معروف ویب سائٹ اسکرول پر ارون دھتی رائے کا ایک مضمون شائع ہوا۔ جب رائے جیسے لکھاری لکھ رہے ہوں تو مجھ جیسوں کو ان کے سامنے با ادب بیٹھ کر صرف دھیان سے سننا چاہیے۔ پیشِ خدمت ہے اس مضمون کی تلخیص۔ ابھی چند ہی دن پہلے حکمران جماعت کی اشتعال انگیز تقریروں سے مسلح فاشسٹ ہجوم شمالی مشرقی دہلی کی مسلمان اکثریتی بستیوں پر اس اطمینان کے ساتھ چڑھ دوڑا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہے گی، عدالتوں کی بصارت مقفل رہے گی اور الیکٹرونک میڈیا اس بربریت کو مسلسل جواز کی غذا فراہم کرتا رہے گا۔ پچھلے کئی ہفتے سے سب کو توقع تھی کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ مگر اتنا منظم برا کہ املاک، کاروبار ، گاڑیاں جلا دی جائیں اور لوگ گولیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے مار ڈالے جائیں، گلیاں پتھروں سے اور اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھر جائیں۔
مسلمان تو خیر تھے ہی زد میں مگر ان بلوائیوں کی زد میں عام ہندو بھی تھے اور دو سرکاری اہلکار بھی مار ڈالے گئے۔ ایک جانب اگر وحشت و بربریت کا ننگا ناچ تھا تو دوسری طرف ایک دوسرے کو مذہبی تفریق سے بالا ہو کر بچانے اور پناہ دینے والے بھی تھے۔ یعنی انسان کے دونوں چہرے ایک بار پھر ہم سب کو دکھائی دیے۔ مگر یہ حقیقت تو اب لکھی جا چکی کہ بستیوں پر ٹوٹ پڑنے والے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہجوم ریاست کی مکمل حمایت کے بھروسے پر دندنا رہے تھے۔ یہ کوئی روایتی ہندو مسلم فساد نہیں بلکہ ایک ننگی فسطائی حکومت کا فسطائیت مخالف شہریوں پر کھلا حملہ تھا۔ اور نشانے پر آنے والے مسلمان آخری نہیں بلکہ پہلا گروہ ہے۔ یہ کوئی دائیں بمقابلہ بائیں یا غلط بمقابلہ درست کی لڑائی نہیں بلکہ ایک خاص نظریے کا باقی سب نظریات پر کھلا حملہ ہے۔
بھلا کس نے اب تک وہ سوشل میڈیا پر وہ وڈیوز نہیں دیکھی ہوں گی جن میں پولیس صرف تماشائی نہیں بلکہ فسادیوں کا کھل کر ہاتھ بٹا رہی ہے۔ پولیس آتش زنوں اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ پولیس سرکاری سی سی ٹی وی کیمرے توڑ رہی ہے اور ایک دوسرے پر گرے زخمی مسلمان نوجوانوں کو اسپتال پہنچانے کے بجائے ان سے ڈنڈے اور جوتے کی نوک پر وندے ماترم گنوا رہی ہے۔ ان میں سے ایک زخمی اگلے روز مر گیا۔ مگر حیرت کیوں؟ جب آج سے ٹھیک اٹھارہ برس پہلے ریاست گجرات میں جس وزیرِ اعلی کے ہوتے تباہی و بربادی کی بھیانک کہانیاں لکھی گئیں، وہی وزیرِ اعلی تو آج دلی میں وزیرِ اعظم ہے۔ اگرچہ شمال مشرقی دلی میں جو ہونا تھا ہو گیا کہ بعد بظاہر سکون ہے۔ مگر وہی بلوائی اب دہلی کے وسطی علاقے میں جے شری رام اور دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں۔
دلی بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کپل مشرا نے قتل و غارت سے کچھ دن پہلے انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگوائے تھے۔ اس کے بارے میں خود دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلی دھرن نے دلی پولیس کو مشرا سمیت اشتعال انگیزی پھیلانے والے تین چار رہنماؤں کا نام لے کر ایک دن کے اندر اندر گرفتاری کا حکم دیا۔ چند ہی گھنٹے میں آدھی رات سے ذرا پہلے جسٹس مرلی دھرن کا تبادلہ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ میں کر دیا گیا اور کپل مشرا پھر سے سڑک پر نعرے لگوانے کے لیے آ گیا ’’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘‘۔مگر اس میں حیرت کیوں۔ آخر کو کپل مشرا بھی اسی پارٹی کا ہے۔ جس پارٹی کے بابو بجرنگی نے دو ہزار دو میں گجرات میں پچانوے مسلمانوں کو ایک وڈیو میں خود مارنے کا اعتراف کیا۔
عدالت نے اسے لمبی سزا سنا دی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کے نتیجے میں چند ہی مہینوں میں بابو بجرنگی باہر آ گیا۔ اور باہر آتے ہی بابو بجرنگی کی ایک اور وڈیو بھی آ گئی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ججوں سے سیٹنگ کر کے نریندرا بھائی ( مودی ) نے مجھے رہائی دلوائی۔ بھارت میں انتخابات سے پہلے کئی بار قتلِ عام ہوا۔ مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ دلی کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کے صفائے کے ایک ہی ہفتے کے اندر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ یہ سیدھا سیدھا پیغام ہے کہ یا ہمیں ووٹ دو ورنہ بدلے میں موت لو۔ خبردار اگلا ریاستی الیکشن بہار میں ہونے والا ہے۔ میڈیا کی کرامات دیکھئے۔ سب کے پاس دلی الیکشن سے پہلے بی جے پی کے مقامی رہنماؤں سے لے کر وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور وزیرِ اعظم تک کی زہر آلود وڈیو تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے۔ مگر دیش کے لیے پھر بھی سب سے بڑا خطرہ دلی کے شاہین باغ میں پچاسی روز سے بیٹھی عورتیں اور بچے بتائے جا رہے ہیں جنھیں شہریت کا نیا قانون کسی صورت منظور نہیں۔
اب تو باقی دنیا بھی کہہ رہی ہے کہ شہریت کا ترمیمی قانون کروڑوں مسلمانوں کو رفتہ رفتہ بھارتی شہریت سے محروم کرنے کے منصوبے کی جانب پہلا بھر پور قدم ہے۔ کسی کی شہریت چھیننا سزائے موت سے کم نہیں۔ شہریت ہی وہ حق ہے جس سے دیگر تمام حقوق پھوٹتے ہیں۔ ورنہ انسان ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون سے صرف بھارتی مسلمان خطرے میں نہیں پڑیں گے بلکہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں بسنے والے لاکھوں غیرمسلموں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ اور ہمسائیوں کو یہ راہ کوئی اور نہیں بھارتی حکومت سجھا رہی ہے۔ یہ حقیقت جان بوجھ کر جھٹلائی اور بھلائی جا رہی ہے کہ سینتالیس میں آزادی کی لڑائی صرف ہندوؤں نے نہیں بلکہ سب ہندوستانیوں نے مل کر لڑی تھی۔
اگر کوئی اس لڑائی سے بالکل لاتعلق تھا تو وہ موجودہ حکمرانوں کی سیاسی والدہ آر ایس ایس تھی۔ اور آج یہی آر ایس ایس ہمیں بتا رہی ہے کہ حب الوطنی کیا ہوتی ہے۔ کون محبِ وطن ہے اور کون غدار۔ آئین کی کسی بھی شق سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر موجودہ حکومت تو آئین کے ساتھ وہ سلوک کر رہی ہے جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دراصل جمہوریت کو ہی مٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ہم شائد اب کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی جمہوریت کو فسطائیت کا کورونا وائرس چمٹ گیا ہے۔ کوئی جماعت یا گروہ اس وائرس سے جوج رہے بھارت کی مدد کرنے کو تیار نہیں، سب اپنے منہ پر حفاظتی ماسک لگا کر محفوظ فاصلے پر کھڑے شیشے کے پیچھے سے مریض کو دیکھ رہے ہیں۔ایسی بے چارگی اور تنہائی تو کبھی نہ تھی۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھارت میں شہریت کے کالے قانون پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ششی تھرو ر نے کہا ہے کہ محمد علی جناح جہاں بھی ہوں گے، دیکھ کر خوش ہوتے ہوں گے کہ دیکھو میں ٹھیک تھا۔ مسلمان ایک الگ ملک کے حقدار تھے کیونکہ ہندو، مسلمانوں سے انصاف نہیں کر سکتے۔ کانگریسی رہنما نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ محمد علی جناح مکمل طور پر جیت گئے لیکن آج بھارت میں جناح کا نظریہ جیت رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں اگر سی اے اے کے بعد این پی آر اور این آر سی کو اسی روش پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستانیوں کے قائد محمد علی جناح کی جیت مکمل ہو جائے گی۔ ششی تھرور نے کہا کہ اگر ہم اس ملک میں لوگوں کو اس بات کا اختیار دے دیں کہ وہ “مشکوک شہریت” کی بنیاد پر لوگوں کو شناخت کرتے پھریں تو آپ کو یقین ہو جانا چاہئے کہ کون سے بھارتی شہری اس تعصب کا نشانہ بنیں گے۔ صرف وہ ایک کمیونٹی جس کا نام قانون میں نہیں لیا گیا۔ کانگریسی رہنما نے کہا کہ اگر ایسا ہو گیا تو جناح کی جیت مکمل ہو جائے گی اور محمد علی جناح آج دیکھ کر خوش ہوتے ہوں گے کہ دیکھو میں ٹھیک تھا، ہم دو الگ قومیں ہیں اور مسلمان ایک الگ ملک کے حقدار تھے کیونکہ ہندو مسلمانوں سے انصاف نہیں کر سکتے۔
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریاستی شاخ کے صدر دلیپ گھوش نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’جو لوگ متنازع شہریت کے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں اور جو عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں انھیں ’کتوں کی طرح گولی مار دینی چاہیے جس طرح‘ ان کی ’حکومت اتر پردیش، آسام اور کرناٹک میں کر رہی ہے۔‘ ریاست اتر پردیش جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، وہاں کے ایک وزیر نے گذشتہ دنوں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ یا وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگائیں گے میں انھیں زندہ دفن کر دوں گا۔‘ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مظاہروں کے دوران تخریب کاری کون کر رہے ہیں، یہ ان کے لباس سے واضح ہے۔
انڈیا میں ہزاروں ایسے ہندو، سکھ، بودھ اور مسیحی تارکین وطن عشروں سے مقیم ہیں جو پڑوسی ملکوں کے سیاسی حالات، کچھ تفریق اور جبر کے سبب اپنا ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہوئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح یہاں بھی بیشتر ایک بہتر زندگی کی تلاش میں آئے۔ ان تارکین کی غالب اکثریت غریب اور کمزور طبقے کی ہے۔ شہریت کے ترمیمی قانون کا مقصد ایسے تمام غیر مسلم تارکین کو شہریت دینا ہے۔ ملک میں برسوں سے مقیم تارکینِ وطن کو شہریت دینا یقیناً ایک انسانی ہمدردی کا قدم ہے۔ اس پہلو پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ شہریت قانون کی مخالفت اس لیے ہو رہی ہے کہ تارکین کو شہریت دینے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی آڑ میں اس قانون کا مقصد سیاسی ہے۔ شہریت کے قانون کا فوری تعلق آسام کے حالیہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) سے ہے۔ آسام میں 19 لاکھ باشندوں کو شہریت کی فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس میں اکثریت بنگالی ہندوؤں کی ہے مگر کئی لاکھ بنگالی مسلمان بھی شہریت سے باہر رکھے گئے ہیں۔ شہریت قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شہریت کے نئے قانون کے تحت حکومت آسام میں شہریت کی فہرست سے باہر ہونے والے ہندوؤں کو تو شہریت دے دے گی لیکن لاکھوں مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ قرار دے کر شہریت اور قومیت سے محروم کر دے گی۔
انڈیا کے مسلمان پورے ملک میں اس قانون کی اس لیے بھی مخالفت کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں پورے ملک میں این آر سی نافذ کیا گیا تو اس قانون کے تحت شہریت سے باہر ہونے والے ہندوؤں کو تو دوبارہ شہریت مل جائے گی لیکن متاثرہ مسلمانوں کی شہریت ختم ہو جائے گی۔ حکومت کی دلیل ہے کہ شہریت کا قانون شہریت دینے کے لیے ہے کسی کی شہریت واپس لینے کے لیے نہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر صرف شہریت دینے کا سوال تھا تو یہ قدم اپوزیشن کی حمایت سے موجودہ قوانین کے تحت ہی آسانی سے اٹھایا جا سکتا تھا، لیکن اس کا مقصد سیاسی ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں جب شہریت کے بل کو پیش کیا تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایک کمزور اپوزیشن اس بل کی اتنی شدت سے مخالفت کرے گی اور اسے مسلمانوں کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولر آئین پر حملے کا ایک مسئلہ بنا دے گی۔
اور شاید حکومت کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ کسی لیڈر یا تنظیم کے بغیر مسلمان پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آ جائیں گے۔
انڈیا کے طلبہ میں ایک عرصے سے ملک کے حالات خاص طور پر ملازمت کے کم ہوتے ہوئے مواقع پر ایک عرصے سے بے چینی پنپ رہی تھی۔ جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے احتجاجی طلبہ پر پولیس کی بے رحمانہ کارروائی نے بے چین طلبہ میں جلتی پر آگ کا کام کیا۔ بظاہر یہ مخالفت اب ایک ملک گیر تحریک بن چکی ہے اور اس تحریک میں مسلم خواتین کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں خواتین مظاہروں، احتجاج اور دھرنوں میں شریک ہو رہی ہیں۔ دلی کا شاہین باغ خواتین کی مزاحت کی علامت بن گیا ہے اور حکومت کے لیے یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔
ملک گیر مظاہروں سے حکومت نے فی الحال دفاعی رخ اختیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ملک گیر این آر سی نافذ کروانے کے اپنے فیصلے کو واپس لینا پڑا ہے۔ فروری کے دوسرے ہفتے میں دلی کے اسمبلی انتخابات میں اگر عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو دوبارہ شکست دے دی تو مودی اور امیت شاہ کو ایک اور دھچکہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے رہنما نہیں ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اپوزیشن یا مظاہرین کی کوئی بڑی غلطی یا دہشت گردوں کی جانب سے کوئی بڑی واردات صورتحال کو یکلخت بدل سکتی ہے۔ اس مرحلے پر انڈیا ایک تغیر سے گزر رہا ہے۔ ملک کے مسلمان تقسیم ہند کے بعد پہلی بار اجتماعی طور پر اپنے ملک میں اپنے حق کے دفاع کے لیے کھڑے ہوئے ہیں جس میں انھیں طلبہ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔
یہ تحریک کہاں تک جائے گی اس مرحلے پر کچھ اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن آنے والے دنوں میں حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کی سیاسی منزل انڈیا کو سبھی کو مساوی حق دینے والی ایک جمہوریت سے ہندو اکثریتی جمہوریت میں تبدیل کرنا ہے جس میں مسلمانوں اور مسیحی شہریوں کی حیثیت برابری کی نہیں بلکہ ثانوی ہو گی۔ اس کے لیے آئین میں ابھی کئی ترامیم کی جائیں گی اور یکساں سول قوانین بھی حکومت کے ایجنڈے میں ہے۔ لیکن مودی اور امیت شاہ کا یہ سیاسی سفر پُرخطر ہے۔ ملک کی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور بین الاقوامی حلقوں میں مودی کی قیادت کے بارے میں شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور مقامی انتخابات میں انھیں کئی ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہریت قانون کے خلاف اس تحریک کی کامیابی یا ناکامی ملک کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بھارت میں شہریت ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے لکھا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے اس اقدام کے ذریعے خود اپنے ملک کیخلاف ہی جنگ چھیڑ دی ہے، بھارت کی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے، اسے اس دلدل سے نکالنے کی بجائے مودی حکومت نے شہریت ترمیمی بل کے ذریعے ایسا اقدام کیا ہے جو سیکولر ازم پر مبنی بھارتی آئین کے یکسر منافی اور جرمنی میں نازی دور کی کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسام اور متعدد شمال مشرقی ریاستوں میں عوام کے احتجاج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہی نہیں بلکہ 3 ریاستوں پنجاب، بنگال اور کیرالہ نے شہریت ترمیمی بل پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔
چینی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اپنے ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کی بجائے مودی حکومت ایسے معاملات میں پھنس گئی ہے جن سے سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا کیونکہ بھارت میں بے روزگاری اس وقت گزشتہ 45 برس کی بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے، دوسری جانب اقتصادی شرح نمو گزشتہ 6 سہ ماہی مدتوں سے مسلسل کم ہو رہی ہے، اب یہ شرح گزشتہ 23 برس کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، ایک زمانے میں بھارت میں اقتصادی نمو کی شرح دو ڈیجٹ میں ہوتی تھی لیکن بھارت میں اب یہ شرح گھٹ کر 4.5 ہو گئی ہے، مرکزی حکومت کے پاس نقد رقم کی اس قدر کمی ہو گئی ہے کہ وہ ریاستوں کو ان کے حصے کی ادائیگی بھی نہیں کر پا رہی۔
چینی اخبار کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوور نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی معیشت میں بہتری کے شواہد نہ ملے تو بھارت کو جنک گریڈ ریٹنگ میں ڈال دیا جائے گا، بھارت میں بچوں کی ناقص غذائیت کی شرح بہت زیادہ ہے، 6 ماہ سے 23 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو کم سے کم مقدار میں خوراک بھی نہیں ملتی، چینی اخبار کے مطابق مودی حکومت نے جو شہریت ترمیمی بل نافذ کیا ہے اس کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا، اس لئے کہ بنگلہ دیش کے قیام کو بھی طویل عرصہ گزر چکا ہے، اب کسی بھی ملک سے بڑی تعداد میں مہاجرین کے بھارت آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
شہریت ترمیمی بل کی طرح نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز میں ناموں کا اندراج بھی ایک شدید متنازعہ معاملہ ہے، مودی حکومت کا موقف ہے کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی بھارت میں آمد کو روکنے کیلئے اس سکیم (رجسٹر ) کے تحت شہریوں کا اندراج بہت ضروری ہے لیکن مودی اس بات کا جواب نہیں دے سکے کہ اس وقت تو کسی بھی ملک سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکین وطن کے بھارت آنے کا کوئی امکان نہیں تو ایسی صورت میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کا مسئلہ کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے ؟ کیونکہ اس کے نتیجے میں بھارتی قوم مزید تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جائے گی، بھارت کے انسان دوست حلقوں نے برملا یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مودی حکومت کے یہ اقدامات مسلمانوں کے خلاف ہیں۔