برطانوی اخبار گارڈین نے بھارت کو ’جمہوریہ خوف‘ قرار دے دیا

برطانوی اخبار گارڈین نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ بھارت ’جمہوریہ خوف‘ ہے۔
برطانوی اخبار کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ کو مودی پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے، ہندو قوم پرستی کے نام پر کٹھوا اور اترپردیش میں کمسنوں سے زیادتی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سزا وار ٹھہرایا جائے۔ بھارت میں زیادتی کے واقعات محض بے قابو مذہبی جنونیت نہیں بلکہ فاشزم پر مبنی ہندو ریاست کی جانب اقدام ہیں۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کے باعث معصوم افراد کے بہیمانہ قتل، ننھی بچی آصفہ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے خلاف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ برطانیہ کے موقع پر لندن میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

اس موقع پر کشمیری کمیونٹی کا کہنا ہے کہ کشمیر کامسئلہ حل کیا جائے جبکہ سکھ کمیونٹی نےخالصتان کی حمایت میں نعرے لگائے۔ مظاہرے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم ، آصفہ کے قتل کی شدید مذمت کی گئی جبکہ مسلمانوں کے خلاف ناروا سلوک روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکا جائے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دولت مشترکہ کے سربراہان اجلاس میں شرکت کے لیے لندن میں موجود ہیں۔

 

‘اسے ہم اپنے قبرستان میں دفن بھی نہ کر سکے’

اولاد کے لیے ایک ماں کے سینکڑوں سوالات ہوتے ہیں لیکن اس ماں کے ذہن میں کیسے کیسے سوال ابھر رہے ہوں گے جس کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا ہو؟ اس ماں کے کتنے سوالات ہوں گے جس کی بچی کے ساتھ ہونے والے جرم نے مذہبی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہو ؟ ‘ہماری بچی۔۔۔ اس نے کسی کا کیا کھویا؟ کیا گم کیا؟ کیا چوری کی تھی؟ انھوں نے اسے کیوں مارا؟
‘اسے اس طرف دور لے گئے۔ پتہ نہیں گاڑی میں لے گئے یا کیسے لے گئے۔ کس طرح مارا، کچھ پتہ نہیں۔

‘پتہ نہیں اس کی جان کیسے لی؟’
اس کے سوال ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک قطار باندھے چلے آ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماں کا درد پھوٹ نکلا ہو۔ جموں کے ادھم پور کے دودھر نالا کی پہاڑیوں پر جب ان کے سوالوں کی جھڑیاں لگیں تھیں اسی وقت میرے ذہن میں آٹھ سال کی اس معصوم کی شکل ابھر رہی تھی جو کہ اجتماعی ریپ کا شکار ہوئی تھی۔ بالکل ماں جیسی شکل، ویسی چمکتی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور گورا چٹا رنگ۔

پھر میرا ذہن لوٹ آیا۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ ‘بہت خوبصورت اور ہوشیار تھی میری بیٹی، جنگل میں جا کر واپس آ جاتی تھی۔ ‘لیکن اس دن وہ لوٹ کر نہیں آئی اور پھر ہمیں اس کی لاش ملی۔’ وہیں آس پاس بھیڑیں، بکریاں اور گائیں تھیں۔ بکروالی کتے رات کی ٹھنڈک کے بعد زنجیروں میں بندھے پڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ گھوڑے اپنے بچوں کے ساتھ چارا کھانے میں مشغول تھے۔ اس بچی کو بھی گھوڑوں کا بہت شوق تھا۔ اس کی بہن نے بتایا کہ اسے کھیلنے کا بہت شوق تھا اور وہ بہت اچھی طرح گھڑ سواری کر سکتی تھی۔

اس دن وہ گھوڑے لے کر ہی کٹھوعہ کے جنگل میں گئی تھی جب اسے اغوا کر لیا گيا اور سات دنوں تک اجتما‏عی ریپ کے بعد لاش کو جنگل میں پھینک دیا گيا ۔  غمزدہ ماں بتاتی ہیں : ‘پہلے میری تین بیٹیاں تھیں۔ اب دو ہی رہ گئی ہیں۔’ اپنی اس بیٹی کو انھوں نے اپنے بھائی کو گود دیا تھا کیونکہ بھائی کی بیٹی کی ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔ حادثے کے وقت بچی کے اصل ماں بات سانبا میں ڈیرہ ڈالے ہوئے اور ان کی بچی اپنے ماموں کے ساتھ کٹھوعہ کے اس گاؤں میں رہ رہی تھی۔

سات دنوں کے بعد بھی لاش کا حاصل کرنا بہت آسان کام نہیں تھا۔ بچی کے والد نے وضاحت کی: ‘پولیس والے یہ کہنے لگے کہ آپ ہی کی بکروال برادری میں سے کسی نے اسے مار ڈالا ہو گا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گاؤں والے تو ایسا برا کام نہیں کر سکتے۔’ بچی کی ماں نے کہا: ‘اپنی موت مر جاتی تو صبر کر لیتے۔ سمجھتے کہ مر گئی۔ دنیا مرتی ہے سو وہ بھی مر گئی۔’ جبکہ بچی کے والد نے کہا: ‘ہم اپنی بیٹی کو اپنے قبرستان میں دفن بھی نہیں کر سکے۔ اسے ہمیں رات میں ہی دوسرے گاؤں لے جانا پڑا۔’

فیصل محمد علی
بی بی سی نمائندہ، ادھم پور

انڈیا : ریپ معاشرے کی بے حسی کا عکاس

گذشتہ جنوری میں جموں کے کٹھوعہ ضلع میں مسلم خانہ بدوش بکروال قبیلے کی ایک آٹھ سالہ بچی معمول کے مطابق اپنے گھوڑوں کو گاؤں سے دور جنگل کے علاقے میں چراگاہوں کی طرف لے کر گئی۔ شام میں جب وہ گھر نہیں لوٹی تو گھر والوں کو تشویش ہوئی۔ ایک ہفتے بعد اس کی لاش جنگل سے بر آمد ہوئی۔
پولیس کو ابتدائی تفتیش سے معلوم ہو گیا کہ بچی کو ریپ کیا گیا ہے۔ پولیس نے جیسے ہی ملزموں کی نشاندہی کی، مقامی آبادی پولیس افسروں کے خلاف ہو گئی۔
آٹھ سالہ بچی کے بہیمانہ ریپ اور قتل کی واردات کو مذہبی ٹکراؤ کا رنگ دے دیا گیا۔ جموں کے وکلا اور ہندو ایکتا منچ نام کی ایک دائیں بازو تنظیم نے ملزموں کی حمایت میں جلوس نکالے۔ بی جے پی کے بعض وزرا بھی اس میں شریک ہوئے۔ جموں بند کا نعرہ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وکلا نے پولیس کو عدالت میں فرد جرم داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور کئی گھنٹے کی جد و جہد کے بعد کہیں جا کر ملزموں کے خلاف فرد جرم داخل کی جا سکی۔

وکلا کا کہنا ہے کہ پولیس نے جانبداری سے تفتیش کی ہے۔ وہ سی بی آئی سے اس معاملے کی تفتیش کرانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ متاثرہ بچی کے والدین نے خوفزدہ ہو کر کٹھوعہ چھوڑ کر کسی اور جگہ کے لیے سفر شروع کر دیا ہے۔ عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے والی وکیل کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
آٹھ سالہ خانہ بدوش بچی کے ریپ اور قتل کی واردات کے بارے میں پولیس کی تفتیش سے جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ انتہائی بربریت کا پتہ دیتی ہیں۔ پولیس نے فرد جرم میں بتایا ہے کہ یہ ریپ اتفاقیہ نہیں ہے۔ یہ ایک منصوبہ بند جرم کی واردات تھی جس کا مقصد بکروال خانہ بدوشوں کو خوفزدہ کر کے کٹھوعہ سے بھگانا تھا۔

اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس سے جموں کے مسلمانوں میں دہشت پیدا کی جا سکے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس واردات کے تین مہینے گزرنے اور جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کے باوجود ریپ کے اس سنگین واقعے پر پورا ملک خاموش رہا۔ ملک کا ضمیر اس وقت جاگا جب ریپ کا ایک اور بہیمانہ واقعہ سامنے آ گيا۔ یہ واقعہ اتر پردیش کے اناؤ ضلع کا ہے۔ اس واقعے میں مبینہ طور پر ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔ ریپ کا الزام حکمراں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی پر ہے۔

یہ واردات جون کی ہے۔ متاثرہ لڑکی دس مہینے سے ریپ کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ تھک ہار کر گذشتہ ہفتے متاثرہ لڑکی اور اس کی ماں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ انھیں تو بچا لیا گیا۔ لیکن چند دنوں بعد لڑکی کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ الزام ایم ایل اے کی بھائی پر ہے۔ میڈیا میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ہر طرف شور مچنے لگا۔ بحث شروع ہو گئی۔ معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ رکن اسمبلی کے خلاف اب رپورٹ درج ہو گئی ہے لیکن وہ ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے تھے۔

حالیہ برسوں میں سی بی آئی کی شبیہ اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور لوگوں کو اس کی تفتیش پر بھروسہ نہیں رہا۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ تفتیشی ایجنسی سیاسی دباؤ میں کام کرتی ہے۔ اناؤ اور کٹھوعہ کا واقعہ انڈین معاشرے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور سیاسی اور سماجی بے حسی کا عکاس ہے۔ اناؤ میں ایک بے بس خاندان ریپ کی رپورٹ درج کرانے کے لیے خودکشی کے اقدام تک کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ جبکہ کٹھوعہ کے واقعے میں جموں بار ایسو ایشن کے وکلا اور حکمراں بی جے پی کے کئی وزرا اس سنگین واردات کو مذہبی رنگ دے کر ملزموں کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں اور ہڑتالیں کرتے ہیں۔ ریاست اور انصاف کے نظام کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔

انڈیا میں اناؤ اور کٹھوعہ جیسے ریپ کے واقعات پر مہینوں تک سیاسی جماعتوں اور لوگوں کی خاموشی خطرناک روش ہے۔ یہ انسانوں سے انسانوں کی بیزاری، بےحسی اور نفرت کی عکاس ہے۔ ملک میں جس طرح کی سیاست ہو رہی ہے اور جس طرح کی فضا قائم ہوئی ہے اس کا واحد مقصد کسی بھی طرح اقتدار کا حصول اور اپنے اقتدار کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہے۔ امن و قانون اور عدل و انصاف کے ادارے شدید دباؤ میں ہیں۔ سیاست میں اخلاقیات اور ایمانداری کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں انسانیت اور ضمیر کی آوازیں رفتہ رفتہ دبتی جا رہی ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی فضا میں عوام کا آخری سہارا عدلیہ ہے۔ اگر ‏عدل و انصاف کا نظام بھی لڑ کھڑا گیا تو پھر جمہوریت کے سارے راستے بند ہو جائیں گے۔

شکیل اختر
بی بی سی نامہ نگار، دہلی

ثانیہ مرزا کو مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر پاکستانی ہونے کے طعنے

ہندوستانی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی بھارتی اہلیہ ثانیہ مرزا کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کی گئی 8 سالہ مسلمان بچی کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔ 8 سالہ آصفہ بانو کے ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کرنے کی امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر ٹوئیٹ کرنے پر بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے خلاف خود اپنے ہی ملک کے شہری ناراض ہو گئے اور انہیں پاکستانی ہونے کا طعنے دے دیا۔ ثانیہ مرزا نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کی وہ خبر شیئر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی 8 سالہ آصفہ کے ’ریپ‘ اور قتل کے واقعے کے بعد ہندو رہنما ملزموں کے حق میں مظاہرے کے لیے سامنے آگئے۔

ثانیہ مرزا نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’اگر ہم 8 سالہ بچی کو انصاف دلانے کے لیے ذات، نسل اور جنس کی تفریق کے خلاف اٹھ نہیں سکتے تو ہم اس دنیا میں کبھی بھی کسی مسئلے یہاں تک کہ انسانیت کے لیے اٹھ نہیں پائیں گے‘۔ انہوں نے لکھا کہ 8 سالہ بچی کے ’ریپ‘ اور قتل کا واقعہ اور اس پر ہماری سوچ انہیں بیمار بنا رہی ہے۔ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے یہ ٹوئیٹ گزشتہ روز کو اس وقت کی، جب آصفہ کے ’ریپ‘ اور بیہمانے قتل کی خبر بھارتی میڈیا سمیت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنی۔

اگرچہ یہ واقعہ رواں برس جنوری میں پیش آیا تھا، تاہم گزشتہ روز اسی واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے حق میں ہندو سیاستدانوں کی سربراہی میں نکلنے والے مظاہروں کے بعد اس معاملے پر بھارت اور کشمیر میں ہندو اور مسلمان ظاہری طور پر تقسیم دکھائی دیے۔ ‘ریپ‘ اور قتل کا نشانہ بننے والی بچی مسلمان تھی اور اس کے حق میں مسلمان مظاہرے کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ انہیں نشانہ بنانے والے ملزمان ہندو تھے، جن کے حق میں ہندو مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ثانیہ مرزا کو بھی مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر ہندو ٹوئٹر صارفین نے تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے انہیں پاکستانی ہونے کے طعنے دیے۔
پنک چوہدری نامی صارف نے ثانیہ مرزا کو تجویز دی کہ اگر انہیں بھارت میں رہنے میں مسئلہ ہے تو وہ چین چلی جائیں۔

گتا جوالا نے لکھا کہ بھارت میں ثانیہ مرزا جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی مسائل ہیں۔ راکیش کمار نے ثانیہ مرزا کی ٹوئیٹ پر لکھا کہ ’جب ہندو مرتا اور ریپ ہوتا تو ان آنٹی کو بہت مزا آتا ہے، اس لیے انہیں اپنی منافقت پر شرمندہ ہونا چاہیے۔
کچو کنان نامو نامی صارف نے تو ثانیہ مرزا کو مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر غیر بھارتی قرار دیتے ہوئے انہیں پاکستانی ہونے کا طعنہ دے دیا۔ انہوں نے ثانیہ مرزا کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ’وہ کس ملک کے بارے میں بات کر رہی ہیں، کیوں کہ انہوں نے تو ایک پاکستانی شخص سے شادی کر رکھی ہے، اس لیے وہ اب بھارتی نہیں‘۔

جب بھارتی ٹینس اسٹار کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا گیا تو ان سے خاموش رہا نہیں گیا اور انہوں نے بھی تنقید کرنے والوں کو کھری کھری سنا دیں۔ ثانیہ مرزا نے لکھا کہ وہ بھارتی ہیں اور بھارتی رہیں گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک شخص سے ہی شادی کی ہے اور انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ بھارتی نہیں ہیں۔ ثانیہ مرزا نے تنقید کرنے والوں کو کہا کہ وہ تنگ نظری سے ہٹ کر سوچیں، ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن سب لوگ کسی مذہبی تفریق کے بغیر انسانیت سے متعلق سوچیں گے۔ خیال رہے کہ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے 8 سال قبل اپریل 2010 میں پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے شادی کی تھی، تاہم انہوں نے پاکستان منتقل ہونے کے بجائے ہندوستان میں رہنے اور اپنے ہی ملک کے لیے کھیلنے کو اہمیت دی۔ ثانیہ مرزا نے آج تک بھارت کے لیے ہی کھیلتی آ رہی ہیں اور وہیں رہتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو