اسرائیلی حکومت ۔ توازن ایک مسلمان کے پاس

اسرائیل میں حکومت تبدیل ہو گئی مگر مظلوم فلسطینیوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آسکے گی بلکہ ان کے لئے خطرات پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں کیونکہ 71 سالہ نیتن یاہو کی جگہ آنے والے 49 سالہ تفتالی بینٹ یاہو سے کہیں زیادہ شدت پسند، بنیاد پرست یہودی ہیں۔ وہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے ویسٹ بینک، مشرقی یروشلم، شام کی گولان ہائٹس پر یہودیوں کا حق ہی فائز سمجھتے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کا اوّلیں مطالبہ یہی ہے کہ اسرائیل یہ مقبوضہ علاقے خالی کرے۔ نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ 8 پارٹیوں کے اتحاد سے ممکن ہوا۔ یش اتید (17)، بلیو اینڈ وائٹ (8) ، لسیرائیل بیٹنو (7)، یامینا (6)، نیو ہوپ (6)، میرٹز (6) ،رام (4)۔ نظریاتی اور سیاسی طور پر ان جماعتوں میں سوائے یاہو کی مخالفت کے کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بار مسلمان سیاسی جماعت رام بھی شامل ہوئی ہے۔ اب جب ان کا مشترکہ ہدف یاہو کی برطرفی حاصل ہو چکا ہے تو یہ کتنے عرصے تک متحد رہ سکیں گی؟

صرف سات سیٹیں رکھنے والی پارٹی کے سربراہ بینٹ ستمبر 2023 تک وزیر اعظم رہیں گے۔ پھر وہ یہ منصب جلیلہ یش اتید کے سربراہ 57 سالہ یائر لیپڈ کے حوالے کر دیں گے۔ اس اتحاد کو یہ حکومت 59 کے مقابلے میں 60 یعنی صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے ملی ہے۔ فلسطینی ریاست کے صدر 85 سالہ محمود عباس کے ترجمان نے بہت معروضی تبصرہ کیا ہے کہ یہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہمیں مستقبل کے بارے میں کسی خود فریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ ہم اپنے پرانے مطالبے پر قائم ہیں کہ اسرائیل 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے ہوئے سارے علاقے خالی کرے۔ یاسر عرفات کے بھتیجے 68 سالہ ناصر القدویٰ کا کہنا ہے کہ بینٹ اور یاہو میں شخصی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ بینٹ زیادہ شدت پسند ثابت ہو گا۔ ایک مقبول فلسطینی رہنما 67 سالہ مصطفیٰ برغوثی نے کہا ہے کہ اس تبدیلی میں صرف ایک روشن پہلو ہے کہ اب نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات کسی مداخلت کے بغیر چل سکیں گے۔

لیکن حکومت میں بینٹ کا مرکزی عہدے پر براجمان ہونا ہم فلسطینیوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ یہ حکومت قیام امن کے قابل نہیں ہو گی۔ حماس نے نئی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ یروشلم میں اس ہفتے ہونے والا فلیگ مارچ دھماکہ خیز ہو سکتا ہے۔ فائر بندی کو ایک مہینہ بھی ابھی نہیں ہوا۔ اس قسم کے اجتماع سے اشتعال پیدا ہو گا۔ فائر بندی کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ اس فلیگ مارچ کی یروشلم کی مقامی انتظامیہ نے بھی مخالفت کی ہے۔ فلسطینیوں میں بینٹ کے وزیر اعظم بننے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مسلم مملکتوں کی طرف سے کوئی ردّ عمل سامنے نہیں آرہا اور نہ ہی فلسطینی حکومت سے کسی اسلامی ملک نے تبدیلی کے بعد صورت حال جاننے کے لئے رابطہ کیا ہے۔ اس اتحاد میں رام کے سربراہ 47 سالہ منصور عباس کی شرکت ایک تاریخی پیشرفت ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں کہا گیا کہ اس نئی مخلوط حکومت کی کامیابی کی کنجی ایک مسلمان سیاستدان کے ہاتھ میں ہو گی۔

منصور عباس انتہائی معروضی انداز میں عرب اسرائیلیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان پر یہودی اسرائیلی دائیں بازو کے ساتھ اشتراک پر انگلیاں اٹھی ہیں۔ لیکن منصور عباس نے عرب اسرائیلیوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بجٹ میں اضافے کے لئے اس فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ اتحاد سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ عرب اسرائیلیوں کی غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا 2017 کا قانون منسوخ کیا جائے۔ مصطفیٰ برغوثی نے منصور عباس کی دلیل کو کمزور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہیں۔ نسل پرست یہودی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اسرائیل کے اندر رہتے ہوئے فلسطینیوں کو اپنے حقوق حاصل نہیں ہو سکتے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نئے اسرائیلی وزیر اعظم بینٹ کیا عزائم رکھتے ہیں؟ والدین امریکی نژاد ہیں اور بہت کٹر مذہبی، بینٹ نے بھی اپنے بنیاد پرستانہ عقائد کو کبھی چھپایا نہیں۔

وہ اسرائیلی فوج میں ایک کمانڈو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یاہو کے چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔ وسیع تر یہودی قوم پرست ریاست کے پرچارک۔ فلسطینی بستیوں میں یہودی آباد کاروں کے سب سے بڑے حامی۔ انگریزی بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ ٹاک شوز میں کھل کر اپنی شدت پسندی ظاہر کرتے ہیں۔ ایک مذاکرے میں ویسٹ بینک میں آباد کاری کے مسئلے پر انہوں نے ایک اسرائیلی عرب کو ڈانٹتے ہوئے کہا:’’ تم لوگ جب درختوں پر لٹک رہے تھے۔ ہماری یہاں یہودی مملکت تھی۔‘‘ وہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے دو ریاستی نظریے کو ہمیشہ مسترد کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی اپنی کمپنی کے قیام کے بعد وہ کھرب پتی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ شدت پسند یہودیوں کا روپ دھار کر قیام امن کی کوششوں کا مذاق اڑا چکے ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ۔ اسرائیل کے اندرونی معاملات کے لئے یقیناً بہتر ہو گا۔ مگر اس خطّے میں قیام امن کے لئے فلسطینی ریاست کی با اختیاری۔ فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں کمی۔ فلسطینی نوجوانوں کے مستقبل کے لئے یہ تبدیلی کسی صورت مناسب نہیں لگ رہی ہے۔

یہ مخلوط حکومت کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ نیتن یاہو اپنی الوداعی تقریر میں کہہ چکے ہیں۔ ’ہم واپس آئیں گے‘۔ آٹھ پارٹیوں میں سے کسی ایک کی علیحدگی پر یاہو واپس آسکتے ہیں۔ پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا۔ یہ متضاد نظریات رکھنے والا اتحاد ستمبر 2023 تک قائم بھی رہتا ہے یا نہیں؟ فلسطینی قیادت اگر رام پارٹی کو رام کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے تو تل ابیب کا راج سنگھاسن ڈول سکتا ہے۔ اسرائیل میں جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ اسی لئے وہاں ان ہائوس تبدیلی ممکن ہو گئی ہے۔ اسرائیلی بڑا میڈیا یاہو کی رخصتی کا خیر مقدم کر رہا ہے۔ کیونکہ ان میں تکبر بہت آگیا تھا۔ اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے وہ ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے تھے۔ کرپشن کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔ فلسطینیوں سے معاملات آگے بڑھنے کی بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسرائیلی تجزیہ کار نئی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ علاقے میں امن قائم کرنے کے اقدامات کو ترجیح دے۔ شدت پسندی سے یاہو کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نئی حکومت نے اگر اعتدال کا راستہ اختیار نہیں کیا تو علاقے میں محاذ آرائی بڑھ سکتی ہے۔ ہماری نظر یں مسلم قیادتوں پر ہیں کہ وہ اسرائیل میں اس تبدیلی سے کیا فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔ نئی اسرائیلی حکومت پر دبائو ڈال کر اسے شدت پسندی سے روک سکتی ہیں یا نہیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

گدھا اس قدر بھی گدھا نہیں

ہم انسان اپنے حال و خیال میں اتنے مست ہیں کہ اردگرد کی حیاتِ دیگر نظر ہی نہیں آتی بھلے وہ کتنی ہی انسان دوست ہو۔ مثلاً انسان اور گدھے کا تمدنی ساتھ کم ازکم چھ ہزار برس پرانا ہے اور اب اسی انسان کے ہاتھوں ہمارا یہ محسن بقائی خطرے سے دوچار ہے۔ گدھوں کی فلاح و بہبود پر نگاہ رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم ڈنکی سنگچری (خر پناہ) اس وقت ان پر مصیبت کا ایک بڑا سبب چین میں گدھے کے گوشت اور اس سے بھی بڑھ کے اس کی کھال کی مانگ بتاتی ہے۔ اس کھال کے اجزا سے ایجیا نامی جیلاٹن تیار ہوتی ہے۔ اسے چینی طب میں فشارِ خون کے جملہ مسائل اور عمومی بدنی طاقت کے لیے اکسیر گردانا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے ایف اے او کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں انیس سو ستانوے کی خر شماری کے مطابق گدھوں کی تعداد لگ بھگ اڑتالیس لاکھ تھی جو دو ہزار اٹھارہ تک آٹھ لاکھ رہ گئی۔ یعنی بیس برس میں چھ گنا کمی۔ البتہ گدھوں کے گوشت اور کھال کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت سالانہ عالمی مانگ چالیس لاکھ کھالوں کی ہے جب کہ رسد تیس سے پینتیس لاکھ کھالوں کی ہے۔ اندازہ ہے کہ دنیا میں پانچ کروڑ گدھوں میں سے سوا کروڑ کے لگ بھگ چار افریقی ممالک ایتھوپیا، سوڈان، چاڈ اور برکینا فاسو میں ہیں۔ چنانچہ کھال کے متلاشی گروہوں اور گدھوں پر زرعی انحصار کرنے والی آبادی کے مابین کھینچا تانی ، زور زبردستی، چوری چکاری بھی بڑھ رہی ہے۔ غربت میں جب کسان کی فی کس آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہو اس وقت کسی مالک کو اپنا گدھا فروخت کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم کی پیش کش کی جائے اور انکار کی صورت میں چھینا جھپٹی درپیش ہو تو ہتھیار ڈالتے ہی بنتی ہے۔ گدھے کی کھال کی مانگ کے سبب بہت سے افریقی ممالک میں ان کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ بہت سوں میں اندھا دھند لالچ اس جانور کو نسل کشی کی جانب لے جا رہی ہے۔ مثلاً پچھلے چودہ برس کے دوران بوٹسوانا میں گدھوں کی تعداد میں سینتیس فیصد، جنوبی امریکی ملک برازیل میں اٹھائیس فیصد اور وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں تریپن فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ کبھی باقاعدہ خر شماری نہیں ہوئی مگر اندازہ ہے کہ یہاں پچاس لاکھ گدھے پائے جاتے ہیں۔ جب عالمی مانگ میں اضافہ ہوا تو پاکستان میں بھی گدھے کو اپنی کھال بچانی مشکل ہو گئی۔ دو ہزار چودہ میں گدھوں کی ایک لاکھ سے زائد کھالیں برآمد ہونے کی خبر آئی تو حکومت کے بھی کان کھڑے ہوئے۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے ستمبر دو ہزار پندرہ میں گدھے کی کھال برآمد کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس اعتبار سے پاکستان پہلا ملک تھا جس نے نسل درنسل وفاداری نبھانے والے اس جانور کی جان بچانے کے لیے اہم اقدام کیا۔ تب سے اب تک سترہ ممالک پاکستان کی تقلید میں اس نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ یہ الگ بحث کہ ان پابندیوں پر کس قدر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ جب پی ٹی آئی کا دور شروع ہوا تب بھی یہ پابندی برقرار رہی۔ البتہ فروری دو ہزار انیس میں خیبرپختون خوا حکومت نے سی پیک کی چھتری تلے خیبرپختون خوا چائنا سسٹین ایبل ڈنکی پروگرام (اس کا اردو ترجمہ کیسے ہو) کا قابلِ عمل خاکہ پیش کیا۔ یعنی گدھوں کی ایکسپورٹ سے تین ارب ڈالر تک کمائے جا سکتے ہیں۔

اس فیزبلٹی کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان اور مانسہرہ میں گدھوں کی صحت مند ماحول میں دیکھ بھال اور افزائش کے لیے دو بڑے مراکز کے قیام کا عندیہ بھی دیا گیا اور ابتدائی طور پر ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے۔ ایک چینی کمپنی سے بات چیت بھی شروع ہو گئی۔ پروگرام کے تحت سالانہ اسی ہزار گدھے برآمد کرنے کا منصوبہ تھا۔ مگر جیسا کہ ہوتا ہے، چند ماہ بعد اس پروگرام پر خود بخود اوس پڑ گئی۔ سنا ہے اب دوبارہ اسے آگے بڑھانے کے لیے انگڑائی لی جا رہی ہے۔ چونکہ ہم لوگ ہمیشہ سے گدھے کو گدھا ہی سمجھتے ہیں لہٰذا ہزاروں برس سے ساتھ نبھانے کے بعد بھی ہم اس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ اس سے زیادہ صابر، قانع ، سخت جان اور غیر نخریلا جانور شاید ہی کوئی اور ہو۔ حالانکہ اس کی پشت پر ہماری تمدنی تاریخ لدی ہوئی ہے۔ مصریوں نے اسے باقاعدہ باربرداری و کاشت کاری کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ دو ہزار برس قبل شاہراہ ریشم کی تجارت چین سے یورپ تک مرہونِ خر تھی۔

رومن فوج نے اس سے باربرداری کے فوجی ٹرکوں جیسا کام لیا۔ تب سے پہلی عالمی جنگ تک اس جانور کا فوجی سامان کی نقل و حرکت میں کلیدی کردار رہا۔ اگر گدھوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال کی جائے تو وہ اوسطاً پچاس برس تک زندہ رہتے ہیں۔ بظاہر سر جھکا کے خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھنے والے جانور کی یادداشت حیرت انگیز ہے۔ وہ کسی بھی علاقے اور وہاں رہنے والے ہم نسلوں کو پچیس برس بعد بھی پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گدھا کیسی بھی مسکین طبیعت کا ہو مگر آپ اسے خوفزدہ کر کے یا زور زبردستی سے کام نہیں کروا سکتے۔ ذاتی خطرہ سونگھنے کی اس کی صلاحیت اور قوتِ سماعت حیرت ناک ہے۔ وہ صحرا میں ساٹھ میل دور سے آنے والی ڈھینچوں ڈھینچوں کی صدا بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ چونکہ غریب طبیعت ہے لہٰذا جب بھی چرنے کو وافر سبزہ میسر آ جائے تو خوب چرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ گدھے کا پیٹ نہیں بھرتا بلکہ یہ اس لیے پیٹ بھرتا ہے تاکہ کھائی ہوئی پچانوے فیصد غذا اس کے معدے میں زخیرہ رہ کر اسے مسلسل بنجر جگہ پر بھی توانائی فراہم کرتی رہے۔

دیگر جانوروں کے برعکس گدھا موسمِ گرما میں زیادہ خوش رہتا ہے۔ اسے نہ پالا پسند ہے نہ ہی بارش۔ مٹی بہت پسند ہے جس میں لوٹنیاں لگائی جا سکیں۔ گدھا تنہائی پسند نہیں بلکہ دیگر گدھوں کی سنگت میں زیادہ خوش رہتا ہے۔ البتہ تنہا ہو تو اس کی بکریوں کے ساتھ اچھی نبھتی ہے۔ پسماندہ ممالک کے سڑک اور جدت سے کٹے علاقوں میں انسان باربرداری اور سواری کے لیے جس جانور پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے وہ آج بھی گدھا ہی ہے۔ گھوڑے اور خچر کے نخرے برداشت کرنا ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں۔غریب کے لیے تو گدھا اور گدھے کے لیے غریب بہت ہے۔ دونوں کی زندگی میں بہت سی خصوصیات مشترک ہیں۔ ان میں ہر حال میں صبر و شکر سب سے نمایاں ہے۔ ایسے وفادار کو محض قوت بڑھانے والی جیلاٹن بنا دینا ناشکری کی آخری منزل ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز