مثبت طرز عمل…ذہنی سکون، ترقی وخوشحالی کازینہ

نسانی فطرت کئی قسم کے رویوں کا مجموعہ ہے۔ کچھ لوگ منفی میں سے بھی مثبت پہلو نکال لیتے ہیں جبکہ کچھ کا طرز عمل اور رویہ مثبت میں سے بھی منفی پہلو کشید کرلیتا ہے۔

اول الذکر رجائیت پسند جبکہ موخر الذکر قنوطیت پسند کہلاتے ہیں۔ رجائیت پسند لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی بھر پور طریقے سے انجوائے کرتے ہیں جبکہ قنوطیت پسند لوگوں کو بڑی بڑی خوشیاں بھی مطمئن نہیں کرسکتیں۔ رجائیت پسند لوگوں کی نظر ہمیشہ روشن پہلوئوں پر مرکوز ہوتی ہے جبکہ قنوطیت پسند لوگ روشنی میں بھی اندھیرے کے متلاشی رہتے ہیں۔ رجائیت پسند لوگوں کو معاشرے میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ انہیں ہمیشہ خوش آمدید کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو غموں سے نکال کر خوشی دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس قنوطیت پسند لوگوں کو پسند نہیں کیا جاتا اور لوگ ان سے کترا کر گزر جانے کو پسند کرتے ہیں۔ قنوطیت پسند لوگ معاشرے سے کٹ کر تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ عمل انہیں مردم بیزار بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ہم آپ کو کچھ نکات بتائیں گے کہ جن پر عمل کرکے آپ زندگی میں مثبت طرز عمل اپناسکتے ہیں اور ہر دلعزیز بن سکتے ہیں۔آپ کو ترقی، خوشحالی اور ذہنی سکون بھی میسر ہو سکے گا۔

خود کو تبدیلی پر مائل کریں

خوشی کوئی ایسا عنصر نہیں ہے کہ جسے آپ ہر طرز عمل اپنا کر حاصل کرسکتے ہیں بلکہ خوشی کے حصول کی خاطر آپ کو اپنے رویہ اور طرز عمل دونوں میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ پہلے تو اس نکتے پر غور کریں کہ کیا یہ تبدیلی آپ کیلئے ترقی اور خوشی کے در وا کرے گی۔ اس مقصد کیلئے آپ اپنی زندگی کے وہ تین واقعات یاد کریں کہ جس نے آپ کی شخصیت کو موڑنے میں اہم کردار ادا کیا، آپ کو خوشی سے روشناس کروایا اور آپ کو پسندیدہ شخصیت بننے میں مدد دی۔ ان واقعات میں آپ کی دیرینہ دوست سے ملاقات، اپنے پسندیدہ مقام یا شہر کی طرف سفر یا تعلیمی میدان میں کامیابی وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ان کو لکھ کر اپنے کمرے میں ایسی جگہ آویزاں کریں کہ وقتاً فوقتاً آپ کی نظر اس پر پڑتی رہے اور آپ کے ارادوں کو مہمیز عطا کرتی رہے۔

نئے اور مختلف ماحول کا انتخاب

جب ہم پریشان اور ذہنی الجھائو کا شکار ہوتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی دیوہیکل نظر آتی ہیں۔ ریسرچ نے یہ ثابت کیا ہے کہ نیا اور مختلف ماحول اس حالت سے چھٹکارا دلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً اگر پڑھتے ہوئے آپ کا دماغ کسی نقطے پر اٹک جاتا ہے اور آپ اسے حل کرنے سے قاصر ہیں تو ذہن پر بوجھ ڈالنے کے بجائے کوئی اور کام شروع کردیں یا کسی باغیچے وغیرہ میں ٹہلنے کیلئے چلے جائیں۔ ماحول کی تبدیلی آپ کے ذہن سے بوجھ ہٹا دے گی اور آپ پھر دوبارہ تازہ دم ہوکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کردیں۔ یہ عمل یقینا آپ کا مسئلہ حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا کیونکہ تازہ دم ہونے کے بعد آپ کا دماغ مسئلے کے حل کیلئے نئی جہتوں پر کام شروع کردے گا اور یہی جہتیں آپ کی ممد و معاون ثابت ہوں گی۔

خود کو توانائی سے بھر پور رکھیں

سب کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ تھکن اور بھوک انسان کو خوشی کے احساسات سے دور کردیتی ہے مگر بھوک اور تھکن کے اثرات اس سے کہیں زیادہ مضر ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ آپ کے نروس سسٹم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو آپ کی صحت کیلئے زہر قاتل ہے۔ اگر آپ نیند پوری نہیں کرتے تو آپ ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ نیند کی کمی آپ کی قوت فیصلہ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی یعنی منفی اثرات پیدا کرتی ہے، مگر اگر آپ نے نیند پوری لی ہے اور سیر شکم ہیں تو آپ کی سوچنے سمجھنے اور جانچنے پرکھنے کی صلاحیت پوری طرح بیدار ہوتی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق عدالتوں کے جج صاحبان لنچ سے پہلے صرف 20% لوگوں کو پیرول یا ضمانت پر رہائی دیتے ہیں جبکہ لنچ کے بعد وہ سیر شکم ہوتے ہیں تو یہی تناسب 20 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہوجاتا ہے۔  

منفی اور مثبت پہلو مدنظر رکھیں

یاد رکھیں کہ ماحول جتنا بھی خراب ہو، اس میں جتنے بھی منفی پہلو ہوں مگر مثبت پہلو بھی بہر حال ضرور موجود ہوتے ہیں، بات صرف ان کو ڈھونڈنے کی ہے۔ اگر آپ کبھی کسی ایسی سچوایشن میں گھر جائیں تو اپنے ذہن سے مسئلے کے حل کو نکال کر صرف ایک منٹ کیلئے اس کے منفی اور مثبت پہلوئوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کو 10 منفی پہلو نظر آئیں گے تو یقینا 5 مثبت پہلو بھی نظرآئیں گے جو آپ کیلئے مسئلے کو سلجھانے میں معاون ہوں گے۔ منفی پہلوئوں پر بھی غور کریں اور انہیں بطور چیلنج قبول کریں تو آپ کا ذہن زیادہ بیدار اور چست انداز میں عمل پیرا ہوگا ۔

گفتگو کیلئے صحیح افراد کا انتخاب کریں

ہم زیادہ تر اپنے مسئلے بہنوں، بھائیوں اور دوستوں سے ہی ڈسکس کرتے ہیں۔ ہر مسئلے پر ہر دفعہ ایک ہی قسم کے لوگوں سے بات چیت کرنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو ہمیشہ وہی گھسے پٹے جملے اور خیالات سننے کو ملیں گے۔ ہر دفعہ ایک ہی قسم کے لوگوں سے ایک ہی قسم کی گفتگو نئی جہتوں سے متعارف نہیں کرواتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے گفتگو کریں جن سے آپ نے پہلے صلاح مشورہ نہ کیا ہو۔ اس مقصد کیلئے آپ اپنے سے کمر عمر، زائد العمر، اپنی پروفیشنل فیلڈ اور اسٹیٹس سے کم یا زیادہ حیثیت کے حامل لوگوں سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ آپ کو یقینا ایسے کئی نکات سے آشنائی حاصل ہوگی کہ جن سے آپ پہلے نابلد تھے۔ یہ نئی معلومات یقینا آپ کیلئے ممدو معاون ثابت ہوں گی۔

ذہنی دبائو کو چینلائز کریں

ذہنی دبائو یا ٹینشن قوت فیصلہ اور صحت کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی قسم کے برے حالات کو بدترین بناسکتا ہے اور خاص طور پر حافظے اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی انداز میں اثر انداز ہونے کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو ذہنی دبائو اور پریشانی میں مثبت سوچ کی طرف مائل کرنے کی پریکٹس کریں۔ ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ خود کو یہ سکھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ سردرد، کمر درد اور دیگر کئی قسم کے عارضوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ دبائو یا پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر آپ جس چیز کیلئے پریشان ہیں باطنی طور پر مسئلہ وہ نہ ہو، مثلاً اگر آپ نے کوئی پریڈینٹیشن دینی ہے اور آپ دبائو میں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا مسئلہ پریزینٹیشن نہ ہو بلکہ آپ اس لیے پریشان ہوں کہ آپ کا باس آپ سے مطمئن ہوگا یا نہیں۔اس طرح اگر آپ پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کرلیں تو اس کا حل ڈھونڈنا آسان ہوجائے گا ۔

درست نہج پر ڈال کر مثبت رویے کا حصول ممکن بناسکتے ہیں۔

Think Positive

Enhanced by Zemanta

جو راہ وفا پہ چل چل کر

وہ چہرے میں نے دیکھے ہیں

جو راہ وفا پہ چل چل کر

اک روز بہت تھک جاتے ہیں

لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر

وہ اپنے زخم چھپاتے ہیں

…ان گہری جھیل سی آنکھوں میں

کچھ موتی سے بن جاتے ہیں

ان چہروں سے میں کہتا ہوں

مجھے اپنے پیارے رب کی قسم

تم لوگ بہت

خوش قسمت ہو

اس راہ کے دکھ اس راہ کے غم

قسمت والوں کو ملتے ہیں

یہ چشم نم، یہ آلودہ قدم

دولت والوں کو ملتے ہیں

یہ درد کے ساغر، جام و جم

نسبت والوں کو ملتے ہیں

اس راہ میں رسوائی کے علم

عزت والوں کو ملتے ہیں

یہ چہرے جب بھی دیکھتا ہوں

میری آنکھوں کے آگے

وہ منظر گھوم سا جاتا ہے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب شاہ گدا بن جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

اس روز تمہارے یہ چہرے

اک چاند کی صورت چمکیں گے

اس روز تمہاری ہی خاطر

رستوں کو سجایا جاۓ گا

پلکوں کو بچھایا جاۓ گا

خوشبو کو لٹایا جاۓ گا

تم لوگ بہت خوش قسمت ہو

مجھے اپنے پیارے رب کی قسم

تم لوگ بہت خوش قسمت ہو۔

Enhanced by Zemanta

ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں

قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “شہاب نامہ” سے ایک اقتباس
جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں …نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا”بیت المال کس طرف ہے؟” آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_ میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس “کھوتی” پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں- آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں 

Enhanced by Zemanta