Category Archives: Al-
جو راہ وفا پہ چل چل کر
سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ
سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ
1922 خلافتِ عثمانیہ کے آخری سلطان محمد وحید الدین (محمد ششم) کو اُن کے عہدے سے برخاست کیا گیا اور یوں 623 سال تک قائم رہنے کے بعد سلطنت عثمانیہ کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا۔
پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست اور عراق، شام اور دیگر عرب علاقوں کے ساتھ فلسطین سے محروم ہو جانے کے بعد اک معاہدے پر دستخط نے ترک قوم پرستوں کو برانگیختہ کر دیا اور انہوں نے زمام کار ہاتھوں میں لیتے ہوئے سلطنت کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے، جو تاریخ میں معاہدۂ سیورے کہلاتا ہے، کے مطابق سلطنت نے شام پر فرانس، فلسطین اور عراق پر برطانیہ کے قبضے کو تسلیم کیا اور ساتھ ساتھ حجاز کو بھی ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے قبول کیا تھا۔ اس پر احتجاجاً قوم پرستوں نے مجلس کبیر ملی کے نام سے انقرہ میں مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت الگ اسمبلی قائم کر ڈالی اور محمد ششم کو عہدے سے ہٹا کر انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر جلاوطن کر دیا۔
ابتداء میں نئی حکومت نے خلافت کا عہدہ ختم نہ کیا اور عبد المجید آفندی کو خلافت کے عہدے پر فائز کیا لیکن 1924ء میں سلسلہ خلافت کو بھی موقوف کر دیا گیا اور یوں سلطنت اور خلافت دونوں کا خاتمہ ہو گیا۔
یہ وہ تاریخی تصویر ہے، جس میں سلطان وحید الدین عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد محل سے واپس جا رہے ہیں۔ وہ اگلے ہی ماہ یعنی نومبر 1922ء میں مالٹا روانہ ہوگئے تھے اور بعد ازاں 1926ء میں اٹلی میں انتقال فرمایا
ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں
جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں …نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا”بیت المال کس طرف ہے؟” آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_ میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس “کھوتی” پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں- آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں






