ایم کیو ایم میں یا تو میں رہوں گا یا عامر خان

ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہادرآباد رابطہ کمیٹی تسلیم کرنے کو تیار ہوں مگر بہادرآباد میرے یا عامر خان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے اور ایم کیو ایم میں یا تو میں رہوں گا یا عامر خان۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے ایم کیوایم بہادرآباد کے ساتھ اتحاد کے لیے نئی پیش کش کر دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہادر آباد رابطہ کمیٹی تحلیل کرنے کے مطالبے سے دست بردار ہو گئے، واحد شرط یہ ہے کہ بہادر آباد میرے اور عامر خان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے، وہ ایم کیو ایم بہادر آباد کی پوری رابطہ کمیٹی کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں جو بھی فیصلہ کرتا تھا عامر خان کی رائے اس سے مختلف ہوتی تھی، پی ایس پی سے اتحاد کے معاملے پر بھی عامر خان کی وجہ سے اختلافات ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کھل کر کہیں کہ وہ مجھے سربراہ مان کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، جس گرم جوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا وہ نہیں تھا، کشور زہرہ باجی نے استقبال کیا جو مثبت قدم تھا۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ جس دو تہائی رابطہ کمیٹی نے مجھے ہٹایا اس کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیار ہوں، آج ثالثی کی ایک اور کوشش کر رہا ہوں، بہادر آباد رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنےکی بات نہیں کرتا، مشورے کو نادان دوستوں نے نہیں مانا، تمام ساتھیوں کے مشورے اور رائے سے ایک فیصلہ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا میں بات میں لے کر نہیں گیا تھا۔ فاروق ستار نے عامر خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی تقسیم در تقسیم کی وجہ بھی عامرخان بنے۔ اختلاف بڑا گہرا ہے، ماضی میں بھی میرے اور عامر کے درمیان جھگڑے ہوئے، جولائی اور نومبر 2017 میں میری اور عامر خان کی لڑائی بھی ہو چکی ہے۔ عامر خان کی موجودگی میں پارٹی نہیں چلا سکتا، عامر خان میری ہر تجویز اور فیصلے میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔

انہوں نے خالد مقبول کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ تو دکھاوے کے سربراہ ہیں، ایم کیو ایم بہادر آباد کےاصل معنوں میں سربراہ عامرخان ہیں، خالد مقبول کو کچھ دنوں میں یہ بات سمجھ میں آ جائے گی۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کو کہا تھا آپ عامر خان کو سربراہ بنا دیں میں گھر چلا جاتا ہوں، میں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، بہادر آباد کے ساتھی ہی مجھے منا کر واپس لے گئے تھے۔ فاروق ستار نے کہا کہ کارکنان عامر خان کی وجہ سے آج بھی ایم کیو ایم سے دور ہیں، مہاجر قاتل مہاجر مقتول کے آغاز کرنے والے عامر خان ہیں، شہداء کے اہل خانہ عامر خان کو ایم کیو ایم میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی ایم کیو ایم میں کام نہیں کر سکتا جس میں بدنام زمانہ لوگ موجود ہوں، میں کسی سیکٹر میں متنازع لوگوں کو نکالنے کی بات کروں تو ایسا نہیں کر سکتا، ایم کیو ایم حقیقی سے بھی عامر خان ہی الگ ہوئے تھے۔ فاروق ستار نے عامر خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کو لگتا تھا نائن زیرو پر پڑنے والے چھاپے کے ذمےدار بھی عامر خان ہیں، عامر خان جرائم میں ملوث افراد کو ٹاؤن اور یو سی میں لگا رہے ہیں، چائنا کٹنگ کے بعد امریکی یا روسی کٹنگ ہو، ایسی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

متحدہ قومی موومنٹ : پی آئی بی سے شروع، پی آئی بی میں دفن

تنظیم بنانے کی پاداش میں متحدہ کے قائد اور کارکنان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے تحت دوسری سیاسی طلبہ تنظیموں کے طلبہ نے اے پی ایم ایس او سے تعلق کی بناء پر اس کے قائد اور کارکنان کو زیادتیوں کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور طلبہ تنظیم کراچی        یونیورسٹی سے نکل کر کالجوں تک جا پہنچی۔ سلیم شہزاد اردو سائنس کا لج کے یونٹ سیکریٹری مقرر ہوئے۔ اسی طرح دیگر رہنماؤں اور کارکنان نے شہر کے مختلف کالجوں میں اپنے یو نٹ قائم کر دیئے۔ تاہم مہاجر طلبہ و طالبات کو، جو اس وقت صرف اپنی قوم کی جنگ لڑ رہے تھے، زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ یہ جنرل ضیا الحق کی آمریت کا دور تھا لہذا حکومت نے تمام طلبہ تنظیموں پر پا بندی عائد کر کے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

ایسے میں طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کی تحریر و تقریر پر پا بندی عائد کر دی گئی۔ اخبارات اول تو ان کے بیان ہی شائع نہیں کرتے تھے اور اگر کچھ عرصے بعد بیان شائع کیا جانا شروع کیا گیا تو تمام طلبہ تنظیموں کے ساتھ کالعدم کا اضافہ ضروری تھا جس کی بنیاد پر طلبہ تنظیموں نے مل جل کر اس بات کا یہ حل نکالا کہ انہوں نے اپنی طلبہ تنظیموں کو کالعدم ہو نے سے بچا نے کے لیے تنظیموں کے ساتھ ویلفیئر اور موومنٹ کے نام جوڑنا شروع کر دیئے اور کئی ایک نے، جن میں اے پی ایم ایس او بھی شامل تھی، طلبہ سیاست چھوڑ کر ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ (ایم کیو ایم) بنالی اور طلبہ تنظیموں کے دائرہ کار کو شہر بھر میں پھیلانا شروع کر دیا۔

کیونکہ ڈاکٹر فاروق ستار، احمد جمال، عظیم احمد طارق اور طارق جاوید سمیت بیشتر رہنماؤں کا تعلق پی آئی بی کالو نی سے تھا لہذا الطاف حسین اپنی ہونڈا ففٹی موٹرسائیکل پر بیٹھ کر یہاں سیاست کےلیے آتے تھے۔ فٹ پاتھوں پر نشستیں ہوا کرتی تھیں اور ان ہی فٹ پاتھ کی نشستوں پر شہر کے مختلف علاقوں سے جلسوں کے دعوت نامے آتے۔ ایسے میں مجھے بھی لانڈھی میں ہونے والا ایک جلسہ یاد ہے جب شہر بھر میں شدید با رش ہو رہی تھی لیکن لانڈھی کے علاقے میں بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا۔ تب الطاف حسین، احمد جمال کی گاڑی میں بیٹھے (جس کے اوپر ایک ہوٹر بھی لگا ہوا تھا) سائرن بجاتے ہوئے جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے قائد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے شدید بوندا باندی کا لفظ تو سنا ہے کہ ایک علاقے میں ہو رہی ہے لیکن دوسرے علاقے میں نہیں، مگر کبھی شدید بارشوں کا لفظ نہیں سنا کہ تمام علاقوں میں بارش ہو رہی ہے اور لانڈھی میں بارش کا نام و نشان ہی نہیں جو اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ بھی مہاجر قوم کے ساتھ ہے اور اسی وجہ کر بارش نہیں ہو رہی تاکہ یہ جلسہ کامیاب ہو سکے۔

پھر مہاجر رہنما اسی طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں اپنا اثر رسوخ قائم کرتے رہے اور قوم پرست سیاستداں جی ایم سید مرحوم سے (جنہوں نے اپنی آخری سانس تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور ’’پاکستان نہ کھپن‘‘ کے نعرے لگاتے رہے) ناتہ جوڑ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مہاجر قومی موومنٹ نے برسوں کی ترقی کا سفر دنوں میں طے کر لیا۔ اسی دوران اچانک ایم کیو ایم کی جانب سے نشتر پارک میں جلسے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن بھی شدید بارش ہو رہی تھی لیکن نشتر پارک عوام سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے میں مہاجر سیاستداں الطاف حسین نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہو ئے حسب معمول پارک کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک پی آئی اے کے طیارے کو دیکھ کر کہا کہ یہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ نہیں بلکہ پنجاب انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ ہے؛ اور حسب دستور اپنے خطاب میں پنجاب اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنایا۔

پھر اپنے مخصوص لب و لہجے میں، جو انتہائی سحر انگیز ہوتا تھا، انہوں نے سی آئی اے والوں، پولیس والوں، ایجنسی والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: لکھو کہ الطاف حسین نے جب ’’ایک دو تین‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی قوم کو خاموش ہونے کو کہا تو وہاں مکمل طور پر خاموشی چھا گئی۔ اور واقعتاً جب انہوں نے ایک دو تین کی گنتی گنی تو پوری جلسہ گاہ اور اس کے اطراف کے علاقے میں، جہاں عوام کے سروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، پن ڈراپ سائلنس ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اس بارش کے دوران صرف لوگوں کی سانسوں اور پرندوں کے پھڑپھڑا نے کے سوا اور کوئی آواز نہیں سنی۔

اس طرح مہاجر قومی موومنٹ کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ یہ سفر اس تیزی سے جاری ہوا کہ شہر بھر میں مہاجر قومی موومنٹ کی ایک اجارہ داری قائم ہو گئی اور لوگوں کی قسمت یا مقدمات کے فیصلے تھانوں اور کچہری کے بجائے مہاجر قومی موومنٹ کے یونٹ اور سیکٹر آفسز میں ہونے لگے۔ پھر جب عام انتخابات سمیت بلدیاتی انتخابات ہوئے تو پتنگ کو وہ بھرپور مقبولیت حاصل ہوئی جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اتنی مقبولیت مل جانے کے بعد یہ تنظیم کنٹرول میں آنے کے بجائے کنٹرول سے باہر ہو گئی اور اس کے عہدیداران و کارکنان نے پیسے کو اپنا ایمان سمجھ کر، لوگوں کی خدمت چھوڑ کر، پیسے کمانا شروع کر دیئے۔ خود مہاجر عوام اس چیز سے پریشان تھی کہ ایسے میں 1992 میں ریاستی آپریشن شروع کیا گیا اور بے شمار کارکنان و رہنما پکڑے گئے جبکہ ڈاکٹر عمران فاروق، سلیم شہزاد و دیگر رہنماؤں نے، جن کے سروں کی قیمت مقرر کر دی گئی تھی، بیرون ملک فرار ہونے میں ہی عافیت جانی۔ کوئی لانچوں کے ذریعے تو کوئی کسی اور ذریعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسے میں الطاف حسین نے بھی بیرون ملک راہ فرار اختیار کی اور لندن میں بیٹھ کر مہاجر قومی موومنٹ کو (جسے ’’متحدہ قومی موومنٹ‘‘ میں تبدیل کیا جا چکا تھا) آپریٹ کرنا شروع کر دیا۔

آپریشن ختم ہوا تو ایک بار پھر متحدہ قومی موئومنٹ نے اپنی صف بندی شروع کر دی اور ہو نے والے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں ہمدردی کا ووٹ لے کر بھرپور انداز سے کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ جانے اور بلدیاتی نظام کے تحت کراچی، حیدر آباد، سکھر، اور میرپور خاص میں کامیابی کی صورت میں اسٹریٹ پاور قائم ہوجانے کے باوجود عوام کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اپنی تجوریاں بھر تے رہے۔ تنظیم کی اسٹریٹ پاورکا یہ عالم تھا کہ الطاف حسین کے منہ سے نکلا ہوا ہڑتال کا جملہ پتھر پر لکیر ہوتا اور شہر بھر میں ایک روز کے بجائے دو روز کی ایسی ہڑتال ہوا کرتی تھی کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔ کسی کی عزت نفس محفوظ نہیں تھی۔

متحدہ کے کارکنان جس کی چاہتے، اس کی پگڑی اچھال دیا کرتے تھے۔ ایسے میں عوام کے اندر ایک نفرت کی کیفیت تھی۔ اس کے باوجود لوگ ’’جئے مہاجر‘‘ کا نعرہ لگانے اور ووٹ دینے پر مجبور تھے۔ مگر کیونکہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، لہذا متحدہ کے رہنما، جنہوں نے اگست کے مہینے میں اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال اور دھرنا دے رکھا تھا جس سے الطاف حسین دن میں کئی کئی بار ٹیلیفونک خطاب کرتے تھے جس پر رہنما اور کارکنان بھرپور تالیاں بجا کر انہیں داد و تحسین پیش کرتے تھے۔
اچانک 22 اگست 2016 کو قائد تحریک الطاف حسین جوش خطابت میں آکر پاکستان کے خلاف نعرے بلند کر دیئے اور دھرنے میں بیٹھے کارکنان کو میڈیا ہاؤسز پر حملے کےلیے اکسایا۔ اس پر وہ کارکنان جن کی تعداد لاکھوں سے کم ہو کر سینکڑوں میں پہنچ گئی تھی، قائد کے حکم پر ’’قائد کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے میڈیا ہاؤسز پر حملہ آور ہو گئے جس پر ریاستی ادارے بھی حرکت میں آ گئے اور انہوں نے بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور عہدیداران کو گرفتار کر لیا، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

حکومت نے متحدہ کے قائد کی تحریر و تقریر پر مکمل پابندی عائد کر دی جس کے بعد کارکنان کی ایک بڑی اکثریت یا تو گرفتار ہو گئی یا پھر انہوں نے روپوشی اختیار کر لی۔ اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج شاید متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیم کا آخری دن ہے مگر اچانک ڈاکٹر فاروق ستار نے، جو متحدہ کے بنیادی کارکنان میں شمار کئے جاتے ہیں، اپنی گرفتاری اور رینجرز ہیڈ کوارٹر میں جانے کے بعد 23 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا بلکہ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے نام سے اس تنظیم کو نئے سرے سے منظم کرنا شروع کر دیا۔

متعدد رہنما ان کے ساتھ بھی ہو گئے اور اس طرح ایک بار پھر متحدہ کا سیاسی سفر شروع ہو گیا۔ مگر انہیں عوام میں پذیرائی نہیں مل سکی۔ اس کے باوجود وہ یہ باور کراتے رہے کہ اب متحدہ کا مکمل کنٹرول ان کے پاس ہے۔ مگر ایسا نہیں تھا کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ میں سب سے پہلے 1992 میں آفاق احمد کی قیادت میں ایک گروپ مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کی صورت میں مہاجر سیاست کا نعرہ بلند کرتے ہو ئے علیحدہ ہو گیا۔ پھر 2016 کے اوائل ہی میں مصطفی کمال نے بھی وفاق کی سیاست کے نام پر پاک سر زمین پارٹی کا اعلان کر دیا۔

متحدہ سے جڑے، بچے کچھے کارکنان ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ تھے مگر اچانک سینیٹ کے الیکشن میں ان کی جانب سے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کی بات ہوئی تو عامر خان سمیت اہم رہنماؤں نے اس کی سختی کے ساتھ مخالفت کی مگر فاروق ستار نے، جو الطاف حسین کی غیر موجودگی میں اپنے آپ کو ان کی جگہ تصور کرنے لگے تھے، اپنے پرانے ساتھیوں کی باتیں نظرانداز کرتے ہوئے ضد اختیار کر لی کہ چند روز پہلے ہی آنے والے کامران ٹیسوری کو (جو ڈپٹی کنوینر بھی ہیں) سینیٹ کی رکنیت کےلیے نامزد کیا جائے۔ اس پر ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان کے درمیان اختلافات انتہائی شدید ہو گئے۔

عامر خان گروپ نے بہادر آباد کے مر کز میں بیٹھ کر اس فیصلے کی مخالفت جبکہ فاروق ستار نے پی آئی بی میں موجود اپنے گھر کے مرکز سے ان پر لفظی گولہ باری شروع کر دی۔ مسلسل ایک ہفتے تک میڈیا اور مہاجر عوام شدت کے پیدا ہونے والے ان اختلافات کی زد میں رہی اور پوری مہاجر قوم تماشا بنتی رہی۔
اس ایک ہفتے کے دوران دونوں گروپوں کی جانب سے صبح شروع ہو نے والی لڑائی رات گئے تک جاری رہتی، جس کا سلسلہ سات روز تک مسلسل جاری رہا اور اس دوران دن رات کا خیال کیے بغیر لگ بھگ 50 سے زائد پریس کانفرنسز، جنرل کونسل کے اجلاس اور دوسرے اجلاس ہوتے رہے۔

ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بالآخر اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ متحدہ کے قائد فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کو، جن میں اہم سینئر رہنماؤں عامر خان، خالد مقبول صدیقی، فیصل سبزواری و دیگر کو معطل کر دیا جبکہ دوسری طرف بہادر آباد نے اپنے تنظیمی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو ان کی کنوینر شپ سے فارغ کر دیا۔ دونوں گروپوں کی جانب سے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کی نشستوں کے لیے علیحدہ علیحدہ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے مگر گروپ بندی کے سبب متحدہ کی سینیٹ میں نشستیں مشکوک ہو گئی ہیں جس کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچنے کے قوی امکانات ہیں۔ اس طرح وہ تنظیم جو 38 سال پہلے پی آئی بی کالونی سے شروع ہوئی تھی، پی آئی بی کالونی میں ہی دفن ہو چکی ہے۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس تنظیم کو کیسے اور کون بچائے گا؟

مختار احمد

مکافات عمل : ایم کیو ایم پانچ جماعتوں میں تقسیم ہو گئی

مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے سفر شروع کرنے والی جماعت ایم کیو ایم سے اب تک 5 جماعتیں جنم لے چکی ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ سے 1992 میں ایم کیو ایم حقیقی کا دھڑا الگ ہوا پھر مہاجر قومی موومنٹ نے اپنا نام متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا تو حقیقی نے اپنا نام مہاجر قومی موومنٹ رکھ لیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے مصطفیٰ کمال کی قیادت میں 23 مارچ 2016ء کو پاک سرزمین پارٹی بنائی جبکہ باقی ماندہ متحدہ قومی موومنٹ 23 اگست 2016 کے بعد 2 جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں بٹ گئی۔ اب ایم کیو ایم پاکستان بھی 2 دھڑوں بہادرآباد اور پی آئی بی میں تقسیم ہو گئی ہے۔

ایم کیو ایم اپنے انجام کی طرف گامزن

پاکستان کی سیاست میں پیسہ نے ساری سیاست کو آلودہ کر دیا ہے۔ پیسہ نے نظریات کو ختم کر دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اب نظریات کی کوئی تقسیم نہیں رہ گئی ہے اور نظریاتی اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سب سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہو گئی ہیں۔ سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کو ہی دیکھ لیں اقربا پروری اور سرمایہ داروں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم نظر آتی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کیا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم میں اختلافات کا بہت شور ہے۔ یہ اختلافات بھی کوئی نظریاتی نہیں بظاہر یہ بھی پیسے کی لڑائی لگتی ہے۔ فاروق ستار کسی کارکن کے حق کے لیے ساری جماعت سے نہیں لڑ رہے بلکہ یہ ایک سرمایہ دار کی لڑائی ہے۔ وہ کسی غریب کے ساتھ حق دوستی نہیں نبھا رہے بلکہ سونے کے ایک تاجر کے ساتھ دوستی نبھا رہے ہیں۔ دوسری طرف رابطہ کمیٹی کا موقف بھی کوئی خاص اصولی نہیں ہے یہ بھی حسد کی لڑائی لگ رہی ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ کامران ٹسوری پوری ایم کیو ایم میں فاروق ستار کے سوا کسی کو لفٹ نہیں کرواتے۔ جس کا سب کو حسد ہے کہ یہ ہمیں کچھ نہیں سمجھتا۔ بس فاروق ستار کا دم چھلا بنا ہوا ہے۔ ورنہ ایم کیو ایم میں تو ہمیشہ ہی اوپر سے فیصلے مسلط ہوتے رہے ہیں۔ وہاں تو ہمیشہ ہی آمریت رہی ہے، یہ سب کچھ وہاں کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ شائد فاروق ستار الطاف حسین نہیں ہیں اسی لیے سب ان کے خلاف شور مچا رہے ہیں۔ ورنہ یہی رابطہ کمیٹی الطاف حسین کے سامنے بولنے کی جرات نہیں رکھتی تھی۔ الطاف حسین کے غلط فیصلوں کا بھی دفاع کرتی۔ یہ وہی رابطہ کمیٹی ہے جس کو الطاف حسین گھر کی لونڈی سمجھتے تھے، اس کے ارکان کو اپنا غلام سمجھتے تھے۔

لیکن فاروق ستار کو شائد یہ احساس نہیں کہ وہ بے شک ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈر بن گئے ہیں لیکن وہ الطاف حسین نہیں ہے۔ لوگ ان کا احترام تو کر سکتے ہیں لیکن ان سے ڈرتے نہیں ہیں۔ان کے پاس الطاف حسین والی طاقت نہیں ہے۔ اسی لیے وہ من مانی اور مرضی نہیں کر سکتے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر سونے کے تاجر کامران ٹسوری کے پاس ایسا کیا ہے کہ فاروق ستار اس کے لیے اپنی ساری سیاست داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔ کیوں کامران ٹسوری کا سینیٹ میں پہنچنا اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے فاروق ستار اپنی ساری سیاست داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔ ویسے یہ ایم کیو ایم میں پہلی دفعہ نہیں ہے کہ کسی کو یک دم ٹکٹ دیا جائے ۔

بیرسٹر سیف کی مثال بھی سب کے سامنے ہے۔ وہ ق لیگ سے ایم کیو ایم میں آئے اور سیدھے سینیٹر بن گئے۔ اور بھی مثالیں ہیں۔ الطاف حسین لوگوں کو یک دم ٹکٹوں سے نوازتے رہے ہیں۔ تب تو کسی رابطہ کمیٹی نے کوئی سوال نہیں اٹھایا تھا۔ لیکن آج سوال ہے۔ کیا ایم کیو ایم بدل گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کامران ٹسوری کو اسٹبلشمنٹ کی حمائت حاصل ہے اس لیے فاروق ستار ان کا کیس لڑ رہے ہیں۔ میں یہ نہیں مانتا کہ اس رابطہ کمیٹی میں اتنی جان ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے کسی نمایندہ کی اس طرح مخالفت کر سکے۔ ایک تو ہر کوئی اسٹبلشمنٹ کی حمائت کا دعویٰ کرنے لگتا ہے چاہے اس کا دور دور تک اسٹبلشمنٹ سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ اگر اسٹبلشمنٹ کامران ٹسوری کو سینیٹ میں لے جانا چاہتی ہو تو اتنا شور نہ مچے وہ سب کو سمجھا لیتے۔ ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو اسٹبلشمنٹ کی بات نہ سمجھ سکے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ سب پیسے کی لڑائی ہے اور فاروق ستار کی قیادت کو چیلنج کرنے کی لڑائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فاروق ستار ایک منجھدار میں پھنس چکے ہیں۔ وہ دو کشتیوں کے سوار ہونے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں۔

اب ایسے میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ وہ قیادت سے دستبردار ہو جائیں یا وہ اپنا الگ دھڑا بنا لیں۔ جہاں تک رابطہ کمیٹی کا سوال ہے توآج جو لوگ ان کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ سب ان کے ہم عصر رہ چکے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی ان کو دل سے قائد تسلیم نہیں کیا ہے۔ عامر خان کا خیال ہے کہ انھیں قائد ہونا چاہیے فاروق ستار کیوں۔ وہ کھلم کھلا فاروق ستار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اسی طرح خالد مقبول صدیقی بھی انھیں چیلنج کر رہے ہیں۔ وسیم اختر بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ سب نمبر ون بننے کے چکر میں ہیں کوئی بھی نمبر ٹو بننے کے لیے تیار نہیں۔ ایم کیو ایم اپنی طاقت کھو رہی ہے۔ یہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ اس گھر کو آگ لگ رہی ہے اس گھر کے چراغ کے مصداق اب ایم کیو ایم کی مزید تباہی اس کے اپنے لیڈر خود ہی کر رہے ہیں۔ آپس کی لڑائی، قیادت کی لڑائی، پیسہ کی لڑائی۔ سب نے ایم کیو ایم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اگر کوئی ووٹ بینک بچ بھی گیا تھا تو وہ ختم ہو رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ساری قیادت کے درمیان جوتوں میں دال بٹ رہی ہو تو ووٹ بینک قائم رہ سکے۔

اس آپس کی لڑائی کی وجہ سے ایم کیو ایم کا کراچی میں کنٹرول مزید کم ہو جائے گا۔ عمران خان نے کراچی کے حوالے سے شدید نا امید کیا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت کو کراچی میں اچھے ووٹ ملے تھے۔ ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ تحریک انصاف کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ لے سکتی ہے۔ لیکن عمران خان پنجاب میں اس قدر پھنس گئے کہ ان کے پاس کراچی کے لیے وقت ہی نہیں تھا، انھوں نے کراچی کو بہت نظر انداز کیا۔ وہ کراچی کے معاملات سے لاتعلق رہے، وہ کراچی میں ایک مہمان اداکار بن گئے جس کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک گر گیا۔ اب شائد بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ چاہیں بھی تو ایم کیو ایم کی خالی کی جانے والی جگہ حاصل نہیں کر سکتے، پھر کیا ہو گا ؟

کیا سب کچھ مصطفیٰ کمال کو مل جائے گا۔ کیا ایم کیو ایم میں اس تقسیم کا فائدہ مصطفیٰ کمال کو ہو گا۔ کیا پاک سرزمین ایم کیو ایم کا متبادل بن گئی ہے۔ ابھی تک ایسا نظر نہیں آرہا۔ لیکن لگ ایسا رہا ہے کیونکہ اور کوئی نظر نہیں آرہا۔ میدان خالی ہوتا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت خود پلیٹ میں رکھ کر کراچی کی سیاست مصطفیٰ کمال کو دے رہی ہے۔ جس طرح جب روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ ایسے میں جب ایم کیو ایم کی بقا کو سنجیدہ خطرات درپیش ہیں قیادت آپس میں لڑ رہی ہے۔ کسی میں کسی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اگر اس بار صلح ہو بھی جائے تو پھر لڑائی ہو گی۔ اس طرح لڑائیاں ہوتی رہیں گے ۔

مزمل سہروردی