عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایپل نے دھوکا دہی کے الزام میں ایپل موبائل فونز کے لیے تیار کردہ 15 بھارتی ایپس پر پابندی عائد کر دی۔ بھارتی ویب سائٹ کے مطابق ایپل کی سیکیورٹی کمپنی ونڈیرا نے ایپل اسٹور پر اپ لوڈ ہونے والی 17 ایپلی کیشنز کلک ویئر سے متاثرہ پائی گئیں جس کا مقصد اشتہارات کے ذریعے اپنا منافع بنانا تھا۔ ایپل کے مطابق یہ تمام ایپلی کیشنز بھارتی ریاست گجرات میں موجود ایک کمپنی کی جانب سے بنائی گئی تھیں جن میں سے 15 کو ایپ اسٹور سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جبکہ 2 کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ایپل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایپ اسٹور سے ان ایپلی کیشنز کو ڈیلیٹ کر دیا جن میں ایسی کوڈنگ موجود تھی جو اشتہارات پر کلک کروانے میں مدد دیتے ہیں۔
ایپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے مستقبل میں ایسی خرابیوں کو جانچنے کے لیے اپنے ٹولز کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ ایسی ایپس ہوتی ہیں جن میں ویب پیچ پر جانے کے لیے بیک گراؤنڈ میں لنک موجود ہوتا ہے اور تصویر پر کلک کرتے ہی صارف ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے۔ ایپل کی سیکیورٹی کمپنی کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ایپس کی کوڈنگ میں کلک کرنے والا وائرس ملا جو صارف کی خواہش کے بغیر ہی خود ہی اس پر کلک کر دیتا ہے یا ویب سائٹ پر چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فرم کا کہنا ہے کہ اس بھارتی کمپنی کی گوگل پلے اسٹور پر کمپنی کی متعدد ایپس موجود ہیں لیکن ان میں اس طرح کے وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
معروف امریکی کمپنی ’ایپل‘ نے سرمائے کاروں کے پر زور مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی ایسے فیچر تیار کرنے میں مصروف ہے جس سے بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔ کمپنی کے مطابق وہ ایسے فیچر تیار کر رہی ہے جنہیں استعمال کر کے والدین اپنے بچوں کو آئی فون سمیت دیگر ڈیوائسز سے دور رکھنے سمیت انہیں محدود وقت تک اسمارٹ آلات استعمال کرنے کا پابند بنا سکیں گے۔ ایپل کو سرمایہ کار کمپنیوں ’یانا پارٹنرز اور کیلیفورنیا اسٹیٹ ٹیچرز‘ (کیلسٹرس) کی جانب سے آن لائن کھلا خط لکھا گیا تھا۔