دنیا کی طاقتور ترین مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے جلد ہی عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ ماضی میں ٹوئٹر انتظامیہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والی ٹوئٹس کو ہذف یا ڈیلیٹ کرتا آیا تھا، تاہم اب ان کے اکاؤنٹ کو مستقل بنیادوں پر بند کر دیا گیا۔ ٹوئٹر کے علاوہ فیس بک اور دیگر سوشل ویب سائٹس بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز پوسٹس کو ڈیلیٹ کرتی آ رہی تھیں، تاہم دیگر ویب سائٹس نے ان کے اکاؤنٹ کو تاحال مستقل بنیادوں پر بند نہیں کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر انتظامیہ نے حال ہی میں امریکی دارالحکومت کے اہم ترین علاقے کیپیٹل ہل میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق نفرت انگیز مواد شیئر کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کیا۔
ٹوئٹر کی جانب سے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر بھی تصدیق کی گئی کہ 9 جنوری 2021 سے ڈونلڈ ٹرمپ کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ ٹوئٹر انتظامیہ نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کی بنا پر ان کا اکاؤنٹ بند کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بند کیا جانے والے اکاؤنٹ 12 سال قبل بنایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاستدان میں آنے سے قبل ہی مذکورہ اکاؤنٹ کو مئی 2009 میں بنایا تھا اور انہوں نے اس کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنے کئی مقاصد پورے کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بند کیے اکاؤنٹ سے گزشتہ 12 سال میں 57 ہزار ٹوئٹس کی گئیں، جن میں سے آخری 5 سال میں کی جانے والی زیادہ تر ٹوئٹس پر انہیں دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں امریکی عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ٹوئٹر پر سیاسی مقاصد کے لیے زیادہ تر نفرت انگیز یا دوسروں کی دل آزاری کرنے والی ٹوئٹس کی تھیں۔ نفرت انگیز، تشدد پر ابھارنے والی، غلط معلومات اور دوسروں کی دل آزاری کرنے والی ٹوئٹس کرنے پر ٹوئٹر انتظامیہ نے گزشتہ 5 سال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی درجنوں ٹوئٹس کو ڈیلیٹ یا ہذف بھی کیا تھا۔ ٹوئٹر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ایک ایسے وقت میں بند کیا گیا ہے جب کہ وہ امریکا کے 45 ویں صدر کے طور پر اپنے آخری ایام مکمل کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سے الگ ہو جائیں گے، ان کی جگہ 79 سالہ جوبائیڈن 46 ویں صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2020 میں ہونے والے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے اپنی شکست کو بھی حال ہی میں تسلیم کیا، اس سے قبل وہ انتخابات میں دھاندلی کی باتیں کرتے آ رہے تھے۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے ‘وکی لیکس’ کے بانی جولیان اسانج کو امریکہ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ برطانوی جج کے بقول اُنہیں خدشہ ہے کہ امریکی جیل میں سخت حالات کے پیشِ نظر اسانج خود کشی کر سکتے ہیں۔ فیصلہ سناتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج وینیسا بارائٹسر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ اسانج پر سیاسی وجوہات کی بنا پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے یا امریکہ میں اُن کا شفاف ٹرائل نہیں ہو گا۔ البتہ جج کا کہنا تھا کہ امریکی جیل میں ممکنہ تنہائی کی وجہ سے اُن کی ذہنی حالت خراب ہو سکتی ہے۔ جج وینیسا کا کہنا تھا کہ “مجھے اسانج کی ذہنی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں امریکہ منتقل کرنا اُن پر جبر کرنے کے مترادف ہو گا۔” اُن کا کہنا تھا کہ اسانج ڈپریشن اور مایوسی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
لیکن وہ اس قابل ہیں کہ وہ امریکی حکام کی جانب سے اُنہیں خود کشی سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو غیر مؤثر کر سکیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف امریکی حکام نے اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے جب کہ اسانج کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ اسانج کی ڈیڑھ سال سے زیرِ سماعت ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے اُنہیں لندن کی جیل سے رہا کیا جائے۔ سماعت کے موقع پر جولیان اسانج کے علاوہ اُن کی پارنٹر اور دو بچے بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ اسانج کے امریکی وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ اُن کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ خیال رہے کہ جولیان اسانج پر 10 سال قبل عراق اور افغانستان کی جنگ سے متعلق امریکہ کی خفیہ فوجی دستاویزات لیک کرنے کا الزام ہے۔
امریکہ محکمۂ انصاف نے جولیان اسانج پر جاسوسی کے قانون کی خلاف ورزی اور خفیہ عسکری اور سفارتی راز افشا کرنے کے 17 الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ قائم کیا تھا۔ ان جرائم کے ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 175 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ 49 سالہ آسٹریلوی شہری اسانج کے وکلا کا مؤقف ہے کہ وہ بطور صحافی کام کر رہے تھے اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اُنہیں اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ جولیان اسانج نے سات برس لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں گزارے تھے جس کے بعد اُنہیں برطانوی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ سال 2006 میں اپنے قیام سے لے کر جولیان اسانج کا اشاعتی ادارہ ‘وکی لیکس’ اپنی ویب سائٹ پر دنیا بھر میں جنگوں، فلم انڈسٹری، سفارتی گفتگو، سیاست، قومی سلامتی اور دیگر معاملات سے متعلق خفیہ معلومات پر مبنی ہزاروں دستاویزات لیک کر چکا ہے۔
چین کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی اسے اندازوں سے کہیں پہلے، یعنی اسی دہائی کے اختتام سے قبل ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنا سکتی ہے۔ یہ اندازہ ایک برطانوی تھنک ٹینک نے لگایا گیا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء اور اس کے نتیجے میں چین کی معاشی حکمت عملی اسے امریکا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے میں معاون ثابت ہو گی۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق بیجنگ 2028ء تک، اِس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اس سے قبل یہ اندازہ 2033ء کا تھا۔ برطانوی تھنک ٹینک ‘دی سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ‘ (سی ای بی آر) کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، ”ہماری توقع ہے کہ امریکا کا عالمی جی ڈی پی میں حصہ 2021ء کے بعد سے کم ہوتا جائے گا، اور نتیجتاﹰ اس ملک کی جگہ چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔‘‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ”ہماری توقع ہے کہ ایسا 2028ء میں ہو جائے گا، سابق اندازے سے پانچ برس قبل ہی۔
چین نے وباء سے زیادہ مہارت سے نمٹا
چینی معیشت کی تیز رفتار بہتری کی وجہ بیجنگ اور واشنگٹن کا کورونا وائرس کی وباء سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کی حکمت عملی میں فرق کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں چین کی ‘وباء سے مہارت کے ساتھ نمٹنے‘ کی تعریف کی گئی ہے، جہاں انتہائی آغاز میں ہی لاگو کیا جانے والا لاک ڈاؤن، کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کو قابو میں رکھنے میں معاون رہا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا میں بھی وباء کے خاتمے کے بعد معاشی اعتبار سے بہت بہتری آئے گی، تاہم اس کے بعد اس کی معیشت میں نمو کی شرح سست ہو کر 1.9 فیصد سے 1.6فیصد تک محدود ہو جائے گی۔ اس کے برعکس چینی معیشت کی شرح نمو 2021ء سے 2025ء تک 5.7 فیصد تک رہے گی۔ جس کے بعد 2026ء سے 2030ء تک اس شرح نمو کا اندازہ 4.5 فیصد کا لگایا گیا ہے۔ اس تھنک ٹینک کی رپورٹ میں جاپان کے بارے میں یہی اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ 2030ء کی دہائی کے اوائل تک بدستور دنیا کی تیسری بڑی معیشت رہے گا جس کے بعد بھارت یہ جگہ لے سکتا ہے۔ جبکہ جرمنی جو اس وقت چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے وہ پانچویں پوزیشن پر چلا جائے گا۔ بھارت اس وقت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔ جبکہ گزشتہ برس کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان دنیا کی چالیسویں بڑی معیشت ہے۔