اِدھر اُدھر جو قیامتیں گزر رہی ہیں۔ غالبؔ کی یاد آتی ہے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں
گھوڑے تو سرپٹ بھاگ رہے ہیں۔ مگر گھڑ سوار نہ لگام ہاتھ میں لے پارہے ہیں۔ نہ ہی پائوں ٹھیک سے رکاب میں رکھ رہے ہیں۔ گھوڑوں سے اتر بھی نہیں پاتے کیونکہ گھوڑے ریموٹ کنٹرول میں ہیں۔ 1992 میں بل کلنٹن کی انتخابی مہم کے ایک ماہر چالباز (Strategist) جیمز کارول نے حالات کے عین مطابق ایک جملہ کسا: “IT IS THE ECONOMY STUPID!” اور یہ جملہ کالموں، مضامین اور کتابوں کا سرنامہ بنا۔ انتخابی جلسوں میں نعرہ بن کر لگا۔ اب بھی چل رہا ہے۔ جیمز کارول کا یہ جملہ ان سارے ملکوں میں دہرایا جاتا ہے جہاں معیشت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان سارے خراب معاشی موسموں میں از خود لبوں پر آجاتا ہے کہ جہاں حکومتیں اور ریاستیں معیشت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے سیاسی چالبازیوں میں مصروف ہوتی ہیں، اپنے خاندانوں کو عدالتوں سے بری کروا رہی ہوتی ہیں، اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی، سماجی، مالی اور حتیٰ کہ جسمانی طور پر ختم کروانے میں لگی ہوتی ہیں، کوئی نہ کوئی درویش یہ پکار رہا ہوتا ہے ’’ اصل مسئلہ معیشت ہے۔ نادان‘‘ ۔ Stupid کا عام ترجمہ تو احمق ہوتا ہے۔
یہ کہاوت بھی ہے۔ آپ کن احمقوں کی جنّت میں رہ رہے ہیں۔ میں تو سادہ سے لفظوں میں بڑے احترام کے ساتھ یوں عرض گزار ہوں گا۔ ’اصل بیماری معیشت ہے قبلہ‘۔ کوئی جمہوریت، آمریت، پارلیمانی یا صدارتی حکومت اپنی معیشت مستحکم کئے بغیر نہیں چل سکتی۔ اینکر پرسن چیخ رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین گریہ کناں ہیں۔ اساتذہ توجہ دلا رہے ہیں۔ معیشت، معیشت اور اب تو معیشت کی بد حالی انسانی جانیں لینے لگی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے زیرنگیں صوبہ سندھ کے زرخیز ضلع میرپور خاص میں 37 سالہ ہرسنگھ کوہلی عرف گلاہی بھیل اپنی چھ بیٹیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے دس کلو آٹے کے تھیلے کیلئے لمبی قطار میں لگا تھا کہ بھگدڑ مچ گئی اور ایک غریب ہاری، دوسرے غریبوں کے قدموں تلے کچلا گیا۔
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
میرپور خاص سے سندھ اسمبلی کے رکن سید ذوالفقار علی شاہ، ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مرنے والے کے گھر گئے۔ لیکن گورنر، وزیر اعلیٰ اور کسی وزیر کو یہ توفیق نہ ہوئی۔
جس ریاست میں جیتے جاگتے لوگ سب سے زیادہ ضرورت کی چیز آٹے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہوں۔ لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوں۔ بیٹیاں انتظار کررہی ہوں کہ ابا آٹا لے آئے تب روٹی پکے گی۔ تب بھوک مٹے گی۔ اس ریاست کے حاکموں، اداروں کے سربراہوں، وزیروں ، مشیروں اور سفیروں کے بارے میں تاریخ کیا الفاظ استعمال کرے گی؟ وہ صوبے جو کبھی پورے جنوبی ایشیا کو اناج فراہم کرتے تھے۔ وہاں اناج کی کمی حکمرانوں کی نا اہلی کے علاوہ کیا سمجھی جا سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی کہیں نہ کہیں حکمران ہے۔ 13 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اس بد قسمت ملک کی قیادت کے جو بھی دعویدار ہیں، وہ کہیں نہ کہیں فیصلہ ساز بھی ہیں۔ ہر سنگھ کی موت کے سب ذمہ دار ہیں۔ جس طرح 1992 میں امریکی صدر جارج بش عام امریکیوں کی اقتصادی ضروریات کو اہمیت نہیں دے رہا تھا۔ اسے یہ یاد دلانا پڑا IT IS THE ECONOMY STUPID ۔ اور معیشت کو اہمیت نہ دینے کی پاداش میں وہ الیکشن ہار بھی گیا۔ اس وقت امریکہ میں سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر تھی۔
پاکستان میں اب 2023 میں سیاسی کلچر تصادم، الزامات، تضادات اور ایک دوسرے پر یلغار سے بھرپور ہے۔ پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں۔ کپڑے اتارے جارہے ہیں۔ نجی زندگی کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ کساد بازاری ایسی کہ پہلے کبھی نہ دیکھی گئی۔ افراط زر اس بلندی تک کبھی نہیں پہنچا۔ یہی چہرے 1988 سے راج کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا حکومتی تجربہ پختہ ہو گیا ہے۔ 2018 تک یہی باریاں لے رہے تھے۔ اتنی طویل مسلسل حکمرانی کے بعد تو ملک کو خود کفیل اور معیشت کو مستحکم ہو جانا چاہئے تھا۔ ہمارے قدرتی وسائل پوری طرح استعمال ہو رہے ہوتے۔ سونا تانبا، قیمتی پتھر، گیس اور تیل سب نکل رہے ہوتے۔ ہماری زرخیز زمینوں کی پیداواری صلاحیت فی ایکڑ بڑھ گئی ہوتی۔ غیر ملکی قرضے تو مگربڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ قرضے کہاں گئے؟ ان سے کون سے منصوبے تعمیر ہوئے۔
قرضے کسی نے بھی لئے۔ قرضے اتارنے تو ہیں۔ یہ ہماری قوم کی حیثیت سے ذمہ داری ہے۔ ہم ایک دوسرے پر الزام عائد کر کے ان سے بچ تو نہیں سکتے۔ قرضوں کی ادائیگی اور اپنے مسائل کے حل میں مدد کے لئے ہم جن امیر ریاستوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ ان کے حکمران تو اب با آواز بلند یہ کہنے لگے ہیں کہ آپ کے ٹیکس دہندگان جب ٹیکس نہیں دے رہے اور آپ ان سے ٹیکس حاصل کرنے میں ناکام ہیں تو ہمارا ٹیکس دہندہ ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم ایسی قوم کی مدد کیوں کریں، جو اپنے ٹیکس دہندگان سے ٹیکس وصول نہیں کر پاتی۔ دوسری طرف جو ٹیکس دہندگان ہیں۔ وہ اپنے کارخانے بند کر رہے ہیں۔ انہیں گیس نہیں مل رہی۔ بجلی نہیں ہے۔ ان کی پیداوار نہیں ہے۔ تو ان سے ٹیکس بھی کم ملے گا۔ حکومت وقت کی اولین ذمہ داری تو یہ تھی اور ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم کرے۔ ماہرین کے مشورے کے بعد ضروری راستے اختیار کئے جائیں۔
شور مچا ہوا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے والا ہے۔ کوئی ریاست جب اپنے بیرونی قرضوں کی قسطیں ادا نہ کر سکے۔ اس پر سود کی ادائیگی سے قاصر ہو تو اس ملک کو دیوالیہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے تجارتی جہاز دنیا میں کہیں بھی ہوں۔ ضبط کر لئے جائیں۔ اکائونٹس منجمد کر دیے جائیں۔ اندرونی قرضوں کی ادائیگی تو نوٹ چھاپ کر ہو جاتی ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی تو ڈالر سے ہی ہو سکتی ہے ڈالر ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ہماری قرضے لینے کی اہلیت بھی گر رہی ہے۔ مزید قرضے نہیں مل سکتے۔ جنیوا میں ہمارے لئے امدادی کانفرنس ہوئی ہے۔ ہماری کمزور معیشت وہاں بھی زیادہ رقوم لینے میں حائل رہی ہے۔ مقامی بینکوں میں ڈالر اکائونٹ رکھنے والے سخت پریشان ہیں۔ خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہوا تو سب اس کی زد میں آئینگے۔ حکمراں طبقے، ریاستی ادارے، اپوزیشن، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے غریب عوام، ہمارے ماہرین، اساتذہ ، یونیورسٹیاں اور میڈیا۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ تاریخ کی روشنی میں یہ تجاویز دیں کہ ملک کو اس صورت حال سے کیسے نکالا جائے۔
معیشت کی بد حالی پر واویلا کرنے کی بجائے راہِ نجات کا تعین کیا جائے۔ امیر ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے سرمایہ داروں، ٹھیکیداروں اور جاگیرداروں کے اثاثے قومی تحویل میں لے کر اپنے پائوں پر کھڑا ہوا جائے۔ قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کے راستے بتائے جائیں۔ وزیروں مشیروں کی تعداد کم کی جائے۔ تین چار سال کیلئے ساری سرکاری مراعات ختم کی جائیں۔ جناب وزیر اعظم : اصل مسئلہ معیشت ہے۔
کراچی کے میلے میں بچھڑے ہوئے ایم کیو ایم کے بھائی ایک بار پھر مل بیٹھے تو اور کسی کو آئی نہ ہو مجھے تو الطاف حسین کی بے تحاشا یاد آئی۔ اس شہر میں جتنا پیار الطاف بھائی کو ملا ہے وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ اگر یہ کہہ دوں کہ شہر میں جتنا خوف الطاف بھائی کا تھا ویسا خوف بھی کبھی محسوس نہیں ہوا۔ اس بات پر الطاف حسین کے دیوانے ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے معصوم بھالو جیسے الطاف بھائی سے خوف کیسا۔ ایسے ہی الطاف بھائی کے دشمن حیران ہو کر پوچھتے ہیں اس شخص سے پیار کون کر سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے بھی خوف آتا ہے کہ اس پیار کا مزہ ہی اور ہوتا ہے جس میں تھوڑی سی دہشت شامل ہو جائے۔ کراچی میں جتنے بچھڑے بھائی مل کر بیٹھے تھے سب اپنے آپ کو الطاف بھائی کا روحانی بیٹا کہتے تھے۔ پھر جدا ہوئے تو سب ایک دوسرے کو غدار اور را کا ایجنٹ کہنے لگے۔
پھر ایم کیو ایم پر ڈنڈا چلا تو اپنے روحانی باپ الطاف بھائی کو بھی غدار اور را کا ایجنٹ کہنے لگے۔ یہ ایم کیو ایم پر چلنے والا پہلا ڈنڈا نہیں تھا۔ ایم کیو ایم اور کراچی پر اتنے فوجی آپریشن ہوئے ہیں کہ اگر کراچی واقعی ایک مریض ہوتا تو یا تو کب کا صحتیاب ہو چکا ہوتا یا وفات پا گیا ہوتا۔ مقصد کبھی بھی کراچی کا علاج نہیں تھا صرف قبضے کی جنگ تھی۔ اور یہ جنگ اتنی پرانی ہے کہ کراچی میں پیدا ہونے والی دو نسلوں نے یہی دیکھا ہے کہ کراچی یونیورسٹی پروفیسر نہیں بلکہ رینجر چلاتے ہیں اور مرکزی کراچی کی شاندار بلڈنگ جناح کورٹس کا نام پتہ نہیں جناح کے نام پر کیوں ہے۔ وہاں تو رینجرز کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ پاکستان میں ہر سیاست دان کبھی نہ کبھی غدار رہ چکا ہے بلکہ پاکستان میں سیاست کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے سی وی کے ساتھ ایک غداری کا سرٹیفیکیٹ نتھی ہو۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ملک کی سیاست میں ایک ہی غدار بچا ہے جس کا نام الطاف حسین ہے۔
نواز شریف مودی کا یار تھا، پکا غدار تھا پر جیل میں بھی تھا، وہاں سے سرنگ لگا کر نکلا اور اب لندن میں بیٹھ کر فوج کا سپہ سالار چنتا ہے۔ جنیوا جا کر سوچتا ہے کہ ہمیں ڈالر کتنے کا ملے گا، ایک جنرل مشرف تھا، غداری کا مقدمہ بھگتنے عدالت جا رہا تھا، پتلی گلی سے نکل کر دبئی پہنچ گیا اور اب سب مل کر اس کی صحت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے بھی کبھی غدار کہلواتے تھے اب پاکستان کے لیے دنیا کے دل جیتنے کی ذمہ داری بلاول بھٹو کو دے دی گئی ہے۔ عمران خان کو بھی کہا جاتا ہے کہ اداروں پر تنقید کر کے وہ چھوٹی موٹی غداری کر رہا ہے، وہ کہتا ہے کہ ابھی تو میں نے کچھ کیا نہیں، میرا راستہ روکو گے تو پھر بتاؤں گا کہ غدار ہے کون۔ تو آخر میں ہمارے پاس ایک ہی غدار بچا ہے الطاف حسین جس کا نہ انٹرویو چل سکتا ہے، نہ وہ اپنے چاہنے والوں سے ٹیلیفون پر خطاب کر سکتا ہے۔ پاکستان میں کبھی آپ نے ایسا غدار دیکھا ہے جو اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی گا کر مانگ چکا ہو۔
کیا آپ نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی جس میں وہ گا رہے ہیں ‘ہم سے بھول ہو گئی، ہم کا معافی دے دیو۔’ اس ملک کے میڈیا پر اے پی ایس کے قاتلوں کے ترجمان کا انٹرویو چل سکتا ہے لیکن الطاف بھائی اپنے چاہنے والوں کو ‘ایک پپی اِدھر اور ایک پپی اُدھر’ بھی نہیں دے سکتے۔ الطاف بھائی کچھ لوگوں کے محبوب ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے محض ایک مذاق۔ پیار کے دشمن انھیں اپنے عاشقوں سے نہیں ملنے دیتے اور جو انھیں مذاق سمجھتے ہیں وہ لوگوں کو ہنسنے نہیں دیتے۔ ہم نہیں جانتے کہ اب کراچی میں کتنے لوگ الطاف بھائی سے پیار کرتے ہیں اور کتنے ان سے ڈرتے ہیں۔ لیکن الطاف بھائی کے روحانی بیٹوں کا ملاپ دیکھ کر ایک دفعہ تو سب کو الطاف بھائی کی یاد آئی ہو گی اور ان پر مستقل زبان بندی کی سزا دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہمارے اصلی حکمرانوں کے دل میں ابھی بھی خوف ہے کہ کیا عوام کے دلوں میں ابھی بھی الطاف بھائی کا پیار زندہ تو نہیں۔
الطاف بھائی کے بھٹکے، بھولے، بکھرے روحانی بیٹے ایک ساتھ دیکھ کر وہ ترانہ بھی یاد آیا جس میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ ‘منزل نہیں رہنما چاہیے۔’ رہنما سے تو جان چھڑوا لی اور ساتھ کراچی والوں کو منزل بھی بتا دی۔ جناح کورٹس جہاں پر گذشتہ 23 سال سے سندھ رینجرز کا ہیڈکوارٹر ہے۔
معیشت کے مسائل سمجھنا عام لوگ تو دور، بہت سے پڑھے لکھے افراد کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ مہنگائی شاید خراب معیشت کا وہ پہلو ہے جس سے ہر کوئی واقف ہے لیکن اس کی دیگر پیچیدگیوں سے تو لگتا ہے کہ ہمارے معاشی پالیسی ساز بھی معیشت کی باریکیوں کا درست ادراک نہیں رکھتے۔ ویسے پاکستان میں معیشت کی کیا ہی بات کی جائے. پچھلے چند حکومتی ادوار کے متعدد وزرائے خزانہ کی کارکردگی پر دیکھی جائے تو ان کے نزدیک بیرونی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے امداد کی مد میں ملنے والی رقوم ہی ان کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن پاکستان معاشی لحاظ سے غریب ممالک میں بھی ایک عجوبہ ہے، جہاں بڑے شہر بھی ہیں، بڑی شادیاں بھی ہوتی ہیں، بڑی بڑی گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں، شہروں میں بڑے بڑے ریسٹورنٹس بھی نظر آتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ شدید غربت بھی ہے۔
پاکستان کے بہت سے معاشی مسائل ہیں اور سب ہی سنگین نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی ایک معاشی مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان بہت ترقی کرے گا۔ ایک طرف ہماری درآمدات، برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں یعنی اگر پاکستان ایک کمپنی ہوتا تو ہم خریداری زیادہ کرتے ہیں اور بیچتے کم ہیں۔ کون سی کمپنی ہے جو اس طرح مستقل چل سکتی ہے؟ دوسری طرف اس کمپنی کی مینجمنٹ یعنی حکومت اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرتی ہے جس میں سے زیادہ تر غیر پیداواری خرچے ہی ہوتے ہیں۔ پھر ہمارا ایسا غریب ملک ہے جہاں اعلیٰ سرکاری ملازمین کو ڈرائیور، نوکر، ریاستی زمین یا لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے سستے پلاٹ بھی دیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں نااہلی کی ایک مثال انرجی سیکٹر میں بھی نظر آتی ہے۔ ہمارا یہ نظام انتہائی خراب ہے اور اس سیکٹر میں ہم اربوں کا نقصان کر کے اپنے اوپر بیس کھرب سے زیادہ کا گردشی قرضہ چڑھا چکے ہیں۔ ہم زرعی ملک ہیں لیکن ایک طرف ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہے اور بچی کھچی کسر زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا کر نکالی جا رہی ہے۔
ہم نے دراصل کبھی اپنی معاشی سمت متعین ہی نہیں کی۔ زرعی ملک بنتے بنتے ریئل اسٹیٹ کی طرف نکل گئے يا پھر آئی ٹی ایکسپورٹ حب بننے کا سوچنا شروع ہی کیا تو فری لانسرز کے لیے مشکلات پیدا کرنے لگے۔ پھر بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ صرف عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ حکومتوں کے اپنے فنانس ماہرین بھی معاشی ترقی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں جو حقیقی طور پر معیشت کے لیے صحیح نہیں ہوتا، جیسا کہ مصنوعی طور پر ڈالر کا مستحکم ہونا، جس کی وجہ سے برآمدات میں کمی آتی ہے، خزانے کا نقصان ہوتا ہے اور ڈالرز کی بلیک مارکیٹ جنم لیتی ہے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ اسی طرح ہماری ایلیٹ کلاس بہت خوش ہوتی ہے جب امپورٹڈ برانڈ یا گاڑیاں پاکستان میں آسانی سے آتی ہیں جبکہ اس کا نقصان مقامی انڈسٹری کو ہوتا ہے۔ اسی طرح سارا پیسہ ریئل اسٹیٹ میں لگنا اور ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں تیزی سے اوپر جانا انڈسٹری کے لیے خراب بھی ہے اور اس سے ایکسپورٹ نہیں امپورٹ ہی بڑھتی ہیں۔
یہ کمپنی قرض لے لے کر کسی بھی ٹھوس اصلاحات کے بغیر اسی طرح اپنے آپ کو چلاتی رہی ہے۔ ہر نئی حکومت آئی ایم ایف کی طرف بھاگتی ہے، پچھلی حکومت پر سارا الزام ڈال کر عوام پر مزید بوجھ ڈال دیتی ہے لیکن پھر آئی ایم ایف پروگرام کو اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے صحیح طرح پورا بھی نہیں کر پاتی اور نہ ہی اس ملے ہوئے قرض سے بنیادی معاشی اصلاحات کر پاتی ہے۔ ویسے یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جو ملک کے لیے صحیح ہے وہ ملک میں سیاست کیلئے صحیح نہیں لیکن اب ہم اس نہج پر آگئے ہیں کہ یہ آئی ایم ایف والا تماشا مزید نہیں چل سکتا۔ امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد ہم نہ صرف مغرب کے لیے خطے میں اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں بلکہ اپنے ساتھ مزید سخت رویے کو بھی دعوت دے بیٹھے ہیں۔ اسحاق ڈار صاحب کہتے ہیں کہ اس دفعہ آئی ایم ایف کا رویہ ہمارے ساتھ غیر معمولی ہے جبکہ دراصل پرانا رویہ زیادہ غیرمعمولی تھا۔
مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف پروگرام بحال کرنے اور ڈیفالٹ سے پاکستان کو بچانے کی اچھی کوشش کی لیکن اس کی ایک سیاسی قیمت تھی۔ ڈار صاحب کو اتنے نازک موڑ پر اچانک کیوں لایا گیا اور جہاں وہ ٹی وی پر کہہ رہے تھے کہ ان کو آئی ایم ایف کی پروا نہیں، یہ آئی ایم پروگرام میں پھر سے شرکت کے لیے بہت تشویش ناک باتیں ہیں۔ عوام پر بوجھ نہ ڈالنے کی بات بار بار کی جاتی ہے لیکن ایک دفعہ بھی اصلاحات نہ کر کے بار بار اسی طرح آئی ایم ایف کے پاس جانا عوام پر بار بار بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ پھر ہماری تاریخ 2018 جیسے سیاسی تجربوں سے بھی بھری ہے جس نے معیشت کو سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اور کمزور کیا۔ریاست پاکستان کے لیے سخت فیصلوں کی گھڑی آ گئی ہے اور شاید یہ آخری گھڑیوں میں سے ایک ہے۔ 22 کروڑ غریب لوگوں کا ملک جس میں بے تحاشا مسائل ہیں، کو کوئی دوسرا ملک خدانخواستہ اپنے اندر ضم نہیں کر لے گا مگر 22 کروڑ نفوس کا ملک جہاں پر شدید معاشی بدحالی ہو گی، اس کی مدد کو بھی شاید کوئی نہیں آنا چاہے گا۔ اگر اب بھی سمت درست نہیں کی گئی تو یہ کمپنی یعنی ملک اب اس طرح مزید نہیں چل سکے گا۔