امریکی سرحد پر الگ کیے گئے بچوں کے والدین کی تلاش جاری

ایک عدالت کی مقرر کردہ کمیٹی کو ابھی تک اُن 628 بچوں کے والدین کی تلاش ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی اوائل مدت میں سرحد پر اپنے والدین سے الگ کر دیے گئے تھے۔ عدالت میں دائر کردہ ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے تلاش میں مدد کیلئے اضافی فون نمبر فراہم کیے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ 333 بچوں کے والدین امریکہ میں ہیں، اور 295 بچوں کے والدین امریکہ سے باہر ہیں۔ تاہم کمیٹی 628 میں سے 168 بچوں کے دیگر اہل خانہ تک تو پہنچ گئی ہے لیکن ابھی تک ان کے والدین کو تلاش نہیں کر سکی۔ محکمہ انصاف اور خاندانوں کے وکلا کی جانب سے دائر کردہ مشترکہ دستاویز میں ان تازہ کاشوں کا ذکر کیا گیا ہے جو خاندانوں کو دوبارہ ملانے کیلئے کی جا رہی ہیں۔

یہ وہ خاندان ہیں جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کیلئے منظور کی گئی ” کوئی نرمی نہیں” پالیسی کی زد میں آئے تھے، جس کی وجہ سے ہزاروں خاندان اس وقت بچھڑ گئے تھے، جب والدین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ عدالت میں دائر کی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ  انتظامیہ نے والدین کو تلاش کرنے والی کمیٹی کو محکمہ انصاف کے ایگزیکٹو آفس فار امیگریشن ریویو کے ڈیٹابیس سے فون نمبر فراہم کئے تھے ۔ محکمہ انصاف کے ماتحت کام کرنے والا یہ دفتر، امیگریشن سے متعلق عدالتوں کا منتظم ہے۔   امریکن سول لبرٹیز یونین کیلئے والدین کی وکالت کرنے والے وکیل لی گیلیرنٹ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ برس سے انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مزید معلومات فراہم کرے۔

سرچ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ والدین کی تلاش کیلئے فراہم کردہ مزید فون نمبر کس قدر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت تک سخت پالیسی کے تحت 2700 بچے اپنے والدین سے الگ کر دئے گئے تھے، جب سین ڈیایگو کی ایک عدالت نے اس پالیسی پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان بچوں کو 30 روز کے اندر اپنے والدین سے ملا دیا جائے۔  امریکن سول لبرٹیز یونین کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل چاہتے ہیں کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن الگ کیے گئے خاندانوں کو کسی قسم کی قانونی حیثیت دے کر امریکہ واپس آنے کی اجازت دیں۔ لی گیلرنٹ کہتے ہیں کہ جن حالات سے وہ گزرے ہیں تو ایسے میں یہ ایک جائز مطالبہ ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ہم خاندانوں کو تلاش تو کر لیں گے لیکن ہم انہیں واپس امریکہ بلا کر قانونی حیثیت نہیں دے سکتے، کیونکہ یہ کام صرف انتظامیہ کر سکتی ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

امریکا میں ایک لاکھ تارکین وطن بچے زیر حراست ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن بچے سرکاری حراستی مراکز میں بند ہیں۔ عالمی ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے ایسے بچوں کے جبراﹰ ان کے خاندانوں سے علیحدہ رکھے جانے کی مذمت کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں حکام کی حراست میں اور والدین اور دیگر اہل خانہ سے دور رکھے جانے والے ان کم عمر افراد کی حراست کا تعلق کسی نہ کسی طور ترک وطن کے مسئلے سے ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہر قانون اور اقوام متحدہ کے محقق مانفریڈ نوواک نے اس رپورٹ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پوری دنیا میں اس وقت کم از کم بھی تین لاکھ تیس ہزار بچے ایسے ہیں، جو ترک وطن سے متعلقہ معاملات کے باعث مختلف ممالک میں زیر حراست ہیں۔

لیکن انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایسے بچوں میں سے تقریباﹰ ایک تہائی صرف امریکا میں زیر حراست ہیں۔ مانفریڈ نوواک اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مرکزی مصنف بھی ہیں، جس کا عنوان ہے : ‘آزادی سے محروم کر دیے گئے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا عالمی جائزہ‘۔ نوواک اور ان کے ساتھی محققین کے مطابق امریکا میں اس وقت ایسے کم عمر تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار کے قریب ہے، جو حراستی مراکز میں بند ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں، جو امریکا پہنچے ہی اپنے والدین کے بغیر تھے اور ان میں وہ کم بچے بھی ہیں، جو یا تو اپنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ حراستی مراکز میں بند ہیں یا جنہیں حکام نے زبردستی ان کے والدین سے علیحدہ رکھا ہوا ہے۔

اعداد و شمار انتہائی قابل اعتماد
اس رپورٹ کی تیاری کے دوران مانفریڈ نوواک کی ٹیم نے جب امریکی حکام سے رابطہ کیا، تو انہوں نے اس بارے میں کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ محققین کی اس ٹیم نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے پیش کردہ یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے حاصل کر کے جمع کیے گئے اور ‘انتہائی قابل اعتماد‘ ہیں۔ نوواک نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو مزید بتایا، ”یہ تعداد، ایک لاکھ تین ہزار، بہت ہی محتاط اندازوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ ان کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ نوواک نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ”ترک وطن سے متعلقہ معاملات میں بچوں کو حراستی مراکز میں رکھنا کبھی بھی ایسے بچوں کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اور حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ایسا اس وقت بھی کیا جاتا ہے، جس دیگر متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی مذمت
اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں زیر حراست نابالغ تارکین وطن کی تعداد دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ شماریاتی حوالے سے امریکا میں مجموعی طور پر ہر ایک لاکھ بچوں میں سے 60 ایسے ہوتے ہیں، جنہیں ترک وطن اور ساتھ ہی دیگر معاملات کی وجہ سے حراست میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس کینیڈا میں یہی تناسب 15 بچے فی ایک لاکھ بنتا ہے جبکہ مغربی یورپ میں یہی شرح صرف پانچ بچے فی ایک لاکھ بنتی ہے۔ عالمی ادارے کے ماہرین کے مطابق امریکا آج بھی دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جس نے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنوینشن پر دستخط نہیں کیے۔ یہ عالمی کنوینشن 1989ء میں منظور کیا گیا تھا۔

کنوینشن کے تحت بچوں کی حراست ممنوع
مانفریڈ نوواک کے مطابق اقوام متحدہ کا بچوں کے حقوق کا عالمی کنوینشن نابالغ افراد، خاص کر چھوٹے بچوں کو جبراﹰ ان کے والدین سے علیحدہ رکھنے کی ممانعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں تو اسے ایسے بچوں اور ان کے والدین دونوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کا نام ہی دے سکتا ہوں۔‘‘ نوواک کے بقول امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اس لیے قابل مذمت ہے کہ وہ امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر ایسے تارکین وطن بچوں کو ان کے والدین سے جبراﹰ علیحدہ کر دینے اور پھر حراست میں رکھنے کے ساتھ اس عالمی کنوینشن کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ نے اس رپورٹ کے اجراء کے بعد بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

عراق اور شام میں 29 ہزار بچے زیر حراست
جہاں تک دیگر ممالک میں نابالغ تارکین وطن بچوں کے زیر حراست رکھے جانے کا تعلق ہے، تو ایسا سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ میں شام اور عراق جیسی ریاستوں میں کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارے کے ماہرین کے مطابق ان دونوں عرب ممالک میں زیر حراست تارکین وطن بچوں کی تعداد کم از کم بھی 29 ہزار بنتی ہے، جن کی اکثریت کا تعلق دہشت گرد تنظیم ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جنگجوؤں کے خاندانوں سے ہے۔ ایسے بچوں میں کئی یورپی ممالک کے بچے بھی شامل ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ تعداد فرانسیسی شہریوں کی ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

بچے کو سینے سے چمٹائے تارکین وطن ماں کی لاش نے سب کو رلا دیا

سمندر کی تہہ میں ماں کے اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے چمٹائے 10 دن پرانی لاش برآمد ہونے پر غوطہ خور رو پڑے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی میں تیونس سے آنے والی تارکین وطن کی کشتی 10 روز قبل بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی۔ غوطہ خوروں کی ایک ٹیم کو سمندر میں 60 میٹر گہرائی میں کشتی کے ملبے سے ایک خاتون کی لاش ملی۔ غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ ماں نے اپنے بچے کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اپنے سینے سے چمٹائے رکھا ہوا تھا اور دس دن بعد بھی ماں بچہ اسی حالت میں مردہ پائے گئے۔ اس منظر نے انہیں رلا دیا۔ غوطہ خور ماں اور بچے کی لاش کو بہ مشکل ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ یہ واقعہ ماں کی اپنی اولاد سے لازوال محبت کی ایک مثال ہے۔

غربت سے پریشان اپنے اور بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے تارکین وطن غیر قانونی طور پر خوشحال ممالک کا رخ کرتے ہیں اور اس دوران کشتی الٹنے کے واقعات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ساحل پر مردہ پائے گئے شام کے ایلان، میکسیکو کے باپ بیٹی جو ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے اور اب بحیرہ روم کے اس واقعے نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ 10 روز قبل تیونس سے اٹلی جانے کی کوشش میں کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی جس میں 50 افراد سوار تھے جن میں سے 22 کو بچالیا گیا تھا جب کہ 28 مسافر ڈوب گئے تھے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین شامل ہیں۔