سعودی عرب میں مقیم غیرملکیوں کے لیے سفر کے نئے ضوابط

سعودی محکمہ شہری ہوابازی نے پابندی والے ملکوں سے مملکت میں مقیم غیرملکیوں کے سفر کے نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔ سبق ویب سائٹ کے مطابق محکمہ شہری ہوابازی کا کہنا ہے کہ پابندی والے گیارہ ملکوں سے مقیم غیرملکیوں کو سعودی عرب براہ راست آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مسافروں کے مملکت پہنچنے پر انہیں ہوٹل قرنطینہ میں نہیں رکھا جائے گا۔ مملکت آنے سے قبل کسی اور ملک میں قیام کی ضرورت نہیں ہو گی بشرطیکہ مقیم غیرملکی سعودی عرب سے نکلنے سے قبل مملکت میں ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہوں۔ محکمہ شہری ہوابازی نے بیان میں کہا کہ تمام فضائی کمپنیوں کو نئے ضوابط سے مطلع کر دیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ سب اس کی پابندی کریں۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ عمل درآمد میں جو بھی فضائی کمپنی کوتاہی کرے گی تو اس سے ایسا کرنے پر بازپرس بھی ہو گی۔ محکمہ شہری ہوابازی نے کہا کہ ان زمروں میں شامل کسی کو بھی براہ راست سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایسے مسافر جنہوں نے مملکت کے اندر اور باہر ویکسین کی ایک خوراک لی ہو۔ مملکت کے باہر ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے والے افراد اور ایسے افراد جنہوں نے ایس ویکیسن لگوائی ہو جس کی مملکت میں منظوری نہیں دی گئی۔

بشکریہ اردو نیوز

پاکستان میں کووڈ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں، کسی غلطی کو کیسے درست کروائیں؟

اس وقت جب پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسینیشن کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے، وہاں لوگوں کے ذہنوں میں موجود سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح ویکسینیشن کا ثبوت یا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈان نے اس حوالے سے لوگوں کی مدد کے لیے ایک سادہ گائیڈ کے ذریعے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے حصول اور اس دوران کچھ غلط ہونے پر کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ کے بارے میں بتایا ہے۔

میں کس طرح سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کروں؟
کووڈ 19 ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے کے لیے نیشنل امیونزائزیشن منیجمنٹ سسٹم (ایم آئی ایم ایس) پورٹل پر جائیں اور وہاں شناختی کارڈ پر موجود تفصیلات کا اندراج کریں۔ اس سرٹیفکیٹ کی فیس 100 روپے ہے جو ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا کی جاسکتی ہے۔ ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ جزوی ویکسینیشن (یعنی ایک خوراک کا استعمال) کی صورت میں بھی سرٹیفکیٹ کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے کسی مرکز پر جاکر بھی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد شناختی کارڈ پر موجود اپنا نام اور قومیت کا اندراج کریں۔

اس کے بعد ادائیگی کے طریقہ کار کا انتخاب کریں۔

ادائیگی کے بعد آپ ایک رسید کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اس سے اپنی تفصیلات کی تصدیق کریں اور بس، آپ کا سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کے لیے تیار ہے۔

اگر آپ سرٹیفکیٹ کا پرنٹ دوبارہ نکالنا چاہتے ہیں تو این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر جاکر دوبارہ اپنی تفصیلات کا اندراج کریں۔ تاہم دوبارہ پرنٹ نکانے پر نام اور قومیت کے اندراج کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ویب سائٹ براہ راست ری پرنٹ آپشن کی جانب لے جائے گی۔

میں اپنی تفصیلات کیسے تبدیل کروں؟
این آئی ایم ایس کے مطابق آپ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ میں مخصوص تفصیلات کو تبدیل کر سکتے ہیں جیسے نام کے ہجے، پاسپورٹ نمبر یا قومیت میں غلطیوں کو ویب سائٹ پر جا کر دوبارہ تفصیلات کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے پر ویب سائٹ آپ کو ایک پیج پر لے جائے گی جہاں سرٹیفکیٹ ڈیٹا کی تفصیلات کی تدوین کا آپشن ہو گا اور آپ ان کو درست کر سکیں گے۔ باقی پراسیس وہی پرانا ہو گا یعنی شناختی کارڈ کی تفصیلات کا اندراج کریں، 100 روپے فیس ادا کریں اور سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

دیگر غلطیاں کیسے ٹھیک کریں؟
تاہم کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی ہے کہ سرٹیفکیٹ میں دیگر تفصیلات جیسے کونسی ویکسین استعمال ہوئی اس کا نام یا ویکسنیشن کی تاریخ درست نہیں۔ کچھ افراد کی جانب سے یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ انہیں اب تک ایک خوراک فراہم کی گئی ہے مگر این آئی ایم ایس سرٹیفکیٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔ کچھ نے یہ شکایت کی ہے کہ انہیں دوسری خوراک تو مل گئی ہے مگر ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے پر سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکے۔ اس حوالے سے ڈان کی جانب سے وزارت صحت (این ایچ ایس) سے رابطہ کرنے پر این ایچ ایس کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ اب تک کی پنچ آپریٹرز کی جانب سے کی گئی غلطیوں کی سیکڑوں شکایات مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان غلطیوں کی تصیح کے لیے لوگ اس ویکسنیشن مرکز پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں جہاں ان کو ویکسین لگائی گئی یا این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر شکایت درج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ ہیلپ لائن 1166 سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ڈیٹا انٹری پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ آپریٹرز ان کے سامنے ہی سسٹم میں ڈیٹا کا اندراج کرتے ہیں۔ وزارت صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید نے بتایا کہ صوبے کے ہر ویکسینیشن مرکز میں کمپلینٹ ڈیسکس موجود ہیں، ڈیٹا انٹری میں غلطی پر شہریوں کو ان ڈیسکس سے روجع کر کے ان کو درست کرانا چاہیے۔

بشکریہ ڈان نیوز

ویکسی نیشن کا عالمی پلان ضروری ہے

ایسے عالم میں کہ کورونا وبا کو سامنے آئے ڈیڑھ برس سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اس سے بچائو کی تدابیر اور ویکسین لگانے کی ضرورت سے دنیا کے متعدد حصوں میں غفلت وہ افسوسناک حقیقت ہے جس پر ایک جانب پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کو متوجہ کیا ہے، دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گرتریس یورپی یونین پارلیمنٹ سے خطاب میں عالمی ویکسی نیشن پلان کی ضرورت اجاگر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں کورونا وائرس انسانی زندگیاں نگل رہا ہے مگر تمام ضرورت مندوں تک ویکسین کی فراہمی کا نہ تو کوئی مربوط نظام نظر آ رہا ہے نہ ایسے معیارات پر عملی اتفاق محسوس ہوتا ہے جن میں ویکسین کے فوائد کا ڈیٹا ملحوظ رکھ کر لوگوں کو سفر سمیت ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عالمی سطح پر حفاظتی ویکسین کی حکمت عملی بنانے اور ویکسین بنانے والے ممالک کو ایسی ہنگامی ٹاسک فورس میں یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو عالمی ادارہ صحت، گیوی ویکسین الائنس اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد سے فارما سیوٹیکل کمپنیوں اور اہم صنعتی اداروں کو متحرک کرے۔

یہ ایک مناسب تجویز ہے مگر کیا ایسے ماحول میں یہ بیل جلد منڈھے چڑھنے کی امید کی جا سکتی ہے جب کمرشل ازم کا آسیب بہت سی قدروں اور انسانی ضرورتوں پر حاوی محسوس ہو رہا ہے۔ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھنے والے پاکستانیوں پر ایک خاص کمپنی کی ویکسین لگوانے کی شرط کے تناظر میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا یہ ٹویٹ عالمی ادارہ صحت کی توجہ کا بطور خاص متقاضی ہے کہ شہریوں کی صحت کا معاملہ عالمی تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ کسی ویکسین کو تسلیم کرنا عالمی ادارے کا کام ہے جبکہ انفرادی ممالک کے فیصلوں اور اعلانات سے انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اس باب میں عالمی ادارہ صحت کا موقف سامنے آنا اور پالیسی میں ابہام سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ازلہ کیا جانا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

پاک ویک – پاکستانی کووڈ ویکسین

قومی ادارہ ٔصحت کی جانب سے دوست ملک چین کے تعاون سے کورونا ویکسین مقامی طور پر تیار کئے جانے کی خبر خوش آئند ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی تیار کردہ ویکسین کو ’’پاک ویک‘‘کا نام دیا گیا ہے جو چینی ماہرین کی زیر نگرانی چینی خام مال سے تیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ ویکسین کی ڈوزز تیار کی جاچکی ہیں اور اس سلسلے میں چین کی دوا ساز کمپنی ’’کین سائنو‘‘ مزید 10 لاکھ ڈوزز کا خام مال فراہم کر چکی ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک تقریب میں ’’پاک ویک‘‘ کی مقامی سطح پر تیاری کی خوشخبری سنائی جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ گویا پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے کورونا ویکسین دریافت کر لی ہے جبکہ حقیقتاً چینی کمپنی ’’کین سائنو‘‘ پاک ویک کا خام مال گاڑھے سیال کی شکل میں پاکستان کو فراہم کرے گی جسے انجکشن کی شکل میں پاکستان میں پیک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت سمیت یورپ اور امریکہ میں کورونا ویکسین نہ صرف بڑے پیمانے پر تیار کی جارہی ہے بلکہ بیرون ملک ایکسپورٹ بھی کی جارہی ہے۔ ’’پاک ویک‘‘ کی مقامی سطح پر تیاری سے قبل پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے ویکسین کی خریداری میں دشواری کا سامنا تھا جس کے باعث ملک میں ویکسی نیشن مہم سست روی کا شکار ہے۔ بلومبرگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں کورونا ویکسی نیشن کی رفتار کو سست ترین قرار دیتے ہوئے یہ پیش گوئی کی کہ اگر پاکستان میں ویکسین لگانے کی حالیہ رفتار اسی طرح برقرار رہی تو 75 فیصد آبادی کو ویکسین لگانے کیلئے اگلے 10 برس درکار ہوں گے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی بلومبرگ کی اِس رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسی نیشن کی مہم اسی طرح سست روی سے جاری رہی تو مجموعی آبادی کی ویکسی نیشن میں 10 سال سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ویکسی نیشن کی شرح ایک فیصد، بھارت میں 9 فیصد، تھائی لینڈ میں 52 فیصد، نیپال میں47 فیصد، ترکی میں 63 فیصد اور افریقی یونین میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترکی، برازیل، فرانس، جرمنی اور اٹلی کو اپنی پوری آبادی کو کورونا ویکسی نیشن لگانے میں مزید ایک سال درکار ہو گا جبکہ برطانیہ، امریکہ، اسرائیل اور چلی سمیت دیگر ممالک ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنی آبادی کے 75 فیصد حصے کو کورونا ویکسی نیشن لگا سکیں گے۔ ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ویکسی نیشن مہم میں تیزی لائے بصورت دیگر آنے والے وقت میں اس کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان میں ویکسی نیشن مہم کی سست روی کی اہم وجہ ویکسین کی عدم دستیابی اور ہماری ویکسی نیشن مہم کا تمام تر دارومدار چین اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے عطیات میں ملنے والی ویکسین پر رہا۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک کورونا سے بچائو کی 80 لاکھ سے زیادہ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں جو میرے خیال میں 22 کروڑ کی ملکی آبادی کو دیکھتے ہوئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اس سال بجٹ میں کورونا ویکسین کیلئے 20 ارب روپے مختص کئے ہیں اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ یومیہ 2 لاکھ ویکسی نیشن کا ہدف پورا کیا جائے گا۔

اگر حکومتی دعوے کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو پوری آبادی کی ویکسی نیشن میں 3 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہو گا۔ پاکستان میں کورونا ویکسی نیشن کی سست روی کی ایک وجہ ویکسین کے بارے میں پھیلائی گئی افواہیں بھی ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر یہ افواہ بھی سرگرم ہے کہ کورونا ویکسین لگانے والے افراد آئندہ دو سال تک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جبکہ کچھ مذہبی اسکالرز بھی ویکسین مہم کے خلاف ہیں۔ افسوس کہ حکومت ویکسین کے بارے میں پھیلائے گئے منفی پروپیگنڈے پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ ایک طرف جہاں ویکسی نیشن کا عمل تیز کیا جائے، وہاں افواہیں پھیلانے والوں کیخلاف سخت قوانین بھی بنائے جائیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سندھ حکومت نے اپنے ملازمین کی تنخواہ کا حصول ویکسی نیشن سے مشروط کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کا پرائیویٹ سیکٹر بھی ملازمین کی تنخواہیں ویکسی نیشن سے مشروط کرے۔

چین نے ہمیشہ برے وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ ایسے مشکل وقت میں جب پاکستان کو یورپ اور امریکہ کی دوا ساز کمپنیوں سے کورونا ویکسین کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا تھا جس سے ملک میں ویکسی نیشن مہم سست روی کا شکار تھی، چین نے پاکستان کو کورونا کی جنگ سے نبردآزما ہونے کیلئے ویکسین جیسا بڑا ہتھیار فراہم کر کے ایک بار پھر دوستی نبھائی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ غیر ملکی ویکسین کی 2 ڈوزز کے مقابلے میں ’’پاک ویک‘‘ کا کورس صرف ایک ڈوز پر مشتمل ہے جس کی مقامی سطح پر پیکیجنگ سے امپورٹڈ ویکسین پر ہمارا انحصار بڑی حد تک کم ہو جائے گا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا ہدف ماہانہ 30 لاکھ ڈوز ز تیار کرنا ہے۔ ایسے میں جب مقامی طور پر تیار کردہ ’’پاک ویک‘‘ ملک میں دستیاب ہے، ویکسی نیشن مہم میں تیزی لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آنے والے وقت میں ’’پاک ویک‘‘ ویکسین کا خام مال بھی پاکستان میں تیار کیا جائے۔

مرزا اشتیاق بیگ

بشکریہ روزنامہ جنگ