افغانستان کے بارے میں آسٹریلوی رپورٹ

یہ بات ہے دو ہزار بارہ کی۔ افغان صوبہ ارزگان میں تعینات آسٹریلیا کے خصوصی کمانڈو دستے کے ساتھ منسلک الیکٹرونک آپریٹر بریڈن چیپمین نے دیکھا کہ ان کے ایک ساتھی نے ایک نہتے افغان کو یونہی گولی مار کر ہلاک کر دیا حالانکہ اس افغان نے حکم ملنے پر ہاتھ بھی کھڑے کر دیے تھے۔ بقول چیپمین ’’یہ منظر دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔ میرے ایک ساتھی نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا پریشان مت ہو۔ کوئی پوچھے تو یہی بتانا کہ یہ افغان مشکوک اور خطرناک انداز میں ہماری طرف آ رہا تھا لہٰذا سیلف ڈیفنس میں فائر کر دیا گیا۔ پھر میں نے جب اپنے ساتھیوں کی کئی روز تک گفتگو سنی تو اندازہ ہوا کہ اس طرح افغانوں کو قتل کرنا کوئی بڑی بات نہیں یہ کام تو دو ہزار پانچ سے ہو رہا ہے ‘‘۔ اس وقت افغانستان میں جو چھبیس ہزار غیرملکی فوجی متعین ہیں ان میں آسٹریلوی فوجیوں کی تعداد لگ بھگ تین ہزار ہے۔ آسٹریلیا نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کی کارروائیوں میں دو ہزار دو سے ہی حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔

دو ہزار سولہ میں ایک عسکری ماہرِ عمرانیات سمانتھا کرومپوویٹس نے آسٹریلوی اسپیشل فورسز کے پیشہ ورانہ رکھ رکھاؤ پر ایک علمی تحقیق شروع کی تو پیاز کے چھلکوں کی طرح حقائق کھلتے چلے گئے۔ بالخصوص افغانستان میں متعین اسپیشل فورسز کے ارکان کا رویہ سمانتھا کے لیے نہایت پریشان کن تھا۔ جب سمانتھا کی تحقیق سامنے آئی تو ملک کی سول و فوجی قیادت نے اسے یکسر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دو ہزار سولہ میں سپریم کورٹ کے ایک جج اور ایک ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی اہلکار میجر جنرل پال پریرٹن پر مشتمل کمیٹی نے دو ہزار پانچ سے سولہ تک کے گیارہ برس کے دوران افغانستان میں تعینات ہونے والے آسٹریلوی فوجیوں کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی چھان بین شروع کی۔ انکوائری کمیٹی نے چار سو تئیس گواہوں کو قلمبند کیا۔ بیس ہزار دستاویزات اور پچیس ہزار تصاویر کی چھان پھٹک کی اور اس کام میں چار برس صرف کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے ایک جامع تحقیقی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی اور پھر حکومت نے اس کا خلاصہ عوام الناس کے ملاحظے کے لیے جاری کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق تئیس مختلف واقعات میں کم از کم انتالیس افغان باشندوں کی ہلاکت کی ذمے داری انیس ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں پر عائد کی گئی اور ان کے خلاف فوری تادیبی و قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ مرنے والوں میں افغان قیدی، کسان اور عام شہری شامل ہیں۔ زیادہ تر واقعات دو ہزار بارہ کے آس پاس ہوئے۔ یہ ہلاکتیں کسی جنگی کارروائی کے دوران یا کنفیوژن میں نہیں ہوئیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئیں۔ یہ شواہد نہیں ملے کہ ان جانی بوجھی ہلاکتوں کے پیچھے افغانستان میں موجود اسپیشل فورسز کی اعلیٰ کمان کی رضامندی شامل تھی۔یہ واقعات پلاٹون کمانڈروں کی سطح پر ہوئے۔ ان ہلاکتوں کو بلڈنگ یعنی خون بہانے کے کھیل یا مشغلے کا نام دیا جاتا تھا۔ یعنی نئے سپاہیوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ اگر انھوں نے اب تک کوئی دشمن ہلاک نہیں کیا تو پھر کسی قیدی یا شہری کو مار کر ہلاکت کا پہلا تجربہ حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ہلاکت کو بطور جرم چھپانے کے لیے لاش کے ساتھ ہتھیار یا مواصلاتی آلات رکھ دیے جاتے تاکہ مرنے والے کو حملہ آور ثابت کیا جا سکے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ اسپیشل فورسز کے جس یونٹ کے ارکان کی اکثریت اس بہیمانہ طرزِ عمل کی مرتکب ہوئی ہے اس یونٹ کو توڑ کر اس کے ذمے دار طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنے والے ارکان کو دیگر یونٹوں میں کھپا دیا جائے۔ رپورٹ ریلیز ہونے کے بعد آسٹریلوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اینگس کیمبل نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل یونٹ کے ارکان نے بنیادی پیشہ ورانہ ضوابط پامال کیے، جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں اور عام شہریوں اور زیرِ حراست افراد کو قتل کیا گیا۔ جو سیکیورٹی اہل کار بولنا چاہ رہے تھے انھیں زباں بندی پر مجبور کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا۔

آسٹریلوی عوام اپنی فوج بالخصوص ایلیٹ اسپیشل فورسز سے قدرے بہتر طرزِ عمل کی توقع رکھتے تھے مگر جو طرزِ عمل سامنے آیا وہ نہایت تکلیف دہ اور باعثِ شرمندگی ہے۔ جنرل کیمبل نے اپنے خطاب میں آسٹریلوی مسلح افواج کی جانب سے افغان عوام سے غیرمشروط معافی بھی مانگی۔ جب کہ وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے رپورٹ کی اشاعت سے پہلے افغان صدر اشرف غنی سے فون پر بات چیت کی اور انتہائی شرمندگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ آیندہ ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام اور انصاف کے حصول کے لیے ان واقعات کا سامنے لایا جانا ضروری تھا۔ آسٹریلوی عوام اپنے اداروں سے بہتر رویے کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ فوجی کمان کے احتساب اور پیشہ ورانہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے رپورٹ کی سفارشات کے مطابق غیر جانبدار اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک نگراں پینل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے انڈیپینڈنٹ افغان کمیشن اور ہیومین رائٹس واچ نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ قصور واروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی اور متاثرین کے لیے مالی ازالہ بھی ہونا چاہیے۔ افغانستان میں متعین درجن بھر سے زائد ممالک کے فوجی دستوں کے طرزِ عمل کے بارے میں آسٹریلیا کی سرکاری چھان بین رپورٹ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی ، برطانوی اور جرمن فوجیوں پر بھی وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں مگر ان کی سرکاری چھان بین سے اغماز برتا گیا ہے۔ امریکا نے تو ایک قانون کے ذریعے اپنی بیرونِ ملک ( بالخصوص افغانستان اور عراق) متعین افواج کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے بارے میں جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت سمیت ہر ادارے کی ممکنہ چھان بین سے اپنے فوجیوں کو مبرا قرار دیا ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

آسٹریلیا نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کے جنگی جرائم کا اعتراف کر لیا

آسٹریلوی فوج کے ایک اعلی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ ملکی فوج افغانستان میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ آسٹریلیا نے پہلی بار افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں پر جنگی جرائم جیسے الزامات کو تسلیم کیا ہے۔ آسٹریلیائی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل آنگس کیمبیل نے اعتراف کیا کہ اس بات کے کافی پختہ ثبوت و شواہد ہیں کہ افغانستان میں تعینات ان کے فوجیوں نے کم سے کم 39 ایسے افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کیا، جن کا لڑائی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔ اس معاملے میں فوج اندرونی طور پر گزشتہ چار برسوں سے تفتیش کر رہی تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے۔ اسی تفتیشی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”میں آسٹریلیا کی دفاعی فورسز کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ ہونے والی کسی بھی غلطی کے لیے بلا شرط، خلوص کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔” آسٹریلیائی فوج کے انسپکٹر جنرل افغانستان میں آسٹریلیائی فوج پر جنگی جرائم سے متعلق الزامات کی تفتیش کر رہے تھے۔ آسٹریلوی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کا تعلق ان کی افغانستان میں سن دو ہزار پانچ سے سن دو ہزار سولہ کے دوران تعیناتی سے ہے۔ مسٹر کیمبل کے مطابق انکوائری میں پایا گیا ہے کہ کچھ فوجی ملٹری کے تعلق سے پیشہ ورانہ اقدار کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگلا قدم ان فوجیوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ہو گی جو جنگی جرائم میں مرتکب ہوئے ہیں۔

انکوائری میں کیا پایا گیا ہے؟
اس بات کے پختہ شواہد پائے گئے کہ آسٹریلوی فوج میں اسپیشل فورسز کے 25 فوجی قیدیوں، کسانوں اور ان جیسے دیگر نہتے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہوئے۔ غیر قانونی طور عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے ایسے 23 واقعات کے بھی پختہ شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 39 عام افغان شہری مارے گئے۔ ہلاکتوں کا یہ سلسلہ 2009 ء میں شروع ہوا لیکن زیادہ تر افراد کو 2012ء اور 2013ء کے درمیان ہلاک کیا گیا۔ ایسے بھی کئی واقعات کا انکشاف ہوا ہے کہ فوجیوں نے پہلی بار کسی کو ہلاک کرنے کا اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے قیدیوں کو ہی گولی مار دی اور پھر لڑائی میں ہلاک کرنے کے جعلی ثبوت کا انتظام کر لیا۔ انکوائری کے مطابق ہلاکتوں کے ان واقعات میں ایسا کوئی بھی ایک واقعہ ایسا نہیں تھا جو لڑائی کے دوران پیش آیا ہو، یا پھر حالات ایسے رہے ہوں جہاں ان فوجیوں کی نیت غیر واضح، متذبذب رہی ہو یا پھر ایسا غلطی سے ہو گیا ہو۔

جن فوجیوں سے بھی اس بارے میں پوچھ گچھ کی گئی وہ سب میدان جنگ کے اصول و ضوابط یا پھر لڑائی کے آداب و طوار سے اچھی طرح واقف تھے۔ حیرت تو یہ ہے کہ بعض فوجی جو ان حرکتوں میں ملوث رہے ہیں وہ اب بھی آسٹریلیائی فوج میں کام کر رہے ہیں۔ اس تفتیشی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس حوالے سے 19 افراد سے قتل جیسے مجرمانہ جرائم میں ملوث ہونے کے لیے مزید تفتیش ہونی چاہیے۔ کیمبل کا کہنا تھا، ”میں نے انسپکٹر جنرل کی تفتیشی رپورٹ کو تسلیم کر لیا ہے اور ان کی جانب سے کارروائی کے لیے جو 143 جامع سفارشات پیش کی گئی ہیں ان پر عمل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔”

افغان فائلز سے فوجی تفتیش تک
آسٹریلوی ڈیفنس فورسز (اے ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران اس قسم کے متعدد الزامات کی اندرونی طور پر تفتیش ہوتی رہی ہے۔ آسٹریلوی فوجی نے انکشاف کیا تھا کہ اس ضمن میں 55 واقعات میں تحقیقات کی گئیں، جن میں 336 گواہوں سے شواہد یا ثبوت جمع کیے گئے۔ نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملے کے بعد جب امریکا نے 2002ء میں افغانستان پر حملہ کیا تو اتحادی کے طور پر آسٹریلیا نے بھی افغانستان میں اپنے فوجی تعینات کیے تھے۔ افغانستان میں کُل 39000 آسٹریلوی فوجیوں نے خدمات انجام دیں جن میں سے 41 مارے گئے تھے۔ جنگی جرائم سے متعلق آسٹریلوی فوج کی خفیہ دستاویزات ”افغان فائلز” کسی طرح لیک ہو گئی تھیں، جنہیں بعد میں آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی نے نشر کر دیا تھا۔ اسی سے اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ آسٹریلوی فوج نے افغانستان میں نہتے عام شہریوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔

اس پر پہلے آسٹریلیا کی پولیس نے ان صحافیوں کے خلاف ہی مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی جنہوں نے یہ خفیہ دستاویزات حاصل کی تھیں اور پھر بعد میں یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ اس سے قبل آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے اپنی افواج کا مجموعی طور پر دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فوجی اہلکار مطلوبہ ”توقعات اور معیار پر پورے نہیں اترے”۔ اس موقع پر انہوں نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی طرف سے جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اسپیشل پراسیکیوٹر نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آسٹریلیا میں ایسے فوجیوں پر مقدمہ چلا کر سزا دینے کی حکومت کی کوشش کی ایک وجہ بین الاقوامی جنگی جرائم سے بھی بچنا ہے۔ آسٹریلیا نے 2013 ء میں افغانستان میں تعینات اپنے بیشتر فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

 بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

آگ میں جلتا آسڑیلیا امداد کا منتظر

کینگروز اور کوالا کا دیس گذشتہ پانچ ماہ سے آگ میں جل رہا ہے ۔ پہلے کیلیفورنیا پھر ایمیزون اور اب آسٹریلیا کے جنگلات آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ اکیسیویں صدی میں موسمیاتی تغیرات اپنے عروج پر ہیں۔ اب بھی انسان بیدار نہ ہوا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مقدر ایک تباہ حال کرہ ارض ہو گی جہاں زندگی کامیاب اور موت ارزاں ہو گی۔ آسٹریلیا کا زیادہ تر رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے، یہاں ہر برس موسم گرما میں جنگلات میں آگ لگنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، مگر امسال یہ آگ معمول کی نہ تھی ۔ ستمبر 2019 میں لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا، پانچ ماہ میں ملک کےجنگلا ت کا بڑا حصہ جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ میڈیا پر آنے والی جانوروں کی تصاویر اور ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں۔

آسڑیلیا کی پہچان انسان دوست جانور کوالا (جسے ٹری بیئر بھی کہتے ہیں) اور کینگروزکی آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کوالا کی آدھی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ رقبہ آگ سے جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ یہ رواں صدی کا سب سے بڑا سانحہ ہے ، اس سے قبل 2018 میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی آگ سے تقریباً 19 لاکھ ایکٹر جنگلات جل گئے تھے۔ آسڑیلیا میں آگ سے ہونے والا نقصان رواں برس اگست میں ایمیزون جنگلات میں لگنے والی آگ سے چھ گنا زیادہ بتایا جارہا ہے۔ 8 جنوری کو سڈنی یونیورسٹی کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز ریاست میں 80 کروڑ جانوروں کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر میں ایک تخمینے کے مطابق ایک ارب جانوروں، پروندوں اور حشرات کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔

آسڑیلیا کو مجموعی طور پر اب تک 4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ 25 افراد اس آگ کی نذر ہو چکے ہیں ، 1400 سے زائد گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ آگ بجھانے والے ہزاروں کارکن دن رات آگ پر قابو پانے کے لیے اپنی زندگی کو داؤ پر لگائے مصروف عمل ہیں ۔ زمین پر زیادہ تر حصوں میں شدید سردی ہے جبکہ آسٹریلیا میں یہ سخت گرمی کا موسم ہے ۔ کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 47 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطے میں تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے آگ مسلسل پھیلتی جارہی ہے، جس پر فی الفور قابو پانا انسان کے بس سے باہر نظر آتا ہے ۔ آسٹریلیا کے کئی شہروں میں اس وقت سموک کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہو رہا ہے۔ آگ لگنے کی بنیادی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں، مگر اس کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کو ترقی یافتہ ممالک نے اس سنجیدگی سے نہیں لیا جو ان سے توقعات وابستہ تھیں۔ اس معاملے میں آسٹریلین وزیراعظم اسکارٹ موریسن بات کرنے سے کترا رہے ہیں ، کیونکہ آسٹریلیا ان بڑے ممالک میں شامل ہے جو گیسی اخراجات میں کمی پر تیار نہیں ہیں کیونکہ اس سے ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کی معیشت پر حرف آتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں ماہرین نے آسٹریلین حکومت کو پہلے ہی سے متنبہ کیا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے میں حکومت ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے امسال سخت گرمی کی لہر متوقع ہے، مگر حکومت نے اس رپورٹ پر بھی کان نہیں دھرے ۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات خاصے مضحکہ خیز رہے ہیں، وہ سرے سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے انکاری ہیں۔

بظاہر تو یہ ممالک عالمی ماحولیاتی معاہدے (پیرس ایگریمنٹ ) میں شامل ہیں مگر اس معاہدے پر عمل پیرا نہیں ہیں ۔ 2019 میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگنے سے واضح ہے کہ بطور انسان ہم ایک خطرناک عہد میں جی رہے ہیں۔ موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے نہ صرف مختلف نوع کے جانوروں اور پرندوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ نسل ِ انسان بھی خطرے سے دوچار ہے ۔ عہدِ جدید میں انسان اربوں ڈالر محض کائنات کا جائزہ لینے کے لیے صرف کر رہا ہے۔ زمین کے سوا، کہیں زندگی کے آثار مل سکیں ، کوئی ایک جرثومہ حیات مل جائے ۔ اس مقصد کے لیے انسان نے ارب ہا ارب ڈالر خرچ کر دیے ہیں مگر کیا ہم زمین پر زندگی کی حفاظت کے لیے اس قدر سنجیدہ ہیں کہ جو حیات ہمارے سامنے جل رہی ہیں اس کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کر سکیں؟

فہد محمود

بشکریہ روزنامہ جسارت

کیا سڈنی اور میلبورن بھی جل جائیں گے؟

جنگلات میں لگی آگ نے ریاست وکٹوریا، نیو ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ آگ سے متاثرہ بڑی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت اور آسٹریلیا کے اہم ترین شہر سڈنی سے اگرچہ آگ اب بھی کافی دوری پر ہے اور اندازہ اس شہر سے آگ 100 میل سے کم دوری پر ہے تاہم آگ کے دھویں نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے۔ سڈنی تک آنے والے دھویں کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسی ریاست کے قریب ہی دارالحکومت کینبرا واقع ہے اور وہاں تک بھی آگ کے دھویں کے اثرات پہنچے ہیں۔

اسی طرح ریاست وکٹوریا کے اہم ترین شہر میلبورن سے بھی آگ 50 سے 70 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے اثرات شہر تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز کی طرح ریاست ساؤتھ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ بھی آگ سے 80 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے دھویں نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ آگ مذکورہ شہروں تک پہنچے کیوں کہ ان تینوں شہروں میں آسٹریلوی فوج کے اڈوں سمیت فائر فائیٹرز اور دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں اور مذکورہ شہروں میں فوج، فائر فائیٹرز اور دیگر ریسکیو اہلکاروں کو پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم آگ کے انتہائی قریب پہنچنے اور ان شہروں تک دھویں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بہت بڑی آبادی کو سانس لینے سمیت دیگر امور سر انجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز