سائنسدانوں نے دنیا کی چھ چمگادڑوں کے جینیاتی بلیو پرنٹ کی تشریح کی ہے جس سے ان کی ’غیر معمولی قوت مدافعت‘ کے اشارے ملتے ہیں اور یہ نظام ہی انھیں مہلک وائرس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ محققین کو ان معلومات کے ذریعے ان رازوں سے پردہ اٹھانے کی توقع ہے کہ چمگادڑ کیسے بیمار ہوئے بغیر کورونا وائرس رکھتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس سے موجودہ اور مستقبل کے وبائی امراض کے دوران انسانی صحت کی مدد کے لیے حل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج ڈبلن کی پروفیسر ایما تیلنگ کا کہنا ہے کہ ’شاندار‘ جنیاتی ترتیب سے پتا چلتا ہے کہ چمگادڑوں کا ’مدافعتی نظام بہت انوکھا‘ ہوتا ہے۔ اور یہ سمجھنا کہ کس طرح چمگادڑ بیمار ہوئے بغیر وائرس کو برداشت کر سکتی ہیں، کووڈ۔19 جیسے وائرس کا علاج دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی ممکنہ وبا کے بارے میں خبردار کرنے والے چینی ڈاکٹر، ڈاکٹر لی وینلیانگ، اسی وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سب سے پہلے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں تنبیہ بھی دی تھی۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ اس بیماری کے بارے میں خبردار کرنے والے ان آٹھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے دسمبر کے اخر میں دوسرے ڈاکٹروں کو سارس کی طرح کی بیماری کے بارے میں پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی سے منسلک انگریزی زبان کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ووہان سنٹرل ہسپتال میں داخل ڈاکٹر لی کے دل نے ’دھڑکنا بند کر دیا‘ جس کے بعد ان کی حالت نازک ہو گئی تھی۔
ہسپتال نے ویبو (چین میں استعمال کی جانے والی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ) کے اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر لی ایمرجنسی علاج کے بعد (چینی وقت کے مطابق) دو بج کر اٹھاون منٹ پر انتقال کر گئے۔ اس سے پہلے اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ وہ ڈاکٹر لی کو ایمکو (سانس کے مصنوعی نظام) پر رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کی حالت میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دسمبر میں پولیس نے ڈاکٹر لی پر افواہیں پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور حکومت کے پبلک سیفٹی بیورو نے انہیں طلب کیا تھا جہاں انہیں خبردار کیا گیا تھا انہیں ایسے بیانات نہٰیں دینے چاہییں جن سے ’معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہو۔
ڈاکٹر لی کو دیے گئے خط میں کہا گیا: ’ہم آپ کو باضابطہ طور پر خبردار کرتے ہیں: اگر آپ ایسی بےتکی ضد پر قائم رہے اور اس غیرقانونی سرگرمی کو جاری رکھا تو آپ کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا آپ بات سمجھ گئے؟‘ چین کی سپریم کورٹ نے بعد میں ووہان میں کریک ڈاؤن پر پولیس پر تنقید کی اور تسلیم کیا کہ کرونا وائرس کے بارے میں اطلاع مکمل طور پر غلط نہیں تھی۔ کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لی میں بھی وائرس کی موجودگی کی تشخیص 30 جنوری کو ہوئی۔ وائرس کے نتیجے میں اب تک سات سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی حالات کے پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک رائین نے ڈاکٹر لی موت کی خبر کے بعد جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ہمیں اگلی صفوں میں کام کرنے والے ایک ایسے کارکن کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے جنہوں نے مریضوں کی دیکھ بھال کی کوشش کی۔ ہم خود اگلی صفوں میں کام کرنے والے اپنے دوستوں کو کھو چکے ہیں اس لیے ہمیں ڈاکٹر لی کے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر ان کی زندگی پر خوش اور موت پر غم زدہ ہونا چاہیے۔‘ برطانیہ میں کرونا وائرس کا تیسرا کیس رپورٹ کیا گیا اگرچہ حکومتی چیف میڈیکل افسر کرس ویٹی نے کہا کہ مریض کو بیماری برطانیہ میں نہیں لگی۔
ایسا چین کے لندن میں سفیر کے برطانیہ پر الزام کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ کرونا وائرس کی وبا پر ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے چین میں موجود اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ برطانیہ میں چینی سفیر لیو شیاؤمنگ نے کہا: ’ہم نے انہیں زور دے کر کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مددگار نہیں ہو گا۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ ایک معقول ردعمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مشورہ کریں۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ نہ کریں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’برطانیہ سمیت تمام ملکوں کو سمجھنا چاہیے اور چین کی مدد کرنی چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل اور خوف پھیلانے سے گریز کیا جائے اور ملکوں کے درمیان معمول کا تعاون اور تبادلے یقینی بنائے جائیں۔
کورونا وائرس کیا ہے؟
کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔ سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔ یہ نیا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔ ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔ چینی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس مچھلی منڈی میں ہونی والی سمندری جانداروں کی غیرقانونی خرید و فروخت کے دوران انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔
احتیاطی تدابیر
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے صدر گیبرئیل لیونگ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔
اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں اور اپنے ناک یا چہرے کو مت رگڑیں
احتیاط کریں اور باہر جاتے ہوئے ماسک پہن کر رکھیں
پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں
اگر آپ نے چین کے شہر ووہان کا سفر کیا ہے تو اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں
اپنے ڈاکٹر سے ہرگز یہ بات مت چھپائیں کہ آپ نے ووہان کا سفر کیا ہے