افغانستان میں امن کو درپیش چیلنجز

افغانستان میں امن اور سلامتی کی عجیب صورت حال ابھر رہی ہے۔ ایک طرف انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوا ہے‘ کیونکہ افغان حکومت کی جیلوں میں بند طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کی نئی مذاکراتی ٹیم پہنچ گئی تھی‘ اور دوسری طرف بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ امریکہ اور طالبان کے مابین افغانستان میں جنگ بند کرنے اور قیام امن کیلئے سمجھوتے پر امسال 29 فروری کو دستخط ہوئے تھے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارے کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جنگ میں جاں بحق ہونے والے فوجی جوانوں اور شہریوں کی تعداد گزشتہ پورے ایک سال کی تعداد سے زیادہ ہے۔ افغان حکومت لڑائی میں تیزی کی ذمہ داری طالبان پر ڈالتی ہے۔

اس کا استدلال یہ ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا مرحلہ قریب آتے ہی طالبان نے حکومت کی چوکیوں اور عسکری ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں تاکہ مذاکرات میں ایک بالادست فریق کی حیثیت سے حصہ لے سکیں۔ دوسری طرف طالبان افغان حکومت کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ جسے وہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس پیچیدہ صورتحال کا مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متعدد بم دھماکوں اور خود کُش حملوں کی ذمہ داری کوئی بھی فریق قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس پر بعض مبصرین اور ماہرین کی رائے یہ ہے کہ صورت حال کا فائدہ اٹھا کر داعش نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا مقصد افغان حکومت اور طالبان کے مابین شروع ہونے والے مذاکرات کو ناکام بنانا اور افغانستان میں انارکی پھیلانا ہے‘ تاکہ اس کی آڑ میں اپنے اثرورسوخ کو پھیلا سکیں۔ یہ صورتحال افغان حکومت‘ طالبان اور امریکہ‘ سب کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ شام اور عراق میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد یہ انتہا پسند تنظیم افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر یہاں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 29 فروری کے معاہدے کے مطابق امن مذاکرات کا اگلا مرحلہ یعنی انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد دس دن کے اندر ہونا قرار پایا تھا‘ لیکن مذاکرات اب شروع ہو رہے ہیں۔ اسی باعث افغانستان میں مستقل قیامِ امن کی منزل کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔

اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات بہت طویل ہوں گے‘ اس دوران جنگ بھی جاری رہے گی‘ اور دونوں طرف جانی نقصان ہوتا رہے گا۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے پیہم مطالبے اور افغان عوام کی بھاری اکثریت کی خواہش کے باوجود طالبان جنگ بندی پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جنگ بندی پر اس وقت راضی ہوں گے جب فریقین کے مابین سیاسی تصفیہ ہو جائے گا‘ لیکن سیاسی تصفیہ اس لئے مشکل نظر آ رہا ہے کہ طالبان موجودہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی انتظامیہ سمجھتے ہیں۔ طالبان 1996 میں ملا عمر کی قیادت میں قائم ہونے والی ‘ اماراتِ اسلامی افغانستان‘ کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس کے حق میں وہ جو دلیل پیش کرتے ہیں‘ یہ ہے کہ 2001 میں امریکہ نے بزور طاقت غیر قانونی طور پر افغانستان میں طالبان کی حکومت کی جگہ موجودہ افغان حکومت قائم کی تھی‘ اس لئے میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد انہیں اپنی سابقہ حکومت بحال کرنے کا پورا پورا حق ہے‘ لیکن یہ دعویٰ کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے پانچ سالہ دور میں ان کی حکومت کو صرف تین ملکوں یعنی پاکستان‘ سعودی عرب اور قطر نے تسلیم کیا تھا۔ اس کے مقابلے میں افغانستان کی موجودہ حکومت کو اقوام متحدہ اور پوری بین الاقوامی برادری نے تسلیم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ تقریباً 20 برسوں سے یہاں جمہوری نظام کے تحت منتخب ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کا موجودہ معاشرہ طالبان کے زمانے کے معاشرے سے بالکل مختلف ہے۔ انکے زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے سکول نہیں تھے‘ نہ ہی ان کو ملازمت کرنے کی اجازت تھی۔

اب افغانستان میں لڑکیاں نہ صرف سکولوں بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ 1996 میں طالبان نے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد جو سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ قائم کیا تھا‘ اس کے خدوخال واضح نہیں تھے۔ جہاں تک انتظامی اختیارات کا تعلق تھا تو وہ تمامتر ملا عمر کے ہاتھ میں تھے۔ اس نظام کے تحت خواتین کو سخت پردے میں رہنا پڑتا تھا‘ یہاں تک کہ مردوں کیلئے کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے پر بھی پابندی تھی‘ لیکن آج کا افغانستان 1996 اور 2001 کے افغانستان سے بہت مختلف ہے۔ یہ درست ہے کہ طالبان کے مقابلے میں افغان حکومت کی رٹ بہت کمزور ہے۔ افغان سکیورٹی فورسز تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود طالبان کے ڈسپلن اور عسکری قیادت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں‘ مگر 29 فروری کے معاہدے اور امریکی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہونے پر اگر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ افغان انتظامیہ اور اس کے ماتحت افغان سکیورٹی فورسز ریت کی دیوار ثابت ہوں گی تو میرے خیال میں اس کی یہ خوش فہمی غلط ثابت ہو گی۔

نظم و ضبط کے مسائل اور بھگوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز طالبان کے تابڑ توڑ حملوں کا موثر جواب دے رہی ہیں۔ ممکن ہے طالبان کے اندازوں کے برعکس امریکی افواج کے انخلا کے بعد سیاسی اور عسکری صورتحال طالبان کے بجائے افغان حکومت کے حق میں چلی جائے‘ کیونکہ عوام کی طرف سے طالبان کو اب تک حاصل ہونے والی حمایت بہت حد تک ملک میں غیر ملکی افواج کی وجہ سے تھی۔ امریکہ کے نکل جانے سے افغانستان میں سیاسی اور عسکری محرکات میں بنیادی تبدیلی کا امکان ہے۔ ان حالات میں رائے عامہ کا جھکائو ان قوتوں کی طرف ہو جائے گا جو افغانستان میں فوری جنگ بندی اور مصالحت کی حامی ہیں۔ امریکی صدر نے وعدہ کر رکھا ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوتے ہی وہ افغانستان سے مزید امریکی افواج نکال لیں گے۔

امریکہ کی طرف سے اس اقدام کا اغلب امکان اس لئے ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں امریکی انتخابات سے قبل افغانستان سے امریکی افواج اگر مکمل طور پر نہ سہی‘ تو کافی حد تک واپس بلا لینے کے خواہش مند ہیں۔ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کی رفتار تیز ہوتے ہی اگر طالبان نے جنگ بندی کا مطالبہ ماننے کے بجائے افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا تو ان کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ امریکیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں جنگ کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی۔ اس طرح طالبان کو وہ اخلاقی برتری حاصل نہیں رہے گی‘ جو انہیں گزشتہ 19 برس ایک غیر ملکی حملہ آور طاقت یعنی امریکہ کے خلاف برسر پیکار ہونے کی وجہ سے حاصل تھی۔

صدر اشرف غنی کی حکومت کو ایک کمزور اور غیر موثر حکومت کہا جا سکتا ہے‘ لیکن افغان عوام میں جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں بہت مضبوط خواہش پیدا ہو چکی ہے۔ افغان معاشرے کا ہر حصہ‘ خواہ وہ تاجر ہو یا محنت کش‘ طالب علم ہو یا ملازم‘ عورت ہو یا مرد‘ اپنے ملک میں مزید جنگ کے خلاف ہے۔ ملک میں کوئی خاندان ایسا نہیں‘ جس کا کوئی نہ کوئی رکن افغانستان کی جنگ میں مارا نہ گیا ہو۔ ان افراد کی بیوائیں اور بچے اور دیگر بے سہارا لوگ موجودہ حکومت کیلئے ہی مسئلہ نہیں‘ آئندہ ہر آنے والی حکومت کیلئے بھی ایک بہت بڑا بوجھ ہوں گے۔ اس لئے آج افغانستان میں اگر ایک طرف جنگ کے شعلے پہلے سے زیادہ بلند ہیں تو عوام کے دلوں میں بھی امن کی خواہش پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور یہی ملک میں جنگ کے خاتمہ اور قیام امن کی راہ ہموار کرے گی۔

ڈاکٹر رشید احمد خاں

بشکریہ دنیا نیوز

امریکا اور طالبان… بہت کچھ کھونے کے بعد

امریکا اور طالبان کے مذاکرات بار ہا تعطل کا شکار ہوئے ہیں اور انھیں اب بھی کچھ خراب پیچ کا سامنا ہے لیکن یہ بھی معلوم ہے کہ مذاکرات پھر بحال ہو جائیںگے۔ اس سے ایک تاریخی اور اٹل حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک دوسرے پر آگ برسانے والے اور گلے کاٹنے والے متحارب فریقین کو بالآخر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ اس ضمن میں قارئین کو یاد دلا دوں کہ چند ہفتے قبل طالبان افغانستان کے نائب امیر جناب سراج الدّین حقانی نے نیویارک ٹائمز میں (طالبان کیا چاہتے ہیں) کے عنوان سے ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کے چیدہ چیدہ نقاط حسبِ ذیل ہیں۔

اٹھارہ برس سے لڑی جانے والی یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی تھی جب کہ ہم اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جس دشمن کے ہاتھوں ہم پر دو عشروں سے موت بارش کی طرح برس رہی ہے اس کے ساتھ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم افغانستا ن میں امن چاہتے ہیں۔ ہم ایک نئے اور ہمہ پہلو سیاسی نظام کے قیام کے لیے پر عزم ہیں جس میں تمام افغان شریک ہوں۔ غیر ملکی افواج کے انخلاء اور مداخلت سے نجات کے بعد ہم (تمام افغانوں کو ساتھ ملا کر ) ایک اسلامی نظام کے لیے راہ ہموار کریںگے۔ جس میں تعلیم اور روزگار سمیت خواتین کے وہ تمام حقوق محفوظ ہوںگے جو اسلام نے دیے ہیں۔

کسی افغان کے مفاد میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کو کسی اور کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے اور افغانستان کو میدانِ جنگ بنائے لہٰذاء ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے کہ نیا افغانستان امن کی علامت کے طور پر ابھرے اور کسی ملک کو بھی یہ احساس کبھی نہ ہو کہ ہماری دھرتی سے اس کو خطرہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں سرگرمِ عمل رہے۔ اس سلسلے میں امریکا بھی افغانستان میں ملک کی ترقی اور تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ نیا افغانستان دنیا کا ایک ذمّہ دار ملک ہو گا۔ ہم ان تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے پابند رہیں گے جو اسلام کے مقدس دین سے متصادم نہیں ہیں۔

اگر غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے کہ امریکا اورطالبان کے درمیان اٹھارہ سال سے جاری اس جنگ کے کیا نتائج نکلے تو بیلنس شیٹ بڑی خوفناک بنتی ہے۔ دونوں فریقوں نے بہت کچھ کھویا ہے۔ طاقتور فریق نے زیادہ کھویا۔ بے تحاشا پیسہ، نوجوان فوجیوں کی جانیں، دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا بھرم اور ساکھ ۔ امریکا نے اس جنگ میں کھربوں ڈالر جھونک دیے، ہزاروں جواں سال امریکی فوجیوں کے تابوت اٹھائے مگر وہ ایک غیر تربیّت یافتہ اور غیر منظم عسکری گروہ کو شکست نہیں دے سکا اور ایک غریب ترین ملک افغانستان کے نصف حصے پر بھی مکمل طور پر کنٹرول حاصل نہ کر سکا۔ اس معاہدے کی واحد شِق جس سے ایک سُپر پاور کی کسی حد تک فیس سیونگ ہوتی ہے وہ طالبان کی طرف سے اقرار یا اعلان ہے کہ آیندہ افغانستان کی سر زمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دوسری طرف افغانستان کے طالبان کی شیٹ پر نظر ڈالتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ وہ غیر ملکی فوجوں کے خلاف لڑ رہے تھے اس لیے کسی بھی بین الاقوامی قانون یا یو این چارٹر کے تحت ان کی جدوجہّد کو غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز یا دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھیں دنیا کا ہر قانون اپنے ملک کو آزاد کرانے کی جنگ لڑنے کا حق دیتا ہے۔ یہ واحد جنگ تھی جس میں ایک طرف امریکا اور اس کے یورپ اور نیٹو کے تمام تر اتحادی تھے اور (تمام جنگوں کے بر عکس) دوسری جانب کوئی سپر پاور نہیں تھی بلکہ بے وسیلہ افغانیوں کا لشکر تھا جس کے پاس ایک بھی فائٹر جہاز نہیں تھا۔ دنیاوی طور پر تو یہ چیونٹی اور ہاتھی کا مقابلہ نظر آتا تھا۔ مگر ہتھیاروں اور وسائل سے محروم لشکر نے جس طرح ایک سپر پاور کا مقابلہ کیا اس نے دنیا کو حیران اور ششدر کر دیا ۔

طالبان نے صرف اور صرف ﷲ کے سہارے ، ﷲ کے وعدوں کی امید پر اور جذبہء جہاد کے زور پر نہ صرف مزاحمت جاری رکھی بلکہ تین چوتھائی افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا اور بالآخر امریکا کو ناکام و نامراد ہو کر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ لگتا ہے ان اٹھاروں سالوں میں وہ رب ذولجلال کے اس فرمان کے سہارے امریکا جیسے پہاڑ سے ٹکراتے رہے کہ
اِن یَّنصُرّ کُمُ اللہُ فَلَا غالِبَ لّکُم۔ (اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں۔ القرآن)
بقولِ اقبال ؒ ؎
ﷲ کو ہے پا مردیء مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

افغانستان کی آزادی کے لیے لڑنے والے سر فروشوں کے خلاف امریکا کے خوف سے پوری دنیا نے ایکا کر لیا تھا ۔ حتّٰی کہ پاکستان کے آمر جنرل مشرف نے بھی اپنے ملک کے ہوائی اڈّے پیش کر دیے تھے۔ اتنی کسمپرسی اور اتنے نا مساعد حالات میں انھوں نے بے مثال پامردی استقامت اور جرأت کا مظاہرہ کیا جس پر افغانوں کی آیندہ نسلیں صدیوں تک فخر کرتی رہیں گی۔ لیکن اٹھارہ سالوں میں اس سر زمین اور اس کے باشندوں نے بڑی بھاری قیمت چکائی ہے۔ لاکھوں بے گناہ انسان قبروں میں اتر گئے۔ شہر کھنڈر بن گئے۔ افغانستان، جہاں کئی دہائیوں بعد ایک مرکزی حکومت قائم ہوئی اور امن بحال ہوا تھا پھر سے بد امنی کا گہوارہ بن گیا۔

کیا اس سے بچنا نا ممکن تھا ؟ طالبان کے بہت سے خیر خواہ ایسا نہیں سمجھتے، وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ طالبان کی قیادت کے جذبے اور جرأت میں کوئی کلام نہیں مگر وہ وژن اور حکمت سے محروم تھی۔ کوئی طالبان کی قیادت سے پوچھے کہ آپ اٹھارہ سال بعد یہ ماننے پر تیار ہو گئے ہیں کہ افغانستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی تو کیا اُس وقت اس نوعیّت کی یقین دہانی کرا کے لاکھوں بے گناہوں کو ہلاک ہونے اور ملک کو برباد ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا تھا، ایسا کرنا طالبان لیڈر شپ کا فرض تھا۔ قائد اپنے لوگوں کو بچاتا ہے، ہلاکت میں نہیں ڈالتا، قائد اپنے پیروکاروں اور انسانوں کو موت سے بچانے کے لیے کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی انا اور عزت نفس کی قربانی بھی دے دیتا ہے۔

مسلمانوں کے سب سے عظیم قائد حضرت محمد ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقعے پر بے مثال حکمت کا مظاہرہ کر کے اسٹریٹجک ریٹیریٹ بھی اختیار کر لی اور تحریری معاہدے میں رسول اللہ ؐ کا ٹائٹل تک حذف کرا دیا، اس لیے کہ آقائے دوجہاںﷺ حکمت کی فضیلت سے آگاہ تھے، حضور ؐجانتے تھے کہ خالقِ کائنات نے کتابِ حق میں جو بار بار حکمت پر زور دیا ہے اس کی کیا برکات ہیں اور اس میں کتنی قوت ہے۔ اسلامی ہی نہیں انسانی تاریخ نے بھی خالد ؓ بن ولید جیسا جری اور ماہر جرنیل پیدا نہیں کیا۔ جنگِ موتہ میں ایک لاکھ بیس ہزار کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ تین کمانڈروں کی شہادت کے بعد جب مسلم فوج کی کمان خالدؓ بن ولید نے سنبھالی تو سپاہ نئے جوش و ولولے سے سرشار ہو گئی۔

اس جنگ میں سپہ سالار نے لڑتے ہوئے نو تلواریں توڑیں۔ مگر دوسرے روز صبح حکمت سے کام لیتے ہوئے اسلامی فوج کو بحفاظت مدینہ واپس لے آئے۔ اسی جنگ میں نبی کریم ؐ نے حضرت خالدؓ کو سیف اللہ کا خطاب عطا ء فرمایا تھا۔ امریکا اور طالبان دونوں کو اپنے غلط فیصلوں کا احساس ہوا ہے مگر بہت کچھ کھونے کے بعد ! کیا ہی اچھا ہو تا کہ آج سے اٹھارہ سال پہلے امریکا اپنی طاقت کے نشے اور احساسِ تکبر کے تحت افغانستان پر آگ برسانے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرتا، کاش طالبان کی قیادت بھی اٹھارہ سال پہلے حکمت اور تدّبر کی فضیلت کا ادراک کر لیتی اور لاکھوں انسان مرنے سے اور افغانستان تباہ ہونے سے بچ جاتا۔

ذوالفقار احمد چیمہ

بشکریہ ایکسپریس نیوز

امن ڈیل کے بعد امریکی فوج افغانستان سے واپس لوٹ جائے، سروے

ایک سروے رپورٹ کے مطابق تقریباً نصف افغان شہریوں نے امن ڈیل کے بعد امریکی فوج کی واپسی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ امکان ہے کہ امریکا اور طالبان میں امن ڈیل جلد طے پا سکتی ہے۔ افغان شہریوں کی رائے پر مبنی سروے رپورٹ انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہٴ جنگ اور امن (انسٹی ٹیوٹ آف جنگ اینڈ پیس اسٹڈیز نے مرتب کیا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی فیصد افغان شہریوں کے مطابق اُن کے ملک کی جنگی صورت حال کا خاتمہ صرف اور صرف امن ڈیل سے ممکن ہے۔ صرف بیس فیصد کا خیال ہے کہ افغان تنازعے کا فوجی حل ممکن ہے۔ سروے میں چھیالیس فیصد افغان شہریوں نے خواہش ظاہر کی کہ امن ڈیل کے بعد امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی افواج کا مکمل انخلا ضرور ہونا چاہیے۔ اسی سروے میں ستاون فیصد افراد نے طالبان تحریک سے توقع کی کہ وہ ڈیل کے بعد غیر ملکی جہادیوں کو اپنی صفوں میں سے اور دوسرے مقامات سے بیدخل کرنے کے عملی اقدامات کریں گے۔

تراسی فیصد جواب دینے والے اس کے حق میں ہیں کہ خواتین کو بھی امن عمل کا حصہ بنایا جائے۔ سترہ فیصد نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات میں خواتین کی شرکت ضروری نہیں۔ سروے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ افغان شہریوں کی کثیر تعداد کو خدشہ ہے کہ امن ڈیل کے بغیر امریکی فوج کے ممکنہ انخلا سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ اسی سروے میں اکتالیس فیصد افغان شہریوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے امریکی ایلچی کی کوششوں کو سراہا اور اُن کو اس منصب کے لیے درست انتخاب قرار دیا جبکہ انتالیس فیصد نے اُن کی کوششوں کو واقعات اور تقاضوں سے کم قرار دیتے ہوئے اُن کے منصب پر موجودگی کی مخالفت کی۔

اس سروے رپورٹ کے لیے اکسٹھ فیصد افغان شہریوں نے اپنے جوابات آن لائن ارسال کیے۔ صرف انتالیس فیصد کے ساتھ بالمشافہ ملاقات سے رائے معلوم کی گئی۔ سروے میں جواب دینے والوں میں بتیس سو سے زائد مرد شریک ہوئے اور سترہ سو سے زائد خواتین نے حصہ لیا۔ امریکی ادارے کے سروے کو مکمل کرنے کے لیے پانچ ہزار سے زائد افغان شہریوں سے انٹرویوز کیے گئے۔ سروے رپورٹ کے لیے افغان شہریوں سے رابطوں کا سلسلہ گزشتہ برس نومبر اور دسمبر میں مکمل کیا گیا۔ جن پانچ ہزار سے زائد شہریوں سے سروے کے لیے رابطے قاسم کیے گئے، اُن کا تعلق چونتیس مختلف صوبوں سے تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد افغان طالبان کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکراتی عمل گزشتہ برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مذاکراتی عمل سے امریکا، افغانستان کے اٹھارہ برس پرانے مسلح تنازعے کا خاتمہ چاہتا ہے اور اپنے فوجیوں کی واپسی بھی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی

امریکہ نے افغانستان میں تعینات اپنی فوجیوں کی تعداد کم کر دی ہے۔ فوجیوں کی تعداد میں کمی گزشتہ ایک سال کے دوران کی گئی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کی۔ جنرل ملز نے اس موقع پر انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے دو ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی ہوئی جس کے بعد افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی کل تعداد گھٹ کر 12 ہزار رہ گئی ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کا انہیں بھی علم تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی فوجیں نائن الیون واقعے کے بعد سے افغانستان میں موجود ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان میں کل 14 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے جن کے انخلا کے لیے طالبان سے مذاکرات بھی گزشتہ برس ہی شروع کیے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ تک طالبان سے مذاکرات کے نو ادوار مکمل ہو چکے تھے۔ مذاکرات کے دوران طالبان کا یہ مطالبہ رہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائے جب کہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ پہلے طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات کے دوران بھی حملے جاری رکھے گئے تھے جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے سے عین قبل مذاکرات منسوخ کر دیے تھے اور انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی امریکی فوجیوں کی واپسی کو امریکی صدر کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے دو ہزار امریکی فوجیوں کی کمی صدر ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ واضح طور بیرون ملک تعینات امریکی فورسز کو وطن واپس لانے کا کہہ چکے ہیں۔

ان کے بقول اس پالیسی کا اہم نکتہ یہ تھا کہ صدر ٹرمپ دنیا میں امریکہ کا پولیس مین کا کردار کم کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات آپ کو مشرقِ وسطیٰ میں شام کے بعد اب افغانستان میں بھی نظر آرہی ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے افغان قیادت سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کے لیے اپنی حمایت اور شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ افغانستان کے ایک صدارتی ترجمان دعویٰ خان مینا پال نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور مارک ایسپر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ، سیکیورٹی اور دیگر کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی۔

افغان صدارتی ترجمان کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کرنے پر افغان سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی کانگریس کے وفد کے ہمراہ گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔ امریکی قانون سازوں نے افغان قیادت کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کی سیکیورٹی، اقتصادی ترقی اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

محمد جلیل اختر

بشکریہ وائس آف امریکہ