پانچ فروری، یوم یکجہتی کشمیر

5 جنوری 1990ء کو ملتان ائیرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان کر رہے تھے تو اس وقت شاید انہیں بھی یہ اندازہ نہ ہو گا کہ یہ دن آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کا استعارہ بن جائے گا۔ اس دن جب وہ لاہور پہنچے تو پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ جنت ارضی پر کئی دہائیوں سے دبی آزادی کی چنگاری شعلۂ جوالہ بن چکی ہے اور ہزاروں مجاہدین اور مہاجرین قافلہ در قافلہ فلک بوس برفانی چوٹیاں عبور کر کے بیس کیمپ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس لئے مواخات مدینہ کی یاد تازہ کریں اور پاکستانی قوم دل و جان سے ان کااستقبال کرے۔ انہوں نے 5 فروری کو پاکستانی عوام کو اہل کشمیر کی پشت پر کھڑا کرنے کافیصلہ کر کے اسے یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کااعلان کیا۔ صوبے میں میاں محمد نواز شریف صاحب اور مرکز میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت تھی۔ انہیں قوم کے عزم کے ساتھ ہم آواز ہوناپڑا۔ پھر اقوام عالم نے دیکھا کہ کراچی سے خیبر اور چترال تا گوادر قوم نے اعلان کیا کہ اے اہل کشمیر ہم تمہارے ہیں اور تم ہمارے ہواور کشمیریوں نے بھی اعلان کیا کہ ہم پاکستان کے ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔

اس دن سے زندگی کے تمام شعبوں اور تمام طبقات نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنا فرض اولین سمجھا ہے۔ اس عظیم الشان مظاہرے نے کشمیریوں کے حوصلے بھی بلند کئے اور پاکستانیوں کو بھی یہ یاد کروایا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ آغا جان نے 5 فروری کے اس دن کو منانے کے لئے دامے، درمے ، سخنے ہر اعتبار سے جہاد کشمیر کے لئے جدوجہد کو اپنا وظیفہ بنا لیا۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ پورے ملک میں ہر گائوں، گوٹھ میں کشمیر پر درجنوں کانفرنسیں ، ریلیاں اور مذاکرے ترتیب دیئے ۔ قدم قدم پر تحریک آزادیٔ کشمیر کے لئے ضروری وسائل جمع کرتے رہے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان اپنی جماعت اور اس کے اداروں کو اس کارخیر کے لئے منظم کیا۔

اہل خیر کے سامنے اس مقصد کے لئے جھولی پھیلائی اور خدمت اور کشمیر سے وابستگی کے لئے ایک والہانہ انداز متعارف کرایا۔ زندگی میں پہلی دفعہ ایک دن میں خیبر سے کراچی 4 جلسوں سے خطاب کیا اور مجھے یاد ہے کہ خواتین نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے زیور اُتار اُتار کر جمع کرائے ۔ ایک نئی نویلی دلہن اپنا بہت بھاری زیور ہمارے گھر پر چھوڑ گئی اور اس وقت رسید بھی نہ لے کر گئی۔ کچھ سالوں بعد کسی نے اسے ورغلایا کہ تم تو رسید بھی نہیں لائی تھیں ۔ مبادا قاضی صاحب نے اپنے گھر میں ہی نہ رکھ لیا ہو۔ اس نے جماعت کی ایک خاتون رہنما کے ذریعے مجھے خط بھیجا کہ مجھے اپنے زیور کی تفصیلات چاہئیں کہ کہاں خرچ ہوا۔ الحمدللہ اس کی ایک ایک پائی کی تفصیل ریکارڈ سے نکل آئی کہ وہ 5 فروری کا دن ہی تھا اور آغا جان نے پورے ملک میں اس زیور کی نمائش کر کے اس دلہن کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ جماعت اسلامی اور آغاجان کی امانت و دیانت کو دیکھ کر وہ خاتون پھر بہت شرمندہ ہوتی رہیں۔ ملک کے اندر رائے عامہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی خصوصی توجہ دی۔

دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کی قیادت کے ساتھ خصوصی روابط بنائے اور انہیں اپنے ممالک میں کشمیر کی صورت حال اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا ۔ شملہ معاہدے کے بعد او ۔ آئی ۔ سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیا گیا ۔ اسی تحریک پر او ۔ آئی ۔ سی میں کشمیر کو مبصر کا درجہ بھی دیا گیا۔ پھر یہ مسئلہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے اداروں میں زیر بحث آیا۔ اس سارے عمل میں قاضی حسین احمد کے کردار کو کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ وہ آزادیٔ کشمیر کے لئے ایک وفد کو لے کر اہم اسلامی ممالک کے دورہ پر بھی تشریف لے گئے تھے اور اس پوری جدوجہد میں اُن کے سامنے درج ذیل اہم نکات تھے۔

جن پر انہوں نے اس تاریخی جدوجہد کو ترتیب دیا۔ مسئلہ کشمیر برصغیر کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیر پاکستان کی ایک شہ رگ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کاحصہ بنائے بغیر ہم بھی نامکمل ہیں۔ اندلس میں اسلامی تہذیب کے نام و نشان کو جس طرح مٹا دیا گیا تھا۔ ہماری غفلت سے بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں کہیں کشمیر میں بھی ہمارا یہ انجام نہ ہو جائے ، نعوذبااللہ ! بھارت کی حیثیت ایک سامراجی جارح کی سی ہے اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مسلمان کشمیریوں کی مدد ہم سب پر واجب ہے ۔ بھارت کے اکھنڈ تصور کے خاتمہ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو ورنہ اُس کے جارحانہ اقدامات خطے میں عدم توازن پیدا کر دیں گے۔  اگر کشمیر پر بھارتی تسلط برقرار رہا تو وہ ہمیں پانی روک کر خشک سالی سے اور کبھی پانی چھوڑ کر سیلاب میں ڈبو کر ہماری زراعت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

کشمیر کی بھارت سے آزادی بھارتی مسلمانوں کیلئے بھی دین ، تہذیب اور مفادات کے تحفظ کا اچھا پیغام ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ان سارے پہلوئوں کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کی ۔ پوری قوم کو 5 فروری کے دن باہر لا کر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یہ پیغام دیا کہ ہم خود بھی متحد ہیں اور اہل کشمیر کو بھی یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔ 5 فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے اور قاضی حسین احمد کا صدقۂ جاریہ بھی۔ اللہ تعالیٰ تمام مجاہدین اور شہداء کے ساتھ اُن کو اپنی رحمت خاص میں جگہ دے ۔ امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب کرے اور راضی ہو جائے۔

سمیحہ راحیل قاضی