جمہوریت کی پسپائی؟

امریکی ادیب ، مورخ اور فلسفی ول ڈیورانٹ اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’ نشاط فلسفہ ‘‘ کے باب ’’ کیا جمہوریت ناکام ہو گئی ہے؟‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ اس ملک میں جہاں حکمران اقلیت عوامی حمایت ( یعنی جمہوریت ) کا لبادہ اوڑھتی ہے ، وہاں ایک خاص طبقہ ایسا پیدا ہوتا ہے، جس کا کام حکومت کرنا نہیں بلکہ اس منصوبے کیلئے لوگوں کی منظوری حاصل کرنا ہوتا ہے، جو حکمران اقلیت کو پسند ہو۔ ہم اس خاص طبقہ کو سیاست دان کہتے ہیں۔ سیاستدان جماعتوں میں بٹ جاتے ہیں اور لوگوں کو ایسے گروہوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، جو ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں ۔‘‘ ہمارے ملک میں سیاست دان جو کچھ کرتے ہیں یا اس وقت جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ول ڈیورانٹ کی سیاست دان کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پتلی تماشا ہو رہا ہے۔ سیاست دان اس منصوبے کیلئے لوگوں کی منظوری حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جو حکمران اقلیت کو پسند ہو گا۔ ہمارے سیاست دان خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس ملک کی حقیقی حکمران اقلیت اسٹیبلشمنٹ ہے، جو زیادہ تر فوج پر مشتمل ہے ۔

عمران خان سمیت سارے سیاسی قائدین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں کبھی مکمل اقتدار نہیں ملا اور ان کی حکومتیں بے اختیار رہیں۔ عمران خان سے پہلے تمام سیاست دان کہتے تھے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب ) نامی ادارہ آزاد نہیں ہے اور احتساب کے نام پر اسے سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو عمران خان بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سارے سیاست دان یہ بھی مانتے ہیں کہ عام انتخابات کبھی شفاف نہیں ہوتے اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتی اور نہ ہی اقتدار میں آسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سارا تماشا کیوں ہو رہا ہے اور سیاسی پولرائزیشن کو مزید گہرا کر کے لوگوں کو کیوں ایک دوسرے کا دشمن بنایا جا رہا ہے اور پاکستانی معاشرے کو خوف ناک تقسیم در تقسیم کا شکار کیوں کیا جا رہا ہے۔ ویسے تو ہماری ملکی تاریخ میں یہ کم ہی ہوا ہو گا کہ سیاست دان اپنے حقیقی ایجنڈے پر چلے ہوں یا اس پر قائم رہ سکے ہوں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔

عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ’’ آئینی طریقے ‘‘ سے ہٹانے کے اقدام سے لے کر پنجاب حکومت کو تحلیل کرنے یا نہ کرنے کی کشمکش تک کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیا تھی ؟ بس چھوٹی سیاسی جماعتوں کی طرف سے محض سیاسی کیمپ کی تبدیلی تھی۔ یہی چھوٹی جماعتیں پہلے تحریک انصاف کی اتحادی تھیں، جو بعد میں پی ڈی ایم کی اتحادی بن گئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت بھی حکمران اقلیت کے منصوبے کا حصہ تھی اور اس حکومت کا خاتمہ بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ پی ڈی ایم کو جب محسوس ہوا کہ یہ منصوبہ اس کے مفادات سے میل کھاتا ہے تو اس نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سرگرمی دکھائی اور اب تحریک انصاف اس کوشش میں ہے کہ حقیقی حکمران اسٹیبلشمنٹ اسے اپنے اگلے منصوبے کا حصہ بنائے۔ دونوں فریقوں کی عوامی سرگرمیاں اور سیاسی تضادات ان منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔

جب عمران خان نے دو ماہ قبل 26 نومبر کو اپنے لانگ مارچ کے اختتام پر جلسہ عام میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کے لوگ موجودہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں گے اور اس سسٹم کا حصہ نہیں رہیں گے تو اس وقت اس اعلان کیلئے ان کا ہوم ورک نہیں تھا۔ نہ صرف ان کے اتحادی بلکہ ان کے اپنے ارکان اسمبلی بھی اس صورتحال کیلئے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی چال اب انکی اپنی نہیں رہی۔ اب حکمران اقلیت کیلئے موقع ہے کہ وہ سیاسی تیاری کے بغیر چلی جانیوالی اس چال کو اپنے کسی منصوبے کا حصہ بنا لے۔ عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ انکے زیادہ تر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ انکے اپنے نہیں ہیں بلکہ انکے پاس بھیجے گئے تھے۔ وہ اپنے استعفوں کے حوالے سے اتنے بڑے فیصلے پر عمران خان کی ڈکٹیشن کیوں لینگے ۔ وہ تو مستقبل میں اپنی سیاسی ایڈجسٹمنٹ دیکھیں گے ۔ یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اب سارا کھیل بظاہر چوہدری پرویز الہٰی کے ہاتھ میں کیوں چلا گیا ہے، جن کی پنجاب اسمبلی میں صرف دس نشستیں ہیں۔

انہوں نے ایک طرف عمران خان کو لکھ کر دیدیا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں گے جبکہ عدالت کو لکھ کر دیدیا کہ وہ پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کرینگے۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو بچانے کیلئے جو کوششیں ہو رہی ہیں، وہ بظاہر ان کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہیں لیکن اس ایجنڈے کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار صرف ان کی اپنی کوششوں پر نہیں ہے۔ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اور عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کو عبوری ریلیف دیدیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے معاملات یا تنازعات عدالتوں میں گئے، جو پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں طے ہو سکتے تھے لیکن سیاست دانوں نے ان فورمز پر ان معاملات اور تنازعات کو حل نہیں کیا اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالا۔

اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ تمام سیاست دان اس ناقابل فخر حقیقت سے آگاہ ہیں کہ عدالتوں میں کس طرح فیصلے ہوتے ہیں۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اسکے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا ۔ منصوبے کا بلیو پرنٹ حقیقی حکمرانوں کے پاس ہو گا ۔ سیاستدان کرپشن کے کیسز، آڈیوز اور وڈیوز لیکس میں اپنی ساکھ خراب کرتے رہیں گے اور اپنے ایجنڈے پر نہیں آسکیں گے ۔ سیاسی قوتیں اور سیاست بدنام ( Discredit ) ہو رہی ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب مفاہمت میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہماری قوم کے جمہوری ریکارڈ کا مطالعہ آگے بڑھتے ہوئے قدموں اور پیچھے کو دھکیل دینے والے واقعات کی ایک اداس کن داستان ہے ‘‘ ۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ واقعات جمہوریت کو پیش قدمی کی بجائے پسپائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ سیاست دان مذاکرات کریں اور انتخابات کب کرانا ہیں، اس کا فیصلہ خود کریں۔

نفیس صدیقی

بشکریہ روزنامہ جنگ

معیشت سے کھیلنا درست نہیں

وزارت خزانہ نے ملک میں معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے اور سختی سے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹے پیغامات گھڑنا قومی مفاد کے خلاف ہے جب کہ حقیقت میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونے اور ریونیو وصولی کے مالی اہداف حاصل ہونے سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور موجودہ حکومت کی کاوشوں سے آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ پٹری پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے معاشی ایمرجنسی عائد کیے جانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے البتہ عوام کو بھی مزید معاشی بہتری اور استحکام کے لیے کام کرنا ہو گا کیونکہ بدقسمتی سے بعض سیاسی حلقے اور عناصر اس سلسلے میں گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اس لیے عوام ایسی گمراہ کن اور بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ کا بھی کہنا ہے کہ معاشی طور پر سب ٹھیک نہیں ہے، پریشانی ضرور ہے مگر ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں ہے۔

حکومت یہ تو مان رہی ہے کہ اس سلسلے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے جس کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے تیسری ملاقات کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسحاق ڈار نے صدر صاحب کے توسط سے پی ٹی آئی کی قیادت کو ملک میں معاشی صورتحال کی بہتری میں تعاون کے لیے کہا ہو گا اور یہ بھی پیغام دیا ہو گا کہ وہ پاکستان کی حالت کو سری لنکا سے تشبیہ نہ دیں کیونکہ پاکستان کی معاشی حالت سری لنکا سے بہتر اور مختلف ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت میں پاکستان سری لنکا بنتا جا رہا ہے اور معیشت تباہ ہو رہی ہے جس کی بہتری کا واحد حل ملک میں عام انتخابات کا جلد انعقاد ہے۔ مجھے وفاقی وزیر خزانہ کی طرف سے صدر مملکت کے ذریعے جو گزارشات عمران خان تک پہنچانے کی خوش گمانی ہے، وہ ملک کے مفاد میں تو ہے مگر عمران خان کے سیاسی مفاد میں نہیں ہے۔

صدر مملکت نے وزیر خزانہ سے ملاقات کی تفصیلات پی ٹی آئی قیادت تک پہنچانے کا وعدہ تو کیا ہے مگر عمران خان سے امید نہیں ہے کہ وہ اپنے صدر کی گزارشات پر غور کر کے ملکی معاشی معاملات کی بہتری کے لیے حکومت کو کوئی موقعہ دیں گے اور پی ٹی آئی کی طرف سے معاشی ابتری کے بے بنیاد پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے کہیں گے کیونکہ موجودہ حکومت کے وہ سخت خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا جلد خاتمہ ہو اور نئے انتخابات میں وہ جلد سے جلد دوبارہ وزیر اعظم بنا دیے جائیں۔ وزیر خزانہ نے صدر مملکت کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پنجاب و کے پی کی حکومتیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے سلسلے میں وفاق سے تعاون کریں اور اپنے صوبوں میں توانائی کے بحران سے نکلنے کے لیے کاروبار شام چھے بجے تک کی پابندی لگوائیں تاکہ بجلی کی بچت ممکن ہو سکے۔

پنجاب میں حمزہ شہباز حکومت نے یہ پابندی لگائی تھی جسے پرویز الٰہی نے بظاہر تاجروں کی خوشنودی مگر عمران خان کی ہدایت پر اس لیے ختم کی کہ وفاقی حکومت کے لیے توانائی کے مسائل برقرار رہیں اور پنجاب میں پابندی ختم ہو جانے سے سردیوں میں بھی حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر مجبور رہے اور عوام میں وفاقی حکومت کے لیے نفرت بڑھے، بہرحال یہ امر خوش آیند ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے رات دس تک شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور رستوران بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ کے بار بار صدر مملکت سے ملنے سے تو ظاہر ہے ہی مگر مسلم لیگ (ن) کی اندرونی حالت یہ ہے کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل بھی وزارت خزانہ کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں اور اپنی ہی پارٹی کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر تنقید کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

وہ جانتے ہیں کہ اکتوبر میں ان کی وزارت کے 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد وہ وزیر خزانہ نہیں رہ سکتے تھے اور ان کی مدت کے خاتمے سے چند روز قبل ہی حکومت نے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا تھا جو آئے تھے تو بڑے دعوے کر رہے تھے کہ ڈالر پر قابو پا کر روپے کی ویلیو بڑھائیں گے مگر ڈالر چند روز نیچے جا کر ایسا اوپر اٹھا کہ نیچے آنے کے لیے تیار نہیں اور اسحاق ڈار کی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی اور مفتاح اسمٰعیل ان پر تنقید میں مصروف ہیں حالانکہ سابق وزیر خزانہ کے اپنے دور میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا اور پٹرول بھی مہنگا ہوا۔ پٹرول پر ٹیکس بڑھاتے رہے جس کی وجہ سے حکومت عوام میں غیر مقبول ہوئی اور حکومتی امیدواروں کی مسلسل شکست مہنگائی کے باعث ہوئی۔ ملک میں آج ڈالر کی گرفت مضبوطی کے باعث مہنگا ہو رہا ہے جس سے اسٹاک مارکیٹ میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے اور ملک میں ڈالر کی قلت کے باعث کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔

بیرون ممالک کے لوگ عمران خان کے باعث اور اپنے مالی مفاد کے لیے ڈالر نہیں بھیج رہے اور معاشی بہتری نہیں آ رہی۔ قوم کو نئے وزیر خزانہ سے بڑی توقعات تھیں جو پوری نہیں ہو رہیں اور وزارت خزانہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث بے بس نظر آ رہی ہے اور وزیر خزانہ یہ سمجھ کر مطمئن ہیں کہ مالیاتی ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے حکومت کے پاس جامع پروگرام ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کسی طرح بھی اطمینان بخش نہیں جس سے ملک متاثر ہو رہا ہے مگر بعض سیاسی عناصر حکومت کی دشمنی میں معاشی صورتحال سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہیں جس سے ملک بھر میں غیر یقینی کی صورت حال ہے اور سب فکر مند ہیں کہ وہ حکومتی دعوؤں پر یقین کریں یا اپوزیشن کے منفی پروپیگنڈے پر۔

بے بس وزارت خزانہ اب تک ڈالروں پر مال کمانے والے بینکوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر سکی ہے اور وہ بے بسی سے بے بنیاد منفی افواہیں پھیلانے والوں کے پروپیگنڈے کی تردیدیں ہی کرتی آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے اپنے معاہدے کی ہی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ ان کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے پنجاب و کے پی کے وزرائے خزانہ سے مل کر آئی ایم ایف سے معاہدہ ناکام کرانے کی بھرپور کوشش کی تھی جسے حکومت نے پھر پٹری پر تو چڑھا دیا ہے مگر اپوزیشن پھر ناکام بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

محمد سعید آرائیں

بشکریہ ایکسپریس نیوز

پابہ زنجیر مزاحمتیوں کو آج کا دن پھر مبارک

آج انتیس نومبر ہے۔ آج ہی کے دن پچھتر برس قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین کو دو حصوں میں بانٹنے کی قرار داد منظور کی۔ یہودیوں کو تو اس قرار داد کے مطابق اسرائیل مل گیا مگر فلسطینیوں کو آزاد ملک تو کجا رہا سہا علاقہ بھی ہاتھ سے جاتا رہا اور انھیں اقوامِ متحدہ نے عملاً تیس برس بعد انیس سو ستتر میں محض انتیس نومبر بطور یومِ یکجہتی تھما دیا۔ انیس سو ستتر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس نے بھاری اکثریت سے فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد و خودمختار وطن کی قرار داد منظور کی۔ اس اجلاس سے تنظیم آزادی ِ فلسطین ( پی ایل او ) کے سربراہ یاسر عرفات نے بھی پہلی مرتبہ بطور مبصر خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا ’’ میرے دائیں ہاتھ میں بندوق اور بائیں ہاتھ میں شاخِ زیتون ہے۔ میرے ہاتھ سے شاخِ زیتون مت گرنے دیجیے ۔‘‘ فلسطینیوں سے انیس سو سینتالیس اڑتالیس کے بعد دوسرا دھوکا انیس سو بانوے میں اوسلو امن سمجھوتے کے نام پر ہوا۔

جب جون انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے غربِ اردن اورغزہ پر فوجی قبضہ کر کے وہاں مستقل فوجی قوانین نافذ کر دیے تو ان کی مسلسل مزاحمت (انتفادہ) کے نتیجے میں یاسر عرفات کو وائٹ ہاؤس بلوا کر صدر بل کلنٹن نے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک رابین کا ہاتھ تھام کر تین ہاتھوں کا اوپر نیچے ترکٹ سا بنایا اور عرفات کو یقین دلایا کہ آپ نے مسلح جدوجہد ترک کر کے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر کے جو فراخ دلی دکھائی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی اور اگلے چار برس میں ( انیس سو چھیانوے ) ایک آزاد و خودمختار فلسطینی مملکت وجود میں آ جائے گی۔ اس ڈیڈ لائن سے پہلے ہی چار نومبر انیس سو پچانوے کو ایک یہودی انتہاپسند کے ہاتھوں اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک رابین قتل ہو گئے۔ بعد کی اسرائیلی حکومتوں نے آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے بجائے پی ایل او کو غزہ اور غربِ اردن پر مشتمل ایک کاٹا چھانٹا چھیدیلا ٹکڑا کسی بلدیہ کے برابر اختیارات دے کر کہا کہ یہ رہی آپ کی فلسطینی اتھارٹی عرف آزاد مملکت۔

ظاہر ہے فلسطینی دوبارہ بدک گئے اور سن دو ہزار سے دو ہزار پانچ تک دوسرا انتفادہ جاری رہا۔ اس میں بھی حسبِ معمول سیکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی و بے گھر ہوئے۔ سن دو ہزار چار میں یاسر عرفات کا بھی پراسرار حالات میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد خود فلسطینی دو حصوں میں بٹ گئے۔ غلاموں کا غصہ غلاموں پر نکلنے لگا۔ حماس نے مقبوضہ غزہ پر عمل داری قائم کر لی۔ اور پی ایل او کی حکمرانی غربِ اردن تک محدود رہ گئی۔ حماس چونکہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی لہٰذا اس خود سری کی سزا دنیا کی سب سے بڑی کھلی اور گنجان جیل کہے جانے والے غزہ کے ایک ملین شہریوں کو اسرائیلی بمباری، فوج کشی اور ناکہ بندی کی صورت میں سال میں کئی کئی بار ملتی ہے۔ جب کہ غربِ اردن میں اس عرصے کے دوران سات لاکھ یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان بیسیوں یہودی بستیوں کی شکل میں بسانے کا عمل برابر جاری ہے۔ یہ بستیاں غربِ اردن کے چہرے پر چیچک کے داغوں کی طرح مسلسل پھیلتی ہی جا رہی ہیں۔

غزہ اگر مستقل ناکہ بندی اور غربت و بے چارگی کی انتہائی سطح پر ہے تو غربِ اردن پر اسرائیل کا گزشتہ پچپن برس سے مسلسل فوجی راج ہے۔ ہر فلسطینی زن و مرد و طفل کو نیم انسانی درجے پر جانی دشمن سمجھ کے اس کے مطابق سلوک اسرائیلی ڈی این اے میں شامل ہے۔ اگر اسرائیل کی بین الاقوامی جغرافیائی حدود میں رہنے والے بیس فیصد عرب اسرائیلی باشندے ہر اعتبار سے درجہ دوم کے شہری ہیں تو مقبوضہ غربِ اردن اور غزہ میں رہنے والے انھی کے بھائی بند درجہ چہارم کے انسان ہیں۔ فلسطینیوں کو صرف یہی ابتلا درپیش نہیں کہ ان کی آبائی زمینوں اور قبرستانوں کو بتدریج چھین کر دنیا بھر سے آنے والے یہودی آبادکاروں کو بسایا جا رہا ہے بلکہ ہیبرون ( الخلیل ) اور یروشلم ( بیت المقدس) کے قدیم محلوں میں صدیوں سے آباد کسی بھی فلسطینی خاندان کو دن یا رات کے کسی بھی پہر فوج کے پہرے میں آنے والا کوئی بھی اجنبی یہودی کسی بھی اسرائیلی عدالت کا حکم نامہ دکھا کر گھر سے نکال کر ’’ قانوناً ‘‘ ناجائز قبضہ کر سکتا ہے۔

اس وقت مشرقی یروشلم میں فلسطینی باشندوں کی اکثریت ہے جب کہ مغربی یروشلم میں یہودی آبادی کو گزشتہ پچپن برس کے دوران اکثریت میں بدل دیا گیا ہے۔ اسرائیل اوسلو سمجھوتے کے تحت پابند ہے کہ یروشلم کو نئی آزاد فلسطینی مملکت کا مشترکہ دارالحکومت تسلیم کرے۔ اب اوسلو سمجھوتہ ہی نیم مردہ ہو گیا تو کون سا وعدہ کس کا وعدہ۔ اب تو سیدھا سیدھا حساب ہے کہ یہودی ریاست کھلم کھلا یروشلم کو ایک ناقابلِ تقسیم اسرائیلی دارالحکومت مانتی ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ اگلے بیس برس میں مشرقی یروشلم کی فلسطینی آبادی کی زندگی کو اتنا اجیرن کر دیا جائے کہ تنگ آ کر خود ہی گھر چھوڑ کے بیرونِ ملک چلے جائیں اور تب انھیں غیر ملکی قرار دے کر گھر واپسی کے حق کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ضبط کر لیا جائے اور پھر پورے یروشلم کو ایک یہودی اکثریتی شہر قرار دے کر فلسطینیوں سے امید کا آخری قومی و مذہبی سمبل بھی اڑس لیا جائے۔

اس منصوبے کو امریکا سمیت ان تمام ممالک کی تائید حاصل ہے جو گزشتہ چوتھائی صدی سے اپنے سفارتی و انتظامی دفاتر دھیرے دھیرے تل ابیب سے مغربی یروشلم منتقل کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی تعداد اب ستر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ سب کے سب اقوامِ متحدہ کے رکن بھی ہیں جو ان سب حرکتوں کو متعدد بار غاصبانہ قبضہ قرار دے چکا ہے۔ فلسطینی کاز کو ایک بڑا دھچکا ان عرب ریاستوں کی جانب سے لگا ہے جو دھڑا دھڑ اسرائیل کو غیر مشروط انداز میں تسلیم کرتی جا رہی ہیں۔ جب انیس سو ستتر میں مصر کے صدر انور سادات نے اسرائیل کا دورہ کیا تو مصر کو سیاسی و سفارتی اچھوت قرار دے کر اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور عرب لیگ سمیت ہر قابلِ ذکر ادارے سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ اس سے قبل ترکی ( انیس سو انچاس) اور شاہی ایران ( انیس سو پچاس ) اسرائیل سے سفارتی ہاتھ ملانے والے اولین مسلم ممالک تھے۔

آج ترکی و مصر کے علاوہ اردن ، مراکش ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان کے اسرائیل سے براہِ راست سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں۔ جن عرب ریاستوں کے تعلقات براہ راست نہیں وہ خصوصی دفاتر کے روپ میں کاروبار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سمیت فی الحال جو یہ بھی نہیں کر پا رہے انھوں نے اسرائیلی فضائی کمپنیوں کو اپنا آسمان استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ کویت اور قطر آخری خلیجی ریاستیں ہیں جنھوں نے اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔ البتہ قطر نے ورلڈ فٹ بال فیفا کپ کی خوشی میں اسرائیلی شہریوں کو براہ راست پروازوں سے دوہا میں اترنے کی اجازت دے دی ہے۔ پے در پے دھچکوں کے سبب فلسطینیوں کی آزاد و خود مختار ریاست کا خواب رفتہ رفتہ دبیز دھندلکوں میں کھو رہا ہے۔ فلسطین پہلے سے بڑھ کے تنہا ہے۔ لے دے کے عالمی برادری کے پاس یومِ یکجہتی فلسطین جیسے آئٹمز ہی دلجوئی کی خاطر بچے رہ گئے ہیں، یا بہت ہی مجبوری ہو تو مختلف عرب دارالحکومتوں سے کبھی کبھار ایک سائیکلوا سٹائیل حمایتی یا مذمتی بیان جاری ہو جاتا ہے۔

یورپی و عرب ممالک سمیت دنیا کا عمومی رویہ اب فلسطینوں کے ساتھ یہی ہے کہ ’’ ہمارے بھروسے مت رہو ، پرجہاں رہیو خوش رہیو۔‘‘ ایک واحد خوش آیند امید کوئی ہے تو بس یہ کہ پانچ چھ برس کے فلسطینی بچے نے آج بھی ہاتھ میں پتھر اٹھا رکھا ہے۔ ان پابہ زنجیر مزاحمتیوں کو ایک اور یومِ فلسطین مبارک۔

وسعت اللہ خان

 بشکریہ ایکسپریس نیوز

ہم کہاں کھڑے ہیں

پاکستان کا بنیادی نوعیت کا مسئلہ سیاسی و معاشی استحکام ہے ۔ ایسا استحکام جو لوگوں میں موجود غیر یقینی اور بداعتمادی کے ماحول کو ختم کرنے کا سبب بنے۔ کیونکہ جو بھی ریاست یا اس سے جڑا نظام ہو گا اس کی کامیابی کی بنیادی شرط یا ساکھ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد سازی یا بھروسہ سے جڑی ہوتی ہے۔ جب ریاست اور شہریوں کے درمیان برابری، مساوات، سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی انصاف کے طور پر رشتہ یا تعلقات ہونگے تو لوگ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ عمل محض جذباتیت یا سیاسی شعبدہ بازی یا نعرے بازی کی بنیاد پر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہو سکتا۔ لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں اور وہ بھی عزت اور احترام کے ساتھ اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو ان کے ریاستی سطح پر بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ ان کی ریاستی امور اور حکمرانی کا نظام ضمانت دے۔ وگرنہ دوسری صورت میں لوگ ریاست کے ساتھ کسی بھی طور پر کھڑے نہیں ہوتے بلکہ تواتر کے ساتھ اپنے تحفظات کا سیاسی مقدمہ پیش کرتے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولیپمنٹ اکنامکس ) پائیڈ (اسلام آباد معاشی امور سے متعلق ایک اہم ادارہ ہے۔ اس کا کام معاشی امور کی نگرانی وتجزیہ، منصوبہ بندی اور تحقیق کی بنیاد پر اپنا مقدمہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ ان کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے 40 فیصد افراد جب کہ دیہی علاقوں سے 36 فیصد افراد بیرون ملک یا کسی اچھے ملک میں جانے کے خواہش مند ہیں ۔‘‘ ان میں سے بہت ہی بڑی تعداد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔ وہ نوجوان جنھوں نے پاکستان میں بیٹھ کر معاشی عمل میں اپنے لیے اور ملک کے لیے بھی نئے معاشی مواقع اور امکانات کو پیدا کرنا تھا وہ اس ملک کے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں تسلسل کے ساتھ سیاسی اور معاشی عدم استحکام اور معاشی تفریق سمیت معاشی ناہمواریاں ہیں۔

نوجوانوں کو لگتا ہے کہ پاکستان میں ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہے اور ہمیں ملک سے باہر جا کر کچھ نئے متبادل راستے تلاش کرنے ہیں۔ مسئلہ محض نوجوانوں تک محدود نہیں اس وقت وہ افراد بھی جو کسی نہ کسی طرح سے معاشی سرگرمیوں یا سرکاری یا غیر سرکاری روزگار سے وابستہ ہیں وہ بھی بدحالی کا ماتم کر رہے ہیں۔ جو بڑا سنگین نوعیت کا بحران لوگوں کو درپیش ہے وہ تین سطحوں پر موجود ہے۔ اول ایک طبقہ وہ ہے جو بہتر روزگار کی تلاش میں ہے اور بے روزگاری کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوئم، وہ طبقہ ہے جو روزگار سے وابستہ تو ہے مگر اس میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ سوئم، آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا بڑا عدم توازن ہے، یعنی آمدن کم اور اخراجات میں اضافے نے اس کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ معاشی بدحالی کی ایک بڑی وجہ جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ اور دوسری جانب نجی شعبہ جات میں ریگولیٹری اتھارٹیوں کی بدعنوانی اور نااہلی کی داستان ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ نجی شعبہ تعلیم، صحت اور دیگر معاملات میں لوگوں کے مزید معاشی استحصال کا سبب بن رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں مجھے کئی 17 سے 20 گریڈ کے سرکاری افسران یا نجی شعبہ میں اچھی بھلی تنخواہ پر کام کرنے والے افراد سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ طبقہ عمومی طور پر ایک خوشحال طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب اس طبقہ نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے بقول جائز تنخواہ میں بچوں کی مہنگی تعلیم، صحت، بجلی و گیس کی قیمتیں، پٹرول اور ڈیزل سمیت روزمرہ کی اشیا میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ہم بھی پرکشش تنخواہ اور مراعات کے باوجود سنگین بحران کا شکار ہیں۔ بالخصوص چھوٹا کاروباری طبقہ کے بقول اگر ہم نے واقعی کاروبار چلانا ہے تو ان حالات یا پالیسیوں میں ممکن نہیں اور اس کی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر غیر معمولی اصلاحات اور مراعات درکار ہیں۔ بڑے کاروباری طبقات حکومت کے سامنے دہائی دے چکے ہیں کہ ان حالات میں معاشی ترقی کے نعرے سوائے جذباتیت کے اور کچھ نہیں۔

سلمان عابد

بشکریہ ایکسپریس نیوز