آذری فتح : عسکری طاقت کی حقیقت کا سبق

قارئینِ کرام! گزشتہ ’’آئینِ نو‘‘ بعنوان ’’آذری (آذربائیجانی) فتح، عسکری طاقت کی حقیقت کا سبق‘‘ میں واضح کیا گیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی مسئلہ کشمیر و فلسطین اور نگورنو قارہ باغ جیسے مقبوضہ متنازعہ علاقوں پر عالمی قرار دادوں کو اگرچہ سفارت کاری (ڈپلومیسی) کی بڑی کامیابی سمجھا جاتا رہا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ دوسری جنگِ عظیم سے قبل کی طرح کامیاب ڈپلومیسی کے مقابل فتوحات اور خارجی امور کے (مقبوضہ علاقے خالی کرانے جیسے) اہداف کے حصول کا اصلی انسٹرومنٹ آج بھی ’’جنگ‘‘ ہی ہے۔ واضح کیا گیا کہ مذہبی متعصب ہمسائے سے اپنا مقبوضہ علاقہ خالی کرانے کے لئے سیکولر آذربائیجان کی فتح بشکل نگورنو قارہ باغ کی بازیابی نے اُس امر کی تصدیق کو پھر دہرا دیا کہ عالمی قراردادوں اور فیصلوں کے مقابل عملدرآمد میں رکاوٹ بننے والے غاصب فریق کے خلاف ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ’’جنگ‘‘ کا انسٹرومنٹ ہی کارآمد ہے۔ فقط قرار دادیں اور عالمی اتفاق اور یو این چارٹر جیسی محترم و مقدس دستاویزات ایک سراب ہی ہے۔

یہ کمزور حق دار کا علاقہ، آزادی اور حقِ خود ارادیت جیسے تسلیم شدہ اور مسلمہ حقوق کی بازیابی میں اب تو حتمی طور پر بیکار و بےاثر ثابت ہو چکیں، تاہم ’’جنگ‘‘ کی تیاری یا صلاحیت بڑھانے کے لئے جاری سفارتی کاوشوں میں اُنہیں استعمال کرتے رہنا چاہئے تاکہ حق دار ملک کے سچا ہونے کی تصویر مدہم نہ ہونے پائے۔ قارئینِ کرام! ’’آئینِ نو‘‘ کی گزشتہ اشاعت میں واضح کیا گیا تھا کہ آذری فتح خاکسار کے متذکرہ تھیسیز ’’جنگ عظیم کے بعد بھی ڈپلومیسی اور عالمی فیصلوں کے مقابلے کمزور ممالک کے غصب کئے گئے مقبوضہ علاقوں کی بازیابی کے لئے ’’جنگ‘‘ ہی خارجہ پالیسی کا نتیجہ خیز انسٹرومنٹ ہے‘‘۔ اِس ضمن میں سیاسی، نظریاتی بنیاد پر متحدہ کوریا (منچوریا) کی تقسیم اور تقسیم ہوئے ویت نام کا بذریعہ گوریلا جنگ دوبارہ متحد ہونا کیس اسٹڈی کے طور پیش کئے گئے کہ کوریا کس طرح امریکہ کے مکمل امکانی دائرہ اثر میں جانے کیخلاف عسکری مزاحمت سے تقسیم ہو گیا اور اُسکا حصہ سفارتی ضرورت کے تحت بہت حد تک ہمسایہ چین کا مرہون منت بن کر اور روس سے بھی جغرافیائی طور پر قریب ہو کر امریکہ جیسی سپر طاقت اور اُس کے علاقائی حلیفوں کے لئے حقیقتاً مسلسل سلامتی کا خطرہ بنا ہوا ہے۔

دوسری جانب منقسم ویت نام کا شمالی حصہ جنوبی ویت نام میں امریکی افواج اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف گوریلا طرز کی جنگ کا ایسا کامیاب مزاحمتی بیس بنا ئے بغیر کسی واضح ڈپلومیسی کے فقط مخصوص جنگی مزاحمت سے ہی امریکی افواج کو ویت نام سے نکالنے اور دوبارہ متحد کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ افغانستان پر روسی افواج کی گیارہ سالہ جارحیت (دسمبر1979)، قبضہ اور اسکی سوویتائزیشن کے خلاف افغان عوام کا جہاد اور اس کی آزاد دنیا خصوصاً امریکی اینگلو بلاک کی طرف جھکائو رکھنے والے مسلم ممالک کی پشت پناہی نے حتمی تصدیق کی کہ بڑے سے بڑے قبضے بھی عالمی قراردادوں اور اعلیٰ اور کامیاب ترین ڈپلومیسی سے نہیں جنگ سے ہی حل ہوتے ہیں۔ آذربائیجانی فتح اگرچہ چھوٹا کیس ہے اور یہ انٹرنیشنل میڈیا میں محدود کوریج کا حامل ہی رہا لیکن خارجہ پالیسی کی سائنس کے اطلاق کے حوالے سے یہ ایک بڑی اسمارٹ وار گیم رہی جس میں آذری سرخرو ہوئے۔

اس نے فارن پالیسی کے انسٹرومنٹس میں شامل ’’جنگ‘‘ کی حقیقت پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔ جبکہ افغانستان بھی نیٹو افواج کے خلاف طالبان اور کچھ اور محدود عسکری صلاحیت کے حامل گروپس کے اسی تجربے سے پھر گزر رہا ہے۔ خود امریکہ میں ان کی مزاحمت کی حقیقت کا اعتراف پیدا ہو چکا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پی ایل او کی نیم عسکری اور جارحانہ سفارتی مہمات نے مسئلے کو بڑے عالمی مسئلے کے طور پر زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی عربوں کے مقابل غالب عسکری صلاحیت اور طاقتور ممالک کی مکمل پشت پناہی کے بڑے غلبے نے فلسطینی نیم عسکری جدوجہد کو پہلے تو ماند کر دیا پھر خود بھی یاسر عرفات اس سے تائب ہو گئے۔ متبادل انتفادہ نے بھی مسئلے کو زندہ رکھنے میں تو کردار ادا کیا، لیکن یہ پُر امن تحریک بھی مسئلے کی طرف دنیا کو متوجہ کرنے کیلئے ہی موثر ہوئی۔

امر واقع یہ ہے کہ بڑے حلیف ہمسائے عرب بھائیوں نے اسرائیل کو اپنی عسکری طاقت مسلسل بڑھانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا، نتیجہ بھرپور اور زور دار عالمی قراردادیں اور فیصلے بھی اسرائیل کی غالب عسکری صلاحیت اور طاقتور حلیفوں کی پشت پناہی نے نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ ’’عالمی اتفاق رائے برائے عالمی امن‘‘ (اور فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی) کے مقابل اتنا ماننا پڑا کہ وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ کے گھر داماد کی تیار کردہ ’’ڈیل آف سنچری‘‘ اتنا وزن پکڑ گئی کہ صدر صاحب کے وائٹ ہائوس میں اس کے اطلاق سے مقبوضہ علاقے بیت المقدس میں نیا اسرائیلی دارالحکومت بھی بن گیا اور فلسطینیوں کے ماضی کے سرگرم حلیف و مسلمان بھائی آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی دوسری قسط ادا کر رہے ہیں۔ یہ سارا پس منظر فلسطینیوں اور عربوں کے لئے بڑا درد ناک اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانیوں مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں، ہمارے بڑے حلیف چین، بنتے دوست روس اور مسلسل غیرملکی مداخلت ہی نہیں تقریباً قبضے میں آئے افغانستان کے افغانیوں کے لئے، اُن کی نجات، سلامتی و آزادی و استحکام کے لئے بڑے ہی کام کے اسباق لئے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر مجاہد منصوری

بشکریہ روزنامہ جنگ

آذر بائیجان اور آرمینیا کی جنگ

روس ایک طلسماتی ملک جس کی کہانیاں جنوں و پریوں کے طلسم و جادو لیے ہمیشہ ہمیں مسحور کرتی ہیں اس کی دو سابقہ ریاستیں آذربائیجان اور آرمینیا اپنی تاریخی شان وشوکت کے قدیم جدید کا ملاپ ہیں یہ دونوں ممالک آج کل پوری دنیا کی خبروں میں سر فہرست ہیں۔ ری پبلک آف آذربائیجان جس کے معنیٰ فارسی اور ترک زبان میں آگ سے حفاظت کرنے والوں کا ملک ہے آذربائیجان جہاں کے چمکتے دمکتے شہر اور صاف ستھری گلیاں سیاحوں کے لیے کشش رکھتی ہیں صاف ستھرا قرینے سے بسا شہر آذربائیجان جو روس کا سب سے بڑا ملک ہے اس کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے جو ترکی النسل ہیں آذربائیجان کا پچانوے فی صد رقبہ ایشیا میں اور پانچ فی صد یورپ میں واقع ہے شمال میں روس، شمال مغرب میں جارجیا اور ترکی، جنوب میں ایران، مشرق میں بحیرہ قزویک اور مغرب میں آرمینیا پڑوسی ہے۔

اس کا دارالحکومت باکو اپنی صفائی اور جدید طرز تعمیر اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے پسندیدہ مقامات میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ موسم بہار اور خزاں میں اس کے ہوٹلز سیاحوں کے لیے بک ہوتے ہیں ویزا فیس بھی کم ہے یعنی چوبیس ڈالر ہے اس چھوٹے سے ملک میں تیس ایئرپورٹ ہیں جولائی 1918 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی ایک کروڑ سینتالیس ہزار ہے آبادی کے لحاظ سے دنیا کے 90 ویں نمبر پر ہے 1847 میں پہلی مرتبہ آذربائیجان میں خام تیل نکالا گیا اس ملک کی معیشت کا انحصار تیل گیس اور زراعت پر ہے اسے تربوز کا گھر کہا جاتا ہے اور یہاں کا پسندیدہ مشروب قہوہ ہے گیس کی پیداوار میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں اس کا شمار ہے یہاں نیم صدارتی نظام رائج ہے۔

شیعہ مسلم آبادی کی اکثریت کے باوجود سیکولر نظام رائج ہے، تمام عبادت گاہیں مساجد، ٹیمپل، گرجا گھر وغیرہ موجود ہیں مغربی کلچر حاوی ہے قبل مسیح اور اکیسویں صدی کا سنگم۔ ایک طرف ٹیمپل گرجا گھر ہیں تو دوسری جانب شراب خانے کیسینو رقص وسرور سب ہی موجود ہے خواتین مغربی لباس پہنتی ہیں بازاروں میں کاروبار بھی زیادہ تر خواتین کرتی ہیں معاشی حالات بہتر ہیں کرنسی پاکستانی روپے کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے یہاں فارسی آذری اور انگریزی زبانیں بولی سمجھی جاتی ہیں۔ 1918 میں روس نے اس پر قبضہ کر لیا تھا چنانچہ ستر سال تک روسی اس پر قابض رہے اور بالآخر افغانستان میں روس کو جب شکست ہوئی تو آذربائیجان کو بھی آزادی نصیب ہوئی۔ 30 اگست کو جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں ترکی اور پاکستان نے سب سے پہلے اسے تسلیم کیا۔

ان کی چند دلچسپ روایات اور حیران کن حقائق بھی ہیں مثلاً یہاں ایک ایسا پھول ہے جو روزانہ پانچ وقت اذانوں کے وقت کھلتا ہے، خام تیل سے غسل کا رواج ہے جسے تفتالن کہا جاتا ہے۔ روایات کیمطابق ایک صدی قبل کسی قافلے کا اونٹ دوران سفر بہت بیمار ہو گیا قافلے والوں نے اسے بے کار سمجھ کر بے وآب گیاہ وہیں چھوڑ دیا واپسی کے سفر میں قافلے والوں کا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا تو اونٹ کو بالکل صحت مند پایا، معلوم ہوا اونٹ خام تیل کے گڑھے میں گر گیا تھا جس سے اس کی بیماری دور ہو گئی، صحت مند ہو گیا، جب سے یہاں کے لوگ مانتے ہیں کہ یہ غسل ستر سے زائد بیماریوں کا علاج ہے۔ غیر ملکی بطور خاص اس غسل کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ آذری لوگ رات کے وقت قرض کا لین دین نہیں کرتے، قینچی اور بلیڈ ایک ساتھ رکھ دیا تو یہ آپ کی موت کی نشانی ہے، خالی بالٹی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھ لینا گویا نحوست کی نشانی ہے، سال کا سب سے بڑا جشن نوروز ہے شیشے کو خوشیوں کی علا مت اور آگ کو خوشیوں کی حفاظت کر نیوالی مانا جاتا ہے۔

ہمارے مشہور صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندرؒ مروند بھی آذربائیجان کے ایک گاؤں مروند میں پیدا ہوئے آذری قوم کا ماننا ہے کہ حضرت نوحؑ کی کشتی یہیں ڈوبی تھی یہاں کے ایک قبیلے کا نام نوح ہے۔ آرمینیا بھی یہی دعویٰ کرتا ہے کہ ان کے موجودہ علاقوں کی پہاڑیوں میں حضرت نوحؑ کی کشتی ڈوبنے کے شواہد موجود ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے ایک گائوں کا نام نوح رکھا ہے۔ آرمینیا بھی آذربائیجان کی طرح قدیم ترین ثقافت اور ماضی رکھتا ہے یہ دنیا کے ان چھ ممالک میں شامل ہے جو اب تک مسلسل آباد ملک ہیں دنیا کا پہلا چرچ اور عیسائی ملک آرمینیا ہے اس کے علاوہ یہ سب سے پرانا شراب بنانے والا ملک ہے جو سو فی صد لٹریسی ریٹ رکھتا ہے، یہ ملک دس صوبوں پر مشتمل ہے آرمینیا میں کوئی سمندر نہیں ہے اس کی کرنسی بہت کمزور ہے قومی کھیل شطرنج ہے جو کہ اسکول میں بچوں کے نصاب میں بھی شامل ہے پورا ملک پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ معیشت کا انحصار کان کنی پر ہے۔

آرمینیا کے پڑوسی ممالک سے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے آذربائیجان کے سات اضلاع پر آرمینیا نے 1994 میں قبضہ کر لیا تھا نوگورنو قرہباخ کے پہاڑی علاقوں کو لے کر برسوں سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھگڑا رہا ہے اقوام متحدہ کے مطابق یہ آذر بائیجان کا حصہ ہے مگر آرمینیا کا قبضہ ہے اسی کو لے کر دونوں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں اس جنگ میں ترکی اور پاکستان آذربائیجان کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ روس فوجی مدد اور اسلحے سمیت آرمینیا کا ساتھ دے رہا ہے اس وقت آذربائیجان کو آرمینیوں پر سبقت حاصل ہے آذربائیجان اسرائیل کے ہھتیاروں کی مدد سے لڑ رہا ہے دونوں جانب ٹینکوں بموں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال ہو رہا ہے۔ آذربائیجان کے وزیر اعظم کا کہنا ہے وہ جلد ہی اپنے علا قے کو آزاد کروا لیں گے آرمینیا بھی ایسے ہی دعوے کرتا نظر آتا ہے اس نے اپنے ملک میں انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی ہے اپنا نقصان چھپانا حریف کا نقصان بڑھا چڑھا کر پیش کرنا جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے جنگ کی ہولناک بمباری و تباہی نے دونوں ملکوں کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے دونوں جانب پناہ کی تلاش میں ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

اقوام عالم اور یو این او نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے اس سلسلے میں سفارتی سطح پر مصالحت بھی شروع ہوئی مگر یہ معاہدہ چند منٹ بعد ہی ناکام ہو گیا جب دونوں جانب میزائل سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اس وقت آذربائیجان کو آرمینیا پر سبقت حاصل ہے جنگ کے بعد کیا ہوتا ہے جاپان کے شہروں ہیروشیما ناگاساکی سے عبرت لی جا سکتی ہے عراق، یمن، شام، لیبیا سے سبق سیکھنا چاہیے کہ اس کے شہری تارک وطن ہو کر کس کرب و ابتلاء سے گزر رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا میں نیا محاذ کھلنے جا رہا ہے جہاں ایک بار پھر آگ وخون کا کھیل شروع ہو گا امن چاہنے والے اقوام عالم کے لیے یہ سب سے بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ ہماری آنے والی نئی نسلوں کو جنگ کی نہیں اسی پریوں اور جنوں کے طسلماتی جہان کی ضرورت ہے۔

عینی نیازی

بشکریہ ایکسپریس نیوز

آرمینیا اور آذربائیجان میں جھڑپیں، تنازع کیا ہے؟

آذربائیجان اور اس کے حریف آرمینیا کے درمیان ‘ناگورنو کاراباخ’ کے تنازع پر پیر کو جھڑپوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آ گئی اور دوسرے روز میں داخل ہونے والی اِن جھڑپوں میں اب تک 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اطراف سے ایک دوسرے پر راکٹوں اور توپ خانوں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ان جھڑپوں کو گزشتہ 25 برسوں میں ہونے والی شدید ترین جھڑپ کہا جا رہا ہے۔ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوئی تو روس اور ترکی جیسی خطے کی دو بڑی طاقتیں اس جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ماسکو کا آرمینیا کے ساتھ دفاعی اتحاد ہے جو اس حصار والے خطے کی بقا اور اس کے باہر کی دنیا کے ساتھ رابطے میں بے حد اہم سمجھا جاتا ہے جب کہ انقرہ آذربائیجان میں ترک نسل ‘ترک کن’ کا حامی ہے۔

روس نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور ترکی نے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کی حمایت کرے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ‘ناگورنو کاراباخ’ میں جھڑپوں کی ایک تاریخ ہے۔ اس خطے میں پہلی بار آرمینائی مسیحیوں اور آذر بائیجان کے درمیان جھڑپیں 1980 میں اس وقت ہوئیں جب ماسکو کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوا تھا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں ہونے والی جنگ میں آرمینیا کی بڑی مدد کی وجہ سے ہزاروں آذربائیجانی باشندوں کو خطے سے نکلنا پڑا۔ باکو کا اس خطے پر کنٹرول ختم ہوا اور یہ علاقہ ایک خود مختار بندوبست کے تحت چلنے لگا۔ حالیہ لڑائی کے سبب جنوبی ‘قفقاز’ میں استحکام سے متعلق تشویش پیدا ہوئی ہے۔ قفقاز آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان واقع وہ پہاڑی سلسلہ ہے جو ایشیا اور یورپ کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مطالبہ کیا ہے کہ آرمینیا فوری طور پر آذربائیجان کے علاقوں سے نکل جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ قبضہ ہے اور اُن کے بقول وقت آ گیا ہے کہ ‘ناگورنو کاراباخ’ کے بحران کو انجام تک پہنچایا جائے۔ ادھر آرمینیا کی پارلیمنٹ نے اس جھڑپ کو آذربائیجان کی طرف سے ‘ناگورنو کاراباخ’ پر ایک مکمل فوجی حملہ قرار دیا ہے۔ آرمینیا کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اینا ناخدالیان نے کہا ہے کہ ترک فوجی ماہرین آذربائیجان کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اور ان کے بقول ترکی نے ڈرونز اور جنگی طیارے فراہم کیے ہیں۔ آذربائیجان نے ان الزامات کی تردید کی ہے جب کہ ترکی کی طرف سے کوئی فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

‘ناگورنو کاراباخ’ کا پس منظر
امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز اور دیگر آن لائن ذرائع کے مطابق سوویت حکومت نے 1920 میں ‘ناگورنو کاراباخ’ کے نام سے ایک خود مختار علاقہ تشکیل دیا تھا جہاں 95 فی صد آبادی نسلی اعتبار سے آرمینیائی باشندوں پر مشتمل تھی اور ان کے ساتھ آذربائیجان کے لوگ بھی اس خطے کا حصہ تھے۔ بالشویک رول کے تحت آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی پر کنٹرول رکھا گیا۔ لیکن سوویت یونین جب ٹوٹنا شروع ہوا تو اس کا آرمینیا اور آذربائیجان پر بھی کنٹرول کمزور ہو گیا۔ اسی دوران ‘ناگورنو کاراباخ’ کی قانون ساز اسمبلی نے آرمینیا کا حصہ بننے کی متقاضی ایک قرار داد منظور کی۔ باوجود یہ کہ یہ علاقہ محلِ وقوع کے اعتبار سے آذربائیجان کی سرحد کے زیادہ قریب تھا۔

جب 1991 میں سوویت یونین پر زوال آیا تو اس خود مختار علاقے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔ اُس موقع پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 30 ہزار افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ہزاروں افراد پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ سن 1993 میں آرمینیا نے ‘ناگورنو کاراباخ’ پر کنٹرول حاصل کر لیا اور آذربائیجان کے قریبی 20 فی صد علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ اگلے سال یعنی 1994 میں ایک منسک گروپ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد اس تنازع کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی امریکہ، روس اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی۔ گروپ نے آرمینیا اور آذربائیجان کی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کیا جس کے بعد ایک بار پھر جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا لیکن یہ تنازع ہمیشہ کی طرح اپنی جگہ موجود رہا اور دو دہائیوں کے نسبتاً استحکام کے بعد 2016 میں ایک مرتبہ پھر فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ دو ہزار سولہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔

ناگورنو کاراباخ کا تنازع اور اقوامِ متحدہ
مارچ 2008 میں ماردا کرٹ میں نسلی آرمینین اور آذربائیجانی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 مارچ 2008 کو سات ووٹوں کے مقابلے میں 39 ووٹوں کے ساتھ ایک قرار داد منظور کی۔ اس قرارداد میں آرمینیا کی فورسز سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کو فی الفور خالی کر دے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ