سابق امریکی صدر اوباماسے ایک صحافی نے پوچھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس سے نہ نکلنے پر ڈٹ جائیں تو انہیں وہاں سے کیسے نکالا جاسکتا ہے تو اوباما نے ٹرمپ کے حوالے سے اپنی روایتی نفرت کا فورا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کے لیے فوج کی مدد بھی لینا پڑ سکتی ہے۔ یہ سوال اس لیے کیا گیا ہے امریکا کی تاریخ میں آج تک کسی صدر نے انتخابات میں شکست کے بعد ʼمیں نا مانوʼ والا رویہ نہیں اپنایا جیسا کہ ٹرمپ نے اختیار کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بھی وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں حالانکہ انہیں 20 جنوری سے پہلے وائٹ ہاؤس چھوڑنا ہو گا اور اقتدار اپنے جانشین کے حوالے کرنا ہو گا۔
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جاری انتشار کے باعث واشنگٹن کے دنیا کی بڑی طاقتوں روس اور چین سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر نے موجودہ صدر کو مفید مشورہ و تجویز بھی دی جبکہ وائٹ ہاؤس سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا۔ جو بائیڈن کی کامیاب انتخابی مہم کا حصہ رہنے والے باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ موجودہ صدر ٹرمپ کے لیے بہترین وقت ہے کہ وہ جو بائیڈن کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیں۔ انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کیا نصیحت کریں گے تو اوباما نے کہا کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو اس طرح یا رکھیں کہ کوئی شخص آیا جس نے ’ملک پہلے‘ کا نعرہ لگایا تو آپ کو بھی یہی کرنا ہو گا۔
باراک اوباما نے خدشہ ظاہر کیا کہ وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی منتقلی کے دوران ہونے والے انتشار کے اثرات بہت دور تک نظر آسکتے ہیں اور اس کے باعث واشنگٹن کے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ ہمارے مخالفین ہمیں کمزور دیکھ رہے ہیں، یہ صرف حالیہ انتخابات کی وجہ سے نہیں بلکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پیدا صورتحال کے باعث بھی ہے۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست میں دراڑ موجود ہے اور ہمارے مخالفین اس سے آگاہ ہیں اور وہ اسے مزید بڑھا سکتے ہیں۔ انھوں نے ری پبلکنز کے ایسے حامیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو ٹرمپ کے انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت کر رہے ہیں۔