اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ایلون مسک، ٹوئٹر ہیڈکوارٹرز میں کچن کا سنک لیے داخل ہوئے جو ٹوئٹر پر ان کی ملکیت کا اشارہ تھا۔ ٹوئٹر صارفین نے پہلے 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کی فروخت کی خبر کو ’سنک اِن‘ ہونے [یعنی پوری طرح سمجھنے] دیا اور پھر اس بارے میں باتیں کرنا شروع کیں کہ ایلون مسک کا اگلا قدم کیا ہو گا۔
ایلون مسک ٹوئٹر کے ساتھ کیا کرنے جارہے ہیں؟
پہلے تو ٹوئٹر خریدنے سے متعلق اپنے ارادے سے مہینوں تک بھاگنے کی کوشش ہوئی مگر پھر عین اس وقت ٹوئٹر ایلون مسک کی نجی ملکیت بن گیا جب اصل معاہدے کے نفاذ کے لیے ایک طویل اور ممکنہ طور پر شرمناک اور مہنگی قانونی چارہ جوئی شروع ہونے کو تھی۔ اگر ہم ماہرین کی رائے دیکھیں تو ان کے مطابق ایلون مسک نے ایک ایسے پلیٹ فارم کے لیے کچھ زیادہ ہی رقم کی ادائیگی کر دی ہے جو نہ اپنے سرمایہ کاروں کے معیارات پر پورا اتر رہا ہے اور نہ ہی اپنے صارفین کے۔ ٹوئٹر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایلون مسک کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی اقدامات کی وجہ بھی شاید یہی تھی۔ ان اقدامات میں ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بلیو ٹک کے لیے ماہانہ 8 ڈالر (رقم کو ممالک کے حساب سے متعین کیا جائے گا) کی رقم وصولی کا ارادہ اور آدھے سے زیادہ ٹوئٹر عملے کو فارغ کرنے کی دھمکی دینا شامل تھا۔ انہوں نے مالک بنتے ہی اعلیٰ عہدیداران بشمول سی ای او پراگ اگروال، سی ایف او نیڈ سیگل، قانونی معاملات دیکھنے والی وجیا گڈے اور جنرل کونسلر سین ایجیٹ کو فارغ کر دیا۔
کیا ٹوئٹر تباہی کی طرف جا رہا ہے؟
ٹوئٹر کے مکمل اختیارات حاصل کرنے کے بعد ایلون مسک نے پہلا ٹوئیٹ کیا کہ ’پرندہ اب آزاد ہے‘۔ شاید یہ ان کے ارادوں کی بہترین ترجمانی تھی۔ ٹوئٹر خریدنے سے پہلے وہ ٹوئٹر پر سب سے زیادہ اعتراض یہ کرتے تھے کہ یہاں اظہارِ رائے پر بے تحاشہ پابندیاں ہیں اور ٹوئٹر پر عوام کو آزادی دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اصلاحات لائی جائیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایلون مسک ٹوئٹر کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کے حوالے سے بیانات تو اچھے دے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اسے ایک بے مثال ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے کے لیے وہ کیا اصلاحات لائیں گے۔ ٹوئٹر کے نئے مالک نے مستقبل میں ’متنوع نقطہ نظر رکھنے والی کونٹینٹ ماڈریشن کونسل‘ کی تقرری کا اشارہ دیا ہے جسے مواد پر نگرانی اور معطل اکاؤنٹس کی بحالی کے بارے میں فیصلے کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ میٹا میں 2018ء سے ایک ایسا ہی بورڈ فعال ہے جو سابق سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان، تعلیمی ماہرین اور صحافیوں پر مشتمل ہے۔
یہ بورڈ مواد کے حوالے سے لیے جانے والے فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے اور کئی مواقعوں پر یہ سی ای او مارک زکربرگ کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کی مخالفت کرتا بھی نظر آتا ہے۔ خصوصاً جب انتخابات میں ناکامی کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے واشنگٹن میں واقع کیپیٹل ہل کے باہر ہنگامہ آرائی کی گئی تب مارک زکربرگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر معینہ مدت کے لیے فیس بک سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کی اس بورڈ نے مخالفت کی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا ٹوئٹر کی یہ کونسل ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ’مستقل پابندی‘ کے فیصلے کو معطل کرنے سے متعلق ایلون مسک کے مشورے پر غور کرے گی اور کیا ایلون مسک اس بورڈ کو اپنے فیصلے معطل کرنے کا اختیار دیں گے یا نہیں۔ بہرحال ایسے بورڈ کے قیام کی تجویز دے کر ایلون مسک اپنے بتائے ہوئے آزادی اظہارِ رائے کے نظریات سے خود ہی ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اظہارِ رائے پر ایلون مسک کی اعتدال پسندی کی پالیسی ٹوئٹر پر نفرت انگیز مواد میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔
گزشتہ ہفتے چند نفرت انگیز اکاؤنٹس نے نسلی اعتبار سے غیر مہذب گفتگو کر کے ایلون مسک کی زیرِ نگرانی چلنے والے ٹوئٹر کی حدود کو جانچنے کی کوشش کی۔ امریکا کے نیشنل کونٹاجیئن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 28 اکتوبر کو ٹوئٹر پر غیر مناسب الفاظ کے استعمال کی شرح 500 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ٹوئٹر کے سیفٹی اینڈ انٹیگریٹی شعبے کے سربراہ یوئل روتھ نے کہا کہ زیادہ تر توہین آمیز ٹوئٹس بہت محدود اکاؤنٹس سے کی گئی تھیں۔ مونٹکلیئر اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک کی ملکیت میں آنے کے بعد، ٹوئٹر پر نفرت انگیز مواد میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے برعکس یوئل روتھ اور ایلون مسک دونوں نے تصدیق کی کہ ’ٹوئٹر کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘ اور ’نفرت انگیز مواد‘ کے خلاف قوانین اب بھی پہلے کی طرح سخت ہیں۔
کیا ایلون مسک کا رویہ پہلے جیسا ہی رہے گا؟
شاید ٹوئٹر پر ٹرولنگ سے زیادہ بڑا مسئلہ ایلون مسک کا رویہ ہے۔ انہوں نے امریکی ہاؤس اسپیکر نینسی پلوسی کے شوہر پال پلوسی سے متعلق ایک سازشی تھیوری ٹوئیٹ کی اور پھر اسے ڈیلیٹ کر دیا۔ اس عمل کو تو ایلون مسک کی غیر مناسب باتیں کرنے کی عادت ٹھہرا کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے لیکن اگر غلط معلومات اور ذاتی حملے کرنا ہی وہ آزادی ہے جس کو وہ ٹوئٹر پر فروغ دینا چاہتے ہیں، تو یوں ان کے آزادی رائے کے نظریات پر کئی سوال اٹھ جاتے ہیں۔ ایلون مسک آن لائن مواصلاتی پلیٹ فارمز کے استعمال سے ابھرنے والے سماجی مسائل کے لیے ٹیکنوکریٹک حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔ یعنی مسک کا یہ خیال ہے کہ ٹیکنالوجی تک مفت رسائی ’آزادی اظہار‘ کی ثقافتی اور سماجی حدود کو ختم کر دیتی ہے اور اسے سب کے لیے فوری اور آسانی سے دستیاب بنا دیتی ہے۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا، اسی لیے ہمیں کمزور اور پسماندہ افراد کے تحفظ کے لیے مواد پر کسی قسم کے کنٹرول کی ضرورت ہے۔
ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم ارب پتی افراد کو اپنی سماجی حدود پر براہِ راست اثر انداز ہونے کی اجازت دینا چاہیں گے؟ اگر اجازت دیں گے تو پھر صارفین کے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ٹوئٹر کی شفافیت کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ ٹوئٹر کا مالک بننے کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹر کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی سالانہ لاگت میں سے ایک ارب ڈالر بچائے جو مبیّنہ طور پر کلاؤڈ سروسز اور سرور اسپیس میں کٹوتیوں سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کٹوتیوں کی وجہ سے غیر معمولی استعمال کے وقت ٹوئٹر کریش ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے، خصوصاً انتخابات جیسے مواقعوں پر۔ اور اسی لیے ایلون مسک کا ٹوئٹر کو ’ڈیجیٹل ٹاؤن اسکوائر‘ بنانے کا نظریہ ناکام ہو جاتا ہے۔ اگر ٹوئٹر کو ایسا پلیٹ فارم بنانا ہے جہاں عوام کو آزادی رائے کا کھلا موقع فراہم کیا جائے تو پھر اس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اتنا مضبوط بنانا ہو گا جو اہم مواقعوں پر ٹوئٹر کی سروسز کو یقینی بنائے۔
ٹوئٹر کے متبادل پلیٹ فارمز کیا ہیں؟
فی الحال ایسی کوئی خبر تو سامنے نہیں آئی کہ بڑے پیمانے پر صارفین ٹوئٹر کو خیرباد کہہ رہے ہیں مگر کچھ لوگ بہرحال ایسے ضرور ہیں جو ٹوئٹر چھوڑ کر دیگر پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔ ایلون مسک کے ٹوئٹر خریدنے کے بعد مختصر عرصے میں ہی TwitterMigration# ٹرینڈ کرنے لگا جبکہ دوسری جانب مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ماسٹوڈان پر لاکھوں صارفین کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماسٹوڈان کے سرورز آزاد ہیں اور انہیں صارفین خود مینیج کرتے ہیں۔ ہر سرور کی ملکیت، اس کے استعمال پر نگرانی اور چلانے کا نظام ایک مخصوص کمیونٹی کے اختیار میں ہوتا ہے اور وہ اسے اپنا ذاتی سرور بھی بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ سرور کو چلانے کے لیے رقم درکار ہوتی ہے اور اگر سرور ایک بار غیر فعال ہو گیا تو آپ اپنے تمام مواد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ٹوئٹر سے نالاں صارفین نے ریڈ اِٹ، ٹمبلر، کاؤنٹر سوشل، لنکڈ اِن اور ڈسکورڈ کی جانب بھی رخ کیا ہے۔ بلاشبہ، بہت سے لوگ یہ جاننے کے لیے بھی بے چین ہیں کہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی صارفین کے لیے کیا متبادل لاتے ہیں۔ جیک جو اب بھی ٹوئٹر کے شیئر ہولڈر ہیں، انہوں نے اپنا سوشل میڈیا نیٹ ورک شروع کیا ہے جسے بلیو اسکائے سوشل کا نام دیا گیا ہے اور یہ ابھی اپنے آزمائشی مراحل میں ہے۔ بلیو اسکائے کا مقصد ایک اوپن سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی فراہمی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ واضح معیارات پر مختلف سوشل نیٹ ورکس کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اگر بلیو اسکائے کا تجربہ کامیاب ہو گیا تو یہ ٹوئٹر کا ایک مضبوط حریف بن کر سامنے آئے گا۔ جس کے بعد صارف آسانی سے اپنے مواد سمیت ٹوئٹر سے دوسرے پلیٹ فارم پر باآسانی منتقل ہو سکے گا۔ سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا میں یہ صارف پر مرکوز بالکل نیا ماڈل ہو گا اور شاید یہ روایتی پلیٹ فارمز کو مجبور کرے کہ وہ اپنے موجودہ ڈیٹا جمع کرنے کے ذرائع اور اپنے آن لائن اشتہارات کے طریقہ کار پر دوبارہ غور کریں۔ ٹوئٹر کے اس نئے حریف کا سب کو بے صبری سے انتظار ہے۔
یہ مضمون ابتدائی طور پر دی کنورسیشن میں اور بعد ازاں 13 نومبر 2022ء کو ڈان اخبار کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے دو ہفتے قبل ٹوئٹر خریدنے کے لیے 44 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹوئٹر دیوالیہ ہو سکتا ہے تو اس خطیر 44 ارب کا کیا ہوا؟ ایک اور امریکی سرمایہ کار سیم بینک مین فرائیڈ کی گذشتہ پیر کو مجموعی دولت کا تخمینہ 16 ارب ڈالر تھا لیکن ان کی ملکیتی کمپنیوں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا اور ان کی مجموعی مالیت بظاہر سکڑ کر صفر تک پہنچ گئی۔ تو ان 16 ارب ڈالر کا کیا ہوا؟ یہ سچ ہے کہ ایلون مسک کے پاس ٹیسلا سمیت بہت سے دوسرے اثاثے موجود ہیں۔ وہ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس میں اب بھی سب سے اوپر ہیں۔ نیویارک میں جمعے کو کاروبار کے اختتام پر ان کی دولت 189 ارب ڈالر تھی اور ٹوئٹر یقیناً کچھ قدر حاصل کر لے گا۔ کوئی نہیں جانتا کہ سیم بینک مین فرائیڈ کے پاس اور کتنے اثاثے ہو سکتے ہیں لیکن شاید یہ بہت زیادہ نہ ہوں اس لیے ان کی کہانی بہت مختلف ہے۔ لیکن مشترکہ موضوع دولت کی تباہی ہے جو ہم سب کو دولت کی نوعیت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے خاص طور پر اس کے حقیقی اور غیر حقیقی ہونے بارے میں۔
اس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کیوں کہ بہت ساری دولت تباہ ہو چکی ہے۔ آپ اسے ہر طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔ آئیے ارب پتیوں کے ساتھ شروع کریں۔ بلومبرگ کی ارب پتی افراد کی اس فہرست میں پہلے 10 میں سے آٹھ شخصیات کے پاس اب گذشتہ سال کے مقابلے میں کم دولت بچی ہے۔ ایلون مسک کی دولت 82 ارب ڈالر کم ہوئی ہے۔ ایمازون کے چیئرمین جیف بیزوس دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ خسارے میں ہیں جن کی دولت 68 ارب ڈالر کم ہوئی ہے۔ اس فہرست میں صرف دو فائدے میں رہنے والے انڈین صنعت کار ہیں جن میں گوتم اڈانی، جو 138 ارب ڈالر کے ساتھ اب دنیا میں تیسرے امیر ترین شخص ہیں اور مکیش امبانی جو 92 ارب ڈالر کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہیں۔ ٹاپ ٹین میں برنارڈ ارنالٹ دوسرے نمبر پر ہیں جن کی دولت کی مالیت 160 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے دنیا کا سب سے بڑا لگژری گروپ ’لوئی وٹوں‘ بنایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مشکل دور میں بھی لگژری ایک اچھا کاروبار ہے۔
ارب پتیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، زیادہ تر سرمایہ کاروں کے ساتھ زیادہ ایسا معتدل پیمانے پر پیش آیا ہے۔ کرپٹو کرنسیوں کے پورے سٹاک کی قدر گر گئی ہے۔ ہماری رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے دو دن کے وقفے سے 200 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی ڈوب چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں انفرادی طور پر لاکھوں کرپٹو سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچا ہے جیسا کہ سیلسیس نیٹ ورک کے خاتمے سے صرف ایک سرمایہ کار کو چار کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایف ٹی ایکس کے دیوالیہ ہونے کے ساتھ لاکھوں مزید دیولیہ ہو جائیں گے۔ جمعے کے اختتام پر سب سے بڑی 30 کرپٹو کرنسیوں کو 783 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ گذشتہ سال نومبر میں اپنے عروج پر ان کی مالیت تین ہزار ارب ڈالر تھی۔ کرپٹو کے ساتھ روایتی اثاثوں کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر S&P500 اس سال 17 فیصد نیچے آ چکی ہے تاہم غیر روایتی اثاثوں میں کمی اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب دولت کی نوعیت کی ہر جڑ تک جاتا ہے۔
کسی اثاثے کی قدر جاننے کی کوشش کرنے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن اگر یہ دو گروہوں میں بٹ جائے تو اس کی قدر گر جائے گی۔ ایک ویلیویشن وہ رقم ہے جو آپ مستقبل میں آمدنی کے سلسلے کے لیے ابھی ادا کرتے ہیں۔ بانڈز کے لیے اس کا اصول واضح ہے یعنی جب آپ سرمایہ بھی واپس حاصل کرتے ہیں تو بانڈ کی میچورٹی پر سود کی مد میں مزید رقم ملتی ہے۔ ایکویٹیز کے لیے منافع کم واضح ہوتا ہے کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ منافع کتنا زیادہ ہو گا یا طویل مدت میں کمپنی کا کیا ہو گا یعنی کیا اس پر قبضہ کر لیا جائے گا یا پھر یہ ٹوٹ جائے گی؟ اس کے باوجود آپ بنیادی طور پر آمدنی کا سلسلہ خرید رہے ہیں۔ جائیداد کے حوالے سے بھی بہت کچھ ایسا ہی ہے۔ آپ مستقبل کے کرایے کی ادائیگیاں خرید رہے ہیں۔ اگر آپ اس پراپرٹی میں رہنے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں آپ رہ رہے ہیں تو آپ کو خود کو کرایہ ادا نہیں کرنا۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھتی اور نیچے جاتی ہیں لیکن قیمت کا اندازہ لگانے کی ایک بنیاد ہے یعنی ایک ایسی ہی پراپرٹی میں رہنے کے لیے آپ کو کیا کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔
دوسری اقسام کے اثاثوں کے ساتھ آمدنی کا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا۔ آپ کچھ مختلف خرید رہے ہیں۔ یہ سکیورٹی ہو سکتی ہے، لوگ سونا خریدتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہزاروں سالوں سے یہ قیمت کا محافظ رہا ہے۔ یہ خوبصورتی بھی ہو سکتی ہے۔ لوگ اس خوشی کے لیے پینٹنگز خریدتے ہیں جو وہ دیکھنے والوں کو دیتے ہیں۔ یہ سوشل سیٹس ہو سکتا ہے۔ برطانیہ میں امیروں کے لیے سیاسی جماعتوں کو پیسے دے کر پیریجز خریدنے کا ایک قائم شدہ راستہ ہے۔ خصوصی کلبوں کی رکنیت کی فیس زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اکثر یہ مستقبل میں کچھ سرمایہ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے اور اس کی رغبت خاص طور پر کرپٹو دنیا میں واضح تھی۔ لوگوں کو کرپٹو میں پھنسانے اور ایف ٹی ایکس کا استعمال کرنے کی ایک حقیقی مثال ٹام بریڈی اور جیزیل بنڈچن کے ساتھ بدنام زمانہ کمرشل تھی جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک سال پہلے بنایا گیا تھا اور اس میں اس وقت کے معروف جوڑے کو دکھایا گیا ہے جو لوگوں کو وہ اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کا حقیقی چالاک پہلو یہ خیال تھا کہ اس میں عام لوگوں کو ایک خصوصی کلب میں شامل ہونے کے لیے مدعو کیا جا رہا ہو جس کے کیچ لائن تھی: ’آر یو اِن؟‘ اور اس کا جواب ’آئی ایم اِن‘ ہے۔ اشتہار کے اختتام پر محض تین سیکنڈ کا انتباہ تھا جس میں چھوٹے پرنٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ ’کرپٹو رسکی ہے اور یہ سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں ہے۔ اثاثوں کی پہلی اقسام کے ساتھ ان پر قدر معلوم کرنے کے عقلی طریقے موجود ہیں لیکن دوسری اقسام کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی کوئی قدر نہیں ہے بس یہ کہ یہ کیا ہے اس کا حساب لگانا ناممکن ہے اور یہ ہمیں واپس وہیں لاتا ہے جو حالیہ ہفتوں میں ہوا ہے۔ کچھ نقصانات کی مثال کے طور پر جیف بیزوس اور ایمازون میں ان کے شیئر ہولڈنگ کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ کاروبار ٹھیک چل رہا ہے لیکن لوگوں کی امیدوں کے مطابق نہیں۔
لیکن ایف ٹی ایکس کے معاملے میں اس کی واقعی کوئی اہمیت نہیں تھی سوائے ایک متاثر کن کاروباری شخص کے بنائے ہوئے کلب کی رکنیت کے اور ان اراکین کے ساتھ جن میں ٹام بریڈی اور جیزیل بنڈچن شامل تھے۔ پوری کہانی ابھی سامنے آنی ہے لیکن پہلے ہی یہ واضح ہے کہ جب وہم ٹوٹ گیا تو دولت بخارات بن کر اڑ گئی۔ وہاں کچھ بھی نہیں بچا۔ اور ٹوئٹر؟ ٹھیک ہے وہاں کچھ ہے اور اس کی قدر بھی ہو گی۔ لیکن ایلون مسک سمیت کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ اس کی کیا قدر ہے سوائے اس کے کہ یہ ان کے ادا کیے گئے 44 ارب ڈالر سے کم ہی ہے۔