انٹارکٹیکا کے بدلتے حالات پوری دنیا کے لیے خطرہ

انٹارکٹیکا کو طویل عرصے تک ایک ناقابل رسائی اور نہ بدلنے والی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ برف سے ڈھکا یہ براعظم اور اس کے اردگرد کا جنوبی سمندر تیزی اور تشویش ناک انداز میں بدل رہا ہے۔ سمندری برف تیزی سے کم ہو رہی ہے، برفانی تودے (جنہیں آئس شیلف کہا جاتا ہے) پہلے سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، براعظم کو ڈھانپنے والی برفانی چادریں خطرناک حد کے قریب پہنچ رہی ہیں اور زمین کے اہم سمندری دھاروں کے سست پڑنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تیز ہوتی تبدیلیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں اور مستقبل میں ان کے کہیں زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس تحقیق کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے برف پر فیلڈ ورک کے دوران یہ چونکا دینے والی تبدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہ تبدیلیاں صرف یہاں کی جنگلی حیات کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ جو کچھ انٹارکٹیکا میں ہو رہا ہے، وہ آنے والی نسلوں تک سمندر کی سطح بلند ہونے اور موسم میں شدید بگاڑ کی صورت میں پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔

اچانک تبدیلی کیا ہے؟
سائنس دان اچانک تبدیلی کو ایسے ماحولیاتی یا موسمیاتی بگاڑ کے طور پر بیان کرتے ہیں جو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو۔ یہ خطرناک اس لیے بھی ہے کہ یہ تبدیلیاں خود کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب سمندری برف پگھلتی ہے تو سمندر زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جس سے مزید برف پگھلتی ہے۔ ایک بار یہ عمل شروع ہو جائے تو انسانوں کے لیے قابل ذکر وقت میں اسے پلٹنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ بتدریج تبدیلی ہی لائے گا مگر انٹارکٹیکا میں ہم کچھ اور ہی دیکھ رہے ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں یہاں انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی حدت کا اثر آرٹک کے مقابلے میں کم تھا لیکن تقریباً 10 سال پہلے صورت حال اچانک بدلنے لگی۔

سمندری برف کی کمی اور اس کے اثرات
انٹارکٹیکا کے قدرتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ایک نظام بگڑتا ہے تو باقی پر بھی اثر پڑتا ہے۔ 2014 سے انٹارکٹیکا کے گرد سمندری برف تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس کا رقبہ اب آرٹک کی برف کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے سکڑ رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں پچھلی صدیوں کی قدرتی حدوں سے کہیں آگے نکل چکی ہیں۔ سمندری برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں بھیجتی ہے۔ جب برف کم ہو جائے تو گہرا سمندر زیادہ حرارت جذب کرتا ہے۔ اس سے برف پر انحصار کرنے والے جانور، جیسے ایمپرر پینگوئن خطرے میں آ جاتے ہیں۔ کم برف کا مطلب یہ بھی ہے کہ انٹارکٹیکا کی آئس شیلف لہروں کے سامنے زیادہ کمزور ہو جاتی ہیں۔

اہم سمندری دھاروں کی سست روی
برف کے پگھلنے سے انٹارکٹیکا کے گرد گہرے سمندر کے دھارے بھی سست پڑ رہے ہیں۔ یہ دھارے زمین کے موسم کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے اور حرارت کو تقسیم کرتے ہیں۔ شمالی نصف کرے میں اٹلانٹک کے دھارے پہلے ہی سست پڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں اور اب جنوبی سمندر میں بھی یہی خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ یہ دھارے اگر مزید سست ہو گئے تو سمندر کم آکسیجن اور کم غذائی اجزا جذب کرے گا، جس سے سمندری حیات اور موسم دونوں بری طرح متاثر ہوں گے۔

پگھلتی برف
مغربی انٹارکٹک آئس شیٹ اور مشرقی انٹارکٹیکا کے کچھ حصے تیزی سے برف کھو رہے ہیں، جس سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد سے برف پگھلنے کا عمل چھ گنا بڑھ چکا ہے۔ ویسٹ انٹارکٹک آئس شیٹ میں اتنی برف ہے کہ اگر یہ مکمل پگھل جائے تو دنیا بھر میں سمندر کی سطح پانچ میٹر سے زیادہ بلند ہو جائے گی۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ یہ برفانی چادر کسی بھی وقت گر سکتی ہے، چاہے درجہ حرارت میں مزید اضافہ نہ بھی ہو۔ دنیا میں 75 کروڑ سے زیادہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں بلند ہوتا سمندر ان کی زندگیوں اور انفراسٹرکچر کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام پر دباؤ
انٹارکٹیکا کے سمندری اور زمینی ماحولیاتی نظام بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر یقینی برفانی حالات، آلودگی اور نئی انواع کی آمد اس کے توازن کو بگاڑ رہی ہے۔ ان نظاموں کے تحفظ کے لیے انٹارکٹیکا معاہدہ اہم ہے، جو محفوظ علاقے بناتا اور انسانی سرگرمیوں پر پابندیاں لگاتا ہے۔ لیکن ایمپرر پینگوئن اور لیپرڈ سیل جیسی نسلوں کو بچانے کے لیے دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ضروری ہے۔

مستقبل کی تصویر
انٹارکٹیکا کو اکثر مستقل اور الگ تھلگ براعظم سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ سائنس دانوں کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ یہ اچانک تبدیلیاں دہائیوں سے بڑھتی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہیں۔ ان سے بچنے کا واحد راستہ اخراج کو تیزی سے کم کر کے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کے اندر روکنا ہے۔ مگر کچھ تبدیلیاں اب ناقابل واپسی ہو چکی ہیں۔ حکومتوں، کاروباری اداروں اور ساحلی برادریوں کو اس نئے مستقبل کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ فیصلے اب یہ طے کریں گے کہ ہم ناقابل واپسی تباہی کا سامنا کریں گے یا پہلے سے موجود تبدیلیوں کے ساتھ بہتر طریقے سے جینا سیکھیں گے۔ 

نوٹ: یہ تحریر دی کنورسیشن میں چھپی تھی اور اس کا ترجمہ کری ایٹو کامنز کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

تم کو بھی لے ڈوبیں گے

کرہِ ارض پر پائی جانے والی نباتات و حیاتیات و جمادات انسانی وجود سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور اگر ساڑھے چار ارب سال پر محیط بقائی کیلنڈر کی جمع تقسیم کی جائے تو اس حساب سے انسان کو یہاں موجودہ شکل میں وجود پذیر اور آباد ہوئے محض چند گھنٹے ہی گذرے ہیں۔ اتنی سی دیر میں ہی اس نے کرہِ ارض کی جمی جمائی زندگی اور ارتقائی زنجیر کا تیا پانچا کر کے رکھ دیا ہے اور اب بھی خجل ہونے کے بجائے یہ سوچ رہا ہے کہ اگلی ایک صدی میں جب یہ سیارہ اس کی حرکتوں کے سبب اتنا گرم ہو جائے گا کہ زیست کرنا دوبھر ہو جائے۔ تب وہ کس سیارے کا رخ کرے گا ؟ چونکہ انسان اس زمین کی تمام مخلوق کے درمیان نووارد ترین ہے۔ چنانچہ قاعدے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنا بقائی نظریہ اربوں برس سے جاری حیاتیاتی نظائر کی روشنی میں ترتیب دے کر اردگرد کی وسیع حیاتیاتی برادری کا ماحول دوست کردار بن جاتا ہے۔ مگر انسان نے اس کرہ ِ ارض کو رواں رکھنے والے فطری اصولوں کو حقیر سمجھ کے ٹھکراتے ہوئے خود ساختہ اصول دیگر تمام مخلوق پر لاگو کرنے کی غیر فطری کوشش کی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ 

تازہ بری خبر یہ ہے کہ انسان عالمی درجہِ حرارت کو دو ہزار تیس تک کم ازکم ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ تک کم کرنے کی جس کوشش کا وعدہ کر بیٹھا ہے۔ اس پر خود انسان نے ہی سب سے کم کان دھرا۔ چنانچہ درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری کا اضافہ اندازوں سے بہت جلد یعنی دو ہزار ستائیس تک محسوس ہونے لگے گا۔ گویا بقا کی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی ٹرین میں سوار انسان شاید ہی ہنگامی زنجیر کھینچ پائے۔  درجہ حرارت میں ہماری حرکتوں کے سبب ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ میں اضافے کا مطلب مزید سیلاب، مزید خشک سالی، موسموں کا پہلے سے بڑھ کے باؤلا پن اور پورے حیاتیاتی بقائی نظام کی زنجیر کا خطرناک حد سے بھی اوپر تک کمزور ہونا شامل ہے۔ اسے کہتے ہیں ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کے جس ستون پر انسانی تہذیب کھڑی ہے۔ اب وہ ستون ہی لرز رہا ہے۔ آٹھ میں سے تین ارب انسانوں کی بیس فیصد پروٹین ضروریات محض مچھلی سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی فیصد انسانی غذا پودوں سے حاصل ہوتی ہے اور کم وبیش اتنے ہی انسان جڑی بوٹیوں سے تیار ادویات استعمال کرتے ہیں، اگر مچھلی ، پودے اور جڑی بوٹیاں ختم ہو جائیں تو سوچیے کیا ہو گا ؟

اسی لیے کہتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ دراصل اس بقائی زنجیر کا تحفظ ہے جس سے خود ہماری زندگی بندھی ہوئی ہے، مگر ہم اتنے ڈھیٹ ہیں کہ احساس تک نہیں کہ کم از کم پچھلے دو سو برس میں ہماری لالچ اور مستقبل کو جان بوجھ کے نظرانذاز کرنے کی عادت نے اس کرہِ ارض کے پچھتر فیصد رقبے اور چھیاسٹھ فیصد سمندری حیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ زمین پر کم ازکم آٹھ کروڑ اقسام کے پودے اور جانور موجود ہیں، مگر ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اور کتنی حیات ہے جو اب تک دریافت ہونے کی منتظر ہے۔ اور کون کون سے ان گنت پودے ، چرند ، پرند اور سمندری مخلوق ہے جس کے وجود سے اب تک ہم واقف ہی نہیں ہو پائے، اور جتنی مخلوق دریافت ہو چکی ہے اس سے دوستی کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کے بجائے ہم باہوش و حواس اسے بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا
اس کی تشریح یوں ہے کہ بقائی زنجیر سے صحرا اور سمندر اور پہاڑ اور جنگل اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ کسی ایک کو چھیڑنے کا مطلب زندگی کی پوری عمارت کو ہلانا ہے۔ 

مثلاً افریقہ کے صحراِ اعظم سے جو ریت اڑ کے فضا میں شامل ہوتی ہے۔ ہر سال ہوائیں اس میں سے بائیس ہزار ٹن ریت کے ذرات تین ہزار میل پرے واقع ایمیزون کے جنگلات پر برساتی ہیں اور پھر یہ ریتیلی برسات ایمزون کو تازہ حیاتیاتی جلا بخشتی ہے۔ اس وقت معلوم نباتات میں سے ایک ملین پودے ، پھول اور حیاتیاتی اقسام بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں، اور ہم کہ جو حیاتیاتی تنوع کے تنے پر بیٹھے ہیں،اس تنے کو ہی تیزی سے کاٹ رہے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ عالمی معیشت کا آدھا دار و مدار قدرتی وسائل پر ہے۔ ایک ارب سے زائد انسانوں کی روزی روٹی جنگلات سے وابستہ ہے۔ ہم اور ہماری ’’ نام نہاد ترقی ’’ جتنی بھی کاربن خارج کرتی ہے۔ اس کا آدھا یہی جنگلات اور سمندر جذب کر کے ہمیں ہم سے محفوظ بنانے کا اضافی کارِ مسلسل کر رہے ہیں۔ مگر ہماری حرکتوں کے سبب یہ کاربن جذب کرنے والی پچاسی فیصد دلدلیں اور مینگرووز (تمر ) کے جنگلات غائب ہو چکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ زرعی زمین اور لکڑی حاصل کرنے کے جنون میں کاربن جذب کرنے والے جنگلات تیزی سے کٹ رہے ہیں۔ نایاب پودے اور ان پر بھروسہ کرنے والے حشرات و پرند زرعی زمینوں میں مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے اندھا دھند استعمال کا نشانہ ہیں۔ 

ان حرکتوں کے سبب درجہِ حرارت میں جو اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ہاتھوں مجبور ہو کے سخت جان پودے اور جنگلی حیات ٹھنڈے علاقوں کی جانب مراجعت کر رہے ہیں، مگر وہاں بھی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں برف تیزی سے پگھلنے کے سبب سرد علاقوں میں رہنے والی مخلوق کو اپنی زندگی کے لالے پڑ ے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو سو برس کی انسانی سرگرمیوں کے سبب بڑھتے سمندری درجہِ حرارت نے نصف کورل ریفز کو نگل لیا ہے اور بقیہ اگلے پچاس برس میں غائب ہو جائیں گی۔ اور ان کے ساتھ ہی بحری مخلوق کی بے شمار نسلیں کہ جن کی نسلی و غذائی بقا کا دار و مدار ہی کروڑوں برس سے ان ریفز پر ہے وہ بھی جہان سے رخصت ہو جائیں گی۔ اب بھی وقت ہے کہ جو تیس فیصد جنگل بچ گئے ہیں انھیں بچا لیا جائے اور جو تین فیصد دلدلی علاقے اور جھیلیں اپنے حجم سے دوگنی کاربن ہضم کر رہی ہیں انھیں پھر سے پاؤں پر کھڑا کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جائے۔ یہ عناصر گئے تو ہم بھی تھوڑی بہت صاف ہوا، غذا اور دوا سے گئے۔ یہ آخری فصیل منہدم ہو گئی تو زہریلی وباؤں کا جو لشکر ان عناصر نے روک رکھا ہے وہ اتنے انسان کھا جائے گا کہ ہلاکو اور ہٹلر معصوم نظر آئیں گے۔

(یہ کالم عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع ( بائیس مئی ) کے تناظر میں بغرض آگہی لکھا گیا)
وسعت اللہ خان 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

2013 – A Year of Change

2013 – A Year of Change

Enhanced by Zemanta