جمعیت علمائے ہند کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کسی دوسری جگہ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مہینے کے اندر بابری مسجد کیس کے فیصلے پر عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا کے سیکرٹری ظفریاب جیلانی نے کہا کہ شریعت کے تحت مسجد اللہ کا گھر ہے جسے کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔ مسلم لا بورڈ 5 ایکڑ زمین کی پیشکش کو بھی مسترد کرتا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔
گزشتہ روز جمعیت علمائے ہند نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلیے 5 ایکڑ زمین کی پیشکش کو رد کر دیا تھا اور بابری مسجد فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے روز ہی مسلم رکن اسمبلی اور سیاسی رہنما اسد الدین اویسی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مسجد کے لیے زمین کی خیرات نہیں بلکہ بابری مسجد چاہیے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مسلم جماعتیں، ارکان اسمبلی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اجتماعی طور پر بابری مسجد فیصلے کو چیلنج کریں گے یا انفرادی حیثیت میں پٹیشن دائر کریں گے۔ اس حوالے سے رابطوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی دوسری جگہ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے صدیوں پرانی بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی مگر پاکستان میں اسی طرح کے مقدمہ لاہور کے شاہد گنج گردوارا کا فیصلہ بالکل الٹ کیا گیا۔ ترک خبرایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق سولھویں صدی میں مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر بابری مسجد کی زمین صدیوں بعد ہندووں کے حوالے کردی گئی لیکن لاہور میں مسجد پر بنائے گئے گردوارے کی زمین مسلمانوں کے بجائے سکھوں کے حوالے سے کر دی گئی۔ بھارت اور پاکستان میں دائر ہونے والے دونوں مقدمات میں دعوے اور قانونی نکات ایک جیسے ہی تھے لیکن نتیجہ بالکل الگ نکلا۔ پاکستان سکھ کونسل کے چیئرمین سردار رمیش سنگھ کا کہنا تھا کہ‘ بابری مسجد اور شاہد گنج گردوارا دونوں مقامات قانونی حوالے سے ملتے جلتے ہیں لیکن نتائج میں ایک جیسے نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سردار رمیش سنگھ نے پاکستان بننے کے بعد گردوارے کو مسجد میں تبدیل نہ کرنے پر مسلمان برادری کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ‘ بھارت میں بابری مسجد کی زمین مسلم اقلیت سے لے لی گئی لیکن مسلمان اکثریتی ملک پاکستان میں گردوارا بدستور سکھ اقلیت کے پاس ہے۔ تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو لاہور میں شاہد گنج گردوارا یا بھائی تارو سنگھ گردوارا کی اور بابری مسجد تنازع میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے لیکن بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہاپسندوں نے گرایا تھا اور اب سپریم کورٹ نے اس زمین کو مندر کی تعمیر کے لیے ہندووں کے حوالے کر دیا۔
مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شاہد گنج گردوارے کی جگہ پر لاہور کے کوتوال (پولیس سربراہ) نے 1653 میں ایک مسجد تعمیر کی تھی جو سکھوں کے مہاراجا رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد 1799 تک مسجد ہی رہی۔ رنجیت سنگھ نے جب افغان حکمرانوں کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا تو اس مسجد کو گردوارے میں تبدیل کر دیا گیا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ انگریزوں نے 1849 میں لاہور پر اقتدار سنبھالا تو مسلمانوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ گردوارے کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا جائے لیکن عدالت میں اس وقت کے قانون کے مطابق درخواست مسترد کر دی اور سوال اٹھایا کہ اس دعوے کے لیے 51 سال تاخیر کی گئی۔ بعد ازاں 2 مئی 1940 کو انگریز دور میں ہی لندن کی اعلیٰ کونسل نے مسلمانوں کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
مقامی مسلمانوں نے گردوارے کا تحفظ کیا
سردار رمیش سنگھ نے بتایا کہ‘ 1947 میں بڑے پیمانے پر ہجرت کے نتیجے میں گردوارے کے اطراف میں سکھوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی، ایسی صورت حال میں اگر مقامی افراد گردوارے کو مسجد بنانے پر اصرار کرتے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ پشاور میں سکھ برادری کے رہنما سردار چرنجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے سترھویں صدی کے ایک سکھ اسکالر سے منسوب گردوارا بابا بیبا سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ‘ پشاور میں مقامی مسلمانوں کے تعاون سے 5 برس قبل ایک اور گردوارے کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ گردوارا کو 1947 میں سکھوں کی پشاور سے بھارت ہجرت کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
سردار چرنجیت سنگھ پشاور کے علاوہ پنجاب میں منڈی بہاالدین اور گجرات میں مقامی مسلمانوں کی مدد سے مزید دو گردوارے بھی حال میں دوبارہ کھل گئے ہیں۔
اناطولو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سردار رمیش سنگھ اور سردار چرنجیت سنگھ دونوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت کو حیران کن اور بدقسمتی قرار دیا کیونکہ جب سکھ اپنے بانی بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کی سرحد میں یاتریوں کے لیے کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مقدمہ طویل عرصے سے زیر التوا تھا، سپریم کورٹ مزید انتظار کر سکتی تھی لیکن فیصلے کے لیے یہی موقع چن لیا جب دونوں ملکوں کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے یہ قدم لیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ پشاور میں پاکستان میں بسنے والے سکھوں کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے جو 1960 کی دہائی میں ملحقہ قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوص سے کاروبار اور روزگار کے لیے آکر آباد ہوئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 20 کروڑ آبادی کے حامل مسلمان ملک پاکستان میں 30 ہزار سے 40 ہزار سکھ آباد ہیں۔
بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے تعصب پر مبنی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کیا جائے جبکہ مسلمانوں (سنی وقف بورڈ) کو ایودھیا میں متبادل 5 ایکڑ زمین دی جائے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے شیعہ وقف بورڈز اور نرموہی اکھاڑے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیں۔ بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد گرانا، اس میں بت رکھنا غیر قانونی ہے، مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب یا عقیدے پر بات کرے، عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ تمام مذاہب کے عقیدوں کی بات کرتا ہے۔
بابری مسجد کا تحریری فیصلہ
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا، بابری مسجد کے نیچے تعمیرات موجود تھیں جو اسلامی نہیں تھیں، تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیا رام کی جنم بھومی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے طویل تنازع کا فیصلہ آج سنایا ہے، جس سے پہلے ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے مندر مسجد کے اس طویل تنازع کا فیصلہ سنایا، رنجن گوگئی 17 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پانچوں ججز نے ایک ایک کر کے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا، جسٹس نذیر اس بینچ میں واحد مسلمان جج ہیں۔
چھ دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019ء کو مکمل کی تھی۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس موقع پر عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ایودھیا میں دفعہ 144 نافذ کر کے متنازع مقام سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی گئی، کئی مقامات پر انسدادِ دہشت گردی دستے تعینات کیے گئے۔ ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کی تھی، ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک مندر تھا، مسجد کی شہادت کے بعد الہٰ آباد ہائی کورٹ میں کیس چلا۔ ہائی کورٹ نے 30 ستمبر 2010ء کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایودھیا کی 2 اعشاریہ 7 ایکڑ زمین کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک تہائی زمین رام لِلا مندر کے پاس جائے گی، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو اور باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 14 اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔