ میں 6 فیریٹ تھے اور ایک چوتھا گروپ بھی تھا جسے اسپرے کی بجائے پلکبو دیا گیا۔ اس کے 5 دن بعد ان جانوروں کو کورونا وائرس سے متاثر کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ جن کو اسپرے استعمال کرایا گیا تھا ان میں وائرل آر این اے یا وائرس کے جینیاتی مواد کی مقدار چوتھے گروپ کے مقابلے میں 96 فیصد کم تھی۔ ابھی انسانوں پر اس کی آزمائش ہونی ہے تاکہ دریافت کیا جاسکے کہ انسانوں میں یہ وائرس کے خلاف موثر اور محفوظ ہے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اینا 051 پر مشتمل اسپرے حفاظتی قدم کے طور پر ہفتے میں 2 بار استعمال کیا جاسکے گا۔ خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو کورونا وائرس کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوں۔ ماہرین نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس سے وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شدت اور دورانیے کو کم رکھنے میں مدد مل سکے گی جبکہ ناک میں وائرل ذرات کی تعداد بھی کم ہو گی۔

بشکریہ ڈان نیوز