کورونا وائرس نے جہاں دنیا کی معیشت کو سکڑنے پر مجبور کیا وہیں اس نے امریکا میں بسنے والے چند ارب پتی افراد کو مزید مالا مال کر دیا۔ عالمگیر وبا کے دوران لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران ٹیکنالوجیکل اور آن لائن کاروبار کرنے والوں کی دولت میں اضافے سے متعلق رپورٹس منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ تاہم اب انسٹیٹیوٹ فار پولیس اسٹڈی کے چنک کولنز کی جانب سے ایک تجزیہ کیا گیا ہے کہ جس میں امریکی ارب پتیوں کی دولت میں ہوشربا اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ رواں سال کے دوران مارچ سے لے کر اب تک امریکی ارب پتیوں کی دولت میں دس کھرب امریکی ڈالر (تقریباً ایک ہزار 5 سو 94 کھرب پاکستانی روپے) کا اضافہ ہوا ہے۔
جن ارب پتیوں کی دولت میں یہ ہوشربا اضافہ ہوا ہے ان میں ایمازون کے مالک جیف بیزوس، فیس بک کے مارک زکربرگ، مائیکرو سافٹ کے بل گیٹس اور دیگر شامل ہیں۔ تاہم اس فہرست میں جس ارب پتی کی دولت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے وہ ایون مسک ہیں۔ چنک لونز کے مطابق اس شخص کی دولت میں 413 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی دولت 24 ارب 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 126 ارب 20 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران مجموعی طور پر امریکا کے ارب پتیوں کی دولت میں مجموعی طور پر 34 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایلون مسک کا نام دنیا کے لیے نیا نہیں جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے بانی ہیں اور اپنے منفرد منصوبوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جیسے مریخ تک انسانوں کو پہنچانا، انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے منسلک کرنے، ٹریفک جام سے بچنے کے لیے میلوں طویل سرنگیں کھودنا اور بہت کچھ۔ مگر 2020 ان کے لیے کورونا کی وبا کے باوجود بہترین سال ثابت ہوا ہے خاص طور پر اثاثوں میں اضافے کے لیے، جو پہلی بار بل گیٹس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کے اثاثوں میں 7.2 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا اور وہ بل گیٹس کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے۔
درحقیقت 2020 کے دوران ایلون مسک کے اثاثوں میں حیرت انگیز 100.3 ارب ڈالرز کا اضافہ ہو چکا ہے، اتنا ایک سال میں کوئی بھی کمانے میں ناکام رہا ہے۔
رواں سال جنوری میں وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 35 ویں نمبر پر تھے مگر اگست میں پہلے وہ چوتھے اور پھر ستمبر میں تیسرے نمبر پر پہنچے۔
ایلون مسک کے اثااثوں میں اضافے کی بڑی وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو 500 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسپیس ایکس بھی ان کی دولت میں 25 فیصد اضافے کا باعث بنی۔ بلومبرگ کی ارب پتی افراد کی فہرست کی 8 سال کی تاریخ میں یہ دوسری بار ہے جب مائیکرو سافٹ کے بانی سرفہرست 2 افراد سے نیچے رہے۔
اس سے قبل وہ برسوں تک نمبر ون پوزیشن پر رہے جو 2017 میں ایمیزون کے بانی جیف بیزوز نے اپنے نام کی تھی۔ بل گیٹس کے اثاثے بھی 128 ارب ڈالرز ہیں مگر کچھ لاکھ ڈالرز کی کمی سے وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ خیال رہے کہ بل گیٹس 2006 سے اپنے فلاحی ادارے کے ذریعے اپنی دولت میں سے 27 ارب ڈالرز سے زیادہ عطیہ کر چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود 2020 دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے زبردست رہا ہے جن کے اثاثوں میں مجموعی طور پر 1.3 ٹریلین ڈالرز کا اضافہ ہو چکا ہے۔ دنیا کے چوتھے امیر ترین شخص فرانس کے برنارڈ ارنالٹ ہیں جو 105 ارب ڈالرز کے مالک ہیں جبکہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ 102 ارب ڈالرز کے ساتھ 5 ویں نمبر پر ہیں۔
دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی کورونا وائرس کی وبا کب تک برقرار رہ سکتی ہے، اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ کہنا مشکل ہے مگر مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کے حوالے سے مثبت رپورٹس کے بعد بل گیٹس نے وبا کے بعد کی زندگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز ڈیل بک کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد کی زندگی کے حوالے سے چند دلچسپ پیشگوئیاں کی ہیں۔ بل گیٹس نے کہا کہ رواں برس کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دفتری امور اور سفر میں آنے والی تبدیلیاں وبا کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہیں گی۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ میری پیشگوئی ہے کہ 50 فیصد کاروباری سفر اور دفاتر کے 30 فیصد سے زیادہ دن ختم ہو جائیں گے، بڑی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہو گی کہ کسی طرح کمپنیاں کام سے متعلق سفر کا انتظام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے کاروباری سفر کے لیے ایک سے دوسری جگہ جا کر لوگوں سے مل کر کاروباری امور طے کیے جاتے تھے اور بل گیٹس کے مطابق اب یہ سنہری اصول نہیں رہے گا اور بیشتر کمپنیاں اس طرح کے کاروباری دوروں سے گریز کریں گی۔ بل گیٹس نے کہا کہ جہاں تک گھر سے کام کرنے کی بات ہے کچھ کمپنیاں ایک یا دوسری انتہا کو ترجیح دیں گی یعنی کہیں سے بھی ملازمین کو ہمیشہ کام کرنے کی اجازت دی جائے گی یا کسی ایک کو بھی یہ سہولت نہیں دی جائے گی۔
مائیکرو سافٹ کے شریک بانی نے کہا کہ آن لائن ملاقاتوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم نئے لوگوں سے نہیں مل سکیں گے، اسی وجہ سے وہ اس سال نئے دوست نہیں بنا سکیں کیونکہ انہیں لوگوں سے ملنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ٹیکنالوجی کی متعدد کمپنیوں نے مستقبل میں اپنے عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹوئٹر، فیس بک، سلیک اور دیگر نے ملازمین کو یہ سہولت فراہم کی ہے، اس کے مقابلے میں مائیکرو سافٹ میں ہائبرڈ پالیسی کو اختیار کیا گیا جس میں آدھے عملے کو ایک ہفتے تک کام کرنا ہوتا ہے۔
رواں ہفتے فائزر اور بائیو این ٹیک کے ساتھ روس کی جانب سے ویکسینز کے انسانی ٹرائل کے تیسرے اور آخری مرحلے کے ابتدائی نتائج جاری کیے گئے، جن میں انہیں کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے بہت زیادہ موثر قرار دیا۔ ان اعلانات کے بعد اب بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے دنیا میں ہر ایک تک کورونا ویکسینز کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مزید 7 کروڑ ڈالرز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 12 نومبر کو جاری بیان میں ملینڈا گیٹس نے کہا ‘کووڈ 19 ہر جگہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر ایک کو مساوی بنیادوں پر ٹیسٹوں، ادویات اور ویکسینز تک رسائی اس وقت حاصل ہو، جب وہ دستیاب ہو، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہوں’۔
اس فاؤنڈیشن کی جانب سے 5 کروڑ ڈالرز کوویکس ایڈوانس مارکیٹ کمیٹمنٹ گروپ کو دینے کا وعدہ کیا گیا جبکہ 2 کروڑ ڈالرز کی امداد کولیشن آف ایپیڈیمک پریپرڈینس انوویشنز کو دی جائے گی۔ بل اینڈ ملینڈا فاؤنڈیشن کے مطابق یہ دونوں ادارے ایک عالمی گروپ کووڈ 19 ٹولز ایکسیلریشن کی قیادت کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں ہر ایک تک کووڈ 19 ٹیسٹوں، علاج اور ویکسینز کی مساوی رسائی کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس سے قبل اگست میں بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے دنیا کے سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے ادارے سے شراکت داری کی تھی تاکہ ترقی پذیر ممالک تک کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین کو سستی قیمت میں فراہم کیا جاسکے۔ بل گیٹس نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ وہ اور ان کا فلاحی ادارہ کورونا ویکسینز کو تقسیم کرنے کے لیے 15 کروڑ ڈالرز خرچ کرے گا۔
اس مقصد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن اور بھارت سے تعلق رکھنے والے سیرم انسٹیٹوٹ کے درمیان شراکت داری ہو رہی ہے، جس کی جانب سے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں کورونا ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز 3 ڈالر (5 سو پاکستانی روپے سے زائد) فی ڈوز کے حساب سے تقسیم کیے جائیں گے۔ اس شراکت داری کے تحت جب بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کسی ویکسین کو تیار اور استعمال کی منظوری مل جائے گی، تو 2021 کی پہلی ششماہی میں اس کے ڈوز تیار کرنے کا کام شروع ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب امیر ممالک جیسے امریکا اور برطانیہ کی جانب سے ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسینز کی پروڈکشن اور تقسیم کرنے کے حقوق خریدنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ گیٹس فاؤنڈیشن سیرم فاؤندیشن کے ساتھ کام کر کے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ کسی منظور شدہ ویکسین زیادہ قیمت کی وجہ سے غریب ممالک کی پہنچ سے دور نہ ہو جائے۔
ویسے تو اس حوالے سے ویکسینز ابھی تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں مگر ادویات ساز کمپنیوں نے ایک ڈوز کی قیمت کا عندیہ دیا ہے۔ جیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دنیا بھر میں اپنی ویکسین فی ڈوز 3 ڈالرز میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کے مقابلے میں امریکا کی کمپنی موڈرینا کی جانب سے 2 ڈوز پروگرام کی لاگت 74 ڈالرز (لگ بھگ ساڑھے 12 ہزار پاکستانی روپے) لگائی گئی ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کے اس منصوبے میں ویکسین الائنس گاوی کو بھی شامل کیا گیا جو ترقی پذیر ممالک کو ویکسینز فراہم کرنے والا ادارہ ہے اور اس سے سیرم انسٹیٹوٹ کو پروڈکشن گنجائش بڑھانے میں مدد ملے گی۔ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ہر ایک تک اس کی رسائی کو جلد از جلد یقینی بنانے کے لیے زبردست پروڈکشن گنجائش اور عالمی تقسیم کاری نیٹ ورک کی ضرورت ہے، اس شراکت داری سے دنیا کو یہ دونوں مل سکیں گے، یعنی سیرم انسٹیٹوٹ کا پروڈکشن سیکٹر اور گاوی کی سپلائی چین’۔
سیرم ویکسینز تیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ہر سال مختلف ویکسینز کے ڈیڑھ ارب ڈوز تیار کرتا ہے۔ جولائی کے شروع میں بل گیٹس نے ایک آن لائن خطاب کے دوران کہا تھا کہ ورونا وائرس کے علاج کے لیے ادویات اور مستقبل میں ویکسین زیادہ پپیسے دینے والوں کی بجائے وہاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا ‘اگر ہم ادویات اور ویکسینز کو زیادہ ضرورت مند افراد اور مقامات کی بجائے زیادہ بولی لگانے والوں کو دے دیں گے تو ہمیں زیادہ طویل، غیرمنصفانہ اور جان لیوا وبا کا سامنا ہو گا’۔ انہوں نے کہا ‘ہمیں ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو مساوانہ طریقے سے ادویات اور ویکسینز کی سپلائی کے مشکل فیصلہ کر سکیں’۔ بل گیٹس اپریل میں اربوں ڈالرز ویکسیین کی تیاری پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرتحت تیار ہونے والے کووڈ 19 ویکسین کے لیے 75 کروڑ ڈالرز دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ بل گیٹس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کروڑوں ڈالرز ویکسین کی 30 کروڑ ڈوز کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف تیار کی جانے والی 7 بہترین ویکسینز کے لیے فیکٹریوں کی تعمیر پر اربوں ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔ بل گیٹس نے کہا کہ تیاری کے مراحل سے گزرنے والی متعدد ویکسینز میں سے 7 بہترین کا انتخاب اور ان کی تیاری کے لیے فیکٹریاں تعمیر کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا ‘اگرچہ ہم آخر میں ان میں سے 2 کا ہی انتخاب کریں گے، مگر ہم تمام ویکسینز کے لیے الگ الگ فیکٹریوں کی تعمیر پر سرمایہ لگائیں گے، ہو سکتا ہے کہ اربوں ڈالرز ضائع ہو جائیں مگر آخر میں موثر ترین ویکسین کی فیکٹری کے لیے وقت ضرور بچ جائے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیاری اور فیکٹری کی بیک وقت تعمیر کرنا، ویکسین کو تیزی سے تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کئی ماہ ضائع ہونے سے بچالیں گے کیونکہ اس وقت ہر مہینہ قیمتی ہے۔
بل گیٹس نے ایک بلاگ پوسٹ میں ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ ایک ویکسین کی تیاری میں 18 ماہ لگتے ہیں مگر ان کے خیال میں کورونا وائرس کے خلاف ویکسن جلد از جلد 9 ماہ یا زیادہ سے زیادہ 2 سال میں تیار ہو جائے گی۔ انہوں نے لکھا ‘ابھی 115 مختلف کووڈ 19 ویکسینز تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں، میرے میں ان میں سے 8 سے 10 زیادہ بہتر نظر آرہی ہیں اور ہمارا ادارہ ان سب پر نظر رکھے گا’۔ بل گیٹس نے کہا کہ بہترین ویکسینز کے لیے مختلف اقسام کی حکمت عملی پر عمل کیا جانا چاہیے تاکہ جسم کو کووڈ 19 کے خلاف تحفظ مل سکے۔ مگر کووڈ 19 کی ویکسین کے حوالے سے اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ آج تک کسی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار نہیں ہوئی۔ تاہم مائیکرو سافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ حالات اس وقت تک معمول پر نہیں آسکتے جب تک ایک ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے کہا ‘انسانیت کے لیے اس سے زیادہ فوری کام کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کی جائ، اگر ہم معمول کی زندگی پر لوٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک محفوظ اور موثر ویکسین تیار کرنا ہو گی’۔